فارحہ ارشد کے افسانوں کا مجموعہ ’’مونتاژ‘‘ اور موسمی نقادوں کے کرتب

745

ایک مرتبہ منیر نیازی مرحوم مجھے اپنے ساتھ لے کر، علامہ اقبال ٹاؤن، اپنے کسی دوست سے ملنے گئے اور حسبِ معمول راستہ بّھلا بیٹھے۔ میں ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، کبھی ایک گلی میں گاڑی موڑتا تو کبھی دوسری میں۔ اور یوں جانے کتنی ہی گلیوں کی خاک چھانی لیکن نیازی صاحب کی یاد کردہ نشانیوں میں سے کسی ایک کے بھی آثار دکھائی نہ دیے۔ آخر کار میری نگاہ گلی کے نکڑ پر کھڑے ایک باریش شخص پر پڑی جو سفید شلوار قمیص میں ملبوس سرِ عام مسواک کر رہا تھا۔میں نے منیر نیازی صاحب سے کہا کہ کیوں نہ ان صاحب سے مطلوبہ پتہ ہوچھ لیا جائے۔ میری بات سن کر نیازی صاحب غور سے اس شخص کو دیکھنے لگے اور پھر اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوئے: ’’نا، ایدھے کولوں نہ پچھیں، اے بندہ قدرت نے سانوں گم راہ کرن لئی خاص طور تے ایتھے کھڑا کیتا اے‘‘ (نہ اس سے مت پوچھنا یہ بندہ قدرت نے ہمیں گم راہ کرنے کے لیے خاص طور پر یہاں کھڑا کیا ہے)۔ فارحہ ارشد صاحبہ کے افسانوں کے اولین مجموعہ ’’مونتاژ‘‘ پر کیے گئے ریڈی میڈ تبصرے پڑھ کر مجھے برسوں پرانا یہ واقعہ یاد آگیا۔ نہ جانے کیوں میرا جی چاہتا ہے کہ مصنفہ سے درخواست کروں کہ خدارا ان درشنی نقادوں کی باتوں میں مت آئیے گا۔ قدرت نے آپ کو گم راہ کرنے کے لیے خاص طور پر ان سے توصیفی مضامین لکھوائے ہیں۔

گھٹل، سطحی اور ادبی بصیرت سے یک سر محروم تبصروں کے دائمی ماہرین؛ من چاہے فن کاروں کو بانس اور ادب کو سولی پر چڑھانے کا ’’جلیل القدر‘‘ کام جس عرق ریزی، استقامت اور مستقل مزاجی سے سر انجام دے رہے ہیں؛ اس کا مشاہدہ  فارحہ ارشد صاحبہ کے افسانوں کے مجموعہ ’’مونتاژ‘‘ پر لکھے گئے ہاف فرائی نقادوں کے مضامین اور آرا پڑھ کر بہ خوبی کیا جا سکتا ہے۔ تبصرے پڑھ کر جب قاری اس مجموعہ کے افسانے پڑھتا ہے تو اس کی پریشانی دو چند ہو جاتی ہے کیوں کہ

’دونوں طرف ہے آگ برابر بجھی ہوئی‘

اگر تبصرے تنقیدی بصیرت سے تہی ہیں تو الا ماشاء اللہ افسانے بھی تخلیقی سیرت سے یک سر محروم ہیں۔ افسانہ نگار کو تو نو آموز جان کر نظر انداز کیا جا سکتا تھا لیکن زقوم کو شہد بتا کر بیچنے والے ان نوٹنکیوں سے صرفِ نظر کیسے ممکن تھا جنہوں نے ادبی تنقید کو تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ لہذا ان کے ادب شکن تبصروں کے تناظر میں مصنفہ کے افسانوں کا بے لاگ تجزیہ کرنا لازم ہو جاتا ہے۔

یہ جملہ صاحبان تنقیدی شعور اور بصیرت سے پاک ایک ایسے کج فکر اور بدذوق سماج کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں جہاں ان کی پُھکنی کی پُھو پُھو کو بھی بانسری کے مدھر سُر سمجھا جائے۔ جسے سن کر ادبی رنگروٹ اور ابلہ گوپیاں ’گر گئے ہار کہیں رہ گئی پاپوش کہیں‘ کی صورت بے تابانہ ان کی اور دوڑتے چلے آئیں۔ نارسائی انسان سے کیسے کیسے کرتب کرواتی ہے۔

اردو تنقید کو گُھن کی طرح کھاتے ان فیشنی نقادوں کے تبصروں پر مزید بات کرنے سے پیشتر ایک نگاہ ’’مونتاژ‘‘ کے افسانوں پر ڈالتے ہیں۔

’’بی فور دی ایور آفٹر‘‘ بیٹوں کی نافرمانی اور ان کی اپنے اجداد کے فن سے بیزاری پر دکھی باپ، لال حسین، سے اس کی بیٹی، زہرا، کی بےلوث محبت کی کہانی ہے۔ وہ بیٹے جن کی پیدائش پر خوشی سے بتاشے بانٹے گئے پُرکھوں کے فن سے بے اعتنائی برتتے ہیں اور باپ کی خواہش کے برعکس اسے چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں۔ باپ اس صدمہ سے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔ اور وہ زہرا جس کی پیدائش پر لال حسین اپنی بیوی سے نالاں تھا، اپنا آپ باپ کے لیے وقف کر دیتی ہے اور بالآخر اس کے دکھ کو محسوس کرتے ہوئے اپنے پُرکھوں کا فن سیکھنے کے لیے خود کو پیش کر دیتی ہے۔

چہیتے بیٹوں کی نافرمانی اور غیر اہم سمجھی جانے والی بیٹی کی قربانی ادبِ لطیف اور ہندی فلموں کا گِھسا پِٹا تھیم ہے جسے افسانہ نگار نے کمال فنی پھوہڑ پن سے پیش کیا ہے اور اس پِٹے ہٹائے موضوع سے نئے امکانات کھنگالنے کا تکلف کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ تحریر کا کچا پن اور بچگانا اسلوب کم و بیش ہر صفحہ پر جلوہ گر ہے رہی سہی کسر خطابت، اسراف اور دوہرائی نے نکال دی ہے۔ نو صفحات کے افسانہ میں تقریباً دو صفحات (صفحہ نمبر 13 سے صفحہ نمبر 14 کا پہلا پیراگراف، صفحہ نمبر 15 کی آخری سطر سے صفحہ نمبر 16 کی پہلی تین سطور) تو لال حسین کی حویلی کے فنِ تعمیر کی خوبیاں چاٹ گئی ہیں۔ یہ صفحات پڑھتے وقت محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ کرداروں نہیں عمارت سے متعلق ہے۔ یہی اسراف لال حسین کے تعارف میں برتا گیا ہے جس میں آپ فاضل مصنفہ کے زبان و بیان پر ’’عبور‘‘ کو بھی دیکھ سکتے ہیں:

’’باریک جھریوں بھرا سفید پتلا سا چہرہ، باریک سیاہ خاموش لب اور ان سے بھی زیادہ خاموش آنکھیں، خمیدہ کمر جیسے زمانے بھر کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھکن سے دوہری ہو گئی ہو۔ اگر زمانہ بدل گیا تو اس میں اس کا کوئی قصور بھی تو نہیں تھا۔ وہ اپنے ساتھ اپنا زمانہ لیے پھرتا تھا؛ بالکل اس حویلی کی طرح جو ہمیشہ گئے وقتوں کی یاد دلاتی تھی۔ لال حسین سفید براق کرتا پاجامہ اور اسی رنگ کے جذبات والی بے رنگ سفید آنکھیں (بے رنگ سفید آنکھوں کا جواب نہیں) لیے حویلی میں یوں پھرتا جیسے اس کا کچھ گم ہو گیا ہو، وہ ہر وقت گم صم سا کچھ نہ کچھ ڈھونڈتا رہتا؛ کبھی بوسیدہ بکسوں میں، کبھی تصویروں کے بوسیدہ البموں میں۔ وہ تصاویر دیکھتا رہتاجو مختلف مکمل اور نامکمل عمارتوں کے فنِ تعمیر کی عکاس تھیں۔ رعشہ زدہ ہاتھوں سے البم گرتی تو تصاویر یوں بکھر جاتیں جیسے ایک زمانہ پرانے وقتوں سے نکال کر موجودہ وقت میں بنے فرش پر بچھا دیا گیا ہو۔ وہ انسانوں کے قدیم ترین اجداد کی ان باقیات میں سے تھا (بھئی سبحان اللہ، انسانوں کے قدیم ترین اجداد کی باقیات کے کیا کہنے ہیں) جنہیں اپنے فن سے عشق تھا جو نسل در نسل اپنے علم و فن کو آنے والی نسلوں کو سونپتے آئے تھے۔ اور جن کی آئندہ نسلوں نے بصد شوق اور پورے خلوص سے اوزار کے زریعے اپنے فن کا لوہا منوایا تھا۔ وہ اپنی آئندہ نسل کی تلاش میں نگاہیں دوڑاتا رہتا جو ہمیشہ خالی ہی لوٹ آتیں تو دیواروں پر بنے آئینہ کاری، منبت کاری اور پچی کاری کے نمونے اس پر کبھی پھبتیاں کسنے لگتے تو کبھی اس کے ساتھ مغموم ہو جاتے۔ سنگِ مرمر کی محرابوں اور ستونوں کے پایوں پر نیم قیمتی پتھروں پر نظر ڈالتا تو اسے لگتا وہ خود بھی اپنے اجداد کے ستون کے پایوں پر پیوست سنگِ یشب ہے (اجداد کے ستون کے پایوں کا جواب نہیں) جس کی شفافیت پر ہی اس نسل کی تکمیل ہوئی؛ بالکل ویسی چمک والا جیسے ٹوٹنے سے پہلے ستارہ تیز جگمگاہٹ پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنی نسل کا آخری قیمتی پتھر۔۔۔۔۔ سنگِ یشب۔۔۔۔۔اور دکھ اس کے خلیوں میں رینگنے لگتا۔‘‘ (صفحہ نمبر 14 تا 15)

یہ لال حسین کا کردار نہیں اشتہار ہے۔ یہ طریق سہل پسندوں کا ہے فن کاروں کا نہیں۔ فن کار کردار کے طور طریقوں میں اسے دریافت کرتا ہے خام کاروں کی طرح اس پر مضمون لکھ کر نہیں۔

فارحہ ارشد صاحبہ کے کم زور افسانوں پر خاموش رہا جا سکتا تھا لیکن بزعم خود ادبی جغادریوں کے گھٹل، سطحی اور ادب شکن تبصروں سے جنمتے ادبی تنقید کے فزوں تر دیوالیہ پن کو دیکھ کر اپنے لبوں پر سماجی مصلحت کی مہر کیسے لگائی جا سکتی تھی۔

خیر آمد برسرِ مطلب، اس کے فوری بعد اسی پیراگراف میں زہرا بنت لال حسین کا تعارف شروع ہو جاتا ہے؛

’’اس حویلی کی دوسری مکین بائیس سالہ زہرا تھی؛ زہرا بنت لال حسین۔ زہرا جوان اور حسین تھی مگر اس کے دھیان کا پنکھو اپنی جوانی اور رعنائی سے اڑ کر لال حسین کی منڈیر پر جا بیٹھا تھا۔ حویلی میں بھاگ بھاگ کر کام نپٹاتی جس میں آدھے سے زیادہ کام لال حسین کے ہوتے۔ وہ لال حسین کی آخری شادی کی پہلی اور آخری نشانی تھی۔ لال حسین کی تین بیویاں تھیں جو سب اللہ کو پیاری ہوئیں اور ان کے بچے دوسرے ملکوں کو پیارے ہو گئے؛ سوائے اس آخری نشانی کے۔ کئی عشروں سے وطن واپس آنے کا نام ہی نہ لیا؛ وہ ناراض تھے باپ سے ، اس کے پیشہ سے اور اس زمین سے جس میں ان کی پیڑھیوں کی پیڑھیاں اس فن کی نذر ہوئیں مگر زمین اور یہاں کے باسیوں نے ان فنکاروں کی قدر نہ کی اور ہمیشہ راج مستری کہلائے.‘‘ (صفحہ نمبر 15)

