روزہ

51

نماز اور زکوٰۃ کے بعد روزہ اسلام کا ایک ہم رکن ہے جو  ہر مسلمان عاقل بالغ پر فرض ہے۔ عربی زبان میں اس کے لیے “صوم ” کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی کسی چیز سے رک جانے اور اس کو چھوڑ دینے کے ہیں۔اسلام میں یہ لفظ خاص شرائط کے ساتھ کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے رک جانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔اللہ رب العزت نے  روزے جیسے اہم فرض کی ادائیگی کے لیےماہ  رمضان المبارک کا انتخاب فرمایا  اور قرآن مجید میں اسے خاص رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ قرار دیا۔

رمضان المبارک کا چاند جیسے ہی طلوع ہوتا ہے تو مسلم معاشروں میں  عبادات اور دیگر روحانی مشاغل کے ساتھ ساتھ ایک نئی زندگی شروع ہوجاتی ہے۔یہ مہینہ صبراور ضبط نفس جیسی غیرمعمولی پابندیوں کے ساتھ آتا ہے مگر عموماً اس کا استقبال مسلمان بڑی محبت کے ساتھ کرتے ہیں۔ گھروں میں چہل پہل اور مساجد میں رونقیں نظر آنے لگتی ہیں۔چھوٹے، بڑے مرد ،عورت سبھی روزوں کا اہتمام کرنے لگتے ہیں ،مساجد میں  عام دنوں کی بنسبت نمازیوں کی تعداد میں اضافہ نظر آتا ہے۔رمضان کے علاوہ  نماز عشاء اپنے گھروں میں پڑھ لینے اور جلدی سوجانے کی کوشش ہوتی ہے مگر رمضان میں  نماز عشاء کے ساتھ نماز تراویح پڑھنے اور بعض لوگ تو سحری تک عبادت میں مشغول رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رات کو صبح صادق سے پہلے پہلے سحری  کھانےکا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ سارادن روزہ کی حالت میں بھوک وپیاس زیادہ نہ ستائے۔ صبح صادق پر سحری کا سلسلہ ختم کرکے روزہ شروع کرلیا جاتا ہے جس کا اختتام غروب آفتاب پر ہوتا ہے۔  غروب آفتاب کے وقت روزہ افطار کیا جاتا ہے۔مسلم گھرانوں اور مساجد میں افطاری کے سلسلہ میں باقاعدہ اہتمام ہوتا ہے۔ اسلام نے روزے دار کے افطار کو روزے کا انعام اور فطرت کا حق تسلیم کیا ہے کیونکہ بھوکا پیاسا رہنے کے بعد انسان میں کھانے پینے اور اللہ کی دی گئی نعمتوں کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ روزہ دار کے حصہ میں دوخوشیاں ہیں۔ ایک افطار کے وقت ملتی ہے اور دوسری اسے اپنے رب کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے ملے گی. کھجور سے روزہ کھولنا زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے کہ وہ اچھی غذا ہے  اور سنت بھی۔ پاکستان میں بوقت افطار سحری کی بنسبت زیادہ تنوع پایا جاتا ہے کئی ایسی ایسی چیزیں افطار میں بنائی جاتی ہیں جن کا تصور دوسرے ممالک  میں نہیں ہے۔

تراویح کا اہتمام پورا مہینہ کیا جاتا ہے  مگر مکمل قرآن مجید سننے یا سنانے کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ بعض لوگ جلدی سننے کے لیے چند راتوں میں سننے کا اہتمام کرتے ہیں اور بعض پورا مہینہ سنتے ہیں۔ عموماً 27 ویں شب یا آخری عشرہ کی طاق راتوں میں مساجد میں ختم قرآن کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔

آخری عشرے کا اعتکاف بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ روزے کا منتہائے کمال ہے۔ انیسویں روزے کو غروب آفتاب کے وقت بہت سارے لوگ اعتکاف کی نیت سے مساجد میں منتقل ہوجاتے ہیں  اور شعبان کا چاند نظر آنے تک وہیں مقیم رہتے ہیں۔ اعتکاف کی حالت میں سوائے انسانی ضروریات  کے مسجد سے باہر نکلنا ممنوع ہے۔ اعتکاف ایسے ہی ہے کہ کوئی بندہ اپنا گھربارچھوڑ کر اللہ کے درپر آکے بیٹھ جائے اور جب تک وہ نہ مانے ، یہ بندہ جانے کا نام ہی نہ لے۔

ماہ رمضان میں ایک رات جس کا نام لیلۃ القدر ہے اور کہا جاتا ہے کہ آخری عشرہ کی راتوں میں سے کوئی ایک رات لیلۃ القدر کی رات ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ایک پوری سورۃ اس رات کے نام  سے موجود ہے۔ یہ رات بہت خاص اور بڑی فضیلت کی حامل ہے۔ یہی وہ رات ہے جسے قرآن مجید میں ایک ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ یہ رات رمضان المبار ک کے آخری عشرہ کی  طاق راتوں میں تلاش کی جاتی ہے مگر زیادہ  تر 27 ویں شب کو لیلۃ القدر سمجھا جاتا ہے اور اس ساری رات لوگ بہت زیادہ عبادت کا اہتمام کرتے ہیں۔

