اندھیر نگری، چوپٹ راج، جے مہاراج!

720

 

دیگر سرمایہ داروں کی طرح ٹیکسٹائل مل مالکان نے بھی اندھیر مچا رکھا ہے۔ مزدوروں کے خون پسینے کی محنت سے وہ جو بے محابہ سرمایہ کماتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی مزدوروں کو نہیں ملتا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو اس سرمایہ دار طبقے کو لگام ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ٹیکسٹائل ڈیزائن میں ہمیشہ اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ دانستگی یا نا دانستگی میں ڈیزائن کا پیٹرن کسی مقدس نام سے مماثلت اختیار نہ کر جائے۔ مقدسات کی خدا نخواستہ توہین اور بے حرمتی کا یہ خدشہ ایسا ہے جو غیرت مند مسلمانوں کے ملک مملکت خداداد پاکستان میں دولت کے پجاری سرمایہ داروں اور حلال  وحرام کی فکر نہ کرنے والی ان کی ملوں اور فیکٹریوں کا وجود عذاب بنا سکتا ہے۔ چنانچہ دین کا درد رکھنے والے کچھ خدا ترس لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اکثر مل مالکان کو قائل کر لیا ہے کہ وہ تمام ٹیکسٹائل ڈیزائنوں کی پرنٹنگ سے قبل علمائے کرام سے اس کی منظوری لیں کہ یہ ڈیزائن خدا نخواستہ کسی توہین کے زمرے میں تو نہیں آئیں گے۔

اس انتہائی ضروری کام کے لیے اگر ان کروڑوں اور اربوں کمانے والی ملوں کو چالیس پچاس لاکھ روپے خرچ کرنے پڑ جائیں تو اتنا مہنگا سودا نہیں۔ ان لوگوں کو بھی دنیا سے زیادہ اپنی عاقبت کی فکر کرنی چاہیے۔ آخر یہ علما نہ صرف اپنا قیمتی وقت نکال کر ذمہ داری سے شرعی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تجاویز  دیں گے بلکہ ان دیگر شر پسند عناصر کے سامنے ایک ڈھال بھی بنیں گے جو اس کے باوجود مذہب کی آڑ میں فتنے پر تلے ہوں۔ لیکن مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ کن علما سے یہ تصدیق حاصل کی جائے؟ ہر عالم کسی نہ کسی ایک مسلک کی نمائندگی کرتا ہے اور ضروری نہیں کہ تمام مسلمانوں کے لیے اس کی رائے قابل قبول ہو۔ اور پھر کساد بازاری اور افراتفری کے اس دور میں فطری طور پر اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کا ایک مقابلہ بلکہ ایک جنگ جاری ہے، ظاہر ہے مذہبی طبقہ بھی مقابلے کی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی مقصد صرف یہ سادہ سا مسئلہ فیسا غورث پیش کرنا تھا کہ بھائی اس ملک میں استحصال کرنے کا حق کیا صرف سرمایہ داروں کو ہی حاصل ہے؟

استحصال کرنے کا یہ حق ایسا ہے کہ جو باقی طبقات بھی حتی المقدور استعمال کر رہے ہیں۔ چلیے قصور میں ننھی اور معصوم زینب کے ہولناک اور لرزہ خیز قتل کی واردات کو ہی لے لیجیے۔ ہر آنکھ نم ہوئی، ہر کلیجہ شق ہوا، ہر دل تڑپا اور پھر اتنا شور مچا، اتنا احتجاج ہوا، اتنا ہنگامہ ہوا، میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ فوج، عدلیہ، حکومت سمیت ہر بڑے ادارے کی اعلیٰ قیادت کونوٹس لینا پڑا، تمام خفیہ ایجنسیاں اور پولیس، تمام مددگار لیبارٹیاں اور بیورو کریسی حرکت میں آئیں اور چودہ دن کی قلیل مدت میں قاتل کو پکڑ لیا۔ مگر یہ کیا، یہ تو ایک عام سا قاتل نکلا، یہ غریب، نکما، ساوْنڈ سسٹم کرایہ پر دینے والا، میلاد کی محفلوں میں نقابت کر کے پیسے اکٹھے کرنے والا ان پڑھ، سیریل کلر ہے؟

نہیں اس سے ہماری تسلی نہیں ہو سکتی۔ اتنی تو سنسنی پیدا ہوچکی تھی، اتنا تو ماحول بن چکا تھا اور پھر دو ہفتے کے اندر اندر قاتل پکڑا بھی تو ایسا؟ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا؟ کوئی بہت بڑا گینگ سامنے آنا چاہئے تھا، اس کے پچھے کوئی بین الاقوامی سازش نکلنی چاہیے تھی، کم از کم کوئی ایسے مجرم تو سامنے آتے، یا کم از کم ان کے ملوث ہونے کا پتہ ہی چلتا کہ دو چارہفتے تو ہمارے رونگٹے کھڑے رہتے۔ ہماری سنسنی پسند طبیعت ایک اتنے بڑے واقعے کے اتنے جلد اور اتنے سادہ سے حل سے مطمئن نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ جن لوگوں کو اس نتیجے سے مایوسی ہوئی وہ اپنے اعلیٰ تخیل کو کام میں لائے اور ڈیپ اور ڈارک  ویب کا استعمال کرنے والے کسی گھناونے بین الاقوامی گینگ یا مافیا سے اس کے ڈانڈے نکالنے لگے اور قاتل کے درجنوں مفروضہ اکاونٹ ڈھونڈ نکالے تاکہ کہانی میں کڑیاں ملائی جا سکیں۔ خوف کا کاروبار کرنا، سنسنی اور تھرل پیدا کرنا، افواہوں کی فیکٹریاں چلانا اور قوم کو مسلسل نفسیاتی بحران میں مبتلا رکھنا اتنا آسان تو نہیں۔  پھر ایک گھناونی سازش کا انکشاف کرنے میں جو لذت ہے وہ کسی چیز میں نہیں۔ جب لوگ یہ سودا دھڑا دھڑ خرید رہے ہوں تو بیچنے میں کیا حرج ہے؟ آج کی اخلاقیات یہ ہے کہ جس جھوٹ سے اپنا مفاد حاصل ہوتا ہو، چاہے پوری دنیا ہیجان کا شکار ہوجائے یا تباہ ہو جائے، اس سچ سے بہتر ہے جو روکھا پھیکا اور بےجان سا محسوس ہو!

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...