گلگت بلتستان میں حقوق کی جدوجہد

573

گلگت بلتستان  کی تاریخ بہت ہی منفرد ہے۔ یہاں کے لوگوں نے1947-1948 میں یہاں کے باشندوں نے  کشمیر کے ڈوگرہ  راج کے کے خلاف آزادی کی لڑائی لڑی  اور  اپنی مدد آپ کے تحت  28 ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل خطے کو آزاد کرایا  جس کا الحاق پاکستان اور اسلام دوستی کے جذبے سے سرشار ہو کر غیر مشروط طور پر پاکستان کے ساتھ کر دیا ۔اس آزادی کو برقرار رکھنے کے لئے گزشتہ اکہتر سالوں سے مسلسل جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔گلگت بلتستان کے لوگوں کی بدقسمتی کہ جب گلگت بلتستان کے لوگ اس خطے کو آزاد کر کے پاکستان میں شامل کرنے کے مرحلے پر آئے تو اُس وقت ریاست جموں کشمیر کا الحاق وہاں کے مہاراجہ نے تقسیم ِ برصغیر کے طے شُدہ اُصولوں اور وہاں کی مسلم اکثریتی آبادی کی خواہشات  کے برعکس پاکستان کی بجائے بھارت کے ساتھ کردیاتب تبدیل  شُدہ حالات کے پیش نظر  مصلحتاً  گلگت بلتستان کے معاملے کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک کئے رکھا۔تب سے گلگت بلتستان کو ایک خاص پوزیشن میں رکھا جارہا ہے ۔ یہ خطہ ملک کا ایک انتظامی صوبہ کہلایا جاسکتا ہے مگر آئینی طور پر ملک کا حصہ نہیں اور نہ ہی متنازعہ ریاست جموں و کشمیر  کی حدود میں شامل خطوں میں گلگت  بلتستان کا شمار ہوتا ہے۔ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں شامل ہونے کے ناطے پاکستان سے علیحدہ  پوزیشن میں رکھنے کے لئے آزاد کشمیر کو 1974 میں  عبوری آئین دیا گیا۔ان کی اپنی اسمبلی اور اپنا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بنا کر دیا گیا ۔ لیکن جنگ ِ آزادی کے نتیجے میں آزاد ہو کر غیر مشروط پاکستان میں شامل ہونے والے خطہ گلگت بلتستان میں  فرنٹیر کرائمز ریگولیشن کا نفاذ کر کے لوگوں کو انجمن سازی ، تحریر و تقریر جیسے  بنیادی سے حقوق محروم کردیا گیا ۔گویا جانوں کی قربانی  دے کر حاصل کی جانے والی آزادی سلب ہوئی۔ ایف  سی آر   کے خلاف لگ بھگ 24 سالہ طویل جدو جہد کے نتیجے میں ایف سی آر سے جان چھوٹ گئی تو چند سال بعد ہی اس خطے پر مارشل لا کا نفاذ کر دیا گیا ۔آزاد کشمیر ایف سی آر اور مارشل لا  دونوں  کی صعوبتوں سے باہرتھے ۔

