قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے حصول کے لیے جنگ

145

حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ کسی بھی طریقے سے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سابق قبائلی علاقوں سے صوبائی اسمبلی کی 21 نشستوں میں سے اکثریت پر کامیابی حاصل کرلے، اور افغانستان سے ملحقہ ان علاقوں میں دیگر سیاسی جماعتوں کا عمل دخل مفلوج بنادے۔ اس مقصد کے لیے وزیراعظم عمران نے تمام علاقوں کے دورے مکمل کرلیے ہیں اور وہاں کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بلند و بانگ دعوے بھی کیے۔ جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان سمیت کابینہ میں شامل تمام وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی ہر روز گھنٹوں کے لحاظ سے کسی نہ کسی علاقے کے دورے پر ہوتے ہیں۔ مگر دوسری طرف دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عہدیداروں کو سیکورٹی رِسک کی وجہ سے یہ سہولیات میسر نہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق انتخابات کا سلسلہ آئندہ جون کے اواخر میں مکمل ہوگا۔ رمضان المبارک کے دوران ان قبائلی علاقوں میں انتخابات کے لیے مہم زور وشور سے جاری رہے گی۔ گو کہ حکمران جماعت نے انتخابی تیاریاں تقریبا مکمل کرلی ہیں۔ 16 عام، خواتین کے لیے مخصوص چار اور غیر مسلم اقلیتوں کیلئے ایک نشست پر امیداروں کا چناؤ بھی  کرلیا گیا ہے۔ نامزد امیداروں میں دیگر سیاسی جماعتوں سے آکر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کرنے والوں کی اکثریت ہے۔ ان میں وہ لوگ  بھی نمایاں ہیں جنہوں نے ماضی قریب میں نہ صرف پر اسرار اور غیر قانونی دھندوں کے ذریعے دولت جمع کرکے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر شہریت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اور مزے کی بات ہے کہ ان عناصر کے خلاف نہ صر ف پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ماضی میں بولتے رہے  بلکہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی موجودگی میں ان پر تنقید کرتے رہے، لیکن اب  اپنی ہی باتوں پر عملددرآمد میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے اپریل کے اواخر میں افغانستان سے ملحقہ باجوڑ میں جلسہ کرنے کا اعلان کیاتو ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر کے جلسے کو روکنے کی کوشش کی مگر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے نہ صرف  انتظامی حکم کی خلاف ورزی کا فیصلہ کیا بلکہ اُنہوں نے 4 مئی کو باجوڑ جاکر کارکنوں کے ایک کنونشن سے خطاب کرکے قبائلی اضلاع میں باقاعدہ طورپر انتخابی مہم شروع کردی۔ عین اُسی دن جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینٹرمشتاق احمد خان نے اورکزئی جانے کی کوشش کی مگر ان کو اور ان کے قافلے میں شامل دیگر پارٹی رہنماؤں کو وہاں  جانے سے روک دیا گیا اور ردعمل میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے پشاور میں مظاہرہ کیا اور حکومت کے اس دوغلی پالیسی پر شدید تنقید کی۔

یوں دکھائی دیتا ہے کہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں نے ابھی تک جون کے اواخر میں ہونے والے انتخابات کے لیے حکمت عملی وضع نہیں کی ہے جس کے نتیجے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے لیے میدان بالکل کھلا اور موسم انتہائی خوشگوار دکھائی دیتا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو بھی قبائلی اضلاع میں متحرک اور مقبول جماعت کی حیثیت حاصل ہے۔ مذہبی نعروں پر مشتمل کانفرنسوں میں اس جماعت کے بہت زیادہ لوگ شرکت کرتے ہیں۔ رواں ماہ مئی کے دوران جمیعت علمائے اسلام (ف) خیبر کے، جمرود اور شمالی وزیرستان کے میران شاہ میں جلسے کرنےوالی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ ان رہنماؤں کو روکنے کی کوشش کرتی ہے یانہیں۔ جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں جن  میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان پیپلزپارٹی اور قومی وطن پارٹی شامل ہیں ابھی تک قبائلی اضلاع میں زیادہ متحرک اور سرگرم نہیں۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں نے ابھی تک جون کے اواخر میں ہونے والے انتخابات کیلئے حکمت عملی وضع نہیں کی ہے جس کے نتیجے میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے لیے میدان بالکل کھلا اور موسم انتہائی خوشگوار دکھائی دیتا ہے۔

