سینتالیس کےفسادات کی وجہ: تقسیم یا مذہبی عدمِ رواداری؟

339

اے ایچ نیئر معروف ماہر ِتعلیم اور دانشور ہیں، انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ ہولوکاسٹ کاحادثہ، جس کے نتیجے میں ایک کروڑ ستر لاکھ یہودی مارے گئے تھے ،اچانک رونما نہیں ہوا تھا بلکہ اس نوبت تک پہنچنے میں عرصہ لگا تھا۔ کئی سال تک یہودیوں کے خلاف فضا ہموار کی گئی۔ قتل ِعام کہیں بھی اچانک رونما نہیں ہوتا بلکہ اس سے پہلے بول چال اور رویوں میں تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ قابل اجمیری کا شعر بھی شاید اسی مناسبت سے ہے کہ

وقت کرتا ہے پرورش برسوں              حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

زبانیں جب آگ اگلنے لگتی ہیں تومنہ کے دہانوں سے اگلتی یہ آگ کسی کو نہیں بخشتی۔ حادثے سے پہلے عدمِ برداشت کس سطح پر پہنچتا ہے، اس کا اندازہ تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات سے بھی ہوتا ہے۔ ان فسادات کی وجہ سیاسی چپقلش تو تھی ہی لیکن اس کے پس منظر میں مذہبی عدم رواداری کا بھی کردار اہم تھا۔ اگر یہ فسادات نہ ہوتے تو شاید پاکستان اور بھارت آج امریکہ اور کینیڈا کی طرح رہ رہے ہوتے۔ بیس لاکھ لوگ ان فسادات میں مارے گئے، سات کروڑ لوگوں کو سرحدکے دونوں طرف ہجرت کرنی پڑی، نتیجتاً  نفرت کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے آج تک خطے کواپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

کلکتہ میں 16 اگست 1946 ء کے فسادات کے نتیجے میں گلیاں لاشوں سے اٹی ہوئی ہیں

یہ فسادات کیسے ہوئے؟ عمومی خیال یہ ہے کہ یہ فسادات 14 اگست 1947ء کو شروع ہوئے، لیکن ایسا نہیں ہے، ان فسادات کی ابتدا 16 اگست 1946ء کو کلکتہ سے اس وقت ہوئی جب مسلم لیگ نے یومِ راست اقدام (Action Day)منایا، اس حوالے سے پورے ہندوستان  میں جلسے کیے گئے، اسی دن کلکتہ میں فساد برپا ہوا جو تین دن جاری رہاجس کے نتیجے میں 5 ہزار افراد ہلاک اور ایک لاکھ مکانات نذرِ آتش کیے گئے۔ مسلم لیگ کی صوبائی حکومت نے قائدِ اعظم کے اعلان پر 16 اگست کو عام تعطیل کا اعلان کیا، لیکن ہندو اکثریتی علاقوں میں ہندوؤں نے دوکانیں کھلی رکھیں، اس پرمسلمان مظاہرین نے زبردستی دوکانیں بند کرانے کی کوشش کی، جس سے فسادات پھوٹ پڑے۔ اسی روز مسلم لیگ کے جلسے میں حسین شہید سہروردی کی اشتعال انگیز تقریر نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پورا شہر جل اٹھا۔ رات نو بجے کرفیو لگایا گیا لیکن فوج کو شہر کے حالات کنٹرول کرنے میں تین دن لگ گئے، اس دوران شہر کی گلیاں لاشوں سے بھر گئیں۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 5 جبکہ مقامی اخبارات کے مطابق 50 ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لاشوں سے اٹے ہوئے بنگال کے شہر ،جنہیں کھانے کے لئے گدھ بھی تصویر میں دیکھے جا سکتے ہیں

مولانا ابوالکلام آزاد نے فسادات کابراہِ راست مجرم سہروردی وزارت کو ٹھہرایا، تاہم درپردہ کانگریس کو بھی ذمہ دار قرار دیا اور لکھا کہ’’حالات نے جو رخ اختیار کیا اس کی بنا پر کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان پر امن تصفیے کا امکان تقریباً ختم ہو گیا ۔ہندوستان کی تاریخ کا یہ عظیم ترین المیہ تھا اور مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ہی مسلم لیگ کو سیاسی اور فرقہ وارانہ سوال چھیڑنے کا موقع فراہم کیا، جس کا یہ بے رحمانہ نتیجہ نکلا ۔‘‘ کلکتہ کے بعد بمبئی ،احمد آباد ،بنگال اوربہار بھی خون ریز فسادات کی لپیٹ میں آ گئے جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ مارے گئے ۔ فسا دات کا ماحول تقسیم سے پیش تر بنا ہوا تھامگر انگریز حکومت اس حوالے سے کسی حکمت ِ عملی سے عاری تھی یا وہ خود ان فسادات کو ہونے دینا چاہتی تھی ۔اس حوالے سے راولپنڈی کے فسادات نے تو گویا تقسیم کے خون آلود ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی تھی۔

