سیاسی جماعتیں صدارتی نظام سے خوفزدہ کیوں؟

303

ملک کے سیاسی حلقوں میں صدارتی طرز حکومت یا صدارتی نظام لانے کی چہ مگوئیاں ہورہی ہیں۔ ہمارے ملک میں اس وقت پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے جو سابق استعماری حکمران برطانیہ سے وراثت میں ملا ہے، اس نظام میں ریاست کے سربراہ کو علامتی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بالواسطہ طور پر منتخب ہونے والے وزیراعظم کو طاقت تو حاصل ہے تاہم جمہوری حکومت کے مسلسل کئی ادوار مکمل ہونے کے باوجود یہ نظام عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عوام میں بھی اس نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور صدارتی نظام رائج کرنے کے حوالے سے ایک غیراعلانیہ مہم شروع ہوچکی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس کی بھرپور مخالفت کے بیانات آئے ہیں۔

پاکستان سمیت وہ ممالک جہاں پارلیمانی طرز حکومت رائج ہے ان میں اکثریت برطانوی نوآبادیات کردہ ملکوں کی ہے۔ پاکستان کی پارلیمان ساز اسمبلی نے برطانیہ سے وراثت میں ملنے والے طرز حکومت کو فوقیت دی اور 1956 میں بننے والے ملک کے پہلے آئین میں اس نظام کو برقرار رکھا۔ مذکورہ نظام کی قبولیت سے قبل یا اس کے بعد بھی قومی سطح پر کبھی اس میں موجود خامیوں کے تدارک کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے۔ اسی خلا کا سہارا لیتے ہوئے ملک کے سرمایہ دار، جاگیر دار اور وڈیرے اس ملک کے سیاسی نظم پر قابض ہوگئے۔ جمہوری حکومت ہونے کے باوجود عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ پاکستان کے پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان نے متذکرہ پارلیمانی نظام کو تبدیل کرتے ہوئے ملک میں انوکھا صدارتی نظام رائج کیا جو زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور 1973 کے آئین کے ذریعہ دوبارہ پارلیمانی نظام رائج کردیا گیا جس کے تحت اب تک 10 مرتبہ انتخابات منعقد ہوچکے ہیں لیکن کم و بیش ہر الیکشن میں جاگیردار، سرمایہ دار اور بااثر طبقے ہی  اسمبلیوں تک پہنچے جو اپنے اور قبیلے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

پاکستان میں مختلف قومیتیں رہتی ہیں جنہیں پارلیمانی نظام نے تقسیم کرنے میں کردار ادا کیا ہے کیونکہ اس میں برادری، قبیلے، قومیت اور مسلکی بنیادوں پر سیاست کی جاتی ہے۔ جس کے باعث اگر کوئی جماعت ملکی معاملات اور مسائل کو آزادانہ حل کرنا بھی چاہے یا اپنے منشور پر عمل درآمد کرنے کی خواہش بھی رکھے تب بھی ایسانہیں کرسکتی

وزیراعظم عمران خان ملک کے وسائل پر قابض سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف بائیس سال تک مسلسل سیاسی جدوجہد کرتے رہے تاہم کئی دہائیوں پر محیط بے داغ سیاسی سفر کے باوجود انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ پاکستانی سیاست اور اس نظام کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے گزشتہ انتخابات میں نظریاتی کارکنوں کی توقعات کونظرانداز کرکے ملک کے طول و عرض سے الیکٹبلز کے نام پر انہی سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور وڈیروں کو پارٹی میں شامل کرکے اقتدار حاصل تو کرلیا لیکن اب اس ٹیم کے ہمراہ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام  دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت ہونے کے باوجود وزیراعظم ملک اور قوم کے مفاد میں قانون سازی یا قوانین پر عمل درآمد کرانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

اگرچہ برطانیہ، کینیڈا، ملائیشیا، اسرائیل اور آسڑیلیا سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت کامیاب ہے لیکن اس کی وجہ وہاں کے لوگوں کا تعلیم یافتہ اور باشعور ہونا ہے۔ وہ اپناحق رائے دہی ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر ملک و قوم کی بھلائی کے لیے  استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ملک میں ووٹ ذاتی تعلق، برادری، پیسے، نوکریوں کے لالچ یا دیگر حربے استعمال کرکے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایوان اقتدار میں پہنچنے کے بعد منتخب نمائندے عوام کے استحصال میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں۔

