دیکھیں لالا! ہم نے ترقی کی ہے

286

دیکھیں لالا! ہمارے باپ دادا پتھروں پر چلتے تھے۔ ان کے گاؤں گاؤں تک راستے پتھروں کے تھے۔ وہ دریا رسیوں سے پار کرتے تھے جن کو غالباًََ ڇیان کی رسیوں سے بنایا جاتا تھا۔ لالا کیا کہوں، ہمارے والدین بھی ان ہی پتھروں پہ چلتے رہے، ہمارا بچپن بھی ان پتھروں پہ چل کر گزرگیا۔ ہمارے باپ دادا چشموں کا تازہ پانی پیتے تھے۔ ہر گاؤں میں جو پہاڑی ندّی گرتی تھی وہ صاف و شفاف ہوتی تھی۔ گاؤں میں کوئی دکان نہیں ہوا کرتی تھی۔ ہمیں شابابا جیسے پاپڑ نہیں ملتے تھے۔ گھر میں ماں دن کے دو کھانوں میں سے ایک میں دودھ، دہی، مکھن اور گھی دیتی تھی۔ ہم تیکھا کھانے کو ترس رہے تھے۔ صبح شام گائے کے دودھ کی چائے پیتے تھے۔

جب بازار سے سالن کے لئے کوئی چیز نہیں لاسکتے تو ماں سالن کے لئے دودھ اور آٹے کا دلیہ بناتیں جس کو ’مھاگو‘ کہا جاتا۔ موسم سرما کے لیے بھیاش کیا جاتا یعنی کھانے کی اشیا کو ذخیرہ کیا جاتا جن میں شفتل اور شئین کا سوکھا ساگ ضرور ہوا کرتا تھا۔ جب ٹماٹر آئے تو ان کو بھی سوکھایا جاتا کہ سرما میں استعمال کیا جاسکے۔ گوشت کے لیے گھر ہی میں پالے ہوئے بکرے یا بیل کو ذبح کرکے اسکا گوشت بھی سوکھایا جاتا اور سردیوں میں کھایا جاتا تھا۔ مرغی کا گوشت کھانا عیاشی ہوتی تھی۔

اس وقت بھی ہم نوجوان کوئٹہ، حیدرآباد، چکوال میں کوئلہ کانوں میں مزدوری کرتے۔ کئی نوجوان داریل، تانگیر، ہوڈور و تھور نالوں اور کوہستان میں ٹمبر کی مزدوری کرتے اور اکثر و بیشتر پترُو کھینچتے۔ اس وقت بھی وہ سکول نہیں جاسکتے یا کچھ جماعتیں پڑھ کر سکول چھوڑ کر مزدوری کرتے تھے۔

ہماری مائیں ہمیں بچپن میں ڈائیپر (پیپمپرز) نہیں پہناتیں اور ہم شیرخواروں کو کپڑے میں ایک رسی کی مدد سے باندھ دیتی تھیں تاکہ ہم صحت مند اور توانا رہے۔ اس کپڑے کو ’’گھنین‘‘ کہتے تھے۔ جب کوئی جوان اپنی طاقت کا رعب دوسروں پہ ڈالنا چاہتا تو کہتا کہ ’’میں پکی گھنین کا باندھا ہوا ہوں‘‘۔  اس وقت نالے، گلیاں اور کوچے ’’پیپمرز‘‘ نامی شے سے بھری نہیں ہوتی تھیں۔

اس زمانے میں دل کے امراض، سرطان، معدے کی سخت بیماریاں، ذیابیطس (شوگر)، بلڈ پریشر جیسی بیماریاں خال خال ہوتی تھیں۔

پھر ہم نے ’ترقی‘ کی۔ پہلے راستے پختہ ہوگئے اور سیمنٹ کی سیڑھیاں بنائی گئیں۔ ووٹوں کا سارا کھیل اس کے گرد گھومتا تھا۔ اس کے بعد گاؤں گاؤں کچی سڑکوں کا رواج آیا ساتھ پلاسٹک پائپس بھی آنے لگے۔ پھر ووٹوں کا سارا کھیل گاؤں کی سڑک اور پائپس کے ساتھ نتھی ہوگیا۔ اسی ترقی کے ساتھ گاؤں گاؤں شابابا اور دوسرے پاپڑ آگئے۔ بازاروں میں فارمی مرغی آئی اور یوں ملک پیلک اور چائکہ جیسی چیزیں آنے لگیں۔ گھی کے نام پر عجیب عجیب نمونے آگئے۔ یوں تازہ و سوکھا ساگ، دودھ، دہی مکھن اور گھر کے جانور کے گوشت کی جگہ ان چیزوں نے لی۔ گاؤں میں سڑکیں آگئیں اور ان کے ساتھ بڑے توند بھی نکل گئے۔ دل کی بیماریاں، سرطان، معدے کی بے شمار بیماریاں، زیابیطس، بلڈ پریشر ہمارے ان پہاڑی علاقوں میں بھی پھیل گئیں۔

لالا! ہم زیادہ سے زیادہ کیا کرسکتے ہیں۔ بس زمین بیچ دیں گے، جو ہم میں سے زیادہ ہوشیار ہوگا وہ ایک ٹیکسی خریدے گا اور کچھ پیسے کمائے گا۔