دن گزرتے دیر نہیں لگتی اور 29 یا 30 رمضان کا دن آجاتا ہے جس کی شام رمضان المبارک ختم اور شعبان یعنی عید کا چاند نظر آتا ہے۔ رمضان رخت سفر باندھتا ہے اور اگلے سال آنے کے وعدہ کے ساتھ رخصت ہوجاتا ہے۔ عید کا چاند نکلتے ہیں احکام بدل جاتے ہیں، معمولات زندگی بدل جاتے ہیں۔  ایک دن پہلے دن میں کھانا پینا گناہ تھا اور اب عید کے دن نہ کھانا پینا گناہ ہوجاتا ہے۔

اسلام سے پہلے آنے والے تمام مذاہب میں روزے کا تصور رہا ہے۔ روزہ سے متعلق سورۃ بقرہ کی آیات  میں یہی بتایا گیا ہے کہ روزہ مسلمانوں پر اسی طرح فرض کیا گیا ، جیسے پہلی قوموں پر فرض کیا گیا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ روزے کا تصور تمام مذاہب میں  تربیت نفس کے طور پررہا ہے۔

روزے کا مقصد قرآن مجید نے جو بیان کیا ہے کہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے بن جائیں۔یعنی تمہارے اندرتقویٰ پیدا ہوجائے۔تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان کے شب وروز اللہ کی مقررکردہ حدود کے تحت گزریں  اور  انسان کے دل کی گہرائیوں میں یہ ڈر موجود ہوکہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی تو اس پاداش میں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں۔

روزہ کے ساتھ انسانی نفس  کے چند بنیادی مطالبات  حرام ہوجاتے ہیں اور انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔جب اس احساس کے ساتھ فجر سے مغرب تک کا وقت گزرتا ہے تو یہ احساس پورے انسانی جسم کا احاطہ کرچکا ہوتا ہے۔ اللہ کے حکم کے تحت انسان  کھانا،پینا، مباشرت ایسی چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے اور محض اپنے پروردگار کی خوشنودی کے لیے اس انسانی نفس کے مطالبات کو پورا کرنے سے انکار کردیتا ہے۔روزے کا یہ عمل جب بار بار دہرایا جاتا ہے تو یہ حقیقت روزے دار کے دل میں پیوست ہوجاتی ہے کہ وہ ایک پروردگار کا بندہ ہےاور اس کے شایان شان یہی ہے کہ وہ روزوشب اپنے پروردگار کی پیروی کرے۔ اس احساس کا پیدا ہونا تقویٰ کے لیے بنیادی چیز ہے۔

روزہ انسان کے دل میں یہ احساس بھی پیدا کرتا ہے کہ وہ جس پروردگار کا بندہ ہے، ایک دن جواب دہی کے لیے اس کے حضور پیش بھی ہونا ہے۔  ہم سب مسلمان اس بات کا اقرار ضرور کرتے ہیں مگر اکثروبیشتر ہم احساس سے عاری ہوتے ہیں۔روزے میں جب ہمیں بھوک ، پیاس تنگ کرتی ہے اور جنسی جذبات پوری قوت کے ساتھ اپنی تسکین کا تقاضاکرتے ہیں تو تنہا یہی احساس کہ پروردگار کی بارگاہ میں جواب دہی کے لیے پیش ہونا ہے،ان مطالبات کو پورا کرنے سے روک دیتا ہے۔اللہ کے حضور جواب دہی کا احساس پیدا کرنے کی یہ ریاضت کوئی معمولی چیز نہیں ۔ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے یہ موثر ترین چیز ہے۔

روزہ انسان کو صبر کی تربیت دیتا ہے۔صبر کی تربیت کے لیے اس سے بہتر اور اس سے زیادہ موثر کوئی دوسرا طریقہ شاید نہیں ہے۔ایک طرف ہمارے جسم کی خواہشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اور دوسری طرف اللہ کا فرمان ہے کہ میری دی گئی ہدایات کی روشنی میں زندگی بسرکرو۔انسان میں اگر سچائی ، دیانت، تحمل،بردباری، عہد کی پابندی، عدل وانصاف، عفودرگزر، فواحش ومنکرات سے گریزاور حق پر استقامت کے اوصاف نہ ہوں تو تقویٰ کا کیا معنیٰ ہوا؟یہ اوصاف بغیر صبر کے کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتے۔

مذکورہ مقاصدکو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان رمضان المبارک کے مہینے کو نفس کی تربیت کا مہینہ بنائے ، اسکی پرورش کا مہینہ نہ بنائے۔ اس پورے مہینے میں سحروافطار کے وقت کھانے پینے کی مقدار میں احتیاط کرنا چاہیے۔ جو مل جائے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسے کھا لینا چاہیے، غریبوں، فقیروں کی مدد اور انہیں کھانے پر بلانا چاہیے۔ روزے کو اشتعال کا بہانہ نہ بنایا جائے، جہاں اشتعال کا کوئی موقع آئے تو فوراً یہ یاد آنا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ  روزہ ڈھال ہے، لہٰذا تم میں سے جس شخص کا روزہ ہو، وہ نہ بے حیائی کی باتیں کرے اور نہ جہالت دکھائے۔پھر اگر کوئی گالی دے یا لڑنا چاہے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں،میرے بھائی میں روزے سے ہوں۔ روزہ میں فضول گوئی ، جھوٹ، غیبت اور وہ تمام افعال جو پہلے سے مذموم ہیں، مزید مذموم ہوجاتے ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ جس نے روزہ میں جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس بات کی بالکل ضرورت نہیں کہ وہ آدمی اپنا کھاناپینا چھوڑ دے۔خاموشی کو روزے کا ادب سمجھنا چاہیے اور جھوٹی سی اڑانے کی بجائے کوشش کرنی چاہیے کہ زبان پر تالا لگا رہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...