چند سطور بعد ہی بیٹوں کے بیرونِ ملک جانے کا واقعہ دوہرایا گیا ہے:

’’تین گھبرو جوان بیٹے جنہیں دیکھ کر وہ فخر کرتا اور ایک بیٹی پیدا کرنے پر وہ چھوٹی بیوی سے ناراض پھرا کرتا وہی بیٹے اس کے فن پر تین حرف بھیجتے، اُس کا غرور مٹی میں ملاتے یکے بعد دیگرے عزت کمانے پردیس سدھار گئے‘‘۔ (صفحہ 15)

افسانہ نگار اگلی ہی سطر میں پھر بیانی ہیں:

’’وہ دکھ سے سوچتا ہے کہ اس کے باپ نے بھی اسے ترکی، ایران اور فرانس کام سیکھنے کی غرض سے بھیجا تھا مگر وہ کام سیکھ کر واپس آ جاتا تھا۔ اپنے وطن کی تاریخی عمارتوں کو باپ دادا کی طرح سنوارتا رہتا۔ اس کے بیٹوں کو باپ دادا کے فن سے لگاؤ تو کیا اس قدر بیزاری تھی کہ اسے راج مستری کا کام کہہ کر نہ صرف تحقیر آمیز الفاظ کہے بلکہ وطن کی مٹی ہی پاؤں سے کھرچ ڈالی‘‘۔ (صفحہ نمبر 15)

ایک ہی صفحہ میں نافرمان بیٹوں کے بیرونِ ملک جانے کا تین مرتبہ تذکرہ قاری کا سارا مزہ کِرکرا کر دیتا ہے۔ لیکن ہماری بہادر افسانہ نگار ابھی بھی تھکیں نہیں رکیں نہیں۔ اب فن کارانہ تراکیب یعنی پچی کاری وغیرہ کی ازیت ناک دوہرائی کی باری ہے، لال حسین کی حویلی کے فنِ تعمیر کی خوبیوں کے باب میں کیا فرماتی ہیں دیکھیے اور ساتھ ساتھ زبان پر “عبور” بھی ملاحظہ فرمائیے:

’’جاہ و جلال سے کھڑی قدیم طرز کی یہ عمارت جس کے بڑے بڑے لکڑی کے ستون اور طویل راہداریوں پر بنے لکڑی کے شہتیر اور گوتھک طرز کے جھروکے خاص طور پر قابلِ دید تھے۔ سفید سنگِ مرمر میں سنگِ موسیٰ کی پچی کاری کا عمدہ کام، اینٹوں اور رنگوں کے ملاپ کا ایک سحر انگیز مظہر، مینا کاری کا ایسا ہنر جسے دیکھ کر اُسے تعمیر کرنے والے کے لیے بے اختیار تعریفی کلمات ادا ہونے لگتے۔‘‘ (صفحہ نمبر 14)

راہداریوں پر بنے شہتیر اور جھروکے کا جواب نہیں۔

اگلے صفحہ پر ہی قاری کا ان فن کارانہ تراکیب سے پھر سامنا ہوتا ہے:

’’وہ اپنی آئندہ نسل کی تلاش میں نگاہیں دوڑاتا رہتا جو ہمیشہ خالی ہی لوٹ آتیں تو دیواروں پر بنے آئینہ کاری، منبت کاری اور پچی کاری کے نمونے اس پر کبھی پھبتیاں کسنے لگتے تو کبھی اس کے ساتھ مغموم ہو جاتے۔‘‘ (صفحہ نمبر 14-15)

صفحہ نمبر 15 کے آخر میں ایک مرتبہ پھر ان غافل قارئین کو لال حسین کے گھر میں ہوئی پچی کاری وغیرہ کی خبر دی جارہی ہے جو محض اپنی تساہل پسندی کی وجہ اس اہم ترین بات سے لا علم ہیں:

’’یہ گھر اُس نے چودہ سال کی عمر میں خود بنایا تھا بلکہ میاں جی نے اسے سکھانے کے لیے اُس سے بنوایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اُس گھر میں فنِ پچی کاری، میناکاری اور شیشہ گری کے خوبصورت نمونے مختلف جگہوں پر بنے تھے‘‘۔ (صفحہ نمبر 15-16)

یاد رہے کہ یہ گھر لال حسین کی وہی حویلی ہے جس کا تذکرہ اوپر صفحہ نمبر 14 کے باب میں کیا گیا ہے۔ نو صفحات کے اس افسانہ میں مصنفہ کا اس قدر مہارت سے کفایت لفظی اور ایجاز سے دامن بچانا اس کی اس صنف میں ’’مہارت‘‘ پر دال ہے۔

یہ افسانہ خام تحریر کا شاہ کار ہے جس میں سنجیدہ قاری کے لیے کوئی کشش نہیں۔ لال حسین کے مخبوط الحواسی کا بیان بھی انتہائی بچکانا اور تضادات سے بھرپور ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

’’کچھ عرصہ پہلے تک جب ابھی لال حسین کے حواس بہتر کام کرتے تھے تب وہ سوچتا۔ ” میاں جی اب زندہ ہوتے تو فن کی اپنے ہی سپوتوں کے ہاتھوں بے قدری دیکھ کر مر جاتے۔ وہ تو اچھا ہے کہ بندہ اپنے ہی زمانے میں مر جاتا ہے ورنہ اتنا بدلاؤ دیکھ کر تو پاگل ہی ہو جائے۔ ” اس طرح کی باتیں سوچنے والا لال حسین سچ مچ نیم پاگل ہو گیا اور زہرا اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے بدحواس رہنے لگی۔‘‘ (صفحہ نمبر 17)

صفحہ نمبر 19 کی یہ سطور بھی دیکھیے:

’’مگر لال حسین کے درد کا کوئی اُپائے نہ ہوا؛ دیمک کی طرح کوئی دکھ لال حسین کو اندر ہی اندر چاٹنے لگا تو تھک کر اس نے عقل و شعور سے فرار کی راہ اختیار کی اور یوں لال حسین بچہ بن گیا؛ نادان، نا سمجھ اور خاموش۔‘‘ (صفحہ نمبر 19)

یہاں قاری سوچتا ہے کہ لال حسین تو پہلے ہی نیم پاگل ہو چکا تھا؛ اس نے زندگی کے دکھوں سے ہار کر عقل و شعور سے فرار کا فیصلہ کیسے کر لیا؟ لیکن جلد ہی قاری یہ سوچ کر خاموش ہو جاتا ہے کہ لال حسین اس کا ہے یا افسانہ نگار کا۔ وہ اسے جب چاہے، جو چاہے بنا سکتی ہیں اصولی طور پر قاری کو اس معاملے میں دخل دینے کا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے:

لیکن صفحہ نمبر 21 پر قاری کو لال حسین کے معاملے سے مصلحتاً کنارہ کش ہونے کے باوجود  ایک اور دھچکا لگتا ہے۔ زہرا کی باپ سے گفتگو اور اس سے منسلک بیانیہ ملاحظہ کریں:

’’اور تب ہی مجھے پتہ چلا کہ تم میرے لیے کتنے اہم ہو! میں نے تمہارے ہاتھ سے کیے کام کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھا۔ تم کتنے بڑے آدمی ہو۔ تم نے کتنا کام کیا ہے؛ اور اتنی چھوٹی عمر میں ہی اتنا خوبصورت کام۔ تب تو تمہاری انگلیاں ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتی ہوں گی۔ تمہارے جیسے لوگ تو اپنے ملک اور قوم کا فخر ہوتے ہیں۔ جی چاہتا ہے تمہیں سلام کروں۔‘‘ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اسے سیلوٹ کر دیا۔ لال حسین کی آنکھوں کے کناروں سے سمندر بہہ نکلا۔ وہ پاگل کب تھا؟ سب جانتا سمجھتا تھا۔ وہ تو اپنے فن کو اپنی آئندہ نسل میں منتقل نہ کرنے پر غمگین تھا۔ اپنے پرکھوں سے شرمسار تھا؛ مگر کفارہ تھا کہ ادا ہی نہ ہو پاتا۔ ” لال حسین تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ مجھے سب سکھا دو۔ زہرا کو اچانک خیال سوجھا‘‘۔

سارے افسانوں میں زبان اتنی یکساں ہے کہ لگتا ہے ایک ہی افسانہ پڑھ رہے ہیں اور وہ بھی الفاظ کا ایسا بلبلہ جو حافظے کو چھونے سے پہلے ہی پھٹ جاتا ہے۔

اپنے فن کو اپنی آئندہ نسل میں منتقل نہ کرنے پر غمگین اور جانتے بوجھتے پاگل بننے والا بے ستر لال حسین اپنی جوان بیٹی سے غسل لیتے ہوئے کیسے شان دار طریقے سے کفارہ ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

’’وہ اس کو ننھے بچے کی طرح صابن کی ٹکیہ مل مل کر نہلانے لگتی۔ مگر وہ بچہ ہی تو نہیں تھا۔ وہ تو پینسٹھ سالہ لال حسین تھا اور وہ زہرا بنت لال حسین تھی۔ لال حسین کپڑے بھی خود سے پہننا بھول چکا تھا۔ ہاتھ ہی نہیں جسم بھی ڈھیلا چھوڑ دیتا اور زہرا کو اسے کپڑے پہناتے ہوئے کبھی تو یاد بھی نہ رہتا کہ وہ اس کا باپ ہے اور مرد ہے۔ اور کبھی یاد آتا تو آنکھیں بند کر لیتی اور دوسری طرف منہ کرکے اس کا پاجامہ بدلنے لگتی۔‘‘ (صفحہ نمبر 19)

سستی جذباتیت کے زور پر، جانتے بوجھتے پاگل بننے والے لال حسین کے لیے ہم دردی پیدا کرنے میں مگن فاضل مصنفہ کو احساس ہی نہیں کہ انھوں نے لال حسین کا کتنا مکروہ روپ پیش کیا ہے۔ اور یہ پیش کش بھی اتنی خام اور بچکانا ہے کہ اس پر سنجیدہ تو کجا تفریحاً بھی کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔

افسانے کا اختتام بھی دیکھیے:

’’جب تم مجھے سکھا دو گے نا تو ہم ٹائلز نما پچی کاری، شیشہ گری اور مینا کاری کیے چھوٹے چھوٹے اقلیدی نمونوں کے ٹکڑے مختلف بڑی کمپنیوں کو فروخت کریں گے۔” وہ اُس کی امید زندہ کرنے لگی۔ لال حسین اُس کا معصوم سا چہرہ تکتا جا رہا تھا۔ اُس کے رعشہ زدہ ہاتھوں کی کپکپاہٹ تیز ہونے لگی۔” اسیں کھڈیاں تے اُنے ہوئے لوک وے۔۔۔۔۔ تے لوکی سادا مُل لانودے۔” زہرا کی آواز حویلی کی دیواروں میں گونج رہی تھی۔‘‘

