اقلیتوں کے فیملی قوانین اور مسائل

بابائے قوم محمد علی جناح کے  ذہن میں پاکستان میں اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ  کے حوالے سے کوئی شک نہیں تھا کہ جس کا اندازہ آپ کی  11اگست 1947 کی تقریر سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ” آپ آزاد ہیں، آپ اپنے مندروں میں جانے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ ریاست پاکستان میں اپنی مسجدوں اور دیگر عبادت گاہوں میں جانے کے لئے آزادہیں۔ آپ کا تعلق خوا ہ کسی بھی مذہب، فرقہ یاعقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں”۔
لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ قائد اعظم کےجانشینوں نے ان کے نظریے اور تعلیمات پر عمل نہیں کیا اور اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آزادی کے وقت  مغربی پاکستان میں اقلیتوں کی تعداد 7 فیصد سے کم ہو کر 2 تا 5 فیصد پر رہ گئی ہے۔
رینہ مسیح پچھلے ڈھائی سالوں سے عدالت میں ایک ایسے مقدمے کا سامنا کررہی ہے جس کا حل تو اُنہیں ممکن نظر  نہیں آتا لیکن وہ بس اتنا حق مانگتی ہے کہ اسے  اپنی ساڑھے چھ سالہ بچی اور اپنی زندگی جینے کیلئے خرچہ ملتارہے۔رینہ کی شادی دس سال پہلے ایک ایسے بندے کے ساتھ ہوئی  تھی جس کو وہ ذاتی طور پر نہیں جانتی تھی کیونکہ خاندان کے بڑوں کے ذریعہ اُس کی رشتہ طے کر دیا گیا تھا ۔وہ بتاتی ہیں کہ شادی کے پانچ سال بعد گھر میں جھگڑے شروع ہوگئے تو اُس کا شوہر طلاق لینے عدالت پہنچ گیا ۔
رینہ اپنے نام کیساتھ طلاق کا لفظ لگانے کیلئے تیا رنہیں کیونکہ مسیحی براردی میں طلاق ایکٹ کی دفعہ 10کے تحت ایک مرد اپنے بیوی پر زنا کا الزم لگا کر طلاق دے سکتا ہے اور قانون میں اُس کے ثبوت پیش کرنےکی بات بھی موجود ہے اور اس کے علاوہ دوسرے کسی بھی وجہ سے یہ ممکن نہیں۔ دوسری طرف اُس کا خاوند اُس وقت  تک دوسری شادی بھی نہیں کرسکتا جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
شوکت غلام ہائی کورٹ کے وکیل ہیں اور رینہ کی  طرف ہائی کورٹ میں وکالت کررہے ہیں ۔اُنھوں نے بتایا  ہے کہ مسیحی مذہب میں طلاق کا کوئی وجود نہیں اور قانون میں طلاق ایکٹ 1869ء کے تحت مسیحی برادری کے مسائل حل کئے جاتے ہیں لیکن فیملی کورٹ کے بجائے سول کورٹ کو مقدمہ سننے کا اختیار ہے جبکہ اس فیملی کورٹ کے فیصلے کی مدت چھ ماہ جبکہ سول کورٹ میں فیصلہ آنے میں  دو سے پانچ سال تک مدت لگ سکتی ہے ۔ اگر چہ اب فیملی کورٹ بھی مسیحی برادری کے فیملی کیسز سن سکتی ہے ۔او ر جنرل ضیاء الحق کے دور میں منسوخ کیا گیا ایکٹ 1869ء کے سیکشن 7کو بھی بحال کیا گیا ہے جس کے تحت پاکستان میں قائم عدالتیں مسیحی برادری کے خاندانی مسائل کے ساتھ جڑے ہوئے  مسائل برطانیہ کے قوانین کے مطابق بھی فیصلہ کر سکتی ہیں ،  لیکن اس سے بھی مسائل کے حل کرنے میں کوئی خاطر خوا کامیابی نہیں ہورہی ۔
