مشال خان قتل کے دوسال اور حکومتی اقدامات

282

جامعہ عبدالولی خان کے شعبہ ابلاغ ِعامہ کے طالب ِعلم مشال خان کے قتل کو دوسال مکمل ہوگئےہیں، 13 اپریل 2017 ء کو ساتھی طلبا اور یونیورسٹی ملازمین نے توہین مذہب کا الزام لگا کران کو نہ صرف قتل کیا بلکہ لاش کی بے حرمتی بھی کی۔ ملکی تاریخ میں مذہب کے نام پر قتل کے اس افسوس ناک واقعے میں ملوث 61 ملزمان میں سے ایک کو سزائے موت، سات کو عمر قید اور 25 کو چار چار سال قید کی سزائیں ہوئیں جبکہ 28 کو بری کردیا گیا۔ لیکن دوسال کے اس عرصے پر نظر ڈرائیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تعلیمی اداروں میں اصلاحات کے حوالے سے صوبائی یا مرکزی حکومت کی جانب سے کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے گئے جن سے اس قسم کے واقعات کی روک تھام میں مددمل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اور حکومتی اداروں کی خاموشی نے بالواسطہ ان واقعات  کے محرکات کو بڑھاوا دیا ہے۔ ان دو سالوں میں ملک کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس قسم کے واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہوتے رہے ہیں۔

حال ہی میں بہاولپور میں ایک طالب ِعلم نے اپنے استاد کو چھریوں کے وار کرکےصرف اس بنا پرقتل کردیا کہ انہوں نے کالج کی سالانہ تقریبات میں ایک ایسے پروگرام کا انعقاد کیا تھا جس میں طلبہ نے ناچ گانے گائے تھے۔ پروفیسر خالد حمید پہلے پروفیسر نہیں ہے جن کو ان کے شاگرد نے مذہبی تعصب کی بنیاد پر قتل کیا۔ پروفیسر خالد حمید جیسے متاثرین کی فہرست بہت طویل ہیں۔ پچھلے سال جنوری میں چارسدہ میں ایک شاگرد نے اپنے کالج کے پرنسپل کو صرف اس وجہ سے قتل کردیاکہ انہوں نے طلبہ کو تحریکِ لبیک کے مظاہرے میں جانے سے منع کردیا تھا۔ سلمان تاثیر، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِحکومت میں پنجا ب کے گورنر تھے، انہیں جنوری 2011ء میں ان ہی کے محافظ نے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں کے علاوہ درجنوں کی تعداد میں مذہبی دانشوروں اور علما ے کرام کو بھی قتل کیا گیا جن میں شیح الحدیث مولانا حسن جان اور مفتی نظام الدین شامزئی نمایاں ہیں۔ اسی طرح باڑا میں بریلوی مکتبِ فکر کی تنظیم انصارالاسلام اور لشکرِ اسلام جو پنچ پیری مسلک سے تعلق رکھتی تھی، ان دونوں گروہوں کے مابین قتل و غارت میں تقریباً پندرہ سو لوگ قتل ہوئے۔ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگا تے تھے۔ اسی طرح قبائلی ضلع کرم میں بھی ہزاروں کی تعداد میں شیعہ اور سنی مذہبی بنیادوں پر مارے جاچکے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی و صوبائی سطح پر اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، نیز معاشرے میں مکالمے کے رجحان کو فروغ دیا جائے۔ تاکہ نوجوان نسل اختلافِ رائے کی بنیاد پر قتل کرنے کی بجائے دلائل کی بنیاد پر بات کرنے کے قابل ہوسکے۔

دراصل کبھی بھی حکمران طبقے نے کھلے الفاظ میں مذہبی انتہاپسندوں کی مذمت کی ہے نہ ان کی کارروائیوں کی روک تھا م کے لیے کوئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ یہ کہنا چنداں غلط نہیں ہے کہ اس مذہبی انتہاپسندی کو پروان چڑھانے میں ریاستی ادارے پیش پیش رہے ہیں۔ یہ بات پاکستان کے سابق فوجی افسران اور سیاسی رہنما بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کو فروغ دیاگیا تھا۔ یہاں تک کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ امریکا کے کہنے پر سعودی عرب نے افغانستان اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں وہابیت کو پروان چڑھانے کے لیے مساجد و مدارس کی تعمیر کے لیے مالی معاونت کی تھی۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نےکبھی  تاریخ سے سیکھنے کی کوشش کی ہے نہ ہی  ملک میں امن وامان اور ہم آہنگی کے فروع کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔

جامعہ عبدالولی خان سے منسلک ڈاکٹر سہیل احمد خان کہتے ہیں کہ مشال خان سانحے کا تعلق مجموعی طور پر ایک خاص بیانیے سے تھا اور اس کے اثرات ابھی تک قائم ودائم ہیں۔ ان کے بقول یونیورسٹی یا صوبائی حکومت کی طرف سے کو ئی ایسا لائحہ عمل نہیں اپنایا گیا جس سے اس قسم کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ سابق ادوار، بالخصوص ضیاءالحق کے مارشل لا میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی اور منظم طریقے سے ایک خاص بیانیے کی ترویج کی شروعات کی گئیں۔ اس وجہ سے نہ صرف عام معاشرے بلکہ تعلیمی اداروں میں بھی مذہبی انتہاپسندی پر مبنی سوچ نے فروغ پایا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ سوچ ابھی تک نہ صرف قائم و دائم ہے بلکہ اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

مشال کے قتل کے باوجود عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایسا مکتبِ فکر آج بھی موجود ہے جو قاتلوں کو غازی قرار دیتے ہوئے نہ صرف ان کی حمایت کرتا ہے بلکہ ان کے دفاع کے لیے دلائل بھی دیتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت کی طرف سے جیل سے رہائی پانے والوں کا پرجوش استقبال یہ ظاہر کرتا ہے گویا ایسے اقدام نوجوانوں کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ یونینز پر پابندیوں کےنتیجے میں جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے مذہبی انتہاپسند پُر کررہے ہیں۔ وہ طلبا و طالبات جو ملک کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اپنے اپنے علاقائی کلچر کو فروع دینے کے لیے پروگرامز کا انقعاد کرتے ہیں، ان مذہبی تنظیموں کے ہاتھوں توہینِ مذہب اور اسلام کے خلاف اقداما ت کے الزامات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔

ڈاکٹرسہیل کہتے ہیں کہ مثبت تبدیلی تب آئے گی جب انتہاپسندی کے رحجان پر قابو پانے کے لیے ریاستی بیانیے میں تبدیلی آئےگی۔ ماہر ِتعلیم اور باچا خان فاونڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر خادم حسین نے بھی ڈاکٹر سہیل کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ انتہاپسندی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی بیانیے میں مثبت تبدیلی لائی جائے اور تعلیمی نصاب اور نظام میں بھی مناسب اصلاحات پر توجہ دی جائے۔ مشال خان کے والد اقبال خان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کے خون سے کم از کم اتنی تبدیلی ضرورآئی ہے کہ لوگوں اور طلبہ میں سیاسی شعور پیدا ہوا ہے۔ اُنہوں نے مشال خان کے قتل کو بہت بڑا سانحہ اور مذہبی انتہاپسندی کو دنیا کے امن و استحکام کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی و صوبائی سطح پر اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، نیز معاشرے میں مکالمے کے رجحان کو فروغ دیا جائے۔ تاکہ نوجوان نسل اختلافِ رائے کی بنیاد پر قتل کرنے کی بجائے دلائل کی بنیاد پر بات کرنے کے قابل ہوسکے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...