پانی ، آگ اور حکایات

فیصلے میں آیا پانی پر جھگڑا ہوا ، گواہوں نے ہر ایک سے بڑھ چڑھ کر گواہی دی تاآنکہ کیس مشکوک ہوگیا۔ فیصلہ پسند نہیں آیا اور پانی کا کیس ملک بھر میں آگ لگا گیا۔لوٹ مار ہوئی، املاک، گاڑیاں جلائی گئیں اور وحشت کا راج شروع ہوا۔ مرنے مارنے کے لیے…

دفعہ ایک سو چوالیس، موبائل فون اور جنازہ و نکاح

کسی بھی جگہ جہاں دفعہ ایک سو چوالیس کا اطلاق ہوتا ہے وہاں چار یا چار سے زیادہ افراد بلاتخصیص جنس و عمر موبائل فون میں مصروف نظر آتے ہیں اور اردگرد سے بے خبر رہتے ہیں جو بظاہر دنیا سے آگاہی اورملک میں آئی ہوئی تبدیلی کی خبروں کا شوق فرما رہے…

بچے اور انصاف

کیا وحشت ہے؟ ہر روز ایک خبر نکل آتی ہے، سات مہینے کے بچے سے بھی زیادتی ہوتی ہے تواسی میں ستر سال کا بوڑھا بھی اپنی شرمناک حرکت کی وجہ سے پکڑا جارہا ہے۔ سوال یہ  ہےکہ ہمارے معاشرے میں یہ وبا پھیلی کیسے؟ گلی گلی مورال پولیسنگ کرتے لوگ ہیں،…

شہروں میں آبادی کا ارتکاز

ہمارے دوستوں میں ایک بہت ہی اچھے دوست جن کے تعارف میں روایتی طور پر یہ کہا جائے کہ وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں اور فکشن  میں آج کل بڑا نام کماچکے ہیں، شاید کافی نہ ہو لیکن وہ ہیں اختر رضا سلیمی جو ایک حساس دل رکھنے والے انسان اور مہربان دوست…

عالمی اردو کانفرنس

زندگی تجربات سے بھرپور ہی رہتی ہے۔ سب سے اچھا تجربہ دانشمندوں اور محبت کرنے والے انسانوں کا ساتھ ہے ۔ جہاں آپ اپنے خیالات ، تصورات اور سوچ کو پوری دیانت اور آزادی کے ساتھ بیان کرسکیں۔ ایک ایسے وقت میں جہاں مصائب اور یاسیت نے ہمیں اپنے حصار…

سافٹ امیج ، انکار کی نفسیات اور حقیقت

ہمارا اختیار صرف اتنا ہے کہ ایک وقت میں کھڑے کھڑے ایک پیر اٹھا سکتے ہیں اور دوسرا نہیں، جبر و اختیار کا یہ ایک قدیمی اصول ہے۔ اصول کے خلاف جائیں گے تو ذمہ داری اپنی ہوگی۔ہماری بہت ساری پالیسیوں کا قریب قریب یہی حال ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ…

فٹ پاتھ ، بادام اور قابل لوگ

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو فٹ پاتھ پریا بیچ سڑک میں روکا ہوگا اور حال چال پوچھ رہا ہوگا۔حال پوچھنا بڑی اچھی بات ہے اور اپنے اخلاق سے دوسروں کو متاثر کرنا ہرگز بری بات نہیں ہے البتہ اخلاق کا مظاہرہ وہاں کرنا چاہیے…

درخت ، قومی اثاثہ اور قوانین

کچھ سال پہلے لدھیانہ یونیورسٹی کے ایک سابق وائس چانسلر پروفیسر گروچن سنگھ اپنی جنم بھومی  فیصل آباد میں آئے تھے تو وہ اپنی درسگاہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد بھی گئے، تب یہ دیکھ کر حیران و پریشان ہو گئے کہ وہاں ان کی علمی درسگاہ میں قدیمی درخت…

ایک بے تکلف مکالمہ اور تاریخ کی دہرائی

کون کس کی زلف کے سر ہونے تک جیتا ہے اسے تو غالب مرحوم و مغفور نے یوں حل کیا کہ جب آپ کی آہ سحرہونے تک اثر کرپائے گی تب۔ یعنی یہ عمر عزیز اسی سڑک پر کسی لال بتی کی پیچھے دوڑتی بھاگتی پھرے گی۔ خیر جب آپ واپس آئیں گے تو پوچھیں گے چن مکھناں نے…

Virtual reality اور انفارمیشن کا دور

قلم برداشتہ لکھنے سے دل برداشتہ لکھنا کبھی کبھار بہتر اس لیے ہوتا ہے کہ بعض اوقات بار خاطر پر گراں گزرنا ازبس ضروری ہوجا تا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اس پیچیدہ دور میں جہاں آپ کو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ ملنے والی اگلی معلومات کیا ہوسکتی ہیں۔دھڑام…