فہمیدہ ریاض:جو ’تاعمر نہ ہر گز پچھتائی‘

مجاہد بریلوی

174

لامحدودیت کی استعارہ شخصیت فہمیدہ ریاض کا شمار پاکستان کی ان معدودے چند خواتین میں ہوتا ہے کہ سیاست وادب کے میدانوں میں جن کی آواز وفکر کے اثرات نہایت گہرے ونمایاں ہیں۔انہوں نے خواتین کواورنسائی ادب کو روایتی سماج میں وہ اوج عطا کی جو پہلے حاصل نہ ہوئی تھی۔ ان کا سراپا آمریت وجبر کے خلاف تھا۔انقلابی تھیں مگر نعرہ باز نہ تھیں۔ شاہ لطیف ورُومی سے بھی متعاوف کرایا۔ انہی کا کہنا تھا ”میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہوپاؤں“۔ انہیں دنیا سے انتقال کیے سال بیت گیا ہے۔ مجاہد بریلوی کا فہمیدہ ریاض سے خاص تعلق تھا۔انہوں نے اس مضمون میں ان کی زندگی سے جڑے کچھ اہم واقعات وحالات کا تذکرہ کیا ہے۔ مضمون نگار صحافی ومصنف ہیں۔ فرائیڈے ٹائمز میں کالم لکھتے رہتے ہیں

اُردو کے منفرد لہجے کی شاعرہ فہمیدہ ریاض کو رخصت ہوئے ایک سال ہوگیا۔فہمیدہ سے رفاقت اور دوستی کا ایک طویل تعلق اور رشتہ تھا۔ابھی بھی یقین نہیں آتا کہ وہ مجھ سے دُور ہوگئی ہیں۔اس تاثراتی تحریر میں فہمیدہ کی چار دہائی کی شاعری اور شخصیت کو سمیٹنے کی ناتمام کوشش کی ہے:

کاغذ ترا رنگ فق کیوں ہوگیا

شاعر ترے تیور دیکھ کر

کاغذ ترے رخسار پہ داغ کیسے ہیں

شاعر میں ترے آنسو پی نہ سکا

کاغذ میں تجھ سے سچ کہوں

شاعر مرا دل پھٹ جائے گا

فہمیدہ سے ہماری دوستی کا تعلق شیریں سے رشتہ بننے سے پہلے کئی برسوں سے تھا۔ہئے ہئے،اب اس لفظ دوستی میں بھی وہ مٹھاس، وہ اپنائیت اور خلوص نہ رہا۔شادی کو ہفتہ نہیں گزرا تھا۔ہنی مون جیسی بورژوا حرکت کرنے کی نہ تو جیب اجازت دیتی تھی اور نہ ہی پارٹی لائن۔فہمیدہ ایک دن علی الصبح گھر آن دھمکیں۔اور شیریں سے کہنے لگیں۔”بھئی میں مجاہد کو لے کر لاہور مشاعرے میں جارہی ہوں۔تمہیں پتہ ہے نا میں نے شادی سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مجاہد سے میری دوستی مت چھڑوا دینا۔“اب تو خیر شیریں خواتین کو تحفظ دینے کے کمیشن کی سربراہ ہیں۔ اس زمانے میں بھی شاعر عوام حبیب جالبؔ سے تعلق ِ خاص کے سبب ہماری آوارگیوں سے خاصی آشنا تھیں۔مگر شادی سے صرف ہفتے بھر میں انہیں چھوڑ کر لاہور جانے والا فیمینزم کا سبق انہوں نے ابھی پڑھا نہیں تھا۔یوں بھی فہمیدہ اس وقت کوئی عام خاتون تھیں نہیں۔دودھیا چہرے پر بڑی بڑی آنکھیں۔ساڑھی کا ایک پلوُایک خاص انداز میں ایک ہاتھ سے چھلکتا تو دوسرے ہاتھ میں دھواں اڑاتا سگریٹ۔اور اس پر پھر یہ شاعری:

