دہشت گرد عناصر کی واپسی ایک سوالیہ نشان

130

پچھلے چند دنوں سے میڈیا میں سوات، دِیر اور وزیرستان کے علاقوں میں ’تحریک طالبان پاکستان‘ کے ارکان کی واپسی کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان عناصر کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بھی اس پر بات کی گئی اور کچھ ممبران نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس سے قبل تحریک انصاف کے رکن اسمبلی پر حملہ اور پولیس اہلکاروں کے اغوا کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

ٹی ٹی پی کے حوالے سے بات چیت کی پچھلی چند ماہ کی پیش رفت کے بعد دہشت گرد عناصر کا اس طرح سے ایک بار پھر ظہور اور آزادانہ نقل و حرکت زیادہ حیران کن نہیں ہے، کیونکہ ایسے تجربات پہلے بھی کیے جاچکے ہیں جن کے نتائج مختلف نہیں تھے۔ اگرچہ حکومتی ذمہ داران نے ٹی ٹی پی ارکان کو افغانستان سے واپسی کی اجازت دینے کی خبروں کی تردید کی ہے، تو ایسے میں ان کا مسلح انداز میں علاقوں میں نظر آنا اور بھی تشویشناک ہے۔ البتہ ایسی خبروں کے بعد متأثرہ علاقوں میں عام لوگوں کا باہر نکل کر احتجاج بتاتا ہے کہ وہ اس کے لیے بالکل تیار نہیں اور ریاستی پالیسی سے ناخوش ہیں۔

قبائلی سرحدی علاقوں سے پاکستانی افواج کے آپریشنز کے بعد ان علاقوں میں کافی حد تک امن کا ماحول بن گیا تھا۔ پچھلے سال سے افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد بلاشبہ پاکستان کے لیے صورتحال پیچیدہ بن گئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت کا نقطہ نظر کمزور ہے۔ بجائے اس کے کہ ہر چند سال بعد اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے بعد دوبارہ ازسرنو سفر وہیں سے سفر شروع کرنے سے صرف ان عناصر کو تقویت ملتی ہے اور پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ سر اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔

پاکستانی علاقوں میں ٹی ٹی پی عناصر کی موجودگی کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ دیگر دہشت گرد اور جرائم پیشہ تنظیمیں بھی ملک میں دوبارہ منظم اور فعال ہوں گی۔ لہذا ضروری ہے کہ کسی بھی ملک دشمن عنصر کے ساتھ نرمی نہ برتی جائے اور قبائلی علاقوں میں ایک بار پھر پہلے والے حالات پیدا نہ ہونے دیے جائیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...