پچھلے 16 مہینوں میں ملک کے اندر، بالخصوص خیبر پختونخوا کی سیاست میں پختون تحفظ تحریک کو خاصی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ بظاہر تو یہ تحریک سول، ملٹری بیوروکریسی کےخلاف ایک منظم تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے مگر اندورنی طور پر اس تحریک نے حزب اختلاف میں شامل تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص پختون قوم پرست سیاست  کی سرخیل عوامی نیشنل پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور پہنچا رہی ہے۔ چونکہ ابھی تک پختون تحفظ تحریک کے رہنماؤں نے بطور پارٹی الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع نہیں کیا ہے لہذا صوبائی اسمبلی کیلئے قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات میں اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت ہی کو ملے گا۔

پچھلے کئی ہفتوں سے نہ صرف فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل بلکہ وزیراعظم عمران خان اور حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پی ٹی ایم کے بارے  بیانات میں شدت آنے سے اس تحریک کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جس سے قوم پرست تحریک میں شامل تمام جماعتوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ تاہم اب عوامی نیشنل پارٹی کے جماعتی انتخابات کا سلسلہ مکمل ہونے کے بعد صوبائی صدر ایمل ولی خان نے تہیہ کیاہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے طول وعرض میں سیاسی میدان کسی کے لیے بھی کھلا نہیں چھوڑسکتے۔ فی الوقت اُنہوں نے شروعات باجوڑ میں ورکزکنونشن کے خطاب سے کی ہیں مگر باجوڑ جاتے وقت انہوں نے ضلع مہمند میں بھی اپنے پارٹی کارکنوں کو متحرک کردیا ہے۔ باجوڑ میں ایمل ولی خان اور صوبائی سیکرٹری جنرل سردارحسین بابک نے محمد گٹ کے مقام پر اس گھر کا بھی دورہ کیا جس گھر کی خاتون نے مبینہ طور پر رات کے وقت گھر میں گھسنے والے سیکورٹی اہلکاروں کو پستول کے گولیوں سے ہلاک کردیا تھا۔ ایمل ولی خان نے عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے متاثرہ خاندان کو ہرقسم کی سیاسی مدد فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ ضلع مہمند کے گاؤں میں پیش آنے والا یہ واقعہ بھی آئندہ جون کے اواخر میں ہونے والے انتخابی معرکے پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

اس قسم کے واقعات دیگر قبائلی اضلاع میں ہوتے رہتے ہیں مگر عزت رکھنے کی کی خاطر متاثرہ لوگ چپ رہنے پر مجبور ہیں تاہم پی ٹی ایم، اے این پی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے منسلک کارکن اب ان واقعات پر خاموش  نہیں رہتے اور انہیں  کسی نہ کسی طریقے سے سامنے لاتے ہیں۔ اب حکومت اور ریاستی اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو چپ رہنے کی تلقین کرنے کے بجائے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف اقدامات اُٹھائے۔ بصورت دیگر ان معاملات سے اُٹھنے والا دھواں کسی بھی وقت آگ کے بدترین شعلوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

بدقسمتی یہ رہی کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد حکومت ان علاقوں کے لوگوں سے کیے گئے وعدے ایفا نہ کرسکی جس کی وجہ سے لوگ متنفر دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت کے افغانستان کے ساتھ سرحد اور سرحدی گزرگاہ بارے فیصلوں سے زیادہ نقصان اُٹھانے والے بھی قبائلی عوام ہیں۔ ایک طرف حکومت سالانہ 100 ارب کے اخراجات کے لیے  صوبوں سے بھیک مانگنے پر مجبور ہے اور دوسری طرف سرحدی گزرگاہ کی بندش اور سرحدوں پر باڑ لگوانے سے قبائلی عوام پر پڑنے والے اثرات سے بھی حکومتی اداروں پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے۔ ان حالات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے قائدین کو روایتی پالیساں ترک کرنی چاہئیں ورنہ آنے والے وقت میں اس کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...