داعش اور ٹی ٹی پی کا معاملہ کیسے حل ہوگا؟

333

افغانستان میں جب صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت قائم تھی تو اس وقت وہاں سکیورٹی سب سے سنگین مسئلہ تھا، روزانہ کابل اور اردگرد کے صوبوں میں بم دھماکے اور بڑے بڑے حملے ہوا کرتے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں سرحد کے اِس پار پاکستان میں امن و امان کی صورت حال قدرے بہتر سمجھی جاتی تھی۔ تاہم کابل میں امارت اسلامی کی حکومت قائم ہو جانے کے بعد اب حالات اچانک سے تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ کابل اور آس پاس کے صوبوں میں سکیورٹی میں بہتری آرہی ہے لیکن اس کے برعکس ڈیورنڈ لائن کے اِس طرف امن و امان کا معاملہ غیر متوقع طورپر روزبروز سنگین اور پیچیدہ بنتا جارہا ہے۔

پاکستان میں پہلے صرف کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور کچھ دیگر تنظیموں کو سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب کچھ عرصے سے دولت اسلامیہ یا داعش بھی اس فہرست میں شامل کردی گئی ہے۔ آجکل تو ملک میں شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہوگا جب ٹی ٹی پی یا داعش کی طرف سے سکیورٹی اہلکاروں یا عام شہریوں کو نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔ اگرچہ ان حملوں کی شدت زیادہ نہیں ہے لیکن اگر یہ سلسلہ اس طرح بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتا ہے تو پھر آنے والے دنوں میں اس کا دائرہ وسیع گا جس سے سکیورٹی کے سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

پشاور میں امامیہ مسجد پر ہونے والے خودکش حملے نے ایک مرتبہ پھر سے شہر میں خوف کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ آرمی پبلک سکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پشاور شہر میں یہ اپنی نوعیت کا بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش کی طرف سے قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے لے کر آج تک ان گزرے سات سالوں میں کبھی داعش پر پاکستان میں کھل کر بات نہیں کی گئی بلکہ پاکستان میں ابتداء ہی سے ایک بیانیہ تشکیل دیا گیا تھا کہ داعش کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی ہے اور یہ کہ اس تنظیم کا یہاں کوئی وجود ہی نہیں۔ لیکن افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوجانے کے بعد اب یہاں حکمرانوں کی جانب سے اچانک اس بات پر شدت سے زور دیا جانے لگا ہے کہ داعش ٹی ٹی پی سے بڑا خطرہ ہے۔

شاید عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ داعش کے وجود پر کسی بڑے فورم پر بات کی۔ انہوں نے گزشتہ سال دسمبر میں اسلام آباد میں او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان سے دولت اسلامیہ کے جنگجو یہاں آرہے ہیں اور پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔ اس بیان پر افغانستان کے کچھ سیاسی رہنماؤں کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا۔ سابق صدر حامد کرزئی نے عمران خان کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الٹا پاکستان پر داعش جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا۔ تاہم طالبان حکومت کی طرف سے اس ضمن میں محتاط انداز میں تبصرہ کیا گیا۔

اس سے پہلے کبھی پاکستان میں داعش پر اس طرح کھل کر بات نہیں کی گئی بلکہ حکمران تو دولت اسلامیہ کے وجود ہی سے انکاری رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور حکومت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ جب کوئی ان سے داعش کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں پوچھتا تو وہ تنظیم کے وجود سے یکسر انکار ہی کردیا کرتے تھے۔

دولت اسلامیہ کا مقامی سطح پہ ظہور سب سے پہلے 2015ء میں افغان سرزمین پر ہوا تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تنظیم کا ابتدائی ڈھانچہ اورکزئی ضلع کے وادی تیراہ میں تیار کیا گیا تھا۔ لیکن تنظیم کا باقاعدہ اعلان افغان سرزمین سے کیا گیا جب ٹی ٹی پی سے منحرف ہونے والے ایک اہم کمانڈر حافظ سعید خان کو داعش خراسان کا گورنر مقرر کیا گیا۔ دولت اسلامیہ بنیادی طورپر مشرقِ وسطی سے آئی ہوئی عسکری تنظیم ہے جس کا وجود بھی وہاں متشکل ہوا۔ سلفی نظریات پر یقین رکھنے والی اس تنظیم کو پاکستان یا افغانستان میں اس طرح کی مقامی حمایت حاصل نہیں جس طرح دیگر عسکری تنظیموں کو حاصل ہے۔ تاہم اس کے باوجود تنظیم کی طرف سے حالیہ دنوں میں افغانستان میں بڑے بڑے حملے کیے گئے جس میں کابل ایئرپورٹ اور اہل تشیع کی امام بارگاہوں پر ہونے والے خودکش حملے قابل ذکر ہیں جن میں سینکڑوں افراد مارے گئے۔ ٹی ٹی پی کے بطن سے جنم لینے والی اس تنظیم نے افغانستان کے ساتھ ساتھ اب پاکستان میں بھی شدید خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دولت اسلامیہ نے خراسان کے ساتھ ساتھ حالیہ دنوں میں ’ولایہ پاکستان‘ کے نام سے بھی الگ شاخ قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے اور ان کے پراپیگنڈہ مواد میں ان علاقوں کے نام بھی بتائے گئے ہیں ’جو ولایہ پاکستان‘ میں شامل دکھائے گئے ہیں۔