سر دھڑ کے بغیر اس افسانے میں کوئی عروجی نکتہ، استعجابیت اور ڈرامائیت نہیں اور انجام بھی نہایت پھس پھسا اور بے تاثر ہے۔ یہ اپنے دائرہء احوال ہی میں ناقابلِ اعتبار ہے۔ فکشن کی حقیقت کا زندگی کی حقیقت سے مماثل ہونا لازمی نہیں لیکن کم ازکم اسے اپنی تخلیق کردہ دنیا سے مربوط اور ہم آہنگ ضرور ہونا چاہیے۔ فاضل مصنفہ اس  امتحان میں بھی امتیازی نمبروں سے فیل ہوئی ہیں۔

’’بی فور دی ایور آفٹر‘‘ فنی افلاس کا بد ترین نمونہ ہے۔ مصنفہ نے نا پختہ فن کاروں کی طرح کرداروں کو ابھارنے کی بجائے سارا کام عبارت آرائی سے چلایا ہے۔ فاضل مصنفہ کو اس بات کا شعور ہی نہیں کہ اس موضوع کا افسانہ اصل میں کرداروں کا افسانہ ہوتا ہے جو واقعات میں ڈرامائیت ابھار کر انھیں دل چسپ اور قابلِ مطالعہ بناتے ہیں۔ لیکن مصنفہ محض الفاظ کے پمپ سے کرداروں کے غباروں میں ہوا بھر کر انھیں اڑانا چاہتی ہیں۔ کرداروں کی اندرونی کیفیات کو علامتوں اور استعاروں کے زریعے بیانیہ کی بافت میں گوندھنا اور اسے ان کے طور طریقوں میں مترشح کرنا ان کے بس کی بات دکھائی نہیں دیتی۔

لیکن غلام حسین ساجد صاحب ان حالات میں بھی افسانہ نگار کی کردار نگاری پر صدقے واری جا رہے ہیں۔ موصوف کا کہنا ہے:

’’اس کے کردار اس قدر حقیقی اور مانوس ہیں کہ ان کی پہچان کے لیے کسی نوع کے تردد کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کے باوجود وہ عام نہیں رہے اور فارحہ نے اپنے جادوئی مکاشفے سے انہیں خاص بنا دیا ہے۔‘‘

یہ جادوئی مکاشفہ اصل میں مصنفہ کا نہیں، خالصتاً غلام حسین ساجد صاحب کا زاتی ہے اور مصنفہ کے افسانوں کے غیر حقیقی کردار اسی جادوئی مکاشفہ کے میٹریل سے ابھی ابھی خاص اور حقیقی بنے ہیں۔ لیکن کرداروں کو سرکار کی طرف سے عطا کردہ، یہ اچانک خوبیاں باپردہ مستورات کی طرح حضور کے بیتِ تبصرہ کے سب سے آخری کمرے میں اوڑھنیاں اوڑھے بیٹھی ہیں۔ اور قارئین مصنفہ کے افسانوں میں ان کے حسنِ عالم تاب سے اپنی آنکھیں منور کرنے کی حسرت لیے در بہ در خوار ہو رہے ہیں۔ کاش غلام حسین ساجد صاحب اس مکاشفہء تکوینی کا وہ چشمہ کچھ دیر کے لیے قارئین کو بھی عطا کر دیں جس سے ہر ادنی شے اعلا دکھائی دیتی ہے۔ رہی بات مصنفہ کے جادوئی مکاشفہ کی تو اس کے مظاہر آپ مضمون ہذا میں دیے گئے حوالوں میں جا بہ جا دیکھیں گے اور بہ فضلِ خدا غلام حسین ساجد صاحب کی تنقیدی بصیرت کے مزید قائل ہو جائیں گے۔

اس مجموعہ کے اگلے افسانے ’’توبہ سے زرا پہلے‘‘ میں بڑے جاگیردار کا بیٹا بلقیسی سے اس کی لڑکی کا ہاتھ مانگنے آتا ہے جو اصل میں بلقیسی کے بطن سے اس کے باپ ہی کی اولاد ہے۔ وہ یہ راز افشا نہیں کرتی اور شادی کے لیے ہاں کر دیتی ہے اور رخصتی کے بعد بڑے جاگیر دار کی قبر پر جا کر معافی مانگتی ہے۔

یہ ایک خراب کہانی ہے۔ اس فرسودہ موضوع میں تازہ کاری لانے کے لیے اسے نئے آہنگ سے بیان کرنے کی ضرورت تھی۔ اس تھیم میں امکانات کھوجنے ہی سے اسے نیا پن عطا کیا جا سکتا تھا۔ فاضل مصنفہ اسے نئے تو کجا روایتی انداز میں بھی نہیں لکھ سکیں۔ ان کی خام کاری نے وہ المیہ ہی نہیں ابھرنے دیا جو اس موضوع پر واجب تھا۔ اس افسانے کو پڑھ کر تشنگی، کچے پن،  تعجیل، سطحیت اور بے پروائی کا احساس ہوتا ہے۔

افسانے کی زبان بھی کہانی اور کرداروں سے غیر مربوط ہے سو ہر گام اجنبی اور مصنوعی لگتی ہے:

’’وہ جو ابھی نئی کہانی کی کہانی سنا رہی تھی، وہ ایک غریب عورت مائی بلقیسی کی اکلوتی جوان اور خوبصورت بیٹی اس کہانی کا دوسرا کردار: شارٹ کٹس مارتی بڑے جاگیردار کے اکلوتے بیٹے کے دل کے سنگھاسن پہ جا براجمان ہوئی۔ کہانی یہیں ختم ہو جاتی اگر اس میں تیسرا کردار نہ ہوتا۔

مائی بلقیسی۔۔۔۔ اس کہانی کا تیسرا کردار۔‘‘ (صفحہ نمبر 24)

فی الحال کہانی کی ازیت ناک دوہرائی اور زبان و بیان کی اغلاط کو چھوڑیں اور یہ دیکھیں کہ ایک المیہ کہانی میں، دستاویزی بیانیے نے کیسی غیر سنجیدہ فضا قائم کی ہے۔ کہانی کا اختتام دیکھیے:

’’ہاں کہنے سے ڈولی اٹھ جانے تک مائی بلقیسی ایک لفظ نہ بولی۔ بیٹی کو رخصت کرتے ہی تیز تیز قدموں سے قبرستان کی طرف بھاگتی دکھائی دی۔

’’مجھے معاف کردیں بڑے جاگیردار صاحب۔ مجھے معاف کر دیں۔ ہاتھ ملتی جاتی تھی اور کانوں کو ہاتھ لگاتی بڑے جاگیردار صاحب کی قبر پر سپاٹ چہرے کے ساتھ سر جھکائے توبہ کیے جاتی تھی۔

قبر پر گہرا سناٹا چھایا تھا۔ کہانی اپنے رستے تلاشتی اسے توبہ کے در پر بٹھا کر کہیں اور نکل چکی تھی۔

’’تو گویا کوئی محبت نہ ہوئی تھیٹر پلے ہو گیا ۔ چلیے جی سین ختم! اٹھائیے کرسی، میز اور دیوار۔۔۔۔۔۔ اور اگلے سین کے لیے ندی کا پّل اور دور تک ویرانی پھیلا دیجیے!‘‘ (صفحہ نمبر 26)

ایک المیہ کہانی کی اس سے زیادہ خام، سطحی اور غیر سنجیدہ ٹریٹمنٹ اور کیا ہو سکتی ہے۔ یہ شرم ناک حد تک خراب افسانہ ہے۔ زبان، بیان، کردار نگاری، جزئیات نگاری، فضا بندی، مکالمے، ڈرامائیت، تجسس اور کہانیت سے محروم اس تُک بندی کو کم از کم ادب نہیں کہا جا سکتا۔

مصنفہ نے اس افسانہ میں ایک ایسے راز سے تجسس پیدا کرنے کی طفلانہ کوشش کی ہے جو افسانے کے اختتام سے بہت پہلے افشا ہو چکا تھا۔ لڑکی کا بڑے جاگیردار صاحب کی اولاد ہونے کا راز۔ صفحہ نمبر 24 پڑھتے ہوئے قاری پر یہ ’’سِرِ٘ نہاں‘‘ منکشف ہو جاتا ہے لیکن افسانہ نگار کو قاری پر قطعاً یقین نہیں لہذا وہ راز کا آموختہ دہرانے لگتی ہیں:

’’بڑے جاگیردار صاحب اور بلقیسی کا باپ مٹی کا ڈھیر بن چکے تھے بس ایک راز تھا جس کو صرف ایک صرف ایک کردار جانتا تھا اور وہ کردار مائی بلقیسی تھی۔ مائی بلقیسی کی کہانی راز تھی، وہ راز جو بڑے جاگیردار صاحب، بلقیسی کا بوڑھا باپ اور خود بلقیسی کے علاوہ کون جانتا تھا۔ ایک کسی دور دراز کے شہر کا نکاح خواں اور دو بالغ گواہان جو نکاح خواں ہی بڑے جاگیردار صاحب سے زیادہ پیسے بٹورنے کے لیے اپنے مدرسے سے ہی ساتھ لایا تھا یا پھر بڑے جاگیر دار صاحب کا وہ ڈرائیور جو سانپ ڈسنے لینے سے اُس واقعے کے چند روز بعد ہی ہلاک ہو گیا تھا۔

بوڑھا باپ اور جاگیردار بھی رزقِ خاک ہوئے اور یوں وہ راز بھی ان کے ساتھ دفن ہو گیا۔

وہ راز جو ایک خفیہ نکاح سے شروع ہوا اور مائی بلقیسی کی بیٹی پر جا کر ختم ہوا۔

ایک قبر، ایک دل اور ایک راز جو مائی بلقیسی کی محرومیوں کے ساتھ ہی ختم ہو جانا تھا۔‘‘ (صفحہ نمبر 26)

یہ اذیت ناک دوہرائی مصنفہ کی تصنیفی عادت دکھائی دیتی ہے۔ محولہ بالا اقتباس میں راز کی گردن توڑ گردان کرنے کے علاوہ دو مرتبہ بتایا گیا ہے کہ بڑے جاگیردار صاحب اور بلقیسی کا باپ اس راز کو سینے میں لیے وفات پا چکے ہیں۔ وہ بھید جس پر اس قدر زور لگا کر تجسس پیدا کیا جا رہا ہے، کب کا کُھل چکا ہے۔ کاش کوئی مصنفہ کو بتا سکتا کہ تجسس شعوری کوشش کا نتیجہ نہیں، کہانی کی بُنت کا جزو ہوتا ہے۔

مگر اصغر ندیم سید صاحب کو مصنفہ کے افسانوں میں اسراف اور دوہرائی دکھائی نہیں دے رہی۔ وہ فرماتے ہیں:

’’فارحہ ارشد جانتی ہیں انہیں کیا کہنا ہے اور کتنا کہنا ہے۔ بس یہی جوہر انہیں بے شمار افسانہ نگاروں سے ممتاز کر دیتا ہے۔ یہی وہ تخلیقی شعور ہے جو افسانہ نگار کو موضوع کی پرتیں کھولنے میں مدد دیتا ہے۔‘‘

نجانے انھوں نے کس فارحہ ارشد کے افسانے پڑھ لیے ہیں۔ یا شاید کتاب سونگھ کر ہی تبصرہ داغ دیا ہے۔ مؤخر الذکر زیادہ اغلب ہے۔

” زمین زادہ” غالباً جہادی کیمپ سے بھاگے ہوئے لڑکے کی بہ قول مصنفہ ” ایک خوفناک اور درد و آشوب سے بھرے سفر کی کہانی ہے۔ لیکن میرے نزدیک یہ کہانی نہیں افسانہ نگار کے کچے زہن کی لرزشوں کا بیان ہے۔ یہ آرٹ نہیں سپاٹ، غیر منظم اور سطحی فکر کا ریوڑ ہے جسے افسانے کی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ سطور دیکھیے:

