سابقہ فاٹا کا انضمام، اور اصلاحات کے وعدے جو کبھی پورے نہیں ہوئے

148

حکومت کی یہ خواہش ہے کہ ’کالعدم تحریک طالبان پاکستان‘ (TTP) عسکریت پسندی ترک کردے اور مرکزی دھارے کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرے۔ جبکہ ٹی ٹی پی کا مطالبہ ہے کہ حکومت سابقہ فاٹا کے ضم شدہ علاقوں سے اپنے فوجی واپس بلائے، فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے آئین کی 25ویں ترمیم کو منسوخ کیا جائے اور مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کا نفاذ کیا جائے۔ عام طور پر اس مسئلے میں بس انہی دو اطراف کے تناظر میں بات کی جاتی ہے، لیکن کیا کبھی سوچا جاتا ہے کہ ان اضلاع کے عوام کیا چاہتے ہیں؟

’فاٹا ریسرچ سینٹر‘ کی طرف سے 2016ء میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، سابقہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے 68 فیصد جواب دہندگان نے ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن‘ (FCR) کے نظام  کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اس کی جگہ ایک نیا گورننس سسٹم متعارف کرانے کا مطالبہ کیا۔ اِس تحقیقی مطالعے میں مزید یہ بھی بتایا گیا تھا کہ 74 فیصد جواب دہندگان نے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے خیال کی حمایت کی۔ اس کے علاوہ 26 فیصد افراد نے فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کی تائید کی تھی۔

حال ہی میں 2021-22 کے دوران ’کمیونٹی ریزیلینس ایکٹیویٹی نارتھ‘ کے نام سے ایک پراجیکٹ جو اقوامِ متحدہ کے زیراہتمام ہے اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کام کر رہا ہے، اسے خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع میں لاگو کیا گیا تاکہ مقامی طبقات کے اندر کسی بھی دباؤ یا تناؤ کی کیفیات کے خلاف برداشت اور مزاحمت کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد کی جا سکے، اور کمیونٹی کی ترقی کے لیے سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔ اس منصوبے کا ایک مقصد مقامی کمیونٹیز اور نئے قائم ہونے والے سرکاری محکموں کے مابین معلومات کی خلیج کو ختم کرنا بھی تھا تاکہ ان محکموں کی بہتر و مؤثر فعالیت کو یقینی بنانے کے لیے ان کمیونٹیز کو مخصوص خدمات فراہم کی جا سکیں جہاں 2018ء میں انضمام سے قبل جدید محکمہ جات کا ڈھانچہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔

اس پراجیکٹ میں مشیر اور تربیت کار کے طور پر کام کرتے ہوئے، مجھے مقامی صورتحال اور وہاں کے ان دیرینہ مسائل کے بارے میں جاننے کا موقع ملا جو اس علاقے میں ترقی اور بہبود کے راستے میں کسی نہ کسی طرح ایک رکاوٹ بن گئے ہیں۔ زیادہ تر مقامی افراد جن کے ساتھ ’کمیونٹی ریزیلینس‘ کی ورکشاپس کے ذریعے رابطہ ہوا، ان کے ساتھ بات چیت کے دوران محسوس ہوا کہ وہ امید کھو رہے ہیں اور نئے نظام کے بارے میں شکوہ کناں ہیں۔ جہاں تک وجوہات کی بات ہے تو وہ نوجوانوں اور بزرگوں میں مختلف نظر آئیں۔

سابقہ فاٹا کے علاقوں میں رہائش پذیر نوجوانوں کی اکثریت اصولی طور پر انضمام کے عمل کی حامی تھی، کیونکہ وہ ایف سی آر کے قدیم انتظامی ڈھانچے اور پولیٹیکل ایجنٹ کے آمرانہ اختیارات سے خوش نہیں تھے۔ وہ کمیونٹی عمائدین کے بے جا اثر و رسوخ سے بھی نالاں نظر آئے جو جرگہ سسٹم کے ذریعے پولیٹیکل ایجنٹ اور عام لوگوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے رہے۔

بہت سے بزرگوں، نوجوانوں اور سرکاری عہدیداروں نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ انضمام کی وجہ سے انہیں پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح آئینی حقوق حاصل ہو گئے ہیں۔ کئی نوجوانوں نے امید ظاہر کی کہ اب وہ اس قابل ہوجائیں گے کہ جرگے کے فیصلوں کے خلاف اپیل کرسکیں، اور یہ کہ وہ اب انصاف کے حصول کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے بھی رجوع کر سکیں گے۔ وہ پرامید تھے کہ ان کے لیے منصفانہ سماعت اور اور بروقت فیصلوں کی راہیں کھلیں گی۔ وہ ان اجتماعی و علاقائی ذمہ داریوں اور تقاضوں کے بوجھ سے نجات پا کر خوش دکھائی دے رہے تھے جو ایف سی آر کے جابرانہ نظام کا حصہ تھے۔ انضمام کے بعد عوامی سہولیات کی خدمات پیش کرنے والے نئے سرکاری محکموں کے قیام نے ترقیاتی کاموں، امن و امان کی بہتر صورتحال، قیامِ امن، استحکام اور جدید زندگی کی سہولیات کی فراہمی کے امکانات روشن کیے تھے۔

