شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعید 25 برس بعد بھی زندہ ہیں

459

دنیا میں بہت کم ایسے اشخاص پیدا ہوتے ہیں جن کی خدمات کو نہ صرف مدتوں یاد رکھا جا ئے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی خدمات کو مزید بلندی و عروج پر پہنچانے کا اہتمام بھی رکھاجائے۔ معاشرے کی اصلاح کا دردکے حامل ایک فکرمند انسان میں جتنی خوبیاں پائی جاتی ہیں ،اس سے کہیں بڑھ کر اس عظیم انسان میں مخلصانہ جوہر کے ساتھ محنت ، جستجو، علم و فہم، حکمت و فراست اور دانش وری کے وہ اوصاف موجود تھے ،جسے دنیا آج بلا مبالغہ انہیں” شہید پاکستان” کے لقب سے جانتی ہیں۔ شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی شہادت کو 25 برس بیت گئے مگر وہ آج بھی اپنی خدمات کے عوض دلوں میں زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔

کچھ اشخاص کی پہچان ادارے بن جاتے ہیں جو انہیں نام اور مقبولیت عطا کرتے ہیں۔ لیکن کچھ شخصیتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو خودشخصیت اور ادارے ساز ہوتے ہیں ۔ ” شہید پاکستان ” کی حیات کا یک ایک ورق پلٹے جایئے تو حیرت طاری ہوتی ہے کہ وہ بظاہر ایک شخص تھے مگر اپنی ذات میں انجمن اور بہت بڑا ادارہ تھے۔ جس نے بچوں کی تربیت سے لے کر نوجوانوں کی اصلاح اور قوم کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ہمیشہ فکرمندی کا مظاہرہ پیش کیا ہے۔ نجانے ان میں کون سا ایسا سحر اور طلسم موجود تھا جس کے سبب حکیم صاحب کی حیات کے ہر زاویے سے روشنی کی کرن پھوٹتی دکھائی دیتی ہے اور ہر ہر پہلو ان کے نیک جذبہ کی شہادت بن کر واضح ہوتا ہے۔ سچ پوچھیئے تو ،شہید حکیم محمد سعید ایک عہد ساز شخصیت اورمکمل تاریخ ہیں جس کے کئی ابواب ہیں ، اور ہر باب پر ایک ڈاکٹریٹ کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جائے تو شاید ان کے نیک جذبات کا حق ادا نہ ہوپائے۔

حکیم صاحب ہمہ جہت شخصیت کا مجموعہ اور بے پناہ خوبیوں کا حسین امتزاج تھے۔ بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کے لیے ہمدرد نونہال، انسانی صحت کے لیے ہمدرد صحت اور قومی حالات کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے بصیرت سے خبرنامہ ہمدرد کے جیسے دیگر رسائل و جرائد کا آغاز کیا ۔ تعلیمی میدان میں ہمددر اسکول، یونیورسٹی جیسے ادارے قائم کیے ، جس کی خوشبو آج بھی چہار سو پھیل رہی ہیں۔ حکیم صاحب کے بارے میں اگریہ کہا جائے کہ وہ جو خواب دیکھتے تھے انہیں اس کی تعبیر مل جاتی تھی تو کہنا بالکل غلط نہ ہوگا، کیونکہ اصل وجہ ان کی فکر مندی تھی کہ میری قوم کا کردار اور ان کی صحت ، تعلیم کے مسائل ہمیشہ درست رہیں۔

حکیم صاحب کے ذوق مزاج میں حکمت اورتعلیم کے میدان سے زراآگے چل کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نےملک کے بدلتے سیاسی حالات ہوں یا معاشی استحکام کی کمزور پالیسی یا پھر عصری علوم میں سائنس و ٹیکنالوجی کی بصیرت کا فقدان ۔ ہر پیچیدہ قومی مسائل پر گفتگو اور خیالات مجتمع کرکے حل پیش کرنے کے لیے ” شام ہمدرد”کے نام سے میں ایک نئی جہت کا آغاز کیا۔ جس میں ماہانہ بنیاد پر منعقد ہونے والے اجلاس میں پاکستان بھر کےمختلف شعبہ ہائے جات سے تعلق رکھنے والے ماہر تعلیم ، ماہر معیشت، علمائے دین و اسکالرز،بیوروکریٹس، سیاست دان، ریٹائڑڈ ججز اور افواج پاکستان کے علاوہ دیگر ماہرین اہل و علم و دانش کو دعوت دی جاتی کہ وہ ان پیچیدہ مسائل پر اپنے خیالات و تجاویز سے آگاہ کریں۔ شام ہمدرد کا نام بعد میں ہمدرد شوریٰ یعنی تھنک ٹینک رکھ دیا گیا۔اس کے اجلاس پاکستان کے چار بڑے شہر کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں ماہانہ بنیاد پر اجلاس منعقد ہوتے اور حکیم صاحب قومی صدر کی حیثیت صدارت فرماتے تھے۔ حکیم صاحب کی شہادت کے بعد آپ کی صاحبزادی محترمہ سعدیہ راشد صاحبہ نے بھی نہ صرف اسی سلسلہ کو اسی طرح جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔بلکہ حکیم صاحب کے لگائے گئے ہر ہر گلشن کی آبیاری میں مکمل فعال نظر آتی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں ہمت وا ستقامت کا پیکر بنائے رکھے۔