یوں تو گلگت  بلتستان میں انتظامی  اصلاحات وقتاً فوقتاً  نافذ ہوتے رہے ۔ بڑی اصلاحات 1994 کے بعد شروع ہوئیں ۔اسی سال پہلی مرتبہ گلگت  بلتستان میں انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس سے قبل گلگت  بلتستان میں ووٹ علاقہ ، لسانیات اور مسلک کی بنیاد پر مانگے جاتے تھے۔ تب گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کی عفریت   عوامی حلقوں کے علاوہ تمام اداروں میں بھی سرایت کر چکی تھی۔ایک عرصے تک دونوں طرفین  کے خون  بہنے کے بعد اب لوگوں کو احساس ہوا اور یہ سلسلہ رُک  گیا ۔اس سلسلے کے رکنے میں زیادہ عمل دخل حکومتی کوششوں ،علما   و اکابرین کی جد و جہد سے زیادہ جمہوری و جماعتی سیاسی  عمل کے متعارف کرانے اور گلگت  بلتستان کا چین کے ساتھ زمینی تجارت کے فروغ  کو حاصل ہے۔ 1994 کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان میں انتطامی و سیاسی بنیادوں پر اصلاحات کا عمل جاری رہا ۔28مئی  1999 کو سپریم کورٹ نے حبیب وہاب الخیری بنام وفاق پاکستان  رٹ   پٹیشن کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ گلگت بلتستان کے باشندے بھی ملک کے دیگر شہروں  کے باسیوں کی طرح پاکستان کے شہری ہیں۔ لہذا سپریم کورٹ نے وفاق کو حکم دیا کہ وہ آئین ِپاکستان سمیت تمام ضروری قوائد و رولز میں ترامیم کرتے ہوئے گلگت  بلتستان کے لوگوں کو اپنے منتخب  نمائندوں کے ذریعے حکومت کرنے کا موقعہ دیا جائے اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو ان تمام بنیادی  انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنایا جائے جو حقوق آئین پاکستان میں مذکور ہیں۔ اس فیصلے پر اُس وقت کی حکومت نے عمل در آمد نہیں کیا ۔2009 اُس وقت کی حکومت نے گلگت بلتستان میں اب تک کی سب سے بڑئے اور  دُور  رس نتایج کے حامل  اصلاحات  کا نفاذ کرتے ہوئے گلگت  بلتستان سلیف گورننس آرڈر 2009 دیا جس کی رُو سے پہلی بار گلگت بلتستان  میں وزیر اعلی ٰ اور وزرا کے عہدے متعارف کراتے ہوئے یہاں کے لوگوں کو اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کرنے کا موقعہ  فراہم کیا۔گلگت بلتستان میں علیحدہ سپریم اپیلٹ کورٹ ۔ الیکشن کمیشن ،پبلک  سروس کمیشن  اور دیگر ادروں کے قیام کو ممکن بنایا ۔سال 2015 میں اُس وقت کی حکومت بلتستان کی آئینی حیثیت کو طےکرنے کے لئے سفارشات مرتب کرنے کے لئے کمیٹی قائم کی ۔ کمیٹی کو سفارشات کی تیاری کے لئے تین مہینے کا وقت دیا گیا۔ کمیٹی نے سفارشات کی تیاری میں تین سال سے بھی زیادہ وقت لگایا۔ اور وفاق میں اپنی حکومت  ختم ہونے سے دو سے تین دن قبل گلگت بلتستان میں اصلاحات ، گلگت بلتستان گورنمنٹ آرڈر 2018 کے نام سے متعارف کرایا گیا ۔ گلگت  بلتستان میں آئینی حقوق دینے کے دعوی ٰ کے ساتھ شروع ہونے والی جد و جہد کے نتیجے میں جو اصلاحات گلگت بلتستان میں نافذ ہوئیں وہ عوام اور سیاسی حلقوں کےلئے بہت ہی مایوس کن  ثابت ہوا ۔ اس آرڈر میں ایک بار گلگت بلتستان کی صوبائی خود مختاری  کو ختم کر کے تمام حقوق وفاق کو سونپ دئے گئے تھے۔ ایسے  میں گلگت  بلتستان کے عوام حکومتی حلقوں سے قدرئے مایوس ہوئے ۔ان حالات میں اسی سال چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے گلگت بلتستان کا نجی نوعیت کا دورہ کیا ۔ اس دوران چیف جسٹس کو عوامی حلقوں سے ملنے کا موقعہ ملا۔ اُنھوں نے یہاں کو لوگوں کے دلوں میں پاکستان کے لئے موجود تڑپ اور درد کو محسوس کیا ۔ لوگوں نے بھی چیف جسٹس کو  اپنا مسیحا  تسلیم کرتے ہوئے الحاق پاکستان کے باوجود  گزشتہ 71 سالوں سے قومی دھارے سے باہر رکھے جانے اور ایف سی آر اور مارشل لا کے مظالم کو سہنے کے درد کو بیان کیا۔ چیف جسٹس سے یہ تقاضا کیا کہ سپریم کورٹ کے 1999 کے فیصلے پر ہی عمل در آمد ہوجائے تو یہاں کے لوگوں کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے۔چیف جسٹس نے گلگت بلتستان کے مسائل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے  اور  اب گلگت بلتستان کے معاملات ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں زیر بحث ہیں۔ یہاں کے لوگ ملک کی عدالت عظمیٰ با لخصوص چیف جسٹس سے اُمید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ یہاں کے محب وطن پاکستانیوں کو اِن کے جائز حقوق ضرور دیں گے۔ گلگت بلتستان منتخب وفاقی حکومت کی ترجیحات میں ابھی تک تو نظر نہیں آرہا ۔ پاکستان میں رہ جانے والے افغانیوں اور بنگالیوں کو تو قومی شناخت دینے کے لئے وزیر اعظم پُر عزم ہیں لیکن  جنگ ِآزادی جیت کر غیر مشروط پاکستان میں شامل ہونے اور وطن کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے 71  سالوں سے جانوں  کا نذرانہ دنے والوں کا ابھی تک کوئی تذکرہ نہیں جو المیہ بھی ہے اور لمحہِ فکریہ بھی۔ آج بھی گلگت بلتستان کے لوگ پوچھتے ہیں کہ آزادی کے 71 ویں سال بھی ہماری مکمل آزادی کا سورج کب طلوع ہوگا؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...