سو جاؤ۔۔۔ تم شہزادے ہو

اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو

اچھا تو کوئی اور بھی تھی

اچھا پھر بات کہاں نکلی

کچھ اور بھی باتیں بچپن کی

کچھ اپنے گھر کے آنگن کی

سب بتلا دو۔۔۔پھر سوجاؤ

اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی

یہ جھل مل کرتی خاموشی

یہ ڈھلتی رات ستاروں کی

بیتے نہ کبھی۔۔۔تم سو جاؤ

اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

دہائی تو گزر ہی گئی۔اب وہ باتیں،یادیں تازہ کرنے کے لئے دماغ کی رگیں کھینچنی ہوں گی۔دل کو لہو لہان کرنا ہوگا۔فگار انگلیاں چاہئے ہوں گی۔مگر اب نہ وہ دماغ،نہ دل اور نہ وہ قلم۔جس کی سیاہی برسوں پیٹ سے لگ کر سوکھ چکی ہے۔مگر فگار انگلیاں دکھا کر رخصت بھی تو نہیں ہوا جاسکتا۔70کی دہائی کا آغاز تھا۔پیپلز پارٹی کا ’روٹی،کپڑا،مکان‘ کا نعرہ، کوثر نیازی کی خطابت اور مسعود محمود کی خباثت میں کبھی کا گم ہوچکا تھا۔ادھر ٹوٹتے بکھرتے بائیں بازو کی تلواریں اپنے لہو میں نیام ہو رہی تھیں۔روسی،چینی لیفٹ کی لڑائی اور فیض صاحب نے اس وقت کیسے ایک شعر میں سمیٹا تھا:

یاں اہل جنوں یک بہ دیگر دست و گریباں

واں اہل ہوس تیغ بہ قف در پہ جاں ہے

ان دنوں کراچی یونیورسٹی کی لابی میں ہم نے ادھر ادھر بکھرے کامریڈوں کے ساتھ ایک ینگ رائٹرز فورم بنایاتھا۔یکم مئی پر مشاعرے کا پروگرام بن رہا تھااسی دن خبر آئی کہ ویتنام میں ہو چی من کے گوریلوں نے امریکہ بہادر کو نکال باہر کیا ہے۔عجیب سرمستی و سرشاری ہم پہ طاری تھی۔اس وقت بھی یہاں خالد،خورشید،مجید بلوچ بیٹھے

ہیں۔جو فہمیدہ کے ساتھ کٹریکٹ ہال کی جھا ڑ پونچھ میں لگے تھے۔جالب ؔ،فرازؔ سمیت سارے ہی ترقی پسند موجود تھے۔فہمیدہ نظم پڑھنے آئیں توبدن دریدہ کی شاعری کی فرمائش ہونے لگی:

تم مجھ سے کہتے تھے

بن کاجل اچھی لگتی ہیں میری آنکھیں

تم اب جس کے گھر جاتے ہو

کیسی ہوں گی اُس کی آنکھیں

جن پہ دل دھڑکا تھا

وہ باتیں سب دہراتے ہو

وہ جانے کیسی لڑکی ہے

تم اب جس کے گھر جاتے ہو

مگر فہمیدہ نے اپنی معمول سے اونچی آواز میں کہا۔”آج میں آپ کو ایک نئی نظم سناؤں گی، 23مارچ۔قرارداد پاکستان پر نہیں۔راولپنڈی میں پنجاب پولیس کی فائرنگ سے ہونے والے نیپ کے شہیدوں کے نام۔“