ہمارے والد مرحوم مولانا محمد طاسین ؒ پاکستان کے نامور عالم دین علامہ محمد یوسف بنوری ؒ کے سب سے بڑے داماد تھے۔ تحقیقی کےمزاج میں اسلامی اقتصاد کا ان کا خاص میدان تھا لیکن دیگر عنوانات پر بھی ان کا قلم مضبوط تھا۔ ادارہ و لائبریری مجلس علمی کے ر ئیس اور بطور اسلامی اسکالر کئی علمی اداروں میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ حکیم صاحب سے ان کے علمی ذوق مزاج کی وجہ سے رفاقت کا ایسا تعلق بنا جو آخر وقت تک قائم رہا ۔ حکیم صاحب ، ادارہ مجلس علمی میری ویدر ٹاورمیں والد صاحب کے پاس اکثر وبیشترتشریف لاتے رہتے تھےاور اکثر علمی گفتگو اور تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔ اسی طرح والد مرحوم بھی حکیم صاحب کی خواہش پر شام ہمدرد اجلاس میں لازمی شرکت کیا کرتے تھے۔

والد مرحوم کی ایک کتاب “اسلام کی عادلانہ اقتصادی تعلیمات ” 1996 میں شائع ہوئی تو والد صاحب نے مجھے حکم دیا کہ حکیم صاحب کےدواخانہ جاکر انہیں کتاب پہنچانی ہے۔ غالباً دوپہر یا شام کے وقت ھمدرد دواخانہ پہنچا اور حکیم صاحب کی خدمت میں والد صاحب کا سلام پیش کیا اور ساتھ ہی کتاب بھی پیش کی۔ انہوں نے انتہائی شفقت فرماتے ہوئے محبت سے سلام کا جواب عنایت کیا اور کتاب کے سر ورق عنوان کو دیکھ کر چہرے پر خوشنما تاثرات نمایا ہوئے اور فرمایا، واہ ،کیا عمدہ موضوع کا انتخاب کیا ہے، یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بہت خوب۔ میرا بھی سلام کہیے ، کتاب پڑھنے کے بعد جلد ان کی خدمت کی خود حاضر ہونگا۔ میں نے واپس پہنچ کر والد صاحب کو بتایا کہ کتاب پہنچ چکی ہے اور فرمایا کہ کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد حاضر ہونگا۔ میں چونکہ والد صاحب کے ساتھ اسی مجلس علمی میں موجود رہتا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ٹھیک دو دن بعد حکیم صاحب میری ویدر ٹاور والد صاحب کے پاس مجلس علمی لائبریری تشریف لائے اور کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی اور فرمایا کہ جس دن یہ کتاب مجھے پہنچی تھی، اسی رات میں نے مطالعہ کرنا شروع کیا اور بالاستعیاب مطالعہ کیا اور آج دل چاہا کہ خود چل کر آپ کواس علمی کام کی مبارکباد پیش کی جائے۔ مجھے حیرانگی اس بات کی تھی حکیم صاحب کے مطالعہ کاذوق اتنا کمال کا تھا کہ انہوں نے دو دن میں ہی اس کتاب کو پڑھ ڈالا اور اپنی بیش بہا مصروفیات میں سے وقت نکال کر مبارکباد دینے بھی پہنچ گئے۔

حکیم صاحب میں ظاہری تمام خوبیوں میں نفاست سے بھر پور سفید زیب تن لباس ، وقت کے پابند ، منکسر المزاجی ، گفتگو جامع اورمختصر، لہجے میں چاشنی ،دھیما پن اور نرم مزاجی اورخدمت کے جذبہ سے سرشار، محبت سے دلی وطن، مسائل کا ادراک اور درد رکھنے والی شخصیت تھی۔ یعنی ان میں وہ طلسم موجود تھا کہ جسے نے کسی نے ایک مرتبہ دیکھ لیا یا ان سے ملاقات ہوگئی وہ یقینا ان کا مداح ہوجاتا تھا اور میں بھی ان مداحین کی صف میں شامل تھا ۔

جولائی 31، 2008 کو محترمہ سعدیہ راشد صاحبہ کی جانب سے راقم کو ایک خط موصول ہوا جس میں انہوں نے ہمدرد شوری میں شمولیت کی دعوت پیش فرمائی۔ یہ میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز تھا کہ اپنے والدمرحوم کی طرح ایک دن ان اصحاب علم کے اجلاس میں شرکت کرکے سیکھنے اور سمجھنے کا موقع حاصل ہوگا۔ خط چونکہ میرے پاس محفوظ ہے اس لیے خط کا کچھ متن نقل کر رہا ہوں تاکہ یاد داشت سند بن جائے۔

