عامر بلوچ: ہمارا فخر

103

گزشتہ روز لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسز میں منعقدہ تقریب میں یونیورسٹی کے ایک ( ٹرانسجنڈر) طالب علم عامر بلوچ نے اسٹیج پر رقص کیا کی، پورے بلوچوں کے غیرت پر شدید حملہ ہوا۔ اسلام ، ملکی سالمیت اور بلوچوں کی غیرت تین ایسی چیزیں ہیں جو پاکستان میں سال بارہ مہینہ خطرے میں رہتے ہیں۔ اس واقع کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا میں ایک طوفان برپا ہوا۔ عامر کو بلوچوں کی غیرت پر حملہ آور گردانا گیا، اسے ایک محلاتی سازش سے تعبیر کی گئی۔چاروں اطراف سے مذمتیں اور مطالبات نازل ہونے لگے۔ کسی نے عامر کو بلوچوں کی نازک غیرت پر حملہ آور گردانتے ہوئے اسکے خلاف کاروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا،تو کسی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اسکا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے فحاشی پھیلاکر بلوچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی منصوبہ بند سازش قرار دیا۔ البتہ کچھ یار دوستوں نے ٹرانسجنڈر کی بنیاد پر عامر کے رقص کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی۔ انتہاپسندی کی طرف تیزی کے ساتھ گامزن بیمار معاشرہ کے مستقبل کے لئے گہرے ہوتے خدشات میں جو کمی رہ گئی تھی ،یونیورسٹی انتظامیہ نے مذمتی بیان کی توسط سے عامر کے خلاف کاروائی کا اعلان کرتے ہوئے اس ضمن میں امید کی گنجائش ہی ختم کردی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے اس جاہلانہ اور پست ذہنیت کے حامل اس اقدام پر مجھے اپنے معاشرے کی طرف سے اٹھنے والی اس منفی آواز سے زیادہ کوفت ہوئی کیونکہ درسگاہوں کا کردار معاشرے کو جاہلیت کے اندھیروں سے نکالنا ہوتا ہے نہ کہ کسی بھی بیمار معاشرے کی غالب رجحان کی اندھا دھند پیروکاری کرنا۔انہی سطور کے ذریعہ میں پاکستان بھر کے روشن خیال اداروں، بلوچستان کے تمام ترقی پسند سیاسی جما عتوں ، طلباء تنظیموں اور سول سوسائٹیز سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس منفی اقدام کے خلاف آواز بلند کرکے عامر کو سہارا دیں۔
عامر بلوچستان کے انتہائی پسماندہ اور دور افتادہ علاقہ مالار،ضلع آواران سے تعلق رکھتا ہے جہاں پر زندگی کی تمام تر بنیادی ضرورتیں ناپید ہیں۔میں عامر کو داد دیتا ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے، اور مجھے فخر اس لئے بھی ہے کہ انتہائی غربت میں پسماندہ علاقہ سے نکل کر علم کی پیاس بجانے یونیورسٹی تک رسائی حاصل کی۔ مجھے عامر پر فخر اس لئے بھی ہے کہ وہ ہم سے زیادہ دلیر اور بہادر ہے کیونکہ وہ روزانہ ، لمحہ بہ لمحہ اس بیمار معاشرے کی پست ذہنیت کا بڑی بہادری کیساتھ مقابلہ کررہا ہے۔ میں عامر کو باور کرانا چاہتا ہوں کہ وہ ہمت اور حوصلہ نہ ہاریں اور خود کو تنہا نہ سمجھیں، ہم کم ہی سہی مگر اسکے ساتھ کھڑے ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ بچگانہ اور منفی اقدام سے باز رہے اس لئے کہ عامر نے کوئ جرم اور گناہ نہیں کیا اور عامر کو اکیلے بھی نہ سمجھا جائے۔ٹرانسجنڈر کی بنیاد پر عامر کے رقص کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے یاردوستوں کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ یہ اپروچ بھی منفی ہی ہے، رقص کرنا ہر انسان کا حق ہے چاہے وہ مردہو، عورت ہو یا ٹرانسجنڈر ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...