پاک ٹی ہاؤس میں ناول ’میرجان‘ کی تعارفی تقریب

انجمن ترقی پسند مصنفین مرکز پاکستان

136

تعارفی اجلاس 14 مئی 2022ء کو شام 6 بجے پاک ٹی ہاؤس، لاہور میں منعقد کیا گیا تھا۔ تعارفی تقریب معروف ادیب، دانشور، صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار محمد عامر رانا کے دوسرے ناول ’میرجان‘ پر کی گئی تھی جس کی صدارت ڈاکٹر ضیاءالحسن صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض زاہد حسین صاحب نے انجام دیے۔

ناول پہ اظہارخیال کرتے ہوئے عقیل اختر نے کہا کہ میرجان سے میرا پہلا تعارف اس کا پہلا باب پڑھنے سے ہوا جب وہ چھپنے کے لیے آیا تھا۔ مصنف نے جو علاقے چنے ہیں وہ سارے دریا کے کنارے واقع ہیں۔ ان کا پانی کے ساتھ تعلق بہت اہم ہے۔ اگر قاری ناول کے پہلے 25 صفحے پڑھ لے تو وہ پورا ناول پڑھنے پر مجبور ہوجائے گا۔ ان کے پہلے ناول ’سائے‘ میں کہانی ٹوٹتی ہوئی نظر آئی مگر اس ناول میں ایسا نہیں ہے۔ اِس ناول میں مختلف علاقوں کے لوگوں کے رویوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ناول بہت اعلی ہے، میں ان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

شفیق احمد خان نے کہا کہ میں نے محمد عامر رانا کی تمام تصانیف پڑھی ہیں۔ میں نے یہ ناول آدھا پڑھا ہے وہ بھی ایک نشست میں۔ مجھے اس میں جو چیز سب سے زیادہ پسند آئی ہے وہ اس کی تکنیک ہے۔ اس ناول کی تکنیک ان کے دوسرے ناولوں سے مختلف ہے، وہی اس ناول کی خوبی ہے۔ دوست دشمن والا حصہ مصنف کی پوری دسترس میں ہے۔ تمام کردار سماجی اور نفسیاتی لحاظ سے پورے اترتے ہیں۔ فلابیئر نے کہا تھا کہ ’مصنف کو خدا کی طرح ہونا چاہیے کہ وہ ناول میں نظر بھی نہ آئے لیکن پورے ناول میں موجود بھی ہو۔‘ پہلے ناول سے دوسرے ناول کو مختلف کردینا ہی مصنف کا کمال ہے۔

ڈاکٹر امجد طفیل نے کہا کہ میری عامر رانا سے دوستی 30 سال سے ہے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں اپنے آپ کو منوایا ہے۔ انہں نے تخلیق میں اپنی پہلی محبت کو یرقرار رکھا ہے اور وہ ان کے افسانے اور کہانیاں ہیں۔ ان کے پہلے ناول ’سائے‘ میں تفصیل بہت زیادہ تھی مگر اِس ناول میں مکان اور زمان کے دائرے موجود ہیں۔ ناول میبں ملتان اور بیٹی کا کردار مرکزی ہے۔ اس ناول کی تکنیک بہت عمدہ ہے۔ میرجان ایک علامتی نام ہے۔ اس طرح کا کردار دنیا میں کہیں نہ کہیں موجود ہوگا۔ میں ان کو مبارکباد دیتا ہوں۔

’اگر قاری ناول کے پہلے 25 صفحے پڑھ لے تو وہ پورا ناول پڑھنے پر مجبور ہوجائے گا‘

حبیب اکرم نے کہا کہ عامر رانا سے تعلق صدیوں پرانا ہے۔ جب میں نے یہ ناول پڑھا تو مجھے اس میں ساری چیزیں نظر آئیں جو ایک اچھے ناول میں ہونی چاہیئں۔ ناول میں فنی محاسن موجود ہیں۔ مدارس کی منظرنگاری بہت خوبصورتی سے کی گئی ہے۔ اس ناول میں حقیقت موجود ہے۔ میری زندگی ان کے تمام کرداروں کے ساتھ ملتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ناول صرف ادبی حوالے سے ہی نہیں بلکہ تاریخی حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔

گل نوخیز اختر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرجان ہجرت کے دکھ والی عورت ہے۔ اس ناول میں ہجرت کا دکھ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ایک عورت کی ہجرت کی کہانی جسے اپنا علاقہ چھوڑنے کا دکھ ہوتا ہے۔ ان کا ناول ’سائے‘ ہو یا ’میرجان‘ ان میں تکنیک اور زبان کمال کی ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ ہجرت پہلے سے زیادہ کرب ناک ہے۔ میری نظر میں یہ ناول ہی نہیں بلکہ ایک تاریخ ہےجسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

عامر رانا نے کہا کہ میں تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میری خوش قسمتی ہے کہ صدارت ضیاءالحسن صاحب کر رہے ہیں۔ میری حیثیت ایک قاری جیسی ہے۔ میں اس ناول پر بات نہیں کروں گا، جو کرنی تھی وہ میں نے ناول میں کردی ہے۔ ناول میں دو چیزیں ہیں: ایک چیز تالاب ہے، دریا ہے، سمندر ہے، ان کا آپس میں تعلق کیا ہے۔ دوسری بات تکنیک ہے۔ اب میں ان دونوں کو ملا کر تیسرا ناول لکھنا چاہتا ہوں۔

فیصل اعوان صاحب نے کہا کہ میں نے ناول سے ابھی 100 صفحات پڑھے ہیں۔ میرا ان سے تعارف ان کے پہلے ناول ’سائے‘ کی اشاعت کے بعد ہوا۔ عامر رانا بہت دلیر آدمی ہیں یہ چیز ناول میں بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ ناول میں زبان رواں ہے مگر ادارت کے لحاظ سے تھوڑی بہت خامیاں موجود ہیں اور املاء کی غلطیاں بھی ہیں، مگر کہانی بہت اچھی ہے۔ میں ان کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔

آخر میں صاحب صدر ڈاکٹر ضیاءالحسن صاحب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ فکشن کا یا ناول کا کوئی موضوع نہیں ہوتا۔ ناول کا ربط انسانیت کے ساتھ ہوتا ہے۔ ناول نہ نفسیات بیان کرتا ہے نہ سماج، یہ صرف انسانیت دریافت کرتا ہے۔ اور اس ناول میں انسانیت کا وجود موجود ہے۔ یہ ناول آسان نہیں تھا۔ یہ معجزاتی طور پہ ان سے لکھا گیا ہے۔ اس ناول میں تمام نسلیں بیان کردی گئی ہیں۔ پہلے باب سے آخری باب تک مصنف نے مرکز چھپا کر رکھا۔ سب کردار میرجان سے منسلک ہیں۔ جو تحریریں جلدی سمجھ آتی ہیں وہ عام ہوتی ہیں اور وہ جلد ختم ہوجاتی ہیں، اور جو تحریریں مشکل ہوتی ہیں وہ دیرپا رہتی ہیں۔ اس ناول کے 120 صفحات میں کرداروں کا جہان آباد ہے اور ان سب کا تعلق ایک دوسرے سے جڑا نظر آرہا ہوتا ہے۔ یہ اس ناول کی بڑی خوبی ہے۔ اس میں پوری تاریخ بیان کردی گئی ہے۔ یہ اس ناول کا کمال ہے۔ ناول نگار نے ہمیں میرجان سے متعارف کرایا ہے۔ میرجان ہم سب میں بستی ہے۔ ہمارے اندر بھی اور باہر بھی۔ مصنف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

آخر میں نوجوان شاعر زین عباس کے انتقال پر تعزیت کی گئی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...