پاکستان آزادی کے بعد ایک فلاحی ریاست کیوں نہیں بن سکا؟

172

پاکستان کا قیام بہت بلند دعووں کے ساتھ ہوا تھا، بہت خواب تھے جو ہم نے دیکھے تھے۔ خیال یہ تھا کہ  پاکستان ایک فلاحی ریاست ہوگی، اس میں انصاف اور عدل نظر آئے گا۔ اس کے لیے بارہا اسلام کا حوالہ دیا گیا۔ اسلام کے حوالے سے یہ تصور بھی ہمارے ذہنوں میں راسخ تھا کہ یہ سماجی عدل کو فروغ دیتا اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے اسلام ایک رومانس بھی تھا۔ اس لیے دعویٰ کیا گیا کہ یہ ملک اسلام کی یہی تعبیر پیش کرے گا۔ علامہ اقبال نے کہا کہ اس ملک کو اسلامی نظم کی تجربہ گاہ بنایا جائے۔ 1930 کے خطبے میں اسی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی نظم کا تجربہ ہندوستان میں ممکن نہیں ہوگا، ہندوستان میں غیرمسلموں کی ایک بڑی اکثریت موجود ہے، اس کے مقابل جب ہم ایک الگ ریاست میں اس نظم کا تجربہ کریں گے تو وہ زیادہ کامیاب ہوگا۔ تحریکِ پاکستان کے دوران بھی یہی بات کی جاتی رہی اور 1947 میں پاکستان کا قیام عمل میں آگیا۔

لیکن عملاً کیا ہوا؟ اس خیال کے تحت کہ پاکستان ایک جمہوری اور وفاقی ریاست ہوگی، اس ملک کے تصور کی بنا ڈالی گئی۔ لیکن مثالیں اور نظائر اسلامی تاریخ سے دیے گئے۔ لہٰذاپاکستان آزاد تو ہوا لیکن انتہائی محدود معنوں میں، انگریز کا جھنڈا اتر گیا اور اس کی جگہ ایک اور جھنڈا لگا دیا گیا۔ انگریز تو اس ملک سے چلے گئے مگر ان کی جگہ انہی کی بنائی ہوئی افسرشاہی نے لے لی۔ لہٰذا ہماری آزادی بہت ہی محدود معنوں میں ہے۔ ہماری آزادی کا اصل مقصد غلامی کے دور کے سماجی  بندھنوں اور ضابطوں کو ختم کیا جاتا۔ ہم ایک تاریخی ورثہ لے کر آزاد ہوئے تھے۔ عہد وسطیٰ کا سماجی ورثہ ہماری پشت پر تھا۔ غلامی کے دور کے سماجی ڈھانچے کے علاوہ  سیاسی ادارے ہمارے پاس تھے۔ یہ نو آبادیاتی نظم تھا۔ ہم نے نو آبادیاتی کی جگہ نو آبادیاتی نظمِ ریاست  کی بنیاد رکھی، حالانکہ چاہیے تو یہ تھاکہ حقیقی معنوں میں آزادی کی بنیاد رکھتے۔