گاؤں کے چشمے کو ہر گھر سے پائپ لگ گیا، گاؤں کی ندّیاں پیمپرز، پلاسٹک اور انسانی فضلے سے بھر گئیں۔ ہم جہاں بچپن میں نہاتے تھے اب وہ ندّی گٹر میں تبدیل ہوگئی(ویسے ایک منصف نے پورے پاکستان کو گٹر کہا ہے)۔

اب ووٹوں کا کھیل ایکسکیویٹر جسے عرفِ عام میں شاول کہتے ہیں، میں تبدیل ہوچکا ہے۔ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد تگڑا امیدوار یا ممبر اسبملی وہ ہے جو گاؤں گاؤں شاول بھیج سکے اور یہ شاول پہاڑ توڑ کر جنگل تک راستہ بنا سکے۔

تم کیا بکتے ہو؟ یہ ترقی ہے؟ لالا پھٹ پڑے

جی، جی لالا اسے ترقی ہی کہا جاتا ہے۔ مانتا ہوں کہ ان چیزوں کو سہولیات کہتے ہیں۔ لیکن لالا کیا آپ نے غور کیا ہے کہ اس پوری ترقی میں ایک اہم شے کو نظرا انداز کیا گیا۔ لالا! بے شک ہمارے راستے کھل گئے، مرغی کا گوشت، چائکہ اور ملک پیک ہر گھر پہنچ گیا لیکن لالا تمہیں نہیں لگتا کہ ہمارے اردگرد سمینٹ، سریا، شاول کے زندان کھڑے کردئے گئے، اور کیا تمہیں نہیں لگتا کہ اب بھی ہمارے نوجوان کوئلہ کانوں، سیالکوٹ اور کراچی کے کارخانوں میں وہی مزدوری کرتے ہیں جو ہم یا ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ لالا! اس پوری ترقی میں ایک اہم شے نظرانداز کی گئی۔ پھر کیا نظر انداز کی گئی؟ لالا سر کجھاتے ہوئے بولے۔

’’تعلیم‘‘، لالا، کیا ہمارے ان علاقوں میں آپ کو مناسب تعداد میں سکولز نظر آتے ہیں اور اگر کہیں کوئی سکول ہے تو وہاں آساتذہ موجود ہیں؟ لالا، لڑکیوں کے پرائمری سکولز، جنرل مڈل و ہائی سکولز میں آساتذہ موجود نہیں یا پھر ان کی تعداد کم ہے۔ مگر کیا کریں لالا، یہ کسی کی ترجیح ہی نہیں۔ یہ تعلیم مناسب اور معیاری نہیں مگر ہمارے بچّوں کو تو یہ بھی میّسر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اب مڈل، ہائی یا ہائر سیکنڈری سکولوں کے لئے مقامی طور پر آساتذہ دستیاب نہیں۔ ہمارے ہاں ہر منصوبے میں باہر سے لوگوں کو بلاکر بھرتی کیا جاتا ہے۔

رکو بھائی، اپ کو پتہ نہیں کہ اس سیاحتی علاقے میں سیّاحت کو فروغ دیا جارہا ہے۔

جی، لالا معلوم ہے۔ مگر اس سے کیا ترقی آئے گی؟ ہمارے لوگ اپنی زمینیں شہروں کے بڑے بڑے امیر لوگوں اور خفیہ مخلوق کو بیچ کر، اس کی نقدی کھا کر پھر یہاں سے نقل مکانی ہی کریں گے۔ یہاں جتنی بھی سیّاحت کو فروغ دیا جاتا ہے شہری بابو اور آفسر شاہی و دیگر امیر لوگوں کے لئے دیا جارہا ہے۔ اگر واقعی ان کا مقصود یہاں کے مقامی لوگوں کی معاشی ترقی ہوتی تو گلی باغ میں سیّاحت والے کالج کو بحال کرتے اور یہاں اس علاقے سے نوجوانوں کو سیّاحت کے چلانے میں تربیت دی جاتی۔ اگر واقعی اس سیّاحت سے مقامی لوگوں کی ترقی مقصود ہوتی تو یہاں کے لوگوں کو اس کے بارے اور اس سے متعلقہ شعبوں میں تعلیم دی جاتی۔

لالا! ہم زیادہ سے زیادہ کیا کرسکتے ہیں۔ بس زمین بیچ دیں گے، جو ہم میں سے زیادہ ہوشیار ہوگا وہ ایک ٹیکسی خریدے گا اور کچھ پیسے کمائے گا۔

لوگ اسی طرح ہمیں کُلہڑ، شاڑھے اور جٹ جاہل کہتے رہیں گے۔ ہمارے نوجوان زیادہ سے زیادہ یہی کریں گے کہ شہر سے آئے ہوئے کسی بابو، آفسر، میڈیا پرسن، سوشل میڈیا انفلوئنسر اور سیاستدان کے ساتھ سیلفی بنا کر اپنے ساتھیوں پر دھاک بٹھائیں گے کہ دیکھو میرا فلاں آفسر، سیلیبرٹی اور سیاست دان سے تعلق ہے!

تو کیا کیا جائے؟

رہنے دیں لالا، میں پاگل ہوچکا ہوں تم بھی پاگل ہوجاؤگے۔ خاموش رہو، بات نہ کرو۔ بہت نازک مزاج ہیں یہ اندورنی و بیرونی نوآبادیات میں پھنسے لوگ۔ مزے کی بات تو یہی ہے کہ ان کو اس نوآبادیاتی تسلط میں رہنے کا نشہ سا ہوگیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...