دہشت گردی کے معاملے میں بھارت کے دوہرے معیار

سدھا رام جندرن

125

28 جون کو مغربی ہندوستان کے علاقے اُدے پور میں دو مسلمان افراد ایک ہندو درزی کنہیا لال کی دکان میں داخل ہوئے اور اسے گوشت کاٹنے والے چھرے کا استعمال کرتے ہوئے قتل کر دیا۔ انہوں نے اس خوفناک حملے کی ویڈیو بنائی، قتل کی ذمہ داری قبول کی اور حتیٰ کہ محمد ریاض اختر اور محمد غوث کے ناموں سے اپنی شناخت بھی بتائی، اس کے بعد وہ ویڈیو آن لائن گردش کرنے لگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قتل ان کے عقیدے کے دفاع میں کیا گیا تھا۔ اختر اور غوث نے کہا کہ انہوں نے کنہیا لال کو سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ کی بنا پر قتل کیا جس میں بی جے پی کی معطل شدہ ترجمان نوپور شرما کے پیغمبراسلام محمد (ﷺ) اور اسلام کی توہین کرنے والے تبصروں کی حمایت کی گئی تھی۔ شرما کے بیانات نے مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر کو جنم دیا۔

قتل کی رات ہی اختر اور غوث کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس حملے کو ’دہشت گردی کا واقعہ‘ قرار دیتے ہوئے وزارت داخلہ نے قتل کی تحقیقات کے لیے قومی تحقیقاتی ایجنسی  کی ایک ٹیم تشکیل دی، بالخصوص اس بات کا کھوج لگانے کے لیے کہ اس حملے کے پیچھے کوئی تنظیم یا بین الاقوامی روابط تھے یا نہیں۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے اختر اور غوث کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا ہوا ہے۔

اگر ہم دہشت گردی کی تعریف تشدد کے مظاہر سے کریں، خواہ وہ ریاستی عناصر کی جانب سے ہوں یا غیر ریاستی عناصر کی طرف سے، اور جن میں سیاسی محرکات بھی شامل ہوں، اور جن کا ہدف نہ صرف کوئی ایک آدھ فرد ہو بلکہ بڑی برادری اس کا ہدف ہو، تو پھر کنہیا لال کے قتل کو دہشت گردانہ کاروائی قرار دیا جاسکتا ہے۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق اختر اور غوث صرف کنہیا لال کو قتل نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ اس عمل کو پھیلانا بھی چاہتے تھے۔

تاہم، بھارتی حکام ہندوتوا کے کارکنوں کی طرف سے کی جانے والی متشددانہ کاروائیوں سے نمٹنے کے لیے شاذ و نادر ہی ایسی ہی پھرتی اور کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، حالانکہ ہندوتوا کے کارکنان اس اہل بھی ہیں کہ ان پر دہشت گردی کا لیبل لگایا جائے۔ درحقیقت، بھارت میں ایسے قاتلوں پر بہت کم ہی دہشت گرد ہونے کا اطلاق کیا جاتا ہے۔

2014ء میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمانوں پر ہندوتوا کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مسلمانوں کے کتنے ہی گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں کو جلا دیا گیا یا مسمار کر دیا گیا۔ ہندو اقدار و ثقافت کے دفاع کے نام پر ہندوتوا تنظیموں نے سینکڑوں مسلمانوں کو ہراساں کیا، جلایا اور انہیں زدوکوب کیا، مثال کے طور پر، ’بھارتیہ گاؤ رکھشا دَل‘ (BGRD) جو ہندوتوا تنظیموں کے ارکان ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمانوں پر ان کے حملے گائے کے تحفظ کے لیے ہیں جو ہندوؤں کے لیے مقدس ہے۔

جب ہندوتوا کے انتہا پسند جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو انصاف کے پہیے آہستہ چلنے لگتے ہیں

بھارتیہ گاؤ رکھشا دَل کے غنڈوں نے درجنوں مسلمانوں کو قتل کیا ہے، اختر اور غوث کی طرح، وہ بھی ان ہولناک قتل کی ویڈیوز ریکارڈ کر کے آن لائن پوسٹ کرتے ہیں۔ ان کی طرف سے کیے جانے والا تشدد اس نوعیت کا ہے کہ اس پر دہشت گردی کا اطلاق کیا جائے۔ لیکن ان قاتلوں کو ’’گاؤ رکھشک‘‘ کہا جاتا ہے نہ کہ ’’دہشت گرد‘‘۔ ان کے حملہ آوروں میں سے کسی پر بھی دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا گیا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ محض چند افراد کو گرفتار کیا گیا۔

مسلم انتہا پسندوں کے حملوں کے برعکس کہ جن میں مجرموں کو تیزی سے گرفتار کیا جاتا ہے اور ان پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں، جب ہندوتوا کے انتہا پسند جرائم میں ملوث ہوتے ہیں تو انصاف کے پہیے آہستہ چلنے لگتے ہیں۔ یہ ملزم آزاد گھومتے ہیں، بعض کو تو پارلیمنٹ کی نشستوں سے بھی نوازا جاتا ہے۔

’ابھینو بھارت‘ (Abhinav Bharat) ہندو دائیں بازو کے کارکنوں کا ایک گروہ ہے، جو 2007ء میں سمجھوتہ ایکسپریس اور مکہ مسجد پر دہشت گردانہ حملوں اور 2008ء میں مالیگاؤں دھماکوں میں ملوث تھا، یہ گروہ بھارت کی کالعدم دہشت گرد جماعتوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔ وزارت داخلہ کے تحت دہشت گرد نامزد کیے گئے 36 افراد کی فہرست میں بھی ایک بھی ہندو شامل نہیں ہے۔

کنہیا لال کے قتل سے ایک ہفتہ قبل مہاراشٹر کے علاقے امراوتی میں ایک دوا فروش امیش کولہے کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر اس کی وجہ بھی شرما کے ببانات کی حمایت میں کی جانے والی ایک پوسٹ تھی، جس پر سات افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ابھی بدھ کے روز پولیس نے ایک مولوی سید سلمان چشتی کو آن لائن ویڈیو پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا جس میں شرما کا سر قلم کرنے والے کو اپنا گھر اور دیگر جائیداد انعام کے طور پر پیش کرنے کی بات کی گئی تھی۔

آنے والے مہینوں میں بھارت کے اندر دہشت گردانہ تشدد میں اضافہ متوقع ہے۔ قانون کا غیر مساوی اطلاق اس لہر کو مزید تیز کرسکتا ہے۔

بشکریہ: دی ڈپلومیٹ، مترجم: شفیق منصور

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...