آزادی کے حقیقی معانی یہ تھے کہ ہم جاگیردارانہ نظام سے آزادی حاصل کرتے اور اپنے سماجی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک جدید معاشرت متعارف کرواتے۔ جب  جدید معاشرت متعارف ہوتی ہے تو اس کے ساتھ نئے نظریات وجود میں آتے ہیں اورحقیقی معنوں میں ایک جمہوری معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ حقیقی معنوں میں ایک جمہوری نظام ِ تعلیم وجود میں آتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا کچھ بھی نہیں ہوسکا۔ آزاد ہوتے ہی ہم نے نو آبادیاتی نظم کی بنیاد رکھ دی۔ عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اصل میں برطانیہ سے امریکا کی جانب انتقالِ اقتدار تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب عالمی قیادت امریکا کے پاس آئی تو ہم نے امریکا کے زیرتسلط آنے میں دیر نہیں لگائی، اور اس کے لیے امریکا نے نہیں، بلکہ ہم نے خود پہل کی۔ ہمارے پڑوس میں ہی ایک بڑی ریاست بھارت تھی، امریکا کی ذاتی خواہش تھی کہ کسی طرح بھارت  اس کے حلقہ اثر میں آئے، لیکن اس کے بالمقابل ہم نے خود ہی انتھک کوشش کی کہ کسی طرح امریکا ہماری طرف متوجہ ہو۔ وزارت خارجہ کے ذریعے کوشش کرکے روس سے پاکستانی وزیراعظم کے لیے دعوت نامہ منگوایا گیا۔ تہران میں موجود ہمارے وزیرخارجہ راجہ ظفر علی خان نے تہران میں موجود روسی سفیر سے کہا کہ ہمارے وزیراعظم روس کا دورہ کرنا چاہتے ہیں، آپ ماسکو یا کریملن سے کہیں کہ وہ ہمارے لیے دعوت نامہ بھیجے، اس کے بعد ہمارے وزیراعظم کے لیے دعوت نامہ آگیا۔ بس یہی ہمیں چاہیے تھا۔ ہمیں امریکا کو یہ دکھانا تھا کہ پاکستان کو روس سے دعوت نام آگیا ہے۔ فوراً امریکا نے بھی دعوت نامہ بھیجا اور ہمارے وزیراعظم روسی دعوت نامہ ایک طرف رکھ کر امریکا چلے گئے۔ بعد کے برسوں میں بھی آپ دیکھیں کہ ایک وزیراعظم تبدیل ہی اس لیے کیا گیا کہ وہ روس کی جانب مائل تھا، خواجہ ناظم الدین کو ہٹا کر محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ محمدعلی بوگرہ اسمبلی کے ممبر تھے نہ ہی ان کا مسلم لیگ سے کوئی تعلق تھا، وہ امریکا میں پاکستان کے سفیر تھے، انہیں وہاں سے بلا کر وزیرِاعظم بنایا گیا تاکہ وہ ہمیں امریکا کے قریب کرسکیں اور وہ اس میں کامیاب ہوگئے۔

ہمارے حکمرانوں کی انتہائی خواہش تھی کہ ہم امریکا کے قریب ہوں اور بعد میں امریکا کو بھی اندازہ ہوگیا کہ پاکستان ہمارے لیے کتنا کارآمد ہے۔ جہاں کہیں ان کو اندیشہ ہوا کہ پاکستان کی افسرشاہی اور فوج کے ساتھ تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں وہاں انہوں نے پوری کوشش کی کہ اس رشتے کو دوبارہ مضبوطی کے ساتھ استوار کیا جائے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ 7اکتوبر1957 کو ملک میں مارشل لا لگایا گیا لیکن مارشل لا لگنے سے چند ماہ پہلے اپریل یا مئی 1957میں فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان امریکہ کے دورے پرگئے، اس وقت امریکا کے وزیرخارجہ جان فوسٹرڈیلس تھے، اور ان کے بھائی ایلن ڈیلس امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ اور ایوب خان کے دوست تھے۔ ایوب خان نے ایلن ڈیلس سے مذاکرات کیے اور انہیں کہا کہ اپنے بھائی کے ذریعے وہائٹ ہاوس کو قائل کریں کہ پاکستان میں الیکشن ہونے والے ہیں، اگر الیکشن ہو جاتے ہیں تو آپ کے مفادات بھی متأثر ہوں گے۔ کیونکہ جو بھی سیاسی پارٹیاں میدان میں ہیں، چاہے وہ پاکستان عوامی پارٹی ہو، نیشنل عوامی پارٹی ہو یا پھر مسلم لیگ، ان میں سے کسی ایک کے اقتدار میں آجانے کے بعد امریکی مفادات کا تحفظ ممکن نہیں ہو پائے گا۔ نیشنل عوامی پارٹی کے تو منشور میں ہی شامل تھا کہ ہم اقتدار میں آگئے تو مغرب کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدوں سے پاکستان کی دستبرداری عمل میں لے آئیں گے۔ چنانچہ 7 اکتوبر کو مارشل لا لگادیا گیا، 27 اکتوبر کو اسکندر مرزا کو کوئٹہ روانہ کیا گیا اور اس کے بعد لندن بھیج دیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب عالمی قیادت امریکا کے پاس آئی تو ہم نے امریکا کے زیرتسلط آنے میں دیر نہیں لگائی، اور اس کے لیے امریکا نے نہیں، بلکہ ہم نے خود پہل کی

اس وقت امریکی وزیرخارجہ پاکستان کے دارالحکومت کراچی میں موجود تھے۔ لہٰذا کالونیل ازم سے نیوکالونیل ازم کی طرف جانے اور امپیریل ازم کا حصہ بننے کا فیصلہ ہماری مقتدر اشرافیہ کا متفقہ فیصلہ تھا۔ کرپشن ختم نہیں ہوئی بلکہ کئی گنا بڑھ چکی ہے اور ملک کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں کرپشن کا راج نہ ہو۔ ان کا دوسرا مدعا  یہ تھا کہ ہندوستان کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہیں لہٰذا جمہوریت یا ان کے الفاظ میں جمہوریت کی عیاشی نہیں چلنی چاہیے، چونکہ پاکستان کے حالات خراب ہیں اس لیے ہماری ترجیحات بھی اسی لحاظ سے مرتب ہونی چاہییں۔ بجائے اس کے کہ پاکستان ایک جمہوری فلاحی ریاست بنتا یہ ایک نیشنل سکیورٹی اسٹیٹ بن چکا ہے۔