پیراہن چاک کرو مصلحت اندیشی کا

اپنے اشکوں کی برستی ہوئی بوچھاڑ میں آؤ

یہ جھجکتے ہوئے بازو تو ہوا میں لہراؤ

جسم کو رقص کے گرداب میں چکرانے دو

شہر در شہر جو ہم رقص میں لہرائیں گے

حلقہ در حلقہ بھنور پڑتے چلے جائیں گے

مشاعرہ ختم ہوا۔ طار ق روڈپہ ہندو کے ہوٹل میں کھانا کھایا گیا۔جنہوں نے کبھی ایک سگریٹ چکھی نہیں تھی۔فہمیدہ کے ایڈمریشن میں ساری کے ٹو کی ڈبی خالی کردی۔ہم سب جو عمر میں ان سے پانچ چھ سال چھوٹے تھے۔ان پر عاشق ہوچکے تھے۔مگر یہی وہ وقت تھا جب ہم اپنی ڈگریاں بغل میں دبائے اُس راہ پرکھڑے تھے جہاں ایک راستہ شاندا ر نوکریوں کی طرف جا رہا تھا،تو دوسرا سرخ پھریروں اور انقلابی نعروں کی طرف۔فہمیدہ لندن سے واپسی پر ایک اچھی بھلی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں لگی ہوئی تھیں،مگر ان کا رومانس جنون کی حد تک بلوچ قوم پرستوں سے جڑا ہوا تھا۔جو پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف اپنی منتخب حکومت کی برطرفی کے بعد پہاڑوں پر مسلح جد وجہد کر رہے تھے۔ایک دن کوئٹہ جیل جا پہنچیں۔میرے دوست مجید بلوچ بتاتے ہیں کہ میرے ساتھ انقلابی شاعر گل خان نصیر بھی بیٹھے تھے۔بڑی معصومیت سے پوچھا۔”میں پہاڑوں پر جانا چاہتی ہوں۔“میر گل خان نصیر نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔”اس ساڑھی اور اُونچی سینڈل میں آپ پہاڑوں پر کیسے چڑھیں گی۔“کوئٹہ سے واپس آئیں تو پتھر کی زبان کی شاعری بلوچوں کے لہو میں ڈوبی ایک نعرہ ئ مستانہ بنی ہوئی تھی:

جسم پر پیراہن پارہ پارہ

گولیوں سے بدن پارہ پارہ

بے سہارا لہو بہہ رہا ہے

خون بیدار ہے جلد سوتا نہیں

سینہء سنگ میں جذب ہوتا نہیں

تازہ تازہ لہو بہہ رہا ہے

حوصلہ کس میں تھا

کس میں تھا حوصلہ

وقت لکھتا ہے تاریخ کا فیصلہ

ہم نہ جانیں مگر

ہم نہ مانیں مگر

یہ ہمارا لہو بہہ رہا ہے

اب یہ وقت نہیں کہ نیپ اور بھٹو صاحب کی لڑائی کی تفصیل میں جایا جائے۔ پنڈی،آب پارہ کو پتہ تھاکہ اگر نیپ، پی پی کی مخلوط حکومت چل گئی تو پھر بوٹوں والوں کی چاپ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دم توڑ دے گی۔پھر قصور دونوں طرف کے مہم جو انقلابیوں کا بھی تو تھا۔جس کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق کا چیختا چنگھاڑتا مارشل لاء تو آنا ہی تھا۔فہمیدہ ان شاعروں،ادیبوں میں تو تھیں نہیں کہ جو بھٹو مخالفت پر ضیاء الحق کے دور میں اکیڈمی آف لیٹر سے خود کو کیش کرا رہے تھے۔اب وہ ضیاء آمریت کے خلاف پیپلز پارٹی کے جیالوں کے ساتھ کھڑی تھیں۔جو جئے بھٹو کا نعرہ لگا کر ننگی پیٹھوں پر کوڑے کھا رہے تھے۔فہمیدہ نے اس زمانے میں گھر کا چولہا جلانے کے لئے ایک رسالہ ”آواز“ نکالا۔جسے اشتہارات تو کیا ملتے۔غداری کے مقدمے بننے لگے۔عدالت پہنچیں تو آج کے گھگھیائے سیاستدانوں کی طرح معافی نہیں مانگی۔بلکہ کھلی عدالت میں یہ بیان لکھوایا:

