جدید قطر: تاسیس سے ترقی تک کا سفر

437

سیاحت اور نرم سفارت کاری (Soft Diplomacy) میں تیزی سے بڑا نام بنانے والے ننھے سے ملک قطر کا شمار دنیا کے امیرترین اور پرامن ممالک میں ہوتا ہے۔ خلیج فارس کے دامن میں واقع 11586 مربع کلومیٹر رقبے کو محیط یہ جزیرہ نما تین اطراف سے پانی میں گھرا ہوا ہے جبکہ جنوب کی طرف سے اس کی زمینی سرحدیں سعودی عرب سے جا ملتی ہیں۔ اس طرح اس کا سمندری ساحل 563 کلومیٹر جبکہ زمینی بارڈر 87 کلومیٹر ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں قطر کی وجہ تسمیہ یہ ذکر کی گئی ہے کہ یہاں بارش بہت زیادہ ہوتی تھی، ممکن ہے ماضی میں کثرت سے بارشیں ہوتی رہی ہوں لیکن اب ایسا نہیں ہے، سال کے بارہ مہینوں میں شاید بارہ دن بھی یہاں بارش نہیں ہوتی۔

2017ء کی مردم شماری کے مطابق قطر کی کل آبادی 2314307(اب تقریبا 25 لاکھ) ہے جس میں مقامی آبادی کا تناسب 11.6 فیصد ہے۔ باقی 88.4فیصد میں اکثریت ایشیائی باشندوں کی ہے جن میں ہندستانی، پاکستانی، بنگالی، نیپالی، سری لنکن اور فلپائنی شامل ہیں۔عرب قومیتوں میں سے مصری اور فلسطینی سرفہرست ہیں جبکہ چیدہ چیدہ یورپی بھی یہاں آباد ہیں۔ اس طرح آبادی کے لحاظ سے قطر 143ویں نمبر پر آتا ہے۔ یہاں کی قومی زبان عربی ہے جبکہ بڑے پیمانے پر انگریزی زبان بھی متداول ہے، علاوہ ازیں عوامی سطح پر سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اردو یا ہندی ہے۔

قطر کے جھنڈے کا رنگ عنابی اور سفید ہے، بیچ میں 9 تکون کنگرے ہیں جو 9 خلیجی ریاستوں کی طرف مشیر ہیں جن میں سے سات متحدہ عرب امارات کا حصہ بن گئی ہیں جبکہ آٹھویں ریاست نے بحرین کے نام سے الگ تشخص حاصل کیا، بحرین کی طرح قطر نے بھی متحدہ عرب امارات کا حصہ بننے کی بجائے الگ مملکت قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے خلیجی ریاستوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ بحرین اور قطر کے جھنڈوں میں بھی کافی مماثلت پائی جاتی ہے، بلکہ دیکھنے میں ایک ہی جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو بحرینی جھنڈے کا رنگ میرون کی بجائے سرخ ہے، اسی طرح اس میں 9 کی بجائے 5 تکون کنگرے ہیں جو اسلام کےپانچ ارکان کی طرف مشیر ہیں۔

قطر کی تاریخ پانچ ہزار سال کے عرصہ کو محیط ہے، اس سرزمین پر سب سے پہلے کنعانی قبائل آباد ہوئے جن کا پیشہ کشتی بانی اور بحری تجارت تھا۔ بحرین اور قطر کو تاریخ میں ایک ہی خطہ قرار دیا جاتا رہا ہے جسے احساء یا بلاد بحرین کہا جاتا تھا۔ یہ خطہ مختلف سلطنتوں کے زیرنگیں رہا۔

ساتویں صدی عیسوی میں جب نبی اکرمﷺ نے سلاطین کو دعوتی خطوط ارسال فرمائے تو اس وقت قطر اور بحرین کا حاکم منذر بن ساوی تمیمی تھا۔ منذر بن ساوی کی طرف آنحضرت ﷺ نے علاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ کو 8 ہجری بمطابق 629ء میں قاصد بنا کر بھیجا جس کی دعوت پر حاکم قطر نے اسلام قبول کر لیا اس طرح یہ خطہ حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔آپ ﷺ نے منذر بن ساوی کو وہاں کا امیر برقرار رکھا اور علاء بن الحضرمی بھی قاضی و معلم کی حیثیت سے وہیں مقیم ہو گئے۔ نبی اکرمﷺ کی رحلت کے بعد جب ارتداد کا فتنہ پھیلا تو قطر و بحرین میں بھی ایک بڑی تعداد اسلام سے پھر گئی، چنانچہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ابن الحضرمی کو بحرین کا گورنر بنا کر بھیجا، ابھی آپ جواثی بستی میں پہنچے تھے کہ مرتدین نے آپ کا محاصرہ کر لیا، چند دن جواثی قلعہ میں محصور رہنے کے بعد ایک رات موقع پا کر آپ نے محاصرین پر حملہ کر دیا اور شدید لڑائی کے بعد بحرین کو فتح کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