” وہ لڑکا۔۔۔۔جس کی آنکھیں بھوری تھیں اور ابرو سیاہ، ان لوگوں سے دور نکل آیا تھا جن کے لیے موت ایک لذت تھی: موت کے تلذذ سے بھری نسل جو انسانوں میں گھس آئی تھی۔ یہ وہی لوگ تھے جن کی جھولیاں بد دعاؤں سے بھری تھیں۔۔۔۔وہی سیاہ بخت نسل؛ مکار کوؤں کی نسل جو معصوم لوگوں کی زندگیاں آباد کرنے کا ہنر بھول چکے تھے، جن کی فاختاؤں کا دوسرا جنم گدھ کی صورت ہوا تھا۔ اور وہ کہ جس کی ابھی مسیں پھوٹ رہی تھیں، جن کے نیچے گلابی بھرے بھرے ہونٹ جانے کب سے بند تھے اور مسکراہٹ ان سے کب کی روٹھ چکی تھی۔ وہی لڑکا، ان کے پنجوں سے آزاد ہو چکا تھا۔ وہی جو ایک نہیں تھا، پوری نسل تھا۔  (صفحہ نمبر 28)

فاضل مصنفہ نے فن کاروں کی پیروی نہیں کی؛ خام کاروں اور اناڑیوں کا طریقہ کار اختیار کیا ہے اور صورتِ حال کی بجائے زبان سے تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور نتیجتاً، منہ کی کھائی ہے۔ اور زبان بھی آخری درجے کی مبالغہ آمیز۔ مکار کوؤں کی نسل سے فاختائیں پیدا کرنے والی غلو آمیز زبان کا بوجھ فکشن تو دور کی بات ہے شاعری بھی نہیں سہار سکتی۔

یہ بھی دیکھیے:

” وہ بھاگتے بھاگتے اتنی دور آ چکا تھا کہ اس کے لب مسکرانے لگے تھے۔ آہ! یعنی وہ زندگی سے مل رہا تھا۔ اسے لگنے لگا فضاؤں میں اُس کے خلیے تیر رہے ہوں. یہاں، وہاں؛ اس کا ایک ایک خلیہ زندگی سے مل رہا تھا۔ زندگی۔۔۔۔۔جس سے ملنے کے لیے وہ ادھ مرا ہوا پڑا تھا مگر پھر بھی کہیں رکنے کو تیار نہ تھا کہ پیچھے موت تھی، برزخ تھا۔ ( صفحہ نمبر 28)

فاضل مصنفہ یہاں بھی تخیل کی ناداری کو زبان کی سرداری میں چھپانے کی کوشش میں ناکام نظر آتی ہیں” ادھ مرا ہوا پڑا تھا مگر پھر بھی کہیں رکنے کو تیار نہ تھا” جیسا جملہ بُننے والی زبان خود اتنی ناقص الخلقت ہے کہ دوسروں کا کیا، اپنا بوجھ اٹھانے سے بھی معذور ہے۔ سامنے کا بیان ہے لیکن الفاظ حاضراتی نہیں۔ سامنے منظر کھلا ہے لیکن زبان فالج زدہ ہے جو بامعنی بات کہنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ لیکن ہماری فاضل مصنفہ اسی لب و لہجے اور اسی آہنگ میں اس افسانہ نما تُک بندی میں مصروف ہیں:

” جوں جوں وہ ان سے دور ہوتا جا رہا تھا قہقہے اس کے مساموں سے پھوٹنے لگے تھے، بالکل ویسے ہی جیسے کافور کی بُو سے اُس کے مسام اٹے رہتے تھے۔

وہ چشموں کے پانی سے اعصاب کو شل ہونے سے بچاتا اور پھر بھاگنے لگتا۔ یہ بھی اس کی سوچ تھی کہ وہ بھاگ رہا ہے۔ وہ جس کی ٹانگیں اور گھٹنے جگہ جگہ سے کپڑوں سمیت رگڑ سے گِھس چکے تھے اور ہڈیاں پتھروں سے بار بار ٹکراتی جا رہی تھیں، اُن سے بھاگا نہیں، بمشکل چلا ہی جا سکتا تھا مگر کیا کریں وہ سوچتا بہت تھا۔” (صفحہ نمبر 29)

مصنفہ کے زبان و بیان کے قتیل اچانک تبصرہ نگاروں سے یہ پیراگراف بالجہر پڑھوا کر پوچھنا چاہئیے کہ کیا یہی ہے وہ زبانِ شستہ و رفتہ جس کا خنجرِ آبدار آپ کے دلِ ناکردہ کار کے پار ہوا۔ مساموں سے پھوٹتے کو مساموں سے اٹے سے تشبیہ دینے اور ” وہ جس کی ٹانگیں اور گھٹنے جگہ جگہ سے کپڑوں سمیت رگڑ سے گِھس چکے تھے” لکھنے والی کیا یہ وہی زبان ہے جس کے منفرد اسلوبِ بیاں، اثر آفرینی اور لہجے کی پختگی کے قصیدے آپ کی زبانوں سے چپک گئے تھے۔ ‘پڑھتا جا شرماتا جا’

ژولیدہ بیانی، بےجا طوالت اور تکرار کا یہ شاہ کار بھی ملاحظہ کیجیے:

” آہ! وہ سیاہ سفر کا پہلا باغی۔

وہ امن پسند لڑکا جس پہ فاختائیں پابلو نرودا کے امن کے گیت گاتیں تھیں۔

وہ اداس قوم کی نوجوان نسل کا پہلا باغی جس نے جبر کے خلاف بغاوت کا علَم، کووں کی نسل کے دماغ میں اتار دیا تھا اور اب۔۔۔۔۔!

جنگل میں کھڑا مرلی پہ امن اور زندگی کا نغمہ سناتا تھا اور چرند پرند حیرت سے اُس زمین زادے کا میٹھا گیت سنتے اور جھومتے تھے۔ ایک طویل مسافت کے بعد اُس کی آنکھوں کے سامنے کسی سڑک کی کوئی مدھم سی شبیہ ابھری تھی؛ زندگی سے بھرپور مسکراہٹ اُس کے سرخ و سفید مگر تھکے ہوئے چہرے پر آن رکی۔ وہ نڈھال تھا، سر کی چوٹ، زخموں سے اٹا نیلو نیل بدن، بھوک اور پیاس، لمبے خوفناک سفر کی بےپناہ تھکن۔ وہ سڑک پر گِرگیا۔ اٹھنے کی کوشش کی مگر اعصاب مفلوج ہو چکے تھے۔

وہ جو سینہ تان کر زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُسے رگ رگ میں محسوس کرنا چاہتا تھا، سڑک پہ شل اعصاب کے ساتھ گرا پڑا تھا۔ اُس وقت چکنی سرخ مٹی کا مجسمہ اوندھے منہ پڑا تھا۔ جیسے پیڑ سے ننھا بوٹ زمین پر آن گرا ہو، لوتھڑا سا: کاسنی اور زرد رنگ کی پتیاں گرد سے اٹے بالوں میں اڑسی تھیں۔ جسم بھوک، پیاس اور تھکن سے ٹھنڈا پڑتا جا رہا تھا۔” (صفحہ نمبر 30)

لگتا ہے یہ افسانہ تخلیقی تشنج کے ادب لیوا دورے کے دوران لکھا گیا ہے۔ فاضل لکھاری کو سمجھ ہی نہیں آرہا کہ وہ کیا لکھ رہی ہیں۔ پہلی سطر میں سیاہ سفر کا پہلا باغی دوسری سطر میں ایک ایسا امن پسند لڑکا بن جاتا ہے جس پر پابلو نرودا کی سدھائی، چِلی کی سخن فہم فاختائیں امن کے گیت گاتی ہیں، لیکن تیسری سطر میں پھر اس کی کایا کلپ ہو جاتی ہے  اور وہ اداس قوم کی نوجوان نسل کا پہلا باغی بن جاتا ہے جس نے جبر کے خلاف بغاوت کا عَلم، کوؤں کی نسل کے دماغ میں گاڑ دیا ہے، چوتھی سطر میں وہی باغی جنگل میں کھڑا، مرلی پہ امن اور زندگی کا نغمہ سناتا پایا جاتا ہے۔ چند سطور بعد ہی بغاوت اور امن کے درمیان معلق، قاری اسی لونڈے کو زخموں سے اٹا نیلو نیل سڑک پر گرا ہوا دیکھتا ہے۔ مصنفہ کہتیں ہیں کہ اس وقت سرخ چکنی مٹی کا مجسمہ سڑک پر اوندھے منہ پڑا ہے۔ قاری اس بات کو ماننے کے لیے مائنڈ بنانے لگتا ہے لیکن اگلے ہی لمحے مصنفہ یو ٹرن لے لیتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ نہیں وہ ایسے تھا جیسے درخت سے چڑیا کا ننھا بوٹ زمین پر آ گرا ہو، لوتھڑا سا۔

یہ فن نہیں ژولیدہ بیانی ہے۔ جو ذہن میں آیا بِنا سوچے سمجھے کاغذ پر انڈیل دیا گیا ہے۔ نہ خیال منظم ہے نہ پیش کش میں کوئی تنظیم ہے۔ بس سودائے خام کا اسپِ بے مہار ہے جو کبھی کہانی کو دولتی مارتا ہے تو کبھی پلاٹ کو روندتا ہے۔ اِدھر کردار نگاری کی فصل اجاڑی اُدھر مکالمے چَر گیا۔ ” زمین زادہ” میں افسانوی مواد نہیں چھچلے جذبات کے پتھروں پر غلو کے نعلیں مار کر نکالی گئی آگ ہے جس نے اجزائے افسانہ کو خاکستر بنا دیا ہے۔

” ڈھائی گز کا کمبل” گاؤں سے بھاگ کر لاہور آنے والے چھ سات سالہ بچے کی کہانی ہے جو سردی کی شدت سے بچنے کے لیے چوبرجی میں سوئے ہوئے ایک اجنبی شخص کے کمبل میں گھس کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے۔

یہ افسانہ بھی مصنفہ کے دیگر افسانوں کی طرح خام نثر، بچکانا بیانیے ، اذیت ناک دہرائی اور طفلانہ اسلوب میں لکھا گیا ہے۔

کہانی کے واقعات میں اسباب و علل کا سلسلہ مفقود ہے۔ لٹو بچے کو گاؤں سے بھگا کر لاہور کیوں لایا ہے اور اسے چوبرجی میں چھوڑ کر کہاں چلا گیا ہے؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا سوائے لٹو اور مصنفہ کی اس فن کارانہ سازش کے کہ پہلے ایک معصوم بچے کو چوبرجی میں لایا جائے اور پھر لاہور میں ناردرن ایریاز والی سردی امپورٹ کرکے اسے مجبور کیا جائے کہ وہ وہاں سوئے ہوئے ایک بے گھر شخص کے کمبل میں گھسے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنے۔ تا کہ سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے ایک معصوم اور بے یار و مددگار بچے سے ایک درندہ صفت شخص کی جنسی ہوس کے نتیجے میں دل چیر دینے والی المیہ کہانی وجود میں لائی جا سکے۔ اگر چچا کا ظلم یا لٹو کی لاہور کی بابت دل آویز کہانیاں بچے کی گھر سے بھاگنے کی وجوہات ہیں تو متن ان تشریحات کی مدد کرنے سے یکسر معذور ہے۔

