پاکستان کے تعلیمی نظم اور نصاب کو طالب علم دوست بنایا جائے

306

پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اسلام آباد کے زیرِ اہتمام مارگلہ ہوٹل اسلام آباد میں 23جولائی 2019ء  بروز منگل ’’سماجی ہم آہنگی، رواداری اور تعلیم‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کی تقریب رونمائی کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ تقریب سے اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود، کالم نگار و دانشور خورشید ندیم، وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمد، ڈائریکٹر پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن رومانہ بشیر، اسلامی یونیورسٹی میں شعبہ قانون کے سربراہ ڈاکٹر عزیز الرحمان، اور ایسوسی ایٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج راولپنڈی شاہد انور نے اظہار خیال کیا۔

ڈاکٹر خالد مسعود نے تعلیمی اداروں کے نصاب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نصاب سازی ایک پیچیدہ عمل ہے، اس کی تشکیل سے قبل بہت ساری تفصیلات پر غور ضروری ہوتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پالیسی میکرز اس کو اہمیت نہیں دیتے۔ دانشور اور پالیسی میکر کے طرز فکر میں شدید بُعد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نصاب سازی میں اساتذہ کو شریک کرنا چاہیے کیونکہ وہ طالب علموں کی مشکلات اور ضروریات کا صحیح ادراک رکھتے ہیں لیکن انہیں اس عمل سے بالکل الگ رکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے پرائمری تعلیم پر توجہ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا اس درجے کی تعلیم کو آسان اور طالب علم دوست بنایا جائے جبکہ موجودہ نصاب میں اس مرحلے کی  بعض کتب میں آئیڈیالوجی داخل کردی گئی ہے جس نے تعلیم کو بوجھل اور اجنبی بنادیا ہے۔

تقریب میں کالم نگار خورشید ندیم نے تعلیمی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے پورے ملک میں مسائل موجود ہیں لیکن پاکستان کے بعض حصوں میں تعلیمی ونصابی مشکلات کی نوعیت زیادہ گمبھیر ہے جسے موضوع گفتگو ہی نہیں بنایا جاتا۔ انہوں نے اس پر بلوچستان اور اندرون سندھ کی مثال دی کہ وہاں کے تعلیمی مسائل یکسر نظرانداز ہیں۔ غیر نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جامعات میں سیاسی سرگرمیوں کی فعالیت تو موجود ہے لیکن یہ یک طرفہ ہے۔ اس میں ایک بیانیے کو آزادی دی گئی، جسے ریاست نے تشکیل دیا تھا، جبکہ دیگر بیانیوں کا راستہ جبراََ مسدود کردیا گیا۔ اس قدغن سے طلبہ کی آزاد ذہنی و فکری صلاحیت متأثر ہوئی۔

نصاب سازی میں اساتذہ کو شریک کرنا چاہیے کیونکہ وہ طالب علموں کی مشکلات اور ضروریات کا صحیح ادراک رکھتے ہیں

ڈاکٹر اشتیاق احمد نے تعلیم کو سماجیات پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں تعلیم اور بیانیوں کو آپس میں مدغم کردیا گیا اس سے مدارس اور جدید تعلیمی اداروں کے مابین فرق ختم ہوکر رہ گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام تعلیمی مسائل محض اس شعبہ کے داخلی نہیں ہیں بلکہ بعض پیچیدگیاں دیگر خارجی مسائل کی پیداوار ہیں۔ مثال کے طور پہ آبادی کو کنٹرول نہ کرنے سے وسائل کی قلت اور سماجی ناہمواری جنم لیتے ہیں جو بالواسطہ تعلیمی نظم پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے مینجمنٹ کی جو مشکلات پیدا ہوتی ہیں وہ بھی بہر طور تعلیم پر اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر اشتیاق احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ جدید تعلیم کا خاکہ بدلتے وقت کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا جانا چاہیے۔ آج کے دور میں جامعات کی اعلیٰ تعلیم پر زیادہ وقت اور صلاحیتیں صرف کرنے کی بجائے ٹیکنیکل تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

رومانہ بشیر نے نصاب اور تعلیمی نظم کے حوالے سے اقلیتوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ جو پیچیدگیاں ذکر کی گئیں یہ عمومی ہیں۔ اس شعبہ میں اقلیتوں کو مزید کئی مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے، اور المیہ یہ ہے کہ انہیں قابل اعتنا ہی نہیں سمجھا جاتا۔ ان کا حل تو بعد کا مرحلہ ہے، لوگوں کی اکثریت انہیں سننے اور تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر عزیزالرحمان نے اس پہلو سے مدارس کے ماحول اور نصاب پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مدارس  اور مساجد کا رائے سازی میں بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلاشبہ مدارس کا مجموعی نظم سماج میں ایک مخصوص ذہنیت کی تشکیل کرتا ہے لیکن اس پر مستزاد یہ ہے کہ انفرادی طور پر اساتذہ بھی اپنے اپنے رجحانات کے مطابق طلبہ کی فکری ساخت پر اثرات مرتب کرتے ہیں، کیونکہ دینی مداراس کے طلبہ کا اساتذہ کے ساتھ اطاعت پر استوار گہرا ربط ہوتا ہے۔

شاہد انور نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طالب علموں کی ضروریات کے حوالے سے احساس موجود نہیں ہے۔ جو نصاب داخل درس ہے اس کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ اسے پڑھنے والوں کو کیا مشکلات درپیش آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نصاب کی سماج اور طلبہ کے ساتھ ہم آہنگی موجود نہیں ہے۔ اس خلا کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

شرکا نے بھی اس موضوع پر اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تجاویز محکمہ تعلیم تک پہنچنی چاہئیں، جو ان مسائل کو عملاََ حل کرنے کا مجاز ہے اور اس کا اختیار رکھتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے درمیان اس حوالے سے پائی جانے والی بے چینی کا  ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظم کے کثیرالجہت مسائل ان کی عملی زندگی کو بری طرح متأثر کررہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کا ادارک کرتے ہوئے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...