اُدھیڑ عمری کی شادی: ایک سماجی مسئلہ

468

پہلے ہمارے ہاں  کم عمری کی شادی کا مسئلہ زیر بحث رہتا تھا ۔ میڈیا اس معاملے پہ بہت سے واقعات کی رپورٹنگ کے ذریعے عوام میں اس مسئلے کو اجاگر کئے رکھتا تھا ۔  عدالتیں کم عمری کی شادیوں پہ فیصلے دیتی اور پولیس ایکشن لیتی رہتی تھی۔این جی اوز اس مسئلے پہ سیمینار منعقد کر واتیں اور لو گو ں کو اس سے آگاہ کر تی رہتی تھیں۔اسکالرز اور ان کے ادارے اس پہ قر آن و سنت کی روشنی میں رائے دیتے اور اس کی سنگینی سے لوگوں کو مطلع کر تے رہتے تھے۔
اِس وقت’’ کم عمری کی شادی‘‘سے بڑا مسئلہ ’’ادھیڑ عمر کی شادی‘‘بنتا جا رہا ہے پہلے مسئلے پہ میڈیا سے عدالت تک این جی اوز سے مذہبی سکالرز تک سب نے اپنی ذمہ داری ادا کی ۔دوسرے مسئلے (ادھیڑ عمری کی شادی)پہ ہمارا سماج اور سماجی ادارے اس طرح حسّاسیت کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔اس کی ایک وجہ تو شاید یہ بھی ہے کہ ہم سب اس میں شریک جرم ہیں یا پھر اس مسئلے کو ہم کوئی مسئلہ ہی خیال نہیں کر تے ۔والدین ذاتی طور پر اپنی اولاد کی شادی میں تا خیر سے پریشان ہوتے ہیں لیکن وہ تعلیم اور کیر یئر کے ہاتھوں مجبور ہو چکے ہیں۔خاص طور پر، متوسط طبقہ اپنے بچوں کو اپنی Investmentخیال کر تا ہے۔تعلیم کی بھاری بھر کم اخراجات بر داشت کر نے کے بعد وہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ تعلیم سے فراغت کے بعد بچوں کی شادی کریں گے جب کہ تعلیم کے سال شیطان کی آنت کی طرح لمبے ہی ہوتے جاتے ہیں۔

جیسے کپڑوں اور برتنوں پہ سیل لگتی ہے ۔ تعلیم بھی اب ایسے ہی سیل پہ لگ چکی ہے ۔ تعلیم کا معیار بھی اعلیٰ ،متوسط اور ادنیٰ ہے ۔تعلیم ایک صنعت و حرفت کی شکل اختیار کر نے کے بعد ،صنعتکاروں ،تاجروں اور سر ما یہ داروں کے ہاتھ آ چکی ہے۔ والدین تعلیم کی ’’لوٹ سیل‘‘ کی نفسیات کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس دوڑ میں کوئی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہنا چا ہتا جب کہ سب ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگے چلے جا رہے ہیں،نو بت با ایں جا ر سید بیٹی کی عمر 30سال اور بیٹے کی عمر 35سال تک پہنچ جا نا ایک معمولی اور غیر اہم سا مسئلہ ہے۔ بعض ایسے خاندان بھی دیکھے ہیں جہاں بیٹی 35سال اور بیٹا 35سال سے زیادہ عمر کا ہو جا تا ہے ۔
میں ہمیشہ آسودہ حال والدین کومشورہ دیتا ہوں کہ وہ دوران تعلیم اپنے بچوں کی شادی کر دیا کریں۔شادی شدہ ہو کر، بچے تعلیم حاصل کر تے رہیں اور وہ بچوں کے بچوں کے ساتھ ایک پر لطف زندگی بھی گزارتے رہیں۔ میں نے خود ایسے جوڑے دیکھے ہیں جو شادی شدہ ہیں اور سلسلہ تعلیم بھی جاری و ساری ہے۔میرے حلقہ احباب میں ایسے والد ہیں جنہوں نے اس شرط پہ بیٹی کی شادی کی ،اس کا سسرال اس کے حصول تعلیم میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالے گا ۔
اگر خدا نخواستہ آسودہ حا لا ت نہ بھی ہوں تووالدین کو مناسب عمر میں او لاد کی شادی کا اہتمام ضرور کردینا چا ہیئے۔اس سے پہلے کہ او لاد ہاتھ سے نکل جائے اور حالا ت بے قابو ہو جائیں۔ شریعت اور فطرت کی مخالفت کا سفر بند گلی کا سفر ہے جہاں سے انسان کو واپس خدا کی شریعت اور اُس کی فطرت کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔
قارئین! اس رجحان اور رویے کو عام کر نے کی ضرورت ہے ورنہ چند سالوں بعد ہم ایک نئے بحران کا سا منا کر رہے ہوں گے جو اس سے بھی زیادہ خوفناک اور نہ ٹلنے وا لا ہوگا۔بقول منیر نیازی
ایک اور دریا کا سا منا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...