جہاں تک ہندوستان سے متعلق مسائل کا تعلق ہے تو یہ اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ جس انداز میں تقسیم ہوئی اس سے کئی تلخ مسائل نے جنم لیا، آپ اندازہ کریں کہ ہندوستان چالیس کروڑ آبادی کا حامل ملک تھا، یہاں کسی بھی نوعیت کی جغرافیائی تقسیم سے انتقالِِ آبادی اور لا اینڈ آرڈر جیسے قسم ہا قسم مسائل کا پیدا ہونا ایک حقیقت تھی۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن مارچ میں ہندوستان آئے تو فیصلہ ہوا کہ 1948 میں تقسیم ہوگی مگر اس کے بعد یہ فیصلہ بدل کر اگست 1947 میں تقسیم کر دی گئی، یوں چار مہینے کے قلیل وقت میں برصغیر کو تقسیم کردیا گیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے کہا کہ آپ جو فیصلہ کر رہے ہیں اس سے لااینڈ آرڈر کا بہت بڑا مسئلہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں ایک فوجی آدمی ہوں اور لا اینڈ آرڈر کا اطلاق و نفاذ کرنا مجھے اچھی طرح سے آتا ہے۔ اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لا اینڈ آرڈرکس طرح نافذ ہوا۔ ایک کروڑ بیس لاکھ افراد نے دونوں اطراف سے ہجرت کی، سینکڑوں لوگوں کا قتل عام ہوا اور ہزار ہا خواتین اغوا ہوئیں اور ان کی آبرو ریزی کے واقعات عمل میں آئے۔ کس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ تقسیم کے بعد دونوں اطراف ایسی کمیٹیاں بنائی گئیں جنہوں نے دوسرے ملک جا کر غائب ہوجانے والی خواتین کی تلاش کی۔ ان حالات میں یہ کہنا بالکل بے جا نہیں ہے کہ یہ انتہائی غیر منصوبہ بند تقسیم تھی۔

میرا خیال ہے کہ جب ایک نظام سے دوسرے نظام کی طرف انتقال کا اتنا بڑا فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ انتقال کچھ وقت چاہتا ہے۔ جیساکہ ہمارے ہاں جب اٹھارہویں ترمیم پاس ہوئی جس میں وفاق سے صوبوں کی طرف کئی اختیارات منتقل ہوئے تو یہ ترمیم بھی اسی طرح منصوبہ بندی کی متقاضی ہے۔ مگر ایسے بڑے فیصلوں کو معقول وقت دیا جائے تو زیادہ سلیقے سے چیزوں کو مرتب کیا جاسکتا ہے۔ جب جنوبی افریقا آزاد ہوا تو اس میں سفید فام بالادستی کا اختتام ہوا۔ انتقال کے اس مرحلے کی انجام دہی کے لیے پانچ سال کی مدت رکھی گئی۔ ہمارے ہاں تو پورے برصغیر کی تقسیم ہو رہی تھی اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔ برطانیہ کی پارلیمان میں حزب اختلاف کے ایک سیاستدان نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی تاریخی غلطی تھی کہ ہم نے اس طرح سے برصغیر کو تقسیم کیا۔ اس سانحے نے دونوں اطراف عدمِ اعتماد کوجنم دیا۔ اسی کے نتیجے میں پچھلے ستر سالوں میں پاکستان اور ہندوستان میں ہر چیز پر مسئلہ کشمیر نے غلبہ پائے رکھا، جبکہ حقیقت میں یہ بہت بڑا مسئلہ تھا۔