چیتھڑا ہے یہ قانون

باغیوں کے قدموں کی

اس سے دھول جھاڑیں گے

آمری نحوست ہے

یہ نظام ِاحکامات

بی چوک پھاڑیں گے

وقت آنے والا ہے

احتساب ہم لیں گے

جب حساب ہم لیں گے

پھر حساب دینے کو

پھر کہاں تم ہوگے

وارنٹِ گرفتاری نکلے۔تو ملک بدری پر مجبور ہوگئیں۔ فہمیدہ کے پاس اتنے پیسے تو تھے نہیں کہ یورپ جلا وطنی اختیار کرتیں۔ایک شام وہاں لوٹ گئیں کہ جہاں ان کے آبا ء نے ہجرت کی تھی۔

دہلی میں سال بھر بعد فہمیدہ سے ملاقات ہوئی تو سرپر پڑی سیاہ چادر اور آنکھوں میں تیرتی تراوٹ کے بعد نہ کچھ کہنے کو رہا نہ سننے کو۔مہینے بھر بعد ایک نظم کے ساتھ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو ایک خط ملا کہ اگر ضیاء الحق کا مارشل لاء واقعی ختم ہوگیا ہے تو مجھے اپنے وطن لوٹنے دیا جائے۔فہمیدہ ریاض کی جونیجو حکومت نے اپیل منظور کی۔فہمیدہ نے دہلی میں جلاوطنی بڑے سبھاؤ سے کاٹی۔اور یہ کہہ کر کراچی واپس آ گئیں۔

تو سدا سہاگن ہو ناری

مجھے اپنی توڑ نبھانا ہے

ری دِلی چھو کر چرن ترے

مجھے اپنی موڑ مڑ جانا ہے

ضیاء الحق کی آمریت ختم ہوئی۔پیپلز پارٹی کا دور اس اعتبار سے خوش آئند تھا کہ فہمیدہ ریاض کو نیشنل بک کونسل میں نوکری ملی۔مگر شریفوں کی حکومت کے آتے ہی وہ نوکری بھی چھین لی گئی۔الزام ہندوستان ایجنٹی کا لگا،جو ساری زندگی ان کا پیچھا کرتا رہا۔معذرت کے ساتھ۔مودی کے یار نے قومی اسمبلی کے بھرے اجلاس میں پی پی پی کی حکومت پر دیگر الزامات کے ساتھ یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے فہمیدہ جیسی بھارتی ایجنٹ کو سرکاری ملازمت دی۔تصور میں لائیں۔یہ بیان باقاعدہ پی ٹی وی پر فہمیدہ کی تصویروں کے ساتھ چل رہا تھا۔بڑی دہشت کا سماں تھا۔دوسروں کو تو کیا دو ش دوں۔قریبی دوست بھی ملنے سے گریزاں ہوگئے۔بہر حال ایک اشاعتی ادارے کو کریڈٹ دینا پڑے گا کہ جس نے دہائی اوپر فہمیدہ کو بڑا سہارا دیا۔مگر 2007ء میں وطن سے دور نوجوان بیٹے کبیر کی امریکہ میں مو ت نے فہمیدہ کو بستر سے لگا دیا۔ہئے ہئے کیا نوحہ لکھا ہے۔ ہر اُس ماں کا جس کاجوان بیٹا وطن سے دور اُسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ جائے۔

لوگ کیوں گودی میں بھر کر لائے ہیں بیٹا مرا

ہوگیا بیمار کیا؟

میں نہ کہتی تھی نہیں رکھتے تم اپنا خیال

اب نہ جانے دوں گی سردی میں تمہیں

ٹھیک ہوں،وہمی ہوں

وہمی سہی

پڑ ھ کے پاکیزہ کلام

لوگ رخصت ہوگئے

گھر اکیلا ہوگیا

پھولوں بھرا

وہ رہا کمرا تمہارا

اس جگہ سوتے تھے تم

اس میں اب ہم تم رہیں گے

کیوں کبیر

کبیر کی موت،کچی پکی نوکری،اُس پر اس سفاک معاشرے اور حکمرانوں کی بے حسی نے فہمیدہ کو مستقل بستر سے لگا دیا۔