ملک میں صدارتی بحث نے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز، جمعیت العلماء اسلام (ف) کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی نہ صرف کھل کر مخالفت کریں بلکہ ان کو جموریت دشمن قو ت ثابت کریں۔ اگرچہ وزیراعظم کے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ اکثریت نہیں ہے کہ وہ آئین میں ترمیم کرسکیں۔ لیکن اپوزیشن والے نہ صرف تنقید کر رہے ہیں  بلکہ عمران خان کی صدارتی نظام کی خواہش کو پاکستان کے پہلے آمر ایوب خان کے نافذ کردہ ناقص اور غیرفطری صدارتی طرز حکومت سے تشبیہ دیکر یہ دعوی رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان فوج کے کہنے پر ملک میں ون یونٹ لانا چاہتے ہیں تاکہ حکومت کے تمام معاملات جی ایچ کیو کے کنٹرول میں رہیں۔ حالانکہ صدارتی نظام نہ جمہوریت کےخلاف ہے نہ فیڈریشن کے اور نہ فیڈریشن کو کمزور کرتاہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں سب سے مضبوط فیڈریشن امریکہ کی نہ ہوتی جہاں 240 سال سے صدارتی نظام رائج ہے۔

جمہوریت میں یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ ہر بندہ، کارکن اور پارٹی لیڈراپنی خواہش کا اظہار کرسکے۔ اگر عوام کی اکثریت کسی فیصلہ پر رضامند ہوجائے تو اس کو نافذ کردیا جائے، جس طرح سکاٹ لینڈ کے الگ ہونے پر برطانیہ میں عوامی ریفرنڈم ہوا یا یورپی یونین سے علیحدگی پر۔ وہاں نہ کسی پر جمہوریت دشمنی کا الزام لگا نہ ملک دشمنی کا۔ لیکن پاکستان میں اگر کوئی صدارتی نظام کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو اس پر کئی طرح کے الزام عائد کردیے جاتے ہیں۔ اگر صدارتی طرز حکومت جمہوریت دشمن ہوتا تو نہ امریکہ برطانیہ سے آزادی کے بعد اپنے معروضی حالات کو سامنے رکھ کراس نظام کو اپناتا اور نہ دنیا کے 70 فیصد سے زائد ممالک میں یہ نظام رائج ہوتا۔ جو سیاسی جماعتیں اس نظام کے بارے میں بحث ومباحثہ تک پسند نہیں کرتیں درحقیقت انہیں جمہوریت سے زیادہ اپنے مفادات کا فکر ہے ورنہ نہ تویہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے پولیٹیکل ایکٹ سے انٹرا پارٹی الیکشن کی شق ختم کرتیں اور نہ ان پڑھ پرالیکشن لڑنے کی پابندی کو کالعدم کراتیں۔ اگرچہ دونوں سیاسی نظم جمہوری ہیں اور دونوں میں کچھ خامیاں اور کچھ خوبیاں ہیں تاہم صدارتی نظام میں کم ازکم ایسا نہیں ہو سکے گا کہ الیکشن میں پی ٹی آئی جماعت کامیاب ہو لیکن وزیراعظم  بہرصورت عمران خان ہی ہوں گے۔ صدارتی نظم میں اختیارات کا مرکز صدر  کی شخصیت ہوتی ہے لیکن اس  کا چناؤ براہ راست عوام کرتی ہے چاہے  کسی کو پسند ہو یا ناپسند۔ یہ زیادہ مضبوط جمہوریت ہے۔

پاکستان میں مختلف قومیتیں رہتی ہیں جنہیں پارلیمانی نظام نے تقسیم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ کیونکہ اس میں برادری، قبیلے، قومیت اور مسلکی بنیادوں پر سیاست کی جاتی ہے۔ جس کے باعث اگر کوئی جماعت ملکی معاملات اور مسائل کو آزادانہ حل کرنا بھی چاہے یا اپنے منشور پر عمل درآمد کرنے کی خواہش بھی رکھے تب بھی ایسانہیں کرسکتی۔ جس ملک میں ملٹی پارٹی سسٹم ہو وہاں بمشکل ہی عوام اور  ملک کے مفادات کے لیے سوچا جاسکتا ہے۔ وہاں صرف برادری، قومیت اور ذاتی مفادات کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ برسراقتدار پارٹی بلیک میل ہوتی ہے کیونکہ اسے اقتدار میں رہنا ہوتا ہے، حکومت کو بچانا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے اور سیاسی، معاشی، معاشرتی، مسائل حل کرنے ہیں تو ہمیں متبادل آپشن زیر غور لانا ہوگا۔ اگر پارلیمانی نظام کے ہوتے ہوئے معاشرتی ڈھانچہ زوال پذیر ہے، سماجی و سیاسی نظام بربادی سے دوچار ہےاور معیشت دیوالیہ ہورہی ہے تو ہور کرنے میں کیا حرج ہے کہ نظام کو تبدیل کردیا جائے۔ سری لنکا اور ترکی حال ہی میں پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی طرف چلے گئے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...