پاکستان بننے کے بعد  تک نہ صرف اقلیتی برادری  کو عائلی معاملات میں مسائل  کے حل  کے لئے قوانین موجود تھے بلکہ اکثریتی لوگوں یعنی مسلمانوں کے لئے بھی 1961ء میں ویسٹ پاکستان مسلم پرسنل لاز بنایا گیا جس میں معاشرتی مسائل کے حل کی حدود اور قانونی تحفظ فراہم کیا گیا تھا ۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اقلیتی برادری  کے لئے ان معاشرتی قوانین مثلاًنکاح رجسٹریشن، نکاح کے وقت عمر، جہیز،طلاق، نان نفقہ، وراثت، وصیت، گود لینا، بچوں کے حوالگی اور غیر قانونی بچوں کے تحفظ ، یہ ایسے مسائل ہیں جس کے حل کے لئے پرانے قوانین میں تبدیلی اور بعض مسائل کے حل کے لئے نئے قوانین بنانے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔پاکستان میں جو اقلیتی برادریاں آباد ہیں اان میں ہندو، سکھ، مسیحی، پارسی، بہائی اور کیلاشی  برادریاں شامل ہیں ۔
ماریہ کماری جس کا تعلق پشاور سے ہے اور اپنے دوبچوں کے ساتھ رہتی ہے۔ تین سال پہلے اُس کے خاوندنے سادہ کاغذ پر طلاق نامہ اُس کے ہاتھ میں تھما دیا  ۔ ماریہ کے لئے انصاف کے دوازے تب مکمل بند ہوگئے جب اُس کے خاوند نے اسلام قبول کرلیا ور ایک مسلمان لڑکی سے دوسری شادی کرلی۔اُس نے بہت کوشش کی کہ اُس کا خاوند بچوں کے خرچہ دینے کی ذمہ داری لے لیکن اس معاملے میں کچھ نہیں ہوا اور ماریہ مہینے میں پانچ ہزار تنخواہ پر گزرا کررہی  ہے جو ایک مشکل کام ہے۔قانون کے عدم موجودگی میں اُس کو اپنے حقوق  کے تحفظ اور مشکلات  کے کم ہونے کا کوئی اُمید نہیں ہے ۔
ہارون سربدیال جو کہ پاکستان میں اقلیتی برادری کے حقوق کے لئے کام کررہے ہیں اور قومی اور صوبائی سطح پر اقلیتوں کے لئے ہونے والے قانون ساز کمیٹیوں کے ممبر بھی ہیں ۔ہارون سربدیال کو پارلیمنٹ سے پاس کئے گئے 2017 کے ہندو میرج ایکٹ سے کافی امیدیں وابستہ ہیں کہ اس کے ذریعے بہت سے عائلی مسائل حل ہو جائیں گے ۔ ۔ مذکورہ بل میں ہندوؤ ں کی  شادی کی رجسٹریشن، شادی وقت ہندو جوڑے کی عمریں اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ ہو نا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ہارون نے بتایا کہ اس بل میں یہ بات بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر میاں بیوی ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ الگ رہ رہے ہوں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنا نہ چاہیں اور شادی ختم کرنے میں رضامندہوں تو اس کی شادی منسوخ ہوجائے گی، ان کے بقول بل میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ شادی کی منسوخی کے چھ ماہ بعد فریقین دوبارہ شادی کرسکتے ہیں اور یہ اقدام غیر قانونی نہیں ہو گا۔اُنھوں نے کہا کہ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندو بیوہ کو بھی اپنے خاوند کی وفات کے چھ ماہ بعددوسری شادی کرنے کا حق حاصل ہو گاجبکہ ایک ہندو شخص اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرتا ہے تو یہ ایک قابل سزا جرم تصور ہوگا۔