ایسی فارمولہ اور منصوبہ بند کہانی وہ ذہن لکھتا ہے جو تخلیقی تخیل سے تہی ہو۔ افسانے میں تصنع اور جبری صنعت گری یوں تیرتے نظر آ رہے ہیں جیسے اتھلے پانی میں لاروے۔ ملاحظہ کیجیے، سردی کی شدت کے بیان میں کس قدر خام کاری، تضاد، تکرار اور  مصنوعی پن ہے:

” سردی کا احساس تو اسے بھرپور رونے بھی نہیں دے رہا تھا۔ اور ٹھنڈ ایسی تھی کہ اب اس کی ہڈیوں کے گودے کو بھی سرد کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور ایک بار پھر چاروں طرف گھوم کر دیکھا، شاید اسے کسی کے ساتھ لیٹنے کے لیے جگہ مل جائے اور اس سردی کے عذاب سے پناہ ملے۔” ( 40)

حالاں کہ صفحہ نمبر 39 میں موصوفہ فرما چکی ہیں کہ:

” لوگ آڑھے ترچھے اس طرح لیٹے تھے کہ اس نے بڑی مشکل سے اُن کے درمیان اتنی جگہ بنا لی کہ سکڑ کر لیٹ سکے۔”

اتنے افراد میں اس قدر سکڑ کر لیٹنے سے بھی لاہور کی ہومیو پیتھک سردی، اس کی ہڈیوں کے گودے تک کو سرد کر رہی تھی: سمجھ سے بالاتر ہے۔ جب کہ صفحہ نمبر 40 کی ان سطور سے بھی سردی کی شدت کی بابت کذب بیانی ظاہر ہو رہی ہے:

” کچھ لوگ تو کھیسی نما چادروں میں لپٹے اکھٹے ہوئے پڑے تھے اور کچھ ایسی بےہوشی کی نیند سو رہے تھے کہ اُسے لگا شاید وہ مر چکے ہیں۔”

ہڈیوں میں اترتی مبینہ زمہریری سردی میں کھیسی نما چادر لیے لوگوں کا بے ہوشی کی نیند سونا سردی کی شدت کے بیان میں گھپلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن فاضل افسانہ نگار اس سے بے پروا ٹھنڈ کی شدت بڑھانے میں مصروف ہیں:

” اُسے آہستہ آہستہ یوں لگنے لگا جیسے اُس کے پاؤں، ناک، ٹانگیں بازو اُس کے وجود کے ساتھ ہی نہیں ہیں۔ اُس نے خوفزدہ ہو کر آنکھیں کھولیں (حالاں کہ عبارت میں آنکھیں بند کرنے کا تذکرہ نہیں ہے) اور نیم تاریکی میں اپنے جسم کو غور سے دیکھا اور کچھ حوصلہ ہوا کہ اُس کے تمام اعضا سلامت تھے۔

سردی سے اس کے دانت بجنے لگے تھے۔ گرم گرم گوبر اسے شدت سے یاد آنے لگا۔ اُس نے سوچا کاش وہ گوبر اُسے مل جائے تو وہ اس میں اپنا پورا وجود گھسیڑ دے۔ ایسی شدت کی سردی نے اُس کی سوچنے سمجھنے کی حسوں کو بھی مفلوج کرنا شروع کر دیا تھا۔ “(40)

یہ بھی دیکھیے:

” دور سے کہیں ایک کتا ہانپتا ہوا اُس کے قریب سے گزر کر کونے میں جا بیٹھا۔۔۔دوسرے جسم کی گرمی: یہ خیال آتے ہی اُس نے بوری اٹھائی اور کتے کے ساتھ جا کر لیٹ گیا۔ اُس کے جسم کی گرمائش نے اُس کے کانپتے جسم کو کچھ سکون دیا تو وہ کچھ اور اُس کے قریب ہوا۔ کتا خوفزدہ ہو کر بھونکنے لگا۔”(صفحہ نمبر 41)

زبان و بیان کی اغلاط دوہرانے میں مستقل مزاجی کے ساتھ ساتھ مصنفہ نے یہ بھی تہیہ کر رکھا ہے کہ کسی طرح افسانے میں اعتباری کیفیت نہ پیدا ہو۔ سابقہ صفحہ میں موصوفہ بتا چکی ہیں کہ آڑھے ترچھے لیٹے لوگوں میں بمشکل اتنی ہی جگہ بن سکی کہ بچہ ان میں سکڑ کر لیٹ سکے۔ جب کہ سگِ ناگہاں کے معاملے میں سخاوت کا یہ عالم ہے کہ نا صرف اس کے بیٹھنے کے لیے جگہ میسر ہے بل کہ افسانوی ضرورت کے تحت بچہ بھی اس کے ساتھ لیٹ سکتا ہے۔

یہ سطور پڑھتے ہوئے مجھے گمان ہوا کہ مصنفہ نے جیک لندن کا افسانہ ” ٹو بِلڈ اے فائر” پڑھ رکھا ہے۔ کتے کے جسم سے حرارت کا خیال اسی شاہ کار کہانی سے ماخوذ لگتا ہے۔ اگر میرا گمان درست ہے تو مصنفہ نے اس سے کچھ سیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ جیک لندن کی کہانی کا لوکیل کینیڈا کا علاقہ یوکون ہے جہاں کا درجہء حرارت منفی 75 ڈگری سینٹی گریڈ تک دکھایا گیا ہے۔ افسانے کی ٹریٹمنٹ ایسی عمدہ ہے کہ کہانی پڑھتے ہوئے قاری کو سردی باقاعدہ اپنے جسم میں گھستی محسوس ہوتی ہے۔ نو آموزوں کو بڑے فن کاروں سے، خیال سے زیادہ افسانے کی فنی دیکھ بھال سیکھنی چاہئیے۔

کہانی کی طرف واپس آتے ہیں جہاں مصنفہ آخری خبریں ملنے تک لاہور میں اتنی شدید سردی لا چکی ہیں کہ بچہ اس مبینہ کڑکڑاتے جاڑے سے بچنے کے لیے اپنے چہرے پر پڑتے پیشاب کے گرم گرم چھینٹوں کو پورے جسم پر انوائٹ کر رہا ہے۔ اور تو اور، وہ اس جاں فرسا ٹھنڈ سے بچنے کے لیے اپنے جسم کو گرم گرم تیل میں تلنے کے لیے بھی راضی ہے:

” اچانک اس نے دیکھا کہ کمبل والا آدمی اٹھ کر اُس کے سر کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔ اُس نے ڈر کے مارے آنکھیں بھینچ لیں۔ وہ شاید اپنے کسی کام سے اٹھا تھا۔ وہ اتنا نزدیک کھڑا تھا کہ گرم گرم کئی چھینٹے اڑ کر اُس کے چہرے پر تواتر سے پڑے تو اُس کا شدت سے جی چاہا ایسے کئی قطرے اُس کے پورے وجود پر پڑیں تو سکھ آ جائے۔

اّسے اُس وقت اپنا جسم اتنا بےجان لگا جیسے شیدے قصائی کی دوکان پر آنکڑے میں سے لٹکا ننگا بکرا؛ کھال کے بغیر ٹھنڈا بےجان ساکت۔ عارفے حلوائی کی گرم گرم جلیبیاں یاد آئیں تو اُس کا شدت سے جی چاہا کہ وہ اپنے سردی سے برف بنے بےجان وجود کو اُس کے گرم تیل والے کڑاہ میں ڈال کر جلیبیوں کے ساتھ ہی تل دے۔” (صفحہ نمبر 42)

یہاں قاری باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر مصنفہ سے التجا کرتا ہے کہ: اب بس بھی کیجیے، رلائیں گی کیا۔

افسانے کا انجام بھی دیکھیے، بچے کے ٹھٹھرتے وجود پر ساتھ لیٹے شخص نے کمبل ڈال دیا ہے:

“کمبل کی گرمائش نے اُس کی سُن ٹانگوں میں حرکت پیدا کی تو اُسے لگا جیسے اُس کے خدا نے اُس کے چھ سات سالہ چھوٹے سے وجود کو اپنے لمبے تڑنگے جسم کی پناہ میں لے لیا ہو۔ وہ بھی اور قریب کھسک آیا۔ جسم کی گرمائش ملی تو وہ نیند کی گہری وادیوں میں اترتا چلا گیا۔

وہ اپنے خدا سے بہت خوش تھا۔

ایک ہرسکون معصوم تشکر آمیز مسکراہٹ لبوں پر ٹھہر سی گئی تھی۔ آنسو ابھی تک اُس کی پلکوں ہر موتی بن کر اٹکے تھے۔

اچانک گہری نیند ہی کی حالت میں اُسے لگا کمبل والا خدا اُس کی جان لے رہا ہے۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ! درد کی شدید لہر کے ساتھ کوئی سخت چیز اُس کی پشت میں گُھستی چلی جا رہی تھی!”

یہ انتہائی خراب افسانہ ہے۔ مصنفہ واقعات میں ڈرامائیت ابھارنے کے سلیقہ سے محروم نظر آتی ہیں۔ واقعات میں ڈرامائیت تو کجا انھیں ان کی ترتیب کا بھی شعور نہیں ہے۔ سردی کے غلو آمیز بیان کی سیدھی سڑک پر چلتا ہوا سپاٹ افسانہ بغیر کسی ڈرامائی صورتِ حال کے اچانک چائلڈ مولسٹیشن کے کھمبے سے ٹکرا کر دم توڑ دیتا ہے۔ اس سے بڑھ کر فن کارانہ عجز اور کیا ہوگا کہ اس قدر الم ناک واقعہ سے بھی افسانہ نگار کوئی المیہ پیدا نہیں کر سکی۔ اس کڈھب افسانے سے زیادہ تو ایسے واقعے کی اخباری خبر دل پر اثر انداز ہوتی ہے۔

اصل میں مصنفہ نے کرداروں کی نفسیاتی صداقتوں اور حقیقت نگاری کے تقاضوں کا خیال رکھنے کی بجائے سارا زور مصائب کے مبالغہ آمیز بیان پر رکھا ہے جس سے کہانی میں ایک عجیب سا کچا پن، سطحیت اور اتھلا پن در آیا ہے۔ حساس فن کار کرداروں کے غم ان کے طور طریقوں میں مترشح کر کے انسان کا بھیتر دکھاتا ہے؛ انھیں اپاہج بھکاریوں کی طرح کرب ناک الفاظ کی ریڑھی میں بٹھائے گلی گلی ان کے رِستے زخم دکھا کر ترحم انگیز آنسوؤں کی بھیک نہیں مانگتا۔ جذباتی خطابت کی چھری قاری کے دل میں وہی ادیب چبھوتا ہے جو فن کارانہ موزونیت سے اس کی مژہ خون چکاں کرنے کے فن سے ناآشنا ہو۔  آرٹ اور نان آرٹ میں یہی فرق ہے۔

” حویلی مہرداد کی ملکہ” میں ایک بوڑھا زمین دار، چند ٹکڑے زمین کے عوض، حسین و جمیل اور جوان مُکھو سے شادی کرلیتا ہے۔ مُکھو کی منھ زور جوانی کا طوفان  بوڑھے زمین دار کی مردانگی کو بہا کر لے جاتا ہے۔ جس پر اس کا بیٹا اپنے باپ سے کہتا ہے کہ تُو نے جو خاک چاٹنی تھی چاٹ لی۔ اب تُو فکر نہ کر، میں مر نہیں گیا۔ اس اڑیل گھوڑی کو اب میں سدھاؤں گا‘‘

