شہروں میں آبادی کا ارتکاز

586

ہمارے دوستوں میں ایک بہت ہی اچھے دوست جن کے تعارف میں روایتی طور پر یہ کہا جائے کہ وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں اور فکشن  میں آج کل بڑا نام کماچکے ہیں، شاید کافی نہ ہو لیکن وہ ہیں اختر رضا سلیمی جو ایک حساس دل رکھنے والے انسان اور مہربان دوست  ہیں۔ اپنے گہرے مشاہدے اور مطالعہ کی وجہ سے ہمیں بہت عزیز ہیں۔ اسلام آباد آنا ہو تو کوشش ہوتی ہے کی ان کی دوستانہ صحبت کا ناغہ نہ ہو، ابھی ان کا تازہ ترین ناول “جندر “چھپ چکا ہے۔  ناول اگرچہ ضخیم نہیں لیکن جوں جوں آپ اسے پڑھتے جائیں گے تو لگے گا کہ معنوی اعتبار سے اس کا حجم اور اس کی ضخامت بہت ہی بڑی ہے۔” جندر” (چکی) ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو ایک گاؤں میں رہتا ہے اور اس کے اردگرد کا ماحول تبدیل ہوتا جاتا ہے۔جہاں اس کا گاؤں تبدیل ہوتا ہے وہیں اس کے خاندان ، دوست اور رشتہ دار بھی تبدیل ہورہے ہیں۔ گاؤں میں معاشرتی اقدار اور آپسی میل ملاپ کے طور طریقے، وہاں کی ثقافت آن کی آن میں تغیر و تبدل کی چکی میں پستی ہوئی نظر آتی ہے۔ باہر کی فضا اور اندر کی کیفیات میں شدید ٹکراؤ کو ناول کا یہ کردار کس طرح سے سہتا ہے ،قاری اس کو محسوس کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔یہ نہیں کہ کہانی کا کردار بہت زیادہ رجعتی ہے، نہیں ناول پڑھتے ہوئے کردار میں ارتجاع نظر نہیں آتا ۔ناول کا کردار جس شدت سے  اس سارے عمل میں پس رہا ہوتا ہے وہ اس کے لیے ناقابل برداشت ہے۔یہی اس کردار کا المیہ ہے، جہاں ایک ایک کرکے سب اسے چھوڑ رہے ہیں ، حتیٰ کہ  بیوی بچے ، رشتہ دار اور گندم پسوانے والے لوگ تک ماسوائے خالی چلتی ہوئی چکی کی آواز جو اس بھری دنیا میں اس کا واحد مونس و غمخوار ہے۔

اختر رضا سلیمی کے ناول کو پڑھتے ہوئے دیہاتوں سے شہروں کی طرف آبادی کے بہاؤ پر سوچنے کا مزید موقع ملا تو چند گزارشات پیش خدمت ہیں کہ اس زبوں حال دور میں جہاں شہری آبادی میں سیکورٹی بھی ایک کاروبارہے اور پانی کے ٹینکر روزانہ کی زندگیوں کا حصہ ، پٹرول کی قیمتیں موضوع ،قابل اور اچھا ڈاکٹر کے بارے میں جاننا لازم،بے ہنگم ٹریفک سے اپنے اپنے گھروں میں آنا کہ وہاں ہر ایک کے ہاتھ میں سمارٹ فون اور دیوار پر چل رہے نامعلوم ٹی وی پروگرام، بے سمت اور بے مرام زندگیوں والے شہروں کے المیے جہاں زیادہ سے زیادہ کی ہوس اور لالچ میں یہ بھول جانا کہ زندگی میں مسرت نام کی بھی کوئی چیز ہوتی تھی۔نقل مکانی ، ہجرت یا جلاوطنی کے پیچھے جبر و اختیار کی قوت کو رد نہیں کیا جاسکتا۔دنیا خود ایک بڑی بحرانی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ جنگوں اور بے امنی کے پیچھے جن جن قوتوں کا ہاتھ ہے وہ تو سب کو پتہ ہے ،وہیں ان جنگوں اور بحرانوں سے پیدا شدہ مسائل سے روبرو انسان دربدر کی ٹھوکریں کھانے کی صعوبتیں برداشت کررہا ہے۔ہجرت سب سے بڑا دکھ ہے تو وہیں یہ تاریخ کاایک ایسا جبر ہے کہ جس سے انسان کو مفر نہیں ۔ ہجرت کا اپنا ایک تقدس بھی ہے اور اس کی ایک رومانویت بھی۔