اگر موازنہ کیا جائے تو انضمام سے قبل والے نظام کے مقابلے میں نیا نظام مفید ثابت نہیں ہوا۔

ان ورکشاپس میں شریک خواتین نے خاص طور پر یہ کہا کہ سابقہ نظام بہت جابرانہ تھا اور یہ کہ جرگے میں امیر اور طاقتور عناصر اثرانداز ہوتے تھے۔ انہوں نے اس بارے میں بھی بات کی کہ کس طرح خواتین کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اکثروبیشتر ان کی بات سنی ہی نہیں جاتی اور انہیں اپنی زندگی سے جڑے معاملات میں بھی کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ خواتین شرکاء نے اصلاحات کے نئے اعلانات بارے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جبر اور پابندیوں کے اس دور کا خاتمہ ہوگا جس کا انہیں پچھلے نظام میں سامنا تھا۔

تاہم کچھ معمر افراد کا خیال تھا کہ پرانے جرگہ سسٹم میں امن اور انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا گیا تھا جس کی رفتار نئے نظام میں بہت سست اور ناقص نظر آتی ہے۔ انہیں سابقہ ​​نظام میں بطور بزرگ حاصل ہونے والی مراعات سے محروم ہونے کی شکایت بھی تھی۔ تاہم، وہ اب بھی اپنی کمیونٹی میں کافی اثر و رسوخ کے حامل ہیں اور لوگ عام طور پر کھل کر ان کی مخالفت نہیں کرتے۔ ورکشاپ کے کچھ شرکاء، خاص طور پر اعلیٰ سرکاری افسران نے اس تأثر سے اختلاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کمیونٹی کے بزرگ انضمام اور اصلاحات کے عمل کے حق میں ہیں، اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

لیکن بہت سے لوگ انتہائی مایوس نظر آئے کیونکہ انضمام کے بعد کی توقعات اور اصلاحات کے وعدے ایفا انہیں ہوئے۔ انہوں نے انصاف کے پراسس اور اس کے حصول میں تاخیر، انضمام کے بعد جرائم کی شرح میں اضافہ، منشیات کی لت اور بڑھتی بدعنوانی جیسے امور پر ناراضی کا اظہار کیا۔ کچھ عہدیداروں نے نئے قائم ہونے والے محکموں کے لیے فنڈز کی کمی پر مایوسی کا اظہار کیا، جبکہ بعض کا خیال تھا کہ ایک تو انضمام کا عمل ہموار نہیں تھا اور دوسرا اس کا فیصلہ کرنے سے پہلے مناسب اتفاق رائے پیدا نہیں کیا گیا تھا۔

انضمام کے عمل نے ضم ہونے والے اضلاع کے اندر بڑھتی ہوئی نظریاتی خلیج کے ساتھ ساتھ، بزرگوں اور نوجوان نسل کے مابین زاویہِ فکر کے فرق کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ جہاں نوجوان ادھورے وعدوں اور سست کارکردگی کی وجہ سے انضمام کے بعد کی صورتحال سے مایوس نظر آئے، تو وہیں بزرگ افراد کو ان مراعات و اختیارات کھونے کی تشویش لاحق تھی جن سے وہ پہلے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

لوگوں کے اندر نئے قائم شدہ محکموں کے انتظامی طریقِ کار اور ان کی خدمات کے حوالے سے آگہی اور اعتماد کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔

اگر موازنہ کیا جائے تو انضمام سے قبل والے نظام کے مقابلے میں نیا نظام مفید ثابت نہیں ہوا۔ وجوہات کئی ہیں، جن میں وسائل کی کمی، عملے کی تربیت نہ ہونا، مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان، مقامی تنازعات، انتظامی طریق کار کے بارے میں ابہام، عدالتی فیصلوں میں تاخیر، تباہ شدہ انفراسٹرکچر، انتہا پسند عناصر کی موجودگی اور معاشرے کے مختلف طبقات کی طرف سے مخالفت شامل ہیں۔ انتظامیہ لوگوں کی توقعات پر پورا اترنے سے قاصر ہے، عوام کے اندر نئے انتظامی ڈھانچے سے مایوسی بڑھ رہی ہے، جبکہ سکیورٹی کی صورتحال بدستور ناگفتہ بہ ہے۔

طالبان کے ساتھ حالیہ مذاکرات اور فاٹا انضمام کو واپس لینے کے ان کے مطالبے کے پس منظر میں، یہ امر زیادہ اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے کہ حکومت وہاں کے لوگوں کی بات سنے، انہیں اہمیت دے، اور ان کی شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے ایک ترقی پسند مستقبل کی یقین دہانی کرائے۔

بشکریہ: روزنامہ ڈان، مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...