لا طائل خطابت، اذیت ناک دوہرائی، کم زور بیانیے، شاعروں کو شرم سار کرنے والےغلو، سینہ سوز عبارت آرائی اور طفلانہ پیش کش جیسی خوبیوں سے آراستہ یہ افسانہ انتہائی سطحی، پوچ اور کم زور ہے۔ محض تین صفحات پر مشتمل افسانے میں دوہرائی اور غلو کا عالم ملاحظہ کیجیے:

” مگر وہ عورت کو برتنے والا عورت کو جانتا ہی کتنا تھا۔ شباب کا ایسا جوشیلا پن اور بانکا زور کہ پہلی انگرائی بھی روٹی اور وہ ہانپنے لگا۔ حکیموں کے نسخے چند راتوں کے بعد ہی کم پڑنے لگے اور اُدھر سمندر کی چھل جیسی اٹھان والا بدن جو کہ اُسے ثابت نگلنے کو تیار۔۔۔۔۔ایسی غضب کی دھوپ کا روپ کہ چیل انڈا چھوڑ دے۔” (صفحہ نمبر 46)

فی الحال چیل انڈا چھوڑ دے کے محاورے کا جو حال کیا گیا ہے، اسے چھوڑیں۔ اگلا پیراگراف دیکھیں:

” وہ سرِ شام ہی اُس کمرے کا دروازہ بند کر لیتی اور کسی منہ زور سانڈنی کی طرح اپنے سوار کو صحرا صحرا لیے گھومتی۔ سرکش شباب کی ایسی گرمی کہ دانہ بھی بُھن جائے۔ ٹھٹھرتا، کانپتا بوڑھا زمین دار جیسے جاڑے کا بخار چڑھا ہو۔۔۔” (صفحہ نمبر 40)

فی الوقت زبان و بیان کی اغلاط نظر انداز کر دیجیے اور اگلے ہی پیراگراف میں مُکھو کے منھ زور شباب کی تیسری قسط ملاحظہ فرمائیے:

“ایسی منہ زور اڑیل گھوڑی؛ کوئی قابو پالے تو ہوا میں لے اڑے اور زرا جو قابو سے نکل جائے تو مٹی میں رول دے۔ بوڑھا زمین دار چند مہینوں ہی میں حواس کھو بیٹھا۔ ” (صفحہ نمبر 40)

یاد رہے کہ صفحہ نمبر 44 اور 45 پر بھی مُکھو کا حسن تین چار مرتبہ ایسے والہانہ پن سے کیا گیا ہے کہ افسانہ مُکھو نامہ میں منقلب ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

مصنفہ کے بیشتر  افسانوں میں جذبات کے بے قابو گھوڑے اپنی ننگی پیٹھوں پر، اتھلی صنعت گری، سطحی مشاطگی اور عشوہ فروشی کے، کوڑے سہارتے افسانوں کی ظاہری اور ہیئتی اشکال اپنے سموں تلے روندتے جاتے ہیں۔ اور ان  سے اڑتی جلد بازی، خودنمائی، اور خام کاری کی دھول قاری کی بصارت چھین لیتی ہے۔

دوہرائی اور غلو آمیزی کے ساتھ ساتھ مصنفہ کی خیال آرائی اور بچکانا پیش کش بھی ملاحظہ فرمائیں:

“اُس کی غیرت کا کوئی اور سوار بنے، یہ اُسے کسی طور گوارہ تھا۔ اب یہ اُس کی پگ کا ہی مسئلہ نہ تھا، کوئی اور ہوتی تو گولی خرچتے دیر نہ لگاتا مگر وہ مُکھو تھی؛ اُس کے بڑھاپے کا عشق۔ نتیجہ وہی کہ ڈیرے میں پڑے رنگین پلنگ کی پٹی سے جا لگا۔”

پورے افسانے میں مُکھو کے ساتھ زمین دار کے عشق کا تذکرہ نہیں ہے اور نہ ہی کہیں یہ مذکور ہے کہ وہ کسی کے ہاتھ اُس کی غیرت کا سودا کر رہی ہے۔ رہا  زمین دار کا بیٹا تو اس کے مُکھو کی باگیں تھامتے ہی زمین دار کا شِملہ تو دوبادہ اونچا ہو گیا ہے:

“تو نے جو کھے ( خاک) کھانی تھی اِس عمر میں کھالی۔ اب فکر نہ کر۔ ہمارے پُرکھوں کی ریت ہے کہ ہم ایسی اڑیل گھوڑیاں سدھاتے رہتے ہیں۔ اپنی عزتیں ہم گھر میں ہی سنبھال لیتے ہیں۔ بے فکر ہو جا۔ میں مر نہیں گیا۔” وہ باپ کی پیٹھ ٹھونک رہا تھا یہ سنتے ہی بوڑھا زمین دار اٹھ کر بیٹھ گیا۔ جانے کہاں سے اتنی طاقت آ گئی تھی کہ کچھ ہی دیر میں اُونچا شملہ نکال کر ڈیرے میں آئی ‘ بانہہ’ ( گھر سے کسی کے ساتھ بھاگی ہوئی لڑکی) کا فیصلہ کرنے چل پڑا۔ اُس کے شملے میں مکھو کے آنے سے پہلے والی اکڑ تھی اور زمین کو یوں روندتا ہوا جا رہا تھا گویا مکھو کے منہ زور شباب پر پاؤں رکھتا ہو۔” (صفحہ نمبر 47)

اور اس کے ساتھ ہی یہ بے مثال افسانہ ان سطور کے ساتھ اختتام پذیر ہو جاتا ہے:

“حویلی کے ایک کمرے سے کھلکھلاہٹ نکلی اور پورے ڈیرے میں پھیل گئی۔

آج تک باپ بیٹے نے عورت کو برتا ضرور تھا مگر عورت کو جانتے نہیں تھے۔” (صفحہ نمبر 47)

جتنا یہ افسانہ بے ہودہ ہے اتنی ہی اس کی پیش کش واہیات ہے۔ کم از کم اس منصفی پر مصنفہ تعریف کی حق دار ہیں کہ انھوں نے روح کا چلن دیکھ کر اس کے لیے فرشتے منتخب کیے ہیں۔ کہانی میں کوئی اتار چڑھاؤ نہیں، کوئی تجسس اور دل چسپی کا سامان نہیں۔ یہ افسانہ اسی وقت منکشف ہو گیا تھا جب پہلی مرتبہ مُکھو نے زمین دار کے بیٹے کو دیکھا تھا۔

مصنفہ کے افسانوں کے قطعی اور آخری معانی پہلے ہی آشکار ہیں لیکن وہ ایک کند ذہن طالب علم کی طرح انہیں با آوازِ بلند دوہرا کر صورتِ حال مزید ناقابلِ برداشت بنا دیتی ہیں۔

“دنانیر بلوچ” میں لاپتہ افراد کے المیے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ دنانیر کا مجسمہ ساز محبوب اس کی قوم کے کئی دوسرے افراد کی طرح ایک مِسِنگ پرسن ہے۔ وہ اس غیر قانونی فعل کے خلاف جدوجہد کرتی ہے اور بالآخر خود بھی ان مقتدر قوتوں کا نشانہ بن جاتی ہے جو اصل میں اس الم ناک صورتِ حال کے زمہ دار ہیں۔

مصنفہ نے لاپتہ افراد کے غم و اندوہ کو فن کار کی پتھریلی آنکھ کی بجائے ملکہء جذبات کی بھیگی ہوئی آنکھ سے دیکھا ہے۔ اسی لیے فنی منظر دھندلا گیا ہے۔

لاپتہ افراد کا مسئلہ، انسانی سطح پر ایک انتہائی دل خراش اور اذیت ناک واقعہ ہے۔ کوئی بھی حساس شخص اس کرب اور  دکھ کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا جس کی آگ میں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ ہر لمحہ جل رہے ہیں۔ مصنفہ کی انسان دوستی بھی یقیناً قابلِ احترام ہے۔ لیکن افسانہ ایک ادبی صنف ہے جسے صرف اور صرف ادبی تناظر ہی میں پرکھا جا سکتا ہے۔ مجھے کہنے دیجیے کہ یہ حواس باختگی کے عالم میں لکھی گئی کہانی ہے جس کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔ جس میں کوئی کش مکش، ادبی رکھاؤ نہیں محض جذباتیت اور خطابت ہے جو زندگی کی حقیقت کو آرٹ کی حقیقت نہیں بننے دیتی۔ مصنفہ کی اس تحریر سے کچے اذہان کو جذباتی انگیخت تو مل سکتی ہے لیکن انھیں اپنے جذبات کی تنقیح کا موقع نہیں مل سکتا:

” دنانیر کے ناخنوں کے نیچےتشنہ وریدوں کی تشنگی اَدھورے مجسمے کے پہلو میں چھوڑ کر مجسمہ ساز کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر اٹھائے ننگے پاؤں موہنجوڈارو جیسے اُجڑے شہروں کے انصاف پسندوں کے سامنے بھاگتی پھر رہی ہے۔ اُس کے اردگرد سوال مکھیوں کی طرح بھنبھنا رہے ہیں۔۔۔۔سوال جو متوجہ کرتے ہیں، سوال جو پسلیوں میں تیر کی طرح کُھبتے ہیں، سوال جن کی آواز کا شور سینے میں چھید کرتا ہے۔ مگر وہ کہ وقت کے منجمد لمحے کو ڈالی گئی چٹخنی کی زنجیر میں پڑے تالے جیسی، جس کی چابی اُس صندوق میں بند ہے جیسے کھولا ہی نہیں گیا۔ مگر کیا سارے تالے صرف ایک ہی چابی سے کھلتے ہیں۔” (صفحہ نمبر 49)

مصنفہ نے اس افسانے میں بھی حسبِ تصنیفی عادت، کسی کردار کی زندگی کی کہانی نہیں سنائی؛ کردار کی آڑ میں اپنے احساسات کے غیر فن کارانہ نمونے پیش کیے ہیں۔ یہ افسانہ نہیں مصنفہ کے ادھ کچرے افکار پر مبنی پمفلٹ ہے۔ یہ بھی دیکھیے:

” سوال جو دنانیر کی اونچی منڈیروں پر کائیں کائیں کرتے کسی نئے خواب جیسے مہمان آنے کا سندیسہ دیتے، وہ منڈیر جس کی دیواروں کے اندر دنانیر رہتی تھی مگر اب وہ ایک تصویر کے فریم میں قید ہے، وہ فریم جو اُس کی دیواروں پر لگتا تو دیوار نگل جاتا مگر اب وہ اُس فریم میں منجمد لمحے کی قید میں ہے۔ ساری تصویر برف کے گولے جیسے وعدوں کے نیچے ٹھٹھرتی ہے مگر اُس کی آنکھیں ۔۔۔۔جو نقطہء انجماد میں بھی کسی مشعل کی طرح ٹمٹماتی رہتی ہیں۔۔۔اور اُس کا دماغ جو بہت باخبر ہے۔۔۔جس کے زندہ ہونے کی اس سے بڑی گواہی اور کیا ہوگی؟ کہ اُس کے سر پر منجمد تصویر سے اُڑان بھرنے کا خیال ققنس بن کر ٹمٹماتا ہے۔۔۔۔ققنس جو اپنی راکھ سے جنم لیتا ہے۔” (صفحہ نمبر 50)

مصنفہ کی زبان کے افلاس کا یہ عالم ہے کہ وہ سیدھی اور صاف بات بیان کرنے پر بھی قدرت نہیں رکھتیں۔ ” دنانیر کی اونچی منڈیروں”  اور “وہ منڈیر جس کی دیواروں کے اندر دنانیر رہتی تھی” جیسے لایعنی اور بےڈھب جملے لکھنے والی لقوہ زدہ زبان کے چہرے پر صناعی اور لفاظی کا جتنا بھی غازہ مَل دیا جائے، اُس کا منھ ٹیڑھا ہی رہے گا۔ یہ بھی ملاحظہ فرمائیں:

“اُس کی کہانی کوئی آفاقی یوٹوپیا ہے؟ جسے ایک مچھیرا اتفاقاً دریافت کر بیٹھا ہو یا تنگ گھاٹی سے وہ آڑو کے شگوفوں کے دریا میں اُترے تو اُسے اُن پانیوں میں ہجر کی صدائیں سنائی دی ہوں۔ نہیں! وہ اسی زمین پر ایستادہ دنیا کی کہانی ہے، دنانیر کی دنیا۔ وہ ہجر جو اُس دنیا کی دریافت سے پہلے دنانیر کی زمین کی مٹی پر چھڑک دیا گیا تھا۔ آڑو کی پتیوں کے دریا میں بانس کی نازک ڈنڈیوں سے بنی کشتی چلاتے، ہجر کے گیت گاتے اور فرار کے آسمان پر مزید موتی ٹانکتے لوگوں کی دنیا، شمشان گھاٹ کے جیسی یا کسی قتل گاہ کی مانند:

یہ کہانی بہت پرانی ہے

یہ تب کی بات ہے جب دنانیر آسمانوں کے ہنڈولے میں جھولتی تھی۔ یہ لوگ دنانیر کے ہیں، یہ گول سر والے زرد اور بیمار، جن کے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا تھا۔۔۔۔؟

نہ ہوتے۔۔۔۔!