جناب محترم ڈاکٹر عامر طاسین صاحب!
علمی فضا پیدا کرنے اور ہم آہنگ ذہنی ماحول بنانے کے لیے شہید پاکستان حکیم محمد سعید نے اصحاب علم کے اجتماعات کا آغاز 1961 میں کیا تھا۔ حکیم صاحب کا خیال تھا کہ پڑھے لکھے لوگوں کا ایسا اجتماع ہوتا رہا ہے جس کے ذریعے تعلیم یافتہ افراد ایک دوسرے کے خیالات اور فکری رجحانات سے مستفیذ ہوسکیں۔ کچھ عرصہ بعد ہم خیال اور ہم مزاج اصحاب علم کے مشورے سے ان اجتماعات کو شام ہمدرد کا نام دیا گیا ۔ تیس سال سے زاید عرصہ تک شام ہمدرد ہر ماہ پابندی اور باقاعددگی سے پاکستان کے چار شہروں میں منعقد ہوتی رہی، جس میں ایک صاحب علم ونظر اپنے موضوع پر اپنے افکار سے مستفیذ کرتے تھے۔ 1995 میں اس سلسلے کو حکیم صاحب کی فکر رسا نے مزید وسعت دی اور شام ہمدرد شوری ہمدرد پاکستان میں ڈھل گئی۔

اب فرق یہ ہوا ہے کہ شوری کے تمام ارکان قومی اہمیت کے کسی مقررہ موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح قومی دلچسپی اور اہمیت کے مسائل و موضوعات پر صاحب فکر خواتین و حضرات کو سوچنے اور بولنے کا موقع ملتا ہے۔ شوری کے قیام سے اب تک جو ارباب علم و اصحاب فکر اس موقر مجلس سے وابستہ رہے ۔ ہم ان کی بے لوث خدمات اور مختلف علمی ، دینی مسائل پر رائے عامہ کی رہنمائی کے لیے ان کے تعاون کے ممنو ن ہیں۔ ہر شہر میں شوریٰ ہمدرد کے اجلاس کی صدارت اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کرتے ہیں۔ شہید پاکستان حکیم محمد سعید قومی صدر کی حیثیت سے چاروں شہروں کے اجلاس میں بذات خود شرکت فرماتے تھے۔ اب یہ ملی خدمت میرے فرائض میں شامل ہے۔

فکری اور علمی مگر غیر سیاسی تھنک ٹینک شوری ہمدرد کو متحرک اور فعال رکھنے اور مفید تر بنانے کے لیے نئے ارکان کی شمولیت ضروری ہے۔ اگر آپ اس علمی اور سماجی خدمت کے لیے ذہنی طور پر اپنے آپ کوتیار پاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ شوری ہمدرد کے اجلاس میں شرکت کے لیے اپنا وقت نکال سکتے ہیں تو ہمیں جلد اپنے جواب سے آگاہ فرمائیں۔ شوری ہمدرد میں آپ کی شمولیت پرہمیں خوشی ہوگی۔میں آپ کے مثبت جواب کے لیے نہایت ممنون ہونگی۔

سعدیہ راشد (قومی صدر ہمدرد شوری پاکستان)

آج مجھے اس ہمدرد شوری کے منسلک ہوئے 15 سال ہوچکے ہیں میں۔ اہل علم کی صحبت اور ان کی گفتگو سے یہ راقم ہمیشہ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکیم صاحب کی ہمہ جہت شخصیت کے کردار اور خدمات پر تو بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے اسی بابت خصوصی طور پر ایک تجویز پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

شہید پاکستان نے شام ہمدرد اور ہمدرد شوری کے تحت ہونے والے جتنے بھی اجلاس منعقد ہوئے ہیں۔ ان سب کا تحریری ریکارڈ خبرنامہ ہمدرد میں تحریر شدہ ہیں ۔ تمام رسائل کی فائلیں ہمدرد یونیورسٹی کی لائبریری میں با حفاظت موجود ہیں۔ ان رسائل میں سے ہمدرد شوریٰ کے اجلاس کے تمام موضوعات جیسا کہ صحت، تعلیم ، تدریس ، معاشیات، سماجیات ، سیاسیات، مہنگائی ، عدالتی نظام، عدم برداشت ، خواتین کے حقوق ، اساتذہ کا مقام ومنصب اور ایسے تمام معاشرتی مسائل جن پر آراء ، تجاویز کو الگ الگ یکجا کرکے پہلے مرحلے میں فہرست انڈیکس مرتب کرنے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔ اس اہم کام کے لیے پاکستان بھر کی مختلف یونیورسٹیز کو دلچسپی لینے کی ضرورت ہے اور ان تمام موضوعات پر الگ الگ سے تجاویز یکجا و مرتب کرکے محقق طلباء وطالبات کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے کام پر لگایا جاسکتا ہے۔ اس طرح شہید پاکستان کہ ہمدرد شوری سے وہ اہم نکات حاصل ہوسکتے ہیں جن پر پاکستان کی اعلیٰ قیادت کوبطور پالیسی تیار کرنے کی جانب متوجہ کیا جاسکتا ہے۔ یا پھر اس کام کو الگ الگ موضوعات میں تقسیم کرکے ہمدرد شوری کے کی علمی خدمات کے عنوان سے کئی جلدوں پر کتابیں مرتب کی جاسکتی ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...