فہمیدہ کا اکثرشکایتی فون آتا”ملتے کیوں نہیں؟“ ہر بار وضاحت سے کہا۔”عمر کے چار پہر کامریڈیت میں لگادئیے،پیٹ اسکرین سے لگا ہے نوکری پورے سے زیادہ وقت مانگتی ہے۔“مگر فہمیدہ ایسی باتوں سے کیوں قائل ہوتیں۔انہوں نے تو اپنی بھرپور جوانی کے دن، نہیں۔۔۔ساری زندگی ہی اُس انقلاب کو دے دی کہ جس کے مجسمے کے گرنے پر بھی وہ امید نو کے انتظار میں تھیں۔لاہور جانے سے ایک دن پہلے فون آیا۔”میں جارہی ہوں،آکر مل لو۔“فہمیدہ کے ہمیشہ جانے کا یقین ہوتا تو جاکر مل بھی لیتا۔مگر اس طرح اتنی جلدی؟بدھ کو ربیع الاول کی چھٹی کے دن گھر پر ہی تھا۔رات کے دوسرے پہر میں خالد احمد کا فون آیا۔خالد عموماً رات کے اسی پہر میں فون کرتے ہیں۔ڈوبتی ہوئی آواز میں کہا۔”ہماری دوست چلی گئی۔“عمر کے اس پہر میں اب گھونٹ گھونٹ لینے میں گھنٹہ لگ  جاتا ہے۔ہاتھ سے فون گرا تو ایک ہی گھونٹ میں گلاس خالی کردیا۔سال گزرگیا ہے۔تعزیتی ریفرنس ہو رہے ہیں۔انہیں علم تھا کہ ان کے لئے وہی سب رسمی کلمات کہے جائیں گے۔جو کسی کی رخصتی پر کہے جاتے ہیں۔اسی لئے اپنی زندگی میں ہی اپنا تعزیت نامہ خود ہی لکھ گئیں۔

تعزیتی قراردادیں

یارو! بس اتنا کرم کرنا

پسِ مرگ نہ مجھ پہ ستم کرنا

مجھے کوئی سند نہ عطا کرنا دینداری کی

مت کہنا جوشِ خطابت میں

دراصل یہ عورت مومن تھی

مت اٹھنا ثابت کرنے کو ملک و ملت سے وفاداری

مت کوشش کرنا اپنالیں حکام کم از کم نعش مری

یاراں! یاراں!

کم ظرفوں کے دشنام تو ہیں اعزاز مرے

منبر تک خواہ وہ آ نہ سکیں

کچھ کم تو نہیں دلبر مرے

ہے سرِ حقیقت جاں میں نہاں

اور خاک و صبا ہمراز مرے

توہین نہ ان کی کرجانا

خوشنودیئ محتسباں کے لیے

میت سے نہ معافی منگوانا

دمساز مرے

تکفین مری گر ہو نہ سکے

مت گھبرانا

جنگل میں لاش کو چھوڑ آنا

یہ خیال ہے کتنا سکوں افزا

جنگل کے درندے آلیں گے

بن جانچے مرے خیالوں کو

وہ ہاڑ مرے اور ماس مرا

اور مرا لعلِ بدخشاں دل

سب کچھ خوش ہوکر کھالیں گے

وہ سیر شکم

ہونٹوں پہ زبانیں پھریں گے

اور ان کی بے عصیاں آنکھوں میں چمکے گی

تم شاید جس کو کہہ نہ سکو

وہ سچائی

یہ لاش ہے ایسی ہستی کی

جو اپنی کہنی کہہ گزری

تا عمر نہ ہرگز پچھتائی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...