مگر وہ ہیں۔” (صفحہ نمبر 50)

یہ فکشن کی بجائے مکاشفہء آسمانی کی زبان لگتی ہے۔ سارے افسانوں میں زبان اتنی یکساں ہے کہ لگتا ہے ایک ہی افسانہ پڑھ رہے ہیں اور وہ بھی الفاظ کا ایسا بلبلہ جو حافظے کو چھونے سے پہلے ہی پھٹ جاتا ہے۔ اس مجموعہ میں ایک بھی کہانی ایسی نہیں جس نے فن کو معنیء حیات کا انکشاف بنایا ہو۔  کم و بیش تمام افسانوں کا آہنگ اور لب و لہجہ ایک جیسا ہے جو قاری کو بوریت کے نِت نئے پہلوؤں سے متعارف کراتا ہے۔

افسانہ نگار نے معمولی پن سے بچنے کے لیے درجہ سوئم کے فن کاروں کا تیار کردہ لفاظی، جذباتیت، صناعی اور فیشن ایبل  آدرشوں کا پرانا نسخہ بڑے کڈھب انداز میں استعمال کیا ہے اور انہی کی طرح ناکام ہوئی ہیں۔ بڑا فن کار بڑی سے بڑی بات ٹھہراؤ، سادگی اور سبھاؤ سے کرتا ہے، عامیوں کی طرح فن کے لباس کو لفظوں کی آگ لگائے، موضوع کی خودساختہ بلندی سے چھلانگ لگا کر تحریری کرتب بازی کی داد طلب نہیں کرتا۔

مجھے فارحہ ارشد صاحبہ کے افسانوں میں تخلیقی تخیل نظر نہیں آیا۔ دل چسپ، معنی خیز اور ڈرامائی واقعات کی شدید قلت نے ان کے بیشتر افسانوں کو مظلوم خواتین کے لجلجی خاکے بنا دیا ہے۔ واقعہ نگاری ہی سے تو فن کار کے تخیل اور قوتِ بیان کے جوہر کھلتے ہیں۔ وہ احساس جو فکر کے قالب میں نہیں ڈھلتا؛ لفظی شبیہ میں ڈھل کر اپنی معنویت کیسے ظاہر کر سکتا ہے۔ ہر افسانہ ایک دوسرے سے بڑھ کر چھچھلا، عامیانہ اور کھوکھلا ہے۔ افسانوں میں جو کچھ ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے اندریں حالات اس کا قیاس ہر قاری کر سکتا ہے۔ صنعت گری کی شعوری کوششوں نے حقیقت نگاری کی معروضیت کو افسانوں کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا۔ افسانے بصیرت سے عاری ہیں جن میں افسانوی مواد کم اور شعری غلو زیادہ ہے۔ کاش ان اچانک نقادوں میں سے کوئی مصنفہ کو بتاتا کہ بصیرت، نفسیاتی حقیقت نگاری سے پیدا ہوتی ہے شاعرانہ علامت نگاری سے نہیں۔ اور شاعرانہ علامتوں کا بھی اپنا ایک ڈسپلن ہے؛ یہاں تو ہذیانی کیفیات کو میں احتراماً شعری علامتوں کا نام دے رہا ہوں۔

” آرکی ٹائپل کڈھب کردار” کی یہ سطور ملاحظہ فرمائیں:

” زنجیریں جابجا بکھری تھیں اور اُن کے پاؤں غائب تھے۔ دھڑ ہواؤں میں معلق اور ہاتھ کدالوں ہر چپک گئے تھے۔ وہ اپنے جسموں کی بد صورتی کو چھپانے کے لیے جلد سے جلد گڑھوں میں اترنا چاہ رہے تھے۔ اُن کی لاشیں کھانے کو تو گدھ بھی ناپید تھے۔ عرصہ ہوا اُن کی کھوپڑیاں اِن بےرنگ چہروں کے سروں پر میخوں سے گاڑ دی گئی تھیں۔

زمین کی سنگلاخ چٹانیں اپنا منہ کھولنے کو تیار نہ تھیں اور وہ ہانپتے ہوئے آہستہ آہستہ معدوم ہوتے جا رہے تھے کہ اُن کی اپنی ہی کھوپڑیاں جانے کب سے اُنہیں اندر ہی اندر اپنے پنجوں سے نوچے چٹ کرتی جا رہی تھیں۔ اُن کے ڈھانچے ایک ڈھیر کی شکل میں گرتے اور دیکھتے ہی دیکھتے نیست و نابود ہو جاتے۔” (صفحہ نمبر 98)

مصنفہ کو کون سمجھائے کہ علامتی افسانہ تو ہوتا ہی پلاٹ کا افسانہ ہے اور ادھر پلاٹ نامی کسی شے کا وجود ہی نہیں ہے۔ بس شدتِ جذبات کا ایک سیلِ رواں ہے جو ہیئت،اسلوب، کہانیت ہر شے کو بہا کر لے گیا ہے اور اپنے پیچھے لجلجی لفاظی کا کیچڑ چھوڑ گیا ہے۔ سنجیدہ قاری یہ دیکھتا ہے کہ فن کار کا تخیل؛ استعارات اور تمثیلات کے زریعے تحریر میں جو حسن پیدا کرتا ہے اس کی نوعیت کیا ہے۔ اسے عجلت پسند قاری کی طرح لفظوں کی سرکس میں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔

شاعرانہ اسلوب اور علامتی تیکنک کے زریعے الٹی سیدھی باتوں سے افسانہ بنانا خام کاروں کا پرانا شیوہ ہے۔ اصل قصوروار تو وہ کاٹھ کے نقاد ہے جو اس اُول جلول کو مخزن الاسرار ثابت کرکے ادب میں انارکی پھیلا رہے ہیں۔ پلاٹ، کہانی، کردار نگاری، جزئیات نگاری، فضا بندی، زمان و مکان کے ربط، قصے کے اتار چڑھاؤ اور واقعے کی حقیقت پسندانہ پیش کش کو تیاگ کر قاری کو آخر دیا کیا گیا ہے:  بانجھ فکر، لجلجی جذباتیت، مصنوعی غم کا غلو آمیز مصورانہ بیان اور زبان و بیان کے افلاس کا لالی پاپ۔ یہ فکشن کی زبان نہیں خبر رسانی کی زبان ہے۔

” مونتاژ” میں مسلسل خطابت اور مستقل جذباتیت کا طوفان, کھولتے جذبات کا بے محابا اظہار، ڈرامائی صورتِ حال اور معنی خیز واقعات کا فقدان مصنفہ کے تخلیقی و تخیلی ضعف اور فن کارانہ عجز کا بلیغ اعلان ہے۔ اور اس کی دیگر وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ان فنی حربوں کا سقم بھی ہے  جو افسانوں کے موضوعات کو فن کارانہ شکل دینے میں یک سر ناکام رہے ہیں۔ کوئی ایک افسانہ ایسا نہیں جس میں کہانی  قاری کو اپنے دام میں لیتی ہو، کوئی کردار اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہوں، کوئی واقعہ زندگی کا عرفان دیتا ہو۔ ہر سو مصنفہ کی ژولیدہ بیانی کا راج ہے۔ ” امیر صادقین! تم کہاں ہو کی یہ سطور دیکھیے:

“گو کہ آواز میں طاقت ضرور ہے مگر کیا آواز کافی ہے؟ چیختی چنگھاڑتی آوازیں کائنات میں پہلے کم ہیں کیا؟ سوچنے والے تو کائنات میں بسی اِن خاموش اور غیر مانوس آوازوں کو بھی سمجھنے کی کوشش میں ہیں کہ ضرور اِس کے پیچھے بھی کوئی کائناتی رمز ہے، کوئی پوشیدہ یا مخفی پیغام ہے جو شاید اِن کی زبان سے الگ کسی اجنبی  زبان سے تعلق رکھتا ہو اور اس طرح شاید وہ کوئی نئی زبان دریافت کرلیں۔ کیسے لوگ ہیں ہم؟ ہم جلاؤ پتھراؤ کریں تو صرف اپنے لیے۔۔۔۔اپنے لیے آواز اٹھاتے خود غرض احتجاجی۔۔۔کوئی دوسرے کے لیے آواز نہیں بنتا۔ بج رہا ہے مگر سنائی نہیں دیتا۔ ” (صفحہ نمبر 110)

یاد رہے کہ یہ تقریر کئی صفحات پر محیط ہے۔

فاضل مصنفہ کے شوقِ خطابت نے افسانوں کے کرداروں کو گوشت پوست کے وجودوں سے محروم کر دیا ہے۔ وہ کہانی کو آگے بڑھانے کی بجائے مصنفہ کے افکار وخیالات کی باربرداری میں مصروف نظر آتے ہیں۔ لیکن وہ بے چاری بھی کیا کریں، جب افسانے کے کردار کسی نفسیاتی تھیم کی تجسیم کی طاقت ہی نہ رکھتے ہوں تو مسئلہ افکار و آرا ہی سے بیان ہوگا۔ ” ننگے ہاتھ” کی یہ سطور دیکھیے:

” اُس کا وار خالی کیسے جاتا جس کے اندر لاوا اُبلتا تھا اور جس نے ابھی ابھی عشق کے نام پر فریب کھایا تھا، جس نے دستار پر پاؤں رکھ کر دہلیز کی طرف قدم بڑھائے تھے؛ اُس کا وار خالی جاتا بھی کیسے؟

وہ تو آگ میں ناچتا مور تھی جس نے اپنے پیروں کو دیکھ لیا تھا۔ وہ تو ننگے ہاتھوں والی تھی۔ وہی ننگے ہاتھ جو ایک پردہ دار بی بی کے ہوں تو وہ فاحشہ کہلانے لگتی ہے۔ اُس نے تو وجود پہ تہمتوں کے کوڑے سہے تھے۔ اُس کا وار خالی جاتا ہی کیوں؟ (صفحہ نمبر 127-128)

