رمضان المبارک: خود آگہی سے خدا آگہی تک کا سفر

رمضان المبارک کی اہمیت و فضیلت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ قرآن مجید کے نزول کا آغاز اس ماہ سے ہوا۔ روزہ جیسی عبادت اسی ماہ میں فرض ہوئی۔ رسول اللہ نے رمضان المبارک میں نیک اعمال کا خصوصی اہتمام فرمایا اور باقی گیارہ مہینوں سے زیادہ اس میں کثرت فرمائی۔ عبادت و سخاوت، غمخواری و ہمدردی، تلاوت و ریاضت سے رمضان المبارک میں ہر طرف روحانی بہار کا ماحول ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقاصد کے حصول تک پہنچنے کے لئے یہ ماحول ساز گار ہوتا ہے۔

مقاصد میں سب سے اعلیٰ وارفع مقصد رب تعالیٰ کا تقرّب وخوشنودی ہے۔ اس کا حصول دو ذریعوں سے حاصل ہوتا ہے۔ پہلا ذریعہ بندگانِ خدا کی خدمت اور ان کے چہروں پہ مسکراہٹ لانا، دوسرا ذریعہ رب تعالیٰ کی عبادت اور اس کے کلام کی تلاوت ہے۔ رمضان المبارک کو غمخواری اور ہمدردی کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔ رمضان المبارک میں تربیت و تعلیم کا ماحول باقی گیارہ مہینوں کے لئے ہمیں ”خدا رُخی” زندگی گزارنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ یہ سفر خود آگہی سے شروع ہو کر ”خدا آگہی” پہ مکمل ہوتا ہے۔ اس سفر میں رمضان المبارک مسلمان کا معاون ہوتا ہے۔ اگر اس نکتہ کو سمجھنا ہو تو روزے کی مقصدیت وغایت پہ غور کرنے کی ضرورت ہے جسے قرآن مجید نے ”تقویٰ” قرار دیا ہے۔ تقویٰ در حقیقت ”خدا آگہی” کا نام  ہے۔

رمضان المبارک میں مسلمان کی فلاح و کامرانی یہی ہے کہ وہ خدا کے ساتھ جینا سیکھ جائے۔ اس مہینے میں جو نشاط وسرشاری ہے وہ دنیا کی کسی شے میں نہیں ہے۔ اس نشاط و سرشاری کو حاصل کرنے کے لئے عبادت، تلاوت اور خدمتِ خلق کے کاموں میں قلبی سکون محسوس ہو ورنہ اس کے بغیر آگے کا سفر مشکل ہو جاتا ہے

مذہب میں سب سے بڑی حقیقت رب تعالیٰ کی ذات ہے اور باقی سب کچھ اُس کی ذات کے ارد گرد ہے۔ انسانی زندگی کے تمام سلجھاؤ، توازن اور عدل پہ قائم ہو جاتے ہیں۔ اگر انسان اس احساس کے ساتھ زندگی گزارے کہ وہ کبھی رب تعالیٰ کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہو سکتا اور وہ ذات خلوت و جلوت، تنہائی ومحفل،صبح وشام ،رات و دن ،جنگ وامن، فتح و شکست، کامیابی و ناکامی، خوشی و غم میں میرے ساتھ ہے۔ فقط ساتھ ہی نہیں ہے وہ میری ہر ضرورت کو پورا کر رہی ہے جو میرے جسم و روح کے لئے اہم ہے۔ جس سے میری اپنی ذات کی تکمیل ہوتی ہے۔ وہ ہر لمحے میں میرے ساتھ ہے، اس وقت بھی میرے ساتھ ہوگا جب میں دنیا کی نظر میں نہیں ہوں گا۔ جب لوگ میرے وجود کو بے وجود خیال کر کے شبِ تاریک میں چھوڑ آئیں گے۔ جہاں جانے کا خیال ہی انسان کے وجود پہ کپکپی اور لرزہ طاری کر دیتا ہے لیکن اس خیال سے دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی ساتھی ساتھ نہ ہو، وہ ذات ساتھ ہوگی جس کے متعلق وقتِ وفات پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللھم بالرفیق الاعلیٰ ”میرے اللہ تو ہی سب سے اعلیٰ دوست ہے”۔

روزے کا روحانی پہلو یہی ہے کہ اس سے تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے ہم تمام دن کھائے پیئے بغیر رہ کر خدا کے حکم کو بجا لاتے ہیں۔ یہی تعمیلِ حکم ہمارے وجود کی پاکیزگی اور روح کی طہارت کا سبب ہے۔ انسان کے معاملات کی درستگی کا آغاز اسی نکتہ سے ہوتا ہے کہ انسان جب اپنے باطن کی اصلاح کرتا ہے تو اس کے بعد اس کے معاملاتِ زندگی میں بھی سدھار آتا چلا جاتا ہے۔ اس لئے مذہب کی تعلیم و ہدایت کا بنیادی نکتہ یہی ہے۔ معاشرتی، سماجی، معاشی، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں عدل و انصاف اور اعلیٰ اخلاقی مثالیں اس اصلاح و تزکیہ کے بعد قائم ہوتی ہیں۔ مسلمان رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ نظامِ طہارت سے حقیقی استفادہ کرنے کے بعد ہی اس قابل ہوں گے کہ وہ اپنی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لا سکیں۔

رمضان المبارک میں مسلمان کی فلاح و کامرانی یہی ہے کہ وہ خدا کے ساتھ جینا سیکھ جائے۔ اس مہینے میں جو نشاط وسرشاری ہے وہ دنیا کی کسی شے میں نہیں ہے۔ اس نشاط و سرشاری کو حاصل کرنے کے لئے عبادت، تلاوت اور خدمتِ خلق کے کاموں میں قلبی سکون محسوس ہو ورنہ اس کے بغیر آگے کا سفر مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...