مذاکرات کے عمل میں دونوں طرف سے کچھ مطالبات یا خواہشات ایسی ہیں جنہیں کچھ لوگ غیر حقیقی بھی قرار دے رہے ہیں

دوسری طرف کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے معاملے میں تاحال کسی نئی پیش رفت کی اطلاعات نہیں ہیں۔

گزشتہ سال دسمبر میں ایک مہینہ کی عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ٹی ٹی پی نے ایک مرتبہ پھر سے پاکستان بھر میں اپنے حملوں میں تیزی لائی تھی۔ امارت اسلامی کی طرف سے افغانستان پر قبضے کے بعد یہاں ایک سوچ تھی کہ اب شاید پاکستانی طالبان کے ساتھ تمام تر معاملات باآسانی حل ہو جائیں گے لیکن بظاہر یہ قضیہ الٹا ہی پڑگیا ہے۔ افغانستان میں اب نہ تو انڈیا رہا، این ڈی ایس ہے اور نہ انڈین خفیہ ادارہ ’را‘ کی موجودگی پائی جاتی ہے لیکن حیران کن طورپر جب یہ تمام پاکستان مخالف ادارے اور حکومت وہاں موجود تھی تب بھی یہاں اتنی تیزی سے حملے نہیں ہوتے تھے جتنے اب طالبان کے موجودگی میں ہورہے ہیں جس نے حکمرانوں سمیت سب کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ قریباً چھ ماہ کے دوران ٹی ٹی پی نے پاکستان میں دو سو کے لگ بھگ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جو ایک لحاظ سے بڑی تعداد سمجھی جارہی ہے۔ ان حملوں میں سو سے زیادہ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعوی بھی کیا جارہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر امارت اسلامی کی موجودگی میں ٹی ٹی پی کا معاملہ حل کی جانب نہیں بڑھ رہا تو پھر اس کا انجام کیا ہونے والا ہے؟ کیا آنے والے دنوں میں یہ قضیہ مزید سنگین شکل تو اختیار نہیں کرے گا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا فی الحال کسی کے پاس جواب نہیں۔ حالیہ دنوں میں پھر سے ٹی ٹی پی سے رابطوں کی خبریں سامنے آئی ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ دو قبائلی جرگوں نے افغان طالبان کی کوششوں سے افغانستان میں ٹی ٹی پی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ اس دوران ٹی ٹی پی کے چند قیدیوں کو بھی رہا کیا گیا ہے۔ مذاکرات پہلے بھی ہوئے جس کے نتیجے میں کامیاب جنگ بندی بھی ہوئی جبکہ رابطوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فریقین اپنے اپنے موقف میں نرمی لائیں گے یا بدستور اپنے اپنے مطالبات سے چمٹے رہیں گے؟

اگر فریقین اپنے اپنے موقف میں نرمی نہیں لاتے پھر تو موجودہ حالات میں اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آرہا بلکہ زمینی حالات کے تناظر میں مسائل پاکستان کے ہی بڑھنے کا امکان ہے۔ ٹی ٹی پی افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے سے مزید مضبوط ہوگئی ہے۔ لگ بھگ گیارہ کےقریب منحرف دھڑے کالعدم تنظیم کا دوبارہ سے حصہ بنے ہیں جس سے ان کی افرادی قوت بھی بڑھ گئی ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے ہاتھ امریکی اور نیٹو فورسز کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ بھی لگا ہے جس میں لیزر گنز کا نام بھی لیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے دور میں ٹی ٹی پی کے جنگجو باہر گھومنے پھرنے میں احتیاط سے کام لیا کرتے تھے لیکن اب تو افغانستان میں ان کی اپنی حکومت ہے، وہ کہیں بھی بلا کسی خوف وخطر یا رکاوٹ آجاسکتے ہیں، ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔ افغان طالبان نے کبھی ٹی ٹی پی کو پاکستان میں حملے کرنے سے روکا ہے اور نہ آئندہ کبھی روکیں گے بلکہ  ممکنہ طور پہ ان کے حملے سرحد پار سے یا یہاں پاکستان کے اندر سے اسی طرح جاری رہیں گے۔

مذاکرات ہی اس معاملے کا واحد حل ہے لیکن اس کے لیے سب سے پہلے حقیقی اعتماد کی فضا بحال کرنا ہوگی۔ عام طورپر جب مذاکرات کا پہلہ مرحلہ ناکام ہوتا ہے تو پھر دوبارہ اعتماد سازی کے واسطے غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ دونوں طرف سے کچھ مطالبات یا خواہشات ایسی ہیں جنہیں کچھ لوگ غیر حقیقی بھی قرار دے رہے ہیں لہٰذا فریقین کو اپنے اپنے مؤقف اور مطالبات میں نرمی لانا ہوگی۔ اگر فریقین ’میں ناں مانوں‘ کی پالیسی پر قائم رہتے ہیں تو پھر کامیابی کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔ امن کے مواقع بھی ہر وقت میسر نہیں ہوتے بلکہ یہ ایک خاص وقت ہوتا ہے جس سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے اور اسی میں سب کا بھلا بھی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...