بہرحال حالات جو بھی ہوں مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم ابھی تک اس نفرت کے رویے سے چھٹکارا نہیں پاسکے اور ہمارے ذہنوں پر صرف اور صرف نفرت ہی سوار ہے۔ ہمارے سروں پر 1947 سوار ہوگیا ہے۔ ہندوستان کے ایک شاعر دلیپ نے the longest august ’’طویل ترین اگست‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ یہ تاریخ کا ایسا اگست ہے جو ختم ہی نہیں ہورہا۔ آج بھی ہم اسی اگست میں رہ رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری قومی ترجیحات مجروح ہوئیں، جمہوریت نہیں پنپ سکی، سول بالادستی قائم نہ ہوسکی، ہم ایک سوشل ویلفئر اسٹیٹ نہیں بن سکے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم وجودی بحران کا شکار ہو گئے۔ ہمیں یقین ہی نہیں آرہا کہ ہم آزاد ہوچکے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیں وہاں یہ بات زیربحث نہیں ملے گی کہ ہم رہیں گے یا نہیں رہیں گے۔ پاکستان کی ہر محفل میں یہ بات چل رہی ہوتی ہے کہ یہ ملک چلے گا یا نہیں۔ شادی بیاہ کی تقریب میں چلے جائیں وہاں یہی سوال ہورہا ہوتا ہے۔ باہر کے دانشور آتے ہیں تو ان سے بھی یہی پوچھا جا رہا ہوتا ہے۔

ہمارے سروں پر 1947 سوار ہوگیا ہے

ہمارے سروں پر 1947ء سوار ہوگیا ہے، اس حد تک کہ ہم وجودی بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔ یہ وجودی بحران اس لیے ہے کہ ہم ہندوستان سے لاحق خوف کے سائے سے نہیں نکل پا رہے۔ ہندوستان بڑا ملک ہے تو ہوتا رہے، ان سے اختلافات اگر ہیں توانہیں حل ہونا چاہیے۔ اس کے لیے مختلف راستے تلاش کرنے چاہییں۔ دنیا میں کتنے ملک ہیں جو بڑے ممالک کے ہمسائے ہیں، سوویت یونین کتنا بڑا ملک تھا اس کے پہلو میں چھوٹا سا ملک فن لینڈ تھا، اس نے کبھی امریکا یا کسی اور سے مدد نہیں مانگی۔ جن ملکوں کے لوگ خوشحال اور سماج مضبوط ہوتے ہیں ان کو کسی کا خوف لاحق نہیں ہوتا۔ ہم نے کبھی سماجی انصاف کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد اب تک کوئی ایک ملک ایسا نہیں جو بیرونی حملے کی وجہ سے ٹوٹا ہو۔ جتنے ملک ٹوٹے اندرونی اسباب کی وجہ سے ٹوٹے۔ سوویت یونین اندرونی اسباب کی وجہ سے ٹوٹا، یوگوسلاویہ اندرونی اسباب کی وجہ سے ختم ہوا۔ ہمیں اپنی ترجیحات کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ترجیحات کو تبدیل کرکے اگر ہم پاکستان کو قومی سلامتی کی ریاست کے طریق سے ہٹا کر ایک فلاحی ریاست بنائیں گے اور تخلیقیت کے راستے ڈھونڈیں گے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اگر ہندوستان کا ہَوا اپنے اوپر طاری رکھیں گے تو پھر عملی طور پر نہ ہی نظری طور پر آگے بڑھ سکیں گے۔ ہمیں دوسروں کی لڑائیاں نہیں لڑنی چاہییں، افغان جنگ کے بارے ہم یہ کہتے رہے کہ یہ تو افغانوں کی جنگ ہے، ہم تو محض ان کی اخلاقی مدد کر رہے ہیں۔ جب سوویت یونین نکل گیا تو ایسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تو سب کچھ ہم کر رہے تھے، انہوں نے اپنے اوپر کتابیں لکھوائیں۔ تب پتہ چلا کہ پاکستان تو سی آئی اے کا اڈہ بنا ہوا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ پچاس ہزار عرب بھی یہاں آئے ہوئے تھے، ظاہر ہے وہ سب ویزے لے کر آئے ہوں گے۔

نائن الیون کے بعد کہا گیا کہ یہ جنگ امریکا کی نہیں بلکہ مشترکہ جنگ ہے اور اب ہم کہتے پائے جاتے ہیں کہ ہم دوسروں کی لڑائی نہیں لڑیں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں حقیقی معنوں میں ایک جمہوری فلاحی ریاست بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ آپ سماج میں تبدیلی لائیں گے تو آپ کا نظریاتی سانچہ بھی تبدیل ہوگا۔ یہ وہی سانچہ ہوگا جو قبولِ عام حاصل کرے گا۔ یہ کہیں اوپر سے تھونپا ہوا سانچہ نہیں ہوگا بلکہ یہ وہ ہوسکتا ہے عوام کے تہذیبی وثقافتی تنوعات کو تسلیم کرتا ہوگا۔

(یہ گفتگو ’پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز‘ کے زیراہتمام ایک تربیتی ورکشاپ میں کی گئی۔)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...