میاں نواز شریف کو ،وزیرِ اعظم ہاؤس سے کس نے نکالا؟

920

سپریم کورٹ  نے میاں نواز شریف کو نااہل قراردیالیکن میاں نواز شریف نے بطو ر ایک سیاست دان خود کوناکام ثابت کیا ہے۔پانامہ اسکینڈل کے نتیجے میں جب میاں نواز شریف اپنی سیاست کی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں ،تویہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی مخالفین کی عمدہ سیاسی حکمتِ عملی کے نتیجے سے زیادہ ،اُن کی اپنی ناکام سیاسی حکمتِ عملی ہے۔پانامہ فیصلے کا نتیجہ اگر اُلٹ بھی آتا پھر بھی میاں نواز شریف اپنے آپ کو ایک ناکام سیاست دان کے طور پر قوم کے سامنے پیش کر چکے تھے۔

میاں نوازشریف نے تیسری مدت کے دوران اپنی تقریر اور اپنے عمل ہر دولحاظ سے خود پر سوالات کھڑے کرائے ہیں ۔اُنہوں نے سابق امریکی صدر اُوبامہ سے ملاقات کے دوران جیب سے لکھی ہوئی پرچیاں نکالیں اورجے آئی ٹی میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران بھی لکھی ہوئی پرچیوں سے گفتگو میں مدد لی۔پرچیوں کی مددسے تقریر یا گفتگو کرنا کوئی معیوب اَمر نہیں لیکن یہ کوئی معمولی واقعہ بھی نہیں ۔اس طرح کا اندازِ گفتگو اُس اعتماد کو مجروح کرتا ہے ،جس کا مظاہرہ ایسی ملاقاتوں میں  ضروری ہوتا ہے۔علاوہ ازیں اُن کی پارلیمنٹ میں تقاریر بھی ریکارڈ پر ہیں ۔دھرنا کے دِنوں میں جب میاں نواز شریف نے اُس وقت کے آرمی چیف سے مصالحت کار ہونے کا کہا اور آرمی چیف نے عمران خان اور طاہرالقادر ی کے ساتھ ملاقاتیں کیں تو اگلے روز جب پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے للکار نما تقریر کی تو وہاں پر موجود وزیرِ اعظم نواز شریف اس بات سے ہی مکر گئے کہ اُنہوں نے فوج سے کسی طرح کی مددچاہی تھی۔نیز پانامہ اسیکنڈل کے بعد کی تقاریر اور عدالت میں اختیار کیا گیا موقف بھی تضاد کا حامل رہا۔

میاں نواز شریف نے اپنے عمل سے کس طرح خود پر سوالات کھڑے کرائے؟یہ پہلو دوحوالے رکھتا ہے۔اس ضمن میں بھی وہ نوے کی دہائی کی سیاسی سوچ سے باہر نہیں نکل سکے۔اُنہوں نے اس بار جیسے ہی وزیرِ اعظم ہاﺅس میں قدم رکھا ،اُس احساسِ تفاخر کی چادر کو لپیٹ لیا جو وہ نوے کی دہائی کے عرصہ میں دو بار لپیٹ چکے تھے۔وہ اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ کسی بھی ملک کو فردِ واحد کی سوچ اور اُس کا اندازِ عمل نہیں چلا سکتا۔چنانچہ وہ ایک بادشاہ کے رُوپ میں دکھائی دیےاور ملکی و بین الاقوامی معاملات کو جہاں ذاتی سوچ کی بنیاد پر ڈیل کرنے کی کوشش کی وہاں اداروں سے ٹکراﺅ بھی مول لے بیٹھے۔وہ ملک کے وزیرِ خارجہ خود رہے حالانکہ عالمی سطح پر جس طرح کی سیاسی تبدیلیاں رُونما ہوئیں اور جس طرح کے سفارتی تقاضوں کی ضرورت محسوس کی گئی ،ایسے میں ایک وزیرِ خارجہ کی ازحد ضرورت تھی مگر اس ضرورت کو قابلِ اعتناءنہ جاناگیا، یوں سفارتی سطح پر ملک کو کئی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔پاکستان کے ہمسائیوں  بالخصوص رُوس اور ایران نے حالیہ عرصہ میں جو سفارتی کامیابیاں سمیٹی ہیں ،پاکستان اُن کے بارے محض تصورہی کرسکتا ہے۔نیز داخلی سطح پر میاں نوا ز شریف نے خود کو کئی بار فوج کے مقابل لا کھڑا کیا۔سابق وزیرِداخلہ روزانہ کی بنیادوں پر کہتے ہوئے پائے جاتے رہے کہ فوج اور حکومت ایک صفحہ پر ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اُن کو ایسے بیانات دینے کی نوبت کیوں پیش آتی رہی؟یقینی طور پر میاں نوازشریف کے اُس طرزِ عمل سے جو نوے کی دہائی کی سیاست کا آئینہ دارتھا۔دھرنے کے دِنوں میں قدرت نے اُن کو یہ موقع عنایت کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو مضبوط کریں  مگر یہ موقع گنوا دیا گیا۔اسی طرح اپنے عمل سے تیسری بار وزیرِ اعظم کے طور پر عوام کو کیا دیا؟بجلی کا بحران تو ختم نہ ہوسکا۔سی پیک؟اگر میاں نواز شریف کی جگہ آمرانہ نظام بھی ہوتا تو یہ اقتصادی معاہدہ ہو کرہی رہتا۔میٹروبسیں؟اورنج لائن ٹرین؟ان سے بیس کروڑ لوگوں میں سے کتنے ہیں جوان سے استفادہ کر رہے ہیں؟البتہ اس دوران خواتین پرانے ہسپتالوں کے ٹھنڈے فرشوں پر دَم توڑتی ہوئی ضرور پائی گئی ہیں ۔

میاں نواز شریف او ر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما جب اپنے مخالفین کو یہ کہتے کہ اُنہیں نوے کی سیاست سے باہر نکل آنا چاہیے تو دَرحقیقت سب سے پہلے اُنہیں اور اُن کی پارٹی کو نوے کی دہائی کا طرزِ سیاست ترک کرنا چاہیے تھا۔میاں نواز شریف بطور سیاست دان اپنا ،اپنی پارٹی ،اپنے خاندان اور عوام کا جو نقصان کرواچکے ہیں ،اُس نقصان کے بارے اُنہیں خود معلوم ہے؟اُنہیں معلوم ہے کہ اُن کے بچے پیشیاں بھگت چکے ہیں ،اُن کے مرحوم والد کا نام باربار لیا جاچکا ہے،اُن کے کاروبار پر سوالات اُٹھائے جارہے ہیں،اُن کے صادق او راَمین کا فیصلہ ہوچکا ہے۔اب  وہ ہر جگہ کہتے ہوئے پائے جارہے ہیں کہ ”مجھے کیوں نکالا؟“تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ میاں صاحب!آپ کووزیرِ اعظم ہاﺅس سے، نوے کی دہائی کی سیاست نے نکالا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...