قطر کی تاریخ پانچ ہزار سال کے عرصہ کو محیط ہے، اس سرزمین پر سب سے پہلے کنعانی قبائل آباد ہوئے جن کا پیشہ کشتی بانی اور بحری تجارت تھا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قطر مسلمانوں کا عسکری اڈہ بن گیا تھا جہاں سے فارسی سلطنت پر چڑھائی کے لیے لشکر روانہ ہوا تھا۔جزیرہ عرب کے باشندے تجارت کی غرض سے تو سمندری سفر کرتے رہتے تھے لیکن جنگ و قتال کے لیے کبھی بحری بیڑے استعمال نہیں ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت علاء بن الحضرمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اجازت کے بغیر جہاد کی غرض سے پہلےبحری بیڑے کی قیادت کی۔حضرت عمر جنگی مقاصد کے لیے سمندری راستے کے استعمال کو فوج کے لیے خطرناک سمجھتے تھے اس لیے اجازت نہیں دیتے تھے چنانچہ جب آپ کو اس واقعے کی خبر ملی تو سخت ناراض ہوئے۔ مورخین کے مطابق یہ پہلا بحری بیڑہ قطر سے ہی روانہ ہوا تھا کیونکہ فارسی سلطنت کے قریب ترین مسلمانوں کا یہی عسکری اڈہ تھا، اور فارسیوں کے خلاف جنگ میں اسلامی لشکر کویہیں سے کمک بھیجی جاتی تھی۔اسی بنا پر المقریزی نے “المواعظ والاعتبار بذکر الخطط والآثار” میں اسلامی فتوحات میں قطر کے کردار کو کلیدی اور تاریخی قرار دیا ہے۔

خلیفہ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں جب خارجیوں کی سیاسی شورش بپا ہوئی تو قطر بھی اس سے متاثر ہوا۔حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور میں نجدہ بن عامر حروری خارجیوں کا سرغنہ بن کر نمودار ہوا اور خود کو امیر المومنین کہلانے لگا۔ جزیرہ عرب میں اس کے لوگ پھیل گئے۔قطر میں قطری بن فجاءہ کے نام سے خارجی تحریک کا سرکردہ ظاہر ہوا جس نے خلافت راشدہ کے بعد بنوامیہ کے دور میں 13سال شورش بپا کیے رکھی اور بنو امیہ کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔

خلفائے راشدین کے عہد کے بعد یہ خطہ 45 ہجری میں بنو امیہ اور پھر دوسری صدی ہجری میں (750ء سے 1258ء تک ) بنو عباس کے زیرتصرف رہا۔جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ان ادوار میں یہاں حفاظتی قلعے بنائے گئے۔ چنانچہ آثار قدیمہ کے فرانسیسی وفد کو مروب کے مقام پر قلعے کےکچھ آثار ملے ہیں جن کے بارے میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ عباسی دور میں بنایا گیا تھا۔ یاقوت الحموی کے مطابق اموی دور میں یہ خطہ صنعت و حرفت کامرکز رہا، جاہلی دور میں ہاتھوں سے بنے مٹی کے برتن تو آج بھی قطر کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہیں۔ عباسی دور میں صنعت و حرفت میں ترقی کے ساتھ ساتھ یہ خطہ تجارتی مرکز بھی بن گیا جہاں مختلف انواع کے قطری موتیوں کی خرید وفروخت کے لیے اطراف سے لوگ آیا کرتے تھے۔

عباسیوں کے بعد 922ہجری میں پرتگالی یہاں قابض ہو گئے تھے یہاں تک کہ 943 ہجری بمطابق 1555ء میں سلطان سلیمان قانونی نے اسے پرتگالیوں کے چنگل سے آزاد کروایا۔ابھی ایک صدی ہی گزری تھی کہ عثمانی طاقت یہاں کمزور پڑنا شروع ہو گئی، اس دوران قطر اور بحرین کے علاقوں میں مختلف خلیجی قبائل (جلاہمہ اور آل خلیفہ) کے درمیان اقتدار حاصل کرنے کی کشمکش رہی۔ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 1669ء میں بنو خالد نے اس خطے پر اپنی عملداری قائم کر لی۔

اسی طرح برطانیہ بھی اپنا تسلط قائم کرنے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے کوششیں کرتا رہا۔ چنانچہ 1821ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی ایک کشتی کی جانب سے حملے کے نتیجے میں حالات خراب ہوئے اور 1867ء تک اسی طرح کی صورتحال رہی۔ پھر بحرین نے دوحہ اور وکرہ پر حملہ کر دیا۔ ایسے میں قطر کے دفاع کے لیے جاسم بن محمد آل ثانی نامی ایک نوجوان سامنے آیا اور اپنی مدبرانہ قیادت کی بدولت قبائل کو متحد کرنے اور قطر کو بحرین سے الگ کر کے ایک مستقل پہچان دینے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ نوجوان قطر کی تاریخ میں اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قطر کو الگ اور مستقل شناخت دینے والا یہ نوجوان جاسم بن محمد آل ثانی کون تھا؟ اور جدید قطر کی تاسیس میں اس نے کس طرح کردار ادا کیا؟ یہ ایک دلچسپ داستان ہے جسے اگلی نشست کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...