ہاورن نے کہا کہ اس بل میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اگر کوئی ہندو شادی رجسٹریشن کی بابت بنا ئے گئے قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس ایکٹ کے تحت اس کی سزا چھ ماہ قید ہے جبکہ اس بل میں ہندوؤں کی شادی، خاندان، ماں اور بچے کے جائز تحفظ فراہم کے دفعات شامل کی گئی ہیں ۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد قانون سازی کے اختیارا ت بھی صوبو ں کو حوالے کئے گئے لیکن ہندو میرج ایکٹ 2017 کے کیس میں صوبوں نے پورےملک میں ایک جیسا قانون بنانے کیلئے اختیارات پارلیمنٹ کے سپرد کردیے۔ لیکن مذکورہ ایکٹ کانفاذ تب عمل میں آئے گا جب صوبے اس ایکٹ کو عمل میں لانے کے لئے رول آف بزنس بنائیں  گے  جو ابھی تک نہیں بنائے گئے ہیں۔
سکھ برادری کے مسائل بھی اسی طرح ہیں ۔  سکھ مذہب میں بھی طلاق کا کوئی تصور نہیں ہے اور پاکستان میں اس کیلئے قوانین نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات خواتین کو ہی برادشت کرناپڑتی ہیں۔ چیئرمین سکھ کیمونٹی آف پاکستان اور سرگرم سماجی کارکن رادیش سنکھ ٹونی کہتے ہیں  کہ ہمارے برادری کے لوگوں کے قانونی مسائل پیدائش ہی سے شروع ہو جاتے ہیں جس میں پہلا مسئلہ نوزائیدہ بچوں کی  رجسٹریشن کا ہے جس کے لئے کو ئی قانون موجود نہیں اور اس وجہ بچوں  کے لئے مستقبل  میں مختلف مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سکھ مذہب میں طلاق کا  کوئی تصور نہیں ہے البتہ اگر میا ں بیوی کے درمیان کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو اُس کو مذہبی رہنماء آپس میں بیٹھ کر حل کر لیتے ہیں  مگر یہ ثالثی کسی قانونی شق میں شامل نہیں ہے ۔ اُنھوں نے کہا سکھ مذہب میں دوسری شادی کی اجازت بھی پانچ پیارے جو مذہبی لوگ ہوتے ہیں کی اجازت سے ملتی ہے ، پہلے انہیں اس کی درخواست  دی جاتی ہے  پھر وہ اس کی پوری چھان بین کے بعد ہی فیصلہ کرتے ہیں ۔ دوسری شادی تب ممکن ہوتی ہے جب کوئی عورت بانجھ پن میں مبتلا ہو۔ رادیش نے کہا کہ بعض قوانین کے نہ ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات خواتین کو ہی برادشت کرناپڑتی ہیں ۔ اُنھوں کہا کہ پچھلی ایک دہائی میں امن وامان کی صورتحال کی وجہ کئی سکھ مارے گئے جن میں اُن کے بیویاں بیوہ ہو گئیں ۔  کسی سکھ عورت کے خاوندکی ناگہانی موت واقع ہو جائے تو اُس کی  کسی دوسرے بندے کے ساتھ شادی کا کوئی قانونی طریقہ کار  موجود نہیں ہے  اور اس کے ساتھ  جڑے بعض معاشرتی مسائل کی وجہ سے  وہ اپنی پوری زندگی اسی طرح بیوگی میں گزارتی ہیں ۔
شوکت غلام کے مطابق پاکستان میں مسیحی برادری کے لیے کرسچئن  میرج ایکٹ 1872ء اور ڈائیوورس ایکٹ 1869ء، سکھوں کے آنندمیرج ایکٹ 1909ء، بہائی براردی کے لئے پارسی میرج اینڈ ڈائیوورس ایکٹ1936ء، مسلم برادری کے لئے ویسٹ پاکستان پرسنل لاز(شریعت) 1961ء  موجود ہیں ۔ ہندوبراداری کے لئے ہندومیرج بل2014موجود ہے لیکن اسے صرف سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی سے پاس  کیا ہے ۔اُنھوں نے کہا کہ قوانین  میں بہت  سی پرانی شقیں  موجود ہیں ۔ ضرورت اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اس میں تبدیلی انتہائی ضروری تھی لیکن بدقسمتی سے یہ  آج تک  ممکن نہیں ہوسکا۔ اُنھوں نے کہا کہ تمام اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے لئے موثر قانون ہونا چاہئے، لیکن قانون کی  غیر موجودگی میں سب سے زیادہ  مشکلات کا سامنا  ہندو برادری کو کرنا پڑرہا ہے۔اُنھوں نے نکاح رجسٹریشن  نہ ہونے کی وجہ سے بعض صورتوں میں  ایک بندہ قانوناً اپنی بیوی کو بھی اپنی بیوی ثابت نہیں کر سکتا۔