ماسٹر تارا سنگھ پنجاب اسمبلی کے باہر خطاب کر رہے ہیں ، اسی خطاب کے الفاظ اشتعال اور فسادات کا باعث بنے

4 مارچ1947ء کو جب پنجاب اسمبلی کے اندر پاکستان میں شمولیت کرنے یا نہ کرنے پر بحث ہو رہی تھی، اس وقت پنجاب اسمبلی کے باہر مسلم لیگی کارکن پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے  تھے۔ سکھ لیڈر ماسٹر تارا سنگھ اسمبلی سے باہر آئے اور کرپان نکال کر نعرہ لگا دیا کہ جو پاکستان مانگے گا اسے قبرستان دیں گے۔ زبان سے نکلے الفاظ واپس نہیں آتے، بس پھر کیا تھا، ماسٹر تارا سنگھ کے بیان سے پنجاب میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس کی ابتدا ماسٹر تارا سنگھ کے گاؤں ہرنال سے ہوئی جو راولپنڈی میں مندرہ چکوال روڈ پر واقع تھا۔ مسلمان مظاہرین نے اس گاؤں میں سکھوں کے مکانات کو آگ لگا دی، 59 سکھ قتل کر دیے گئے، ان مقتولین میں ماسٹر تارا سنگھ کی والدہ بھی شامل  تھیں۔ لیکن سب سے خوفناک فسادات راولپنڈی کے گاؤں چوا خالصہ میں ہوئے جہاں مری اور کشمیر سے مسلمان مسلح ہو کر بڑی تعداد میں 6 مارچ کی شام اکھٹے ہوئے اور سکھ خاندانوں کو حکم دیا کہ وہ اگر اپنی سلامتی چاہتے ہیں تو اسلام قبول کر لیں۔

چوا خالصہ میں گلاب سنگھ کی حویلی کا وہ کنواں جس میں 93 سکھ خواتین نے کود کر خود کشی کی

چوا خالصہ کے مقامی مسلمانوں کی مدد سے رات بھر مذاکرات ہوتے رہے مگر ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اور اگلی صبح فسادات پھوٹ پڑے۔ تین دن جنگ جاری رہی، دونوں طرف سے کئی لوگ مارے گئے، بالآخر سکھوں نے سفید جھنڈا لہرا دیا۔ اس کے بعد ایک بار پھر مذاکرات ہوئے، سکھوں نے 20 ہزار کی رقم دینے کی حامی بھری مگر اچانک لوٹ مار شروع ہو گئی، سکھ اپنے اپنے گھروں سے سردار گلاب سنگھ کی حویلی اور اس کے ساتھ ملحقہ گوردوارے میں جمع ہو نے شروع ہو گئے۔ مسلمانوں نے لوٹ مار کے بعد سکھوں کے گھر جلا دیے۔ خدشہ تھا کہ مظاہرین جلد اس حویلی کا رخ کریں گے، حویلی سے فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا، چنانچہ سکھوں نے بھی قلع بند ہو کر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ چھ روز تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں 200 سکھ قتل ہوئے جبکہ 93 سکھ خواتین نے حویلی کے اندر کنویں میں کود کر اجتماعی خود کشی کر لی۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن چواخالصہ کا دورہ کرتے ہوئے

چوا خالصہ کی آگ نے راولپنڈی، اٹک اور جہلم کے کئی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لیا اور یہاں کے 128 دیہات ایک ہی ہفتے میں سات ہزار سکھوں اور ہندوؤں کی قتل گاہ بن گئے۔ چوا خالصہ کے فسادات کی خبر سن کر وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن خود چوا خالصہ آیا اور متاثرین سے ملاقات کی۔ یہ لٹے پٹے قافلے جب دلی اور امرتسر میں لگائے گئے کیمپوں میں پہنچے اور اپنی دلدوز کہانیاں وہاں کے لوگوں کے سامنے بیان کیں، نتیجتاً ان علاقوں میں بھی فسادات پھوٹ پڑے۔ چنانچہ جو سلوک یہاں سکھوں اور ہندؤں کے ساتھ کیا گیا تھا اس سے بھی بدترین سلوک وہاں مسلمانوں کے ساتھ کیا گیا، 20 لاکھ لوگ خاک وخون کی نذر ہوئے اور ڈیڑھ کروڑ لوگ ہجرت پر مجبور ہوگئے۔ یہ وہ المیہ تھا جس کو دیکھتے ہوئے امرتا پریتم یہ لکھنے پر مجبور ہو ئیں کہ

اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پَھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی، تُوں لکھ لکھ مارے بین
اج لکھاں دھیاں روندیاں، تینوں وارث شاہ نوں کہن
اُٹھ درد منداں دیا دردیا، اُٹھ ویکھ اپنا پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب
کسے نے پنجاں پانیاں وچ دتا اے زہر
تے اونہاں پانیاں دھرت نوں دتا زہر پلا
دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیاں چون
اج پریت دیاں شہزادیاں، وچ مزاراں رون
اج سبھے قیدی بن گئے، حسن عشق دے چور
اج کتھوں لیائیے لب کے، وارث شاہ اک ہور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...