صنعتی فضلہ اور نکاسی کا آلودہ پانی کراچی کی سمندری حیات کے لیے تباہی کا باعث بن رہے ہیں

علی اوسط

102

کراچی کے ضلع کورنگی میں ماہی گیروں کی بستی ابراہیم حیدری کے قریب چشمہ گوٹھ کے رہائشی علاقوں میں موجود جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، کبھی نہ اٹھائے جانے والا کوڑا کرکٹ، اور بدبو یہاں کے مکینوں کی مشکلات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے غربت، تعلیم کی کمی اور بے روزگاری کے ساتھ جینا سیکھا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں انہیں غیرصاف شدہ گندے پانی کے مسئلے سے بھی نمٹنا پڑا – پاکستان کی  16کروڑ سے زیادہ آبادی والے سب سے بڑے شہر کا یہ گندا پانی اور یہاں کی صنعتوں کا فضلہ دونوں بحیرہ عرب میں گرنے سے پہلے انہی بستیوں سے گزرتے ہیں۔

’’کراچی کی ساحلی پٹی کے ساتھ رہنے والے لوگ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے زیادہ انسانوں کی پیدا کردہ آفات کا سامنا کر رہے ہیں،‘‘ مقامی فش پروسیسنگ فیکٹری کے ایک 36 سالہ کارکن امیر علی نے کہا، اور ساتھ ہی انہوں نے تازہ اگی ہوئی مینگروز (خط ساحل کے دلدلی حصوں میں اگنے والی ایک قسم کی جھاڑی) کے پیچھے پڑے ہوئے مردہ جانوروں کی طرف اشارہ بھی کیا۔ ساحل پر آلودگی کی وجہ سے سمندری حیات موت کا شکار ہو رہی ہے۔ جبکہ ’’صرف 10 سال پہلے تک، یہاں قریب سے مچھلیاں پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔‘‘

اب ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں جانا پڑتا ہے۔ علی شہر کے حکام کو غیرصاف شدہ گندے پانی کو سمندر میں چھوڑنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ’’مچھلیاں ساحل سمندر سے دور ہو گئی ہیں، اور میں ان ہزاروں ماہی گیروں میں شامل ہوں جنہوں نے اپنا اصل پیشہ چھوڑ دیا ہے اور اب ھم لوگ گزر بسر کے لئے معاش کے دوسرے ذرائع تلاش کر رہے ہیں،‘‘

سمندری حیات خطرے میں ہے

ڈبلیو ڈبلیو ایف سے وابستہ سمندری حیات کے ماہر معظم علی خان نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ ایسا صرف چشمہ گوٹھ میں نہیں ہے، بلکہ پورے 10 کلومیٹر کے ساحل کے ساتھ ریڑھی گوٹھ، ابراہیم حیدری، کورنگی فش ہاربر، لانڈھی، بھینس کالونی اور گزری کریک جیسے علاقوں کا بھی یہی حال ہے۔ ’’بغیر صاف کئے بہائے جانے والے اس گندے پانی نے اس ساحلی پٹی کے گردونواح کو جانوروں سے خالی کر دیا ہے۔ اب آپ پانچ سے سات کلومیٹر کے دائرے میں کیکڑے، مچھلی اور دیگر سمندری جانور نہیں ڈھونڈ سکتے۔ یہاں لاکھوں سالوں سے سمندری حیات پروان چڑھ رہی تھی، لیکن وہ پچھلے 20 سالوں کے دوران بغیر صاف کئے نالوں میں بہائے جانے والے اس گندے پانی کی وجہ سے ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

خان بتاتے ہیں کہ لیمپ شیلز، ایک قسم کی چھوٹی شیل فش جو کراچی فش ہاربر، کورنگی کریک اور لانڈھی کے ارد گرد کم از کم 20 ملین سال تک زندہ تھیں، پچھلی دو دہائیوں میں ناپید ہو گئی ہیں، اور اسپنج، سمندری، اینیمونز، زمرہ، مونگا مرجان اور ستارہ مچھلی کی بہت سی اقسام بھی غائب ہو گئی ہیں.

کراچی کے ساحل کے ساتھ سمندر کی تہہ میں موجود تلچھٹ انتہائی آلودہ پائی گئی ہے۔ بیس سال پہلے کراچی کی بندرگاہ کے قریب اینگلرز مچھلیاں نیٹی جیٹی پل پر عام نظر آتی تھیں، لیکن اب ان مچھلیوں نے اس علاقے کو چھوڑ دیا ہے۔ خان کہتے ہیں، ’’نہ صرف ہند-بحرالکاہل کی مچھلیاں، بلکہ عربی پپ فش سمیت دیگر سمندری انواع کی ایک بڑی تعداد بھی اس علاقے میں معدوم ہو چکی ہیں۔‘‘ ان کا خیال ہے کہ اس کی وجہ سمندر میں براہ راست پھینکا جانے والا گندا پانی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر سمندری حیات کی بقاء ناممکن ہو جاتی ہے۔

’’ان کیمیکلز نے ہماری پوری ساحلی پٹی کو زہریلا بنا دیا ہے، اور کوئی بھی جانور اس ماحول میں نہیں رہ سکتا۔‘‘

ساحلی پٹی سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے کیونکہ کراچی ایک گنجان آباد شہر ہے جس میں بہت سی فیکٹریاں ہیں۔ خان کہتے ہیں، ’’کیٹی بندر اور کھارو چن [دو مقامات جہاں سے دریائے سندھ بحیرہ عرب میں گرتا ہے] یہاں حالات بقدرے بہتر ہیں حالانکہ یہ مقامات کراچی سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ تاہم، متعدد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ ان علاقوں کو شوریدگی کے مسائل کا سامنا ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی سمندر کی سطح کو بلند کرتی ہے اور سمندر کا نمکین پانی شہر کے ان علاقوں کی سطح زمین میں بھی سرایت کر جاتا ہے۔

2019ء کی ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ کے مطابق، کراچی میں روزانہ تقریباً 475 ملین گیلن گندا پانی پیدا ہوتا ہے، جس میں سے تقریباً 88 فیصد یعنی 420 ملین گیلن پانی ایسا ہے جسے صاف نہیں کیا جاتا۔

’’پورے شہر کا گندا پانی، لیاری اور ملیر کی ندیوں سمیت نکاسی آب کے مختلف راستوں سے گزرنے کے بعد، بالآخر سمندر میں چلا جاتا ہے،‘‘ خان کہتے ہیں. کراچی میں اس طرح کے گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے تین پلانٹس ہیں اور وہ سب کے سب غیر فعال ہیں، حالانکہ پچھلے سال صوبہ سندھ کی حکومت نے ان کی مرمت کا وعدہ کیا تھا۔

مینگروز کو نکاسی کے گندے پانی اور صنعتی فضلے سے نقصان پہنچا ہے

رفیع الحق انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے کمیشن آن ایکو سسٹم مینجمنٹ (CEM) سے وابستہ ہیں، نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ نالوں میں بہائے جانے والے غیرصاف شدہ گندے پانی نے مینگروز پودوں کی تین اقسام کو ختم کر دیا ہے۔ ’’یہ مینگروز غذائی اجزاء کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور غیر فقاری جانوروں، مچھلیوں، پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کی ایک دوسرے پر منحصر کمیونٹی کے لیے متنوع رہائش فراہم کرتے ہیں،‘‘ انہوں نے بتایا۔ مینگروز والے ساحلی علاقوں کی پیداواری صلاحیت ان علاقوں کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہے جہاں مینگروز موجود نہیں۔

’’اس سے پہلے مینگروز کے پودوں کی یہاں سات اقسام تھیں، جبکہ اب ساحلی علاقے میں صرف چار باقی ہیں۔ ہمارے حکومتی اداروں کو سنجیدگی سے کوشش کرنی چاہیے اگر وہ اس اربوں سال پرانے ماحولیاتی نظام کو بچانا چاہتے ہیں‘‘، رفیع الحق کہتے ہیں۔ ماہر ماحولیات اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کا بہترین طریقہ حکومت کے لیے یہ ہے کہ وہ ٹریٹمنٹ پلانٹس ( نکاسی کے گندے پانی کو مخصوص کیمیائی عمل سے گزار کر صاف کرنے والے پلانٹس) کو فعال بنائیں۔

کراچی یونیورسٹی کے ’سینٹر آف ایکسیلنس اِن میرین بائیولوجی‘ میں اسسٹنٹ پروفیسر غلام عباس کے مطابق، کراچی میں 1,200 سے زیادہ فیکٹریاں ہیں۔ ان میں ٹینریز، فاؤنڈریز، میٹل پروسیسرز، پلاسٹک، ربڑ، شیشہ، سیرامکس، ٹائلیں، سیمنٹ، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، صابن، فش پروسیسنگ یونٹس اور کھاد، کیڑے مار ادویات اور دیگر کیمیکلز بنانے والے شامل ہیں۔

’’ان کیمیکلز نے ہماری پوری ساحلی پٹی کو زہریلا بنا دیا ہے، اور کوئی بھی جانور اس ماحول میں نہیں رہ سکتا۔‘‘ غلام عباس کراچی میں ساحل سمندر پر موجود چھوٹی کھاڑیوں میں آلودگی کے جمع ہونے کے مسئلے پر تحقیق کر رہے ہیں۔

سندھ کی صوبائی حکومت میں ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی کے وزیر اسماعیل راہو کا کہتے ہیں کہ سمندر کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے حکومت ترجیحی بنیادوں پر کمبائنڈ ایفلیونٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ (CETP) یعنی صنعتی فضلے کو سمندر میں جانے سے روکنے والا پلانٹ لگانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

انہوں نے دی تھرڈ پول کو بتایا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ صنعت کار ماحولیات کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین پر عمل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اسی لیے حکومت ایسی حکمت عملی تیار کر رہی ہے کہ یا تو انہیں نئے ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے پر مجبور کیا جائے یا موجودہ پلانٹس کو دوبارہ فعال بنایا جائے۔ مثال کے طور پر ہالینڈ کی حکومت نے ’پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن‘ کو ایک کمبائنڈ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ دیا تھا جو ابھی تک غیر فعال ہے۔

’’ہم فطرت کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے،‘‘ راہو کہتے ہیں۔

بشکریہ: دی تھرڈ پول، مترجم: عشرت انصاری

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...