فارسی کا ایک شعر ہے کہ
دو چیز آدمی را کشد زور زور
یکی آب و دانہ دگر خاک گور

مفہوم کچھ اس طرح سے بنتا ہے کہ دو چیزیں ہیں جو آدمی کو زور زور سے اپنی جانب کھینچتی ہیں، ایک آب و دانہ یعنی رزق روزی جہاں لگی ہوانسان وہاں کھنچا چلا جاتا ہے تو دوسری چیز ہے قبر کی مٹی۔ یہ ایک ایسے دور کا شعر ہے جب بہت ساری جدید اصطلاحات وضع نہیں کی گئی تھیں اور نہ ہر معاملہ پر تشویش پائی جاتی تھی ۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ ہر ایشو پر ایک کیس اسٹڈی اور امپیکٹ اسٹڈی فرض ہوجاتی ہے۔ اگر دنیا میں یہ باتیں پہلے سے ہوتی تو شاید نتائج بہت مختلف ہوتے اور دنیا کے خد وخال قطعی ایسے نہ ہوتے۔اس بات کا مقصد ہرگز یہ  نہیں کہ پرانے وقتوں کے لوگوں نے کچھ سوچا ہی نہیں ہوگا۔بس وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔
بات ہورہی تھی آدمی کے آب و دانے کی، کہ یہ کسی انسان کو کہاں کہاں کھینچتا پھرتا ہے۔ ایسا شخص جس نے ترک وطن کیا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا ہوگا کہ وہ ایک وقت میں کدھر تھا تو اگلے لمحے کہیں اور زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہا ہوگا؟ دراصل یہ زمین تمام انسانیت کی ملکیت ہے۔ کوئی جہاں چاہے رہے ، بسے، ہنسے روئے یہ سب اس کا حق ہے۔زندگی کہاں لے کے جائے یہ آپ جا کر کسی بھی دور پردیس میں جا بسے شناساؤں سے پوچھ لیں۔ وہاں خوش ہے یا اداس ہے یہ جداگانہ مسئلہ ہے ۔ بیشتر کا جواب یہ ہے کہ ایک خواب کی طرح اڑ کر اپنوں سے جدا ہوکر غیروں میں جا بسا ہوگا اور وہیں انہی کو اپنا سب کچھ بنا لیالیکن یہ سب باتیں احساسات والی ہیں حقیقت میں اس نقل مکانی کے پیچھے ٹھوس عوامل ہوتے ہیں۔ کوئی خواہ مخواہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتا۔ پاکستان سے جہاں لاکھوں ہزاروں لوگ ترک وطن کرکے دور دیسوں میں جا آباد ہوتے آرہے ،وہیں اندرون ملک ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی بھی سامنے نظر آرہی ہے۔ اس آبادی کے انخلا ء اور انتقال میں معاشی عوامل سرفہرست ہیں البتہ دیگر چھوٹے موٹے سارے اسباب و عوامل سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جاسکتی۔جن میں دہشت گردی اور بے امنی جیسی وجوہات بھی نظر آتی ہیں۔

پاکستان میں دیہاتوں سے شہروں کی طرف آبادی کا ارتکاز ایک ایسا ایشو ہے جس کی جانب سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق دوہزار پچیس تک پاکستان کی نصف دیہی آبادی شہروں میں منتقل ہوچکی ہوگی۔ جہاں شہری آبادیوں میں انفراسٹرکچر اور وسائل کی ترسیل ٹھیک نہیں ہوگی تو ہوگا یہ کہ شہروں پر جو بوجھ پڑے گا اس کے اجتماعی سطح پر اثرات بڑے خطرناک اور ناقابل برداشت ہوں  گے۔اس بے دریغ اور بے منصوبہ انتقال میں شعوری ارادے سے زیادہ اندیشوں اور عدم تحفظ کا احساس زیادہ جھلکتا ہے۔ اگر سال میں ہزاروں لوگ اسی طرح سے منتقل ہوتے رہیں گے تو ایک تو آبادی کا توازن یکسر بدل جائے گا تو دوسری طرف ان میں سے بے شمار لوگ ایسے ہونگے، جو اپنی نئی جگہ میں آباد تو ہونگے لیکن وہاں باقاعدہ رجسٹرڈنہیں ہونگے۔ ہوگا یہ کہ وسائل دیگر شہریوں کی طرح استعمال کریں گے جیسا کہ روزگار، خوارک، سڑکیں ،پانی ، بجلی،پٹرول، مکان، ڈاکٹر ، ہسپتال ،تھانہ کچہری، مسجد، گرجا اور ایسے تمام وسائل خواہ وہ سرکاری ہوں یا ذاتی سبھی میں وہ ایک فعال صارف کے طور پر شریک ہونگے لیکن چوں کہ ان کا اندراج باقاعدہ کہیں نہیں ہوگا تو منصوبہ بندی میں ہمیشہ غلطیاں ہوتی رہیں گی اور معاشرے میں تناؤ اور کشمکش کی فضا موجود رہے گی۔معاشی اور اقتصادی منصوبہ بندی کے بغیر نہ وسائل کی تقسیم ہوسکتی ہے نہ ان سے جڑے دیگر معاملات میں انصاف کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔ریگولیشن یا ریگولیٹری انتظام و انصرام کے بغیر ایسا ممکن نہیں ۔جب ایسا نہ ہوگا تو لا محالہ اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔

پاکستان جسے ایک زرعی ملک کہا جاتا ہے حکومت کو چاہیئے کہ اس طرح سے دیہی آبادی کا شہروں کی جانب جھکاؤ پر انسانی ہمدردی کی بنیادپر ماہرین کی خدمات لے کر اقدامات کرے اور ٹھوس  مگر حقیقت پر مبنی پالیسیاں وضع کرے۔اب بھی وقت ہے کہ اس پر قابل عمل منصوبہ بندی کی جائے ورنہ محض ود دہائیوں بعد یہ مسئلہ قابو سے باہر ہوجائے گا۔

 

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...