جھگڑے اور تناؤ کے واقعات کو لسانی تنازعہ کی شکل اختیار کرنے سے بچایا جائے

123

چند دن قبل صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں ایک ہوٹل پر ہونے والی لڑائی کے دوران ایک سندھی نوجوان کو قتل کردیا گیا، جس کے بعد صوبے بھر میں مظاہروں اور امن وامان کو متأثر کرنے والے واقعات کی لہر چل پڑی ہے، جس کے اثرات کراچی شہر تک بھی پہنچ گئے ہیں جہاں ہنگامہ آرائی کے کچھ واقعات پیش آئے ہیں۔ بلال کاکا قتل کے واقعے کے بعد کچھ گروہ اسے سندھی پشتون تنازعہ کی شکل دیتے ہوئے لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہونے والی ہنگامہ آرائی میں چند لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سندھ کی سرزمین تاریخی طور پہ امن وآشتی کی سرزمین رہی ہے۔ لیکن 70 کی دہائی کے بعد سے یہاں وقتاً فوقتاً نسلی و لسانی تنازعات پھوٹتے رہے ہیں جو بعض اوقات انتہائی خطرناک شکل اختیار کرلیتے ہیں، بالخصوص سندھ کے شہری علاقے اس کی زد میں آتے رہتے ہیں۔ اگرچہ آزادی کے بعد شروع سے مجموعی حیثیت میں ہی پاکستان کو مختلف نسلی و لسانی مسائل کا سامنا رہا ہے لیکن ریاست ان کا کوئی جمہوری، معقول اور دیرپا حل مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے، اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے کہ ایسے مسائل کو وقتی طور پہ تو دبا دیا جاتا ہے یا انہیں فوری بحرانی صورتحال سے تو نکال لیا جاتا ہے لیکن ان کا باضابطہ، طویل المدتی اور جمہوری حل نہیں نکالا جاتا، جس کی وجہ سے وقفے وقفے سے اس نوع کے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جن میں ممکنہ طور پہ لسانی تنازعہ کی صورت اختیار کرنے کی صلاحیت اور خطرہ ہوتا ہے۔

خاص طور پہ کراچی پاکستان کا ایسا شہر ہے جو نسبتاً مختلف مسائل و عوامل کی بنا پر تنازعات کے خطرات سے دوچار رہتا ہے اور اس کی لسانی، سیاسی اور فرقہ وارانہ تنازعات کی ایک بھیانک تاریخ ہے۔ اگر معاملات کی صحیح طرح سے تشخیص نہ کی جائے اور راست اقدامات نہ کیے جائیں تو بعض اوقات چھوٹے مسائل و واقعات کسی بڑے اور وسیع پیمانے پر تنازعات کی اُٹھان کا سبب بن جاتے ہیں۔

لسانی و نسلی تحفظات پر مبنی کشیدگی اور لوگوں کے اندر جنم لینے والے اس طرح کے جذبات کے پس پردہ اصل میں بری طرزحکمرانی، معاشی ناہمواری، اداروں میں غیرمتناسب نمائندگی اور انتظامی نااہلی جیسے عوامل کارفرما ہیں، جن کے باعث مختلف طبقات کے مابین عدم تحفظ اور بے اعتمادی کی فضا بن گئی ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ حالیہ واقعے کے بعد قوم پرست جماعتوں نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ ایسے مسائل کو طویل المدتی بنیادوں پر اور حقیقی اسباب کو پیش نظر رکھ کر حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ورنہ ایسی فضا میں ہمیشہ یہ خدشہ رہتا ہے کہ کوئی بھی واقعہ کسی بڑے تنازعہ کی صورت اختیار کرلے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...