ہارون سربدیال کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے ہندو میرج رجسٹریشن ایکٹ 2014ء  میں صرف نکاح رجسٹریشن اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو بیان کیا گیا ہے جو کہ بہت ہی محدود قانون ہے ، لیکن اس کے مقابلے میں ہندو میرج ایکٹ 2017ء میں بہت سے مسائل کے حل کے لئے راستے موجود ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ ہندو میرج ایکٹ کو تمام صوبوں میں نفاذ العمل کرنا چاہئے جس سے نہ صرف ہندو برادری کے لوگوں کے حقوق محفوظ ہوں گے بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں آباد لوگوں کے آپس میں رشتے بڑھیں گے ۔ کیونکہ  اگر دلہن لڑکی خیبر پختونخوا کی  ہے اور  دلہا لڑکاسندھ سے ہے تو ان کا مسئلہ کون سے قانون کی  بنیاد پر حل ہوگا۔
ہندومیرج ایکٹ میں کئی ایسے سوالات ہیں جو حل طلب ہیں لیکن بعض وجوہات  کی  بناء اُس پربات نہیں ہورہی ۔ مثال  کے طور پر جبری تبدیلی ء مذہب ،  خاوند کے اسلام قبول کرنے اور پہلے بیوی اور بچوں کے کفالت کی ذمہ داری، وراثت کے طریقہ کار ،بچوں کوگود لینا  وغیرہ ، یہ سب ایسے مسائل ہیں  جوایک  عرصے سے غور طلب ہیں ۔
ہاشم رضا جو کہ پشاور ہائی کورٹ کے وکیل ہے اور پاکستان میں اقلیتی برادری کے لئے ہونے قانون سازی پر گہر ی نظر رکھتے  ہیں  کا کہنا تھا کہ اگر اقلیتی برادری کے بارے میں کوئی قانونی سازی یا مشاور ت ہو تی ہے تو اُس میں انہی  لوگوں کو شامل نہیں کیاجاتاجس کے وجہ سے مزید مسائل جنم لیتے ہیں۔  جس کی ایک مثال خیبر پختونخوا میں ہندؤمیرج ایکٹ کا بل ہے جس پر سکھ برادری کے کچھ تحفظات ہیں جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ہندؤ اور سکھ مت دو الگ الگ مذاہب ہے لیکن اس بل میں دونوں کے لئے ایک جیسا قانون تجویز کیا جارہا ہے جو قابل افسوس  امر ہے۔
نیشنل کمیشن فار جسٹس اینڈ پیس کی  کو ارڈینیٹرعارفہ شکیل جنہوں نے حال ہی میں پاکستان میں اقلیتی برادری کودرپیش قانونی مسائل کے حوالے سے ایک تحقیق کی ہے ، اُنہو ں نے واضح کیا  کہ خیبر پختونخوا میں اقلیتی برادری کو  عائلی معاملات میں قانونی تحفظ کے لئے کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ۔یہ  تشویش ناک صورتحال ہے، انہوں  نے کہاکہ حقوق، زبردستی مذہب کی تبدیلی اور شادی کے معاملات ، ایسے مسائل ہیں جو کہ بغیر کسی قانون  کی موجودگی کے ، حل نہیں ہوسکتے۔۔
رینہ مسیح اپنی خاوند سے دور ہے  اور اپنی بچی کے ساتھ اپنے والد کے گھر میں ہے ۔اسی گھر میں جہاں  اس نے اس اُمید سے بچپن کے دن گزارے تھے کہ ایک روز اُن کا اپنا ایک خوشحال  گھر انہ ہوگا ۔ لیکن معاشرتی اور قانونی پیچیدگیوں نے  خوشحال تو کجا ، اپنے گھر کا تصور بھی محال کردیا ہے ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...