میرے خیال میں تخلیقی تجربہ اور اس کے اظہار کے پیرائے دونوں ہی افسانہ نگار کے قابو میں نہیں آئے۔ مصنفہ اپنی فنی ناداری کو مسلسل زبان کی پُرکاری اور جذبات کی پٹاری میں چھپاتی نظر آ رہی ہیں۔ ” مونتاژ ” کے افسانوں کے تقریباً ہر صفحہ پر جبری صنعت گری، بے لگام جذباتیت اور لا طائل منصوبہ بندی کا عزرائیل،  بے ساختگی اور برجستگی کی روحیں قبض کر رہا ہے۔

فارحہ ارشد صاحبہ نے اپنے افسانوں میں تمثیل نگاری کو بھی کمال اناڑی پن سے برتا ہے۔ ان میں اس فارم کے تخیلی امکانات کھنگالنے کی صلاحیت  نظر نہیں آتی۔ یہ فن کارانہ سقم اصل میں فارم کا فہم نہ ہونے کی وجہ ہے۔ گاڑھے افسانوی مواد اور اس کی حقیقت پسندانہ پیش کش کے بغیر تمثیل لقمہء ثقیل بن جاتی ہے اور اچھے اچھے قارئین سے ہضم نہیں ہوتی۔ مصنفہ کے پاس افسانوی مواد اتنا رقیق ہے کہ تمثیل کے تِرپال سے بھی چَھن جاتا ہے۔ ” گرہن گاتھا”، ” ننگے ہاتھ”، ” بوسکی! کہانی ابھی ادھوری ہے”, اَن سکرپٹڈ”، ” ایک تصویر خدا کے بغیر” اور ” مورخ! میری تاریخ نہ لکھنا” میں جنس کے زور، پدرشاہی نظام کے جبر، عورتوں پر تشدد، مرد کی جنسی حیوانیت، مذہبی عدم برداشت اور حب الوطنی کی آڑ میں قوم کے جوانوں کی زندگیاں چھیننے کے ریاستی ظلم جیسے پیش پا افتادہ موضوعات کو فقط زورِ بیان سے فن پارہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جدید سماجی، مذہبی اور سیاسی  مسائل کو علامتوں اور  تمثیلوں کی عینک سے دیکھنےکا مطلب ہے کہ افسانہ نگار ان حقائق کو حقیقت پسندانہ اسلوب کی ننگی آنکھ سے دیکھنے کی سکت اور اہلیت نہیں رکھتیں۔

مونتاژ ” کے کردار، گہرے مشاہدے یا زرخیز تخیل کی پیداوار نہیں؛ سیکنڈ ہینڈ معلومات کے چمتکار ہیں۔  یہ موم کے وہ پُتلے ہیں جو زیرک قاری کی نگاہِ اولیں کی معمولی سی تپش سے صفحات ہی پر پگھلنے لگتے ہیں۔ ذوقِ تپش سے ناآشنا ان موم پاروں میں وہ سکت نہیں کہ مثلِ شمع، بزمِ فن کو حاصلِ سوز و ساز دے سکیں۔ پورے مجموعہ میں ایک کردار بھی ایسا نہیں جو ثمر آور مطالعہ کی بنیاد بنے؛ جو پیچیدہ اور تہہ دار ہو، جو کسی سرسری نفسیاتی مطالعہ کی بھی دعوت دیتا ہو۔

ان کرداروں میں نفسیاتی گہرائی، جذباتی پیچیدگی اور انسان کے بھیتر کی گھتیاں نہیں ہیں۔ پورے مجموعہ میں ایک بھی ایسا کردار نہیں جس کا کوئی فعل، عمل، ردِ عمل، ذہنی و نفسیاتی کش مکش اور مکالمہ آپ کے زہن پر نقش ہو کر انسانی تماشے کی بوالعجبیوں کے راز افشا کرتا ہو۔ ان یک رنگے کرداروں پر جو کچھ بھی گزرتا ہے صیغہء مبالغہ ہی میں گزرتا ہے جس کا حاصل وصول ایک مضحکہ خیز میلو ڈرامائی صورت حال کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ کرداروں کے دکھ اور تکلیف کا ہے در پے بیان افسانے کی ممکنہ کیفیات بھرشٹ کر کے اسے اس تاثر  سے بھی یک سر محروم کر دیتا ہے جو ایک دکھی وجود کی خاموش اذیت سے پیدا ہوتا ہے۔ ” اماں ھُو مونکھے کاری کرے ماریندہ” کی یہ سطور دیکھیے:

” جسم نے عشق کا بوجھ اٹھانے سے بےبسی ظاہر کی تو روح تھر کے ریگستانوں میں، صحراؤں میں، ببول کی ٹہنیوں پر ننگے پاؤں بھاگتی لہولہان ہونے لگی۔” ( صفحہ نمبر 69)

یہ بھی ملاحظہ کیجیے:

” اماں سر پکڑ کر بیٹھ گئی، باپ اور بھائی کی نگاہیں برچھیاں بن کر اُس کے وجود کے آرپار ہوئیں، بھرجائی نے طعنوں کی زد میں آ لیا۔

جسم اپنے اندر پلتے نئے وجود کے بوجھ سے گریزاں۔۔۔ناتوانی اور آٹھ ماہ کا تشدد الگ۔۔۔اُس پر ہجر کا طوفان۔

مصیبتوں اور آزمائشوں کا سورج سوا نیزے پر آ کر دہکنے لگا۔” (صفحہ نمبر 71)

” آدھی خود کشی” کی ان لائنوں نے تو لفظوں کو بھی اشک بار کر دیا ہے:

” پوری زندگی کا سکھ نہ پوری موت کا۔

ہم وہی ہیں جنہیں بدعا دی گئی کہ ہمیں قبر بھی نصیب نہ ہو۔

مقدس بھیڑوں کے جلنے کی بّو کسی قدیم قصے سے آ رہی ہے۔ اُن کے مقبرے تیار ہو رہے ہیں اور ہمیں زمین نے اپنی گود میں اتارنے کا اذن نہیں بخشا۔

ہمیں کوئی چٹھی نہیں آتی، نہ ہی ہمارے لیے چھال میں لپٹی کوئی مقدس کھجور آتی ہے۔

ہماری گواہی کے لیے غیب سے کوئی آیت نہیں اتری۔

ہم آسمان اور زمین کے درمیان معلق ہیں۔

ہم مجبور ہیں۔

مہجور ہیں۔

رنجور ہیں۔” (صفحہ نمبر 81-82)

ظلم و ستم کا الم ناک بیان اور بہیمیت کو اذیت ناک بنانا آسان راستہ ہے اور ان کے رقت انگیز بیان سے جو جذبات ابھارے جاتے ہیں وہ بھی بہت سستے ہوتےہیں کیوں کہ ان میں قرینہء حیات کے آہنگ کو سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔  مشاق ادیب ان ترغیبات سے دامن بچا کر چلتا ہے۔ واقعے کی بجائے اس کے بیان سے لہو بہا کر اسے اذیت ناک بنانا غیر فن کارانہ کام ہے۔ معمولی واقعہ کو ڈرامائی صورتِ حال میں بدل دینا اصل فن کاری ہے۔ فارحہ ارشد صاحبہ، ایک کم زور افسانہ نگار کی طرح اپنی تحریروں کو تکلیف دہ بنا کر خود بھی جذباتی ہوئی ہیں اور ہمیں بھی رقت کا شکار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ بودی کاوش افسانوں کو المیے نہیں بنا پائی۔

لیکن اصغر ندیم سید صاحب کا خیال ہے کہ مصنفہ نے اپنے کرداروں کے لیے ہم دردی پیدا کرنے کی کوشش تو کی ہے مگر جذباتی پیرایہ اختیار نہیں کیا۔ موصوف فرماتے ہیں:

کردار کبھی بھی محض نام یا نمایئندہ نہیں ہوتا وہ انسان بھی ہوتا ہے۔ اور فارحہ ارشد نے ان تمام کرداروں کو انسان کی طرح دیکھا ہے اور کوشش کی ہے کہ ان سے ہمدردی تو محسوس ہو جائے لیکن ان کے لیے جذباتی پیرایہ اختیار نہ کیا جائے۔”

موصوف کی رائے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یا تو سرکار نے فارحہ ارشد صاحبہ کے افسانے نہیں پڑھے یا پھر حضور جذباتی پیرائے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ایسے عمومی تبصرے اصل میں پہلے سے تیار شدہ “جس کو فِٹ اس کو گفٹ” ٹائپ وہ تاج ہیں جن کے لیے سر بعد میں تلاش کیے جاتے ہیں۔ اور اس مرتبہ اس تاج میں مصنفہ کا سر ڈالا گیا ہے۔

فارحہ ارشد صاحبہ کے افسانوں میں لجلجی جذباتیت، سستی رومانیت، خطابت، جبری صنعت گری اور واضح منصوبہ بندی کی زمہ دار دراصل ان کے افسانوں کی ناقص فارم ہے۔ افسانے کی گاڑی کے اگلے پہیے خودکلامی اور واہماتی احساسات کے ہیں اور پچھلے وہیل انشائیے اور تمثیل کے۔ مختلف سائز کے پہیوں پر جھولتی یہ گاڑی فرلانگ بھر بھی نہیں چلتی کہ واقعات کا ایندھن ختم ہو جاتا ہے۔ جذباتیت اور غلو اسے دھکا لگانے لگتے ہیں لیکن چند گام بعد ہی تھک کر سڑک کنارے بیٹھ کر ہانپنے لگتے ییں۔  خاطر نشان رہے کہ ادیب اپنی جذباتی شخصیت کو افسانہ سے باہر رکھنے کے فن سے محروم ہو تو تحریر جذبات کا روزنامچہ بن جاتی ہے اور افسانہ انشائیہ بن کر زندگی کی بجائے شخصیت کا اشتہار بن جاتا ہے۔

مصنفہ کے افسانوں کا تاثر یک طرفگی اور تاریکی کا ہے؛ پہلوداری اور رنگا رنگی کا نہیں۔ وہ اسالیب اور موضوعات کا تنوع پیدا کرنے میں بُری طرح سے ناکام رہی ہیں۔ وہ ایک ہی افسانہ لے کر کبھی بلوچستان کی سرزمین پر اترتی ہیں تو کبھی پنجاب کے میدانوں کا رخ کرتی ہیں۔ ابھی کشمیر کی شاداب وادی میں داخل ہوئیں اور ابھی تھر کے صحراؤں میں جا پہنچیں۔ وہ شہر شہر ، نگر نگر صرف اسی ایک ہی افسانے کا اٹیچی کیس اٹھائے گھوم رہی ہیں۔ لیکن ہمارے درشنی نقادوں اور تبصرہ نگاروں کو شہر بدلنے سے افسانہ بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ جب آپ درست نمبر کی عینک لگائے بغیر منظر دیکھیں گے تو یہی ہوگا۔

موضوعاتی تنوع کا جال اصل میں مختلف لوکیلز کے کم زور دھاگوں سے بُنا گیا ہے جو صرف اناڑیوں کو پھانسنے کے لیے ہیں۔ مشاق قاری کی نگاہِ اولیں ہی اِسے پھاڑنے کے لیے کافی ہے۔  بلوچستان کی دنانیر، پنجاب کی زہرا، تھر کی سکھاں، ” دس گھنٹے کی محبت کی پہاڑی لڑکی کی زبان، طور طریقے اور جذباتی اُبال کم وبیش یکساں ہے۔ بیشتر افسانوں میں عورت جنسی معروض اور مرد وحشی درندہ ہے. ” حویلی مہرداد کی ملکہ” کی مکھو اور بڑا زمین دار، ” توبہ سے زرا پہلے” کی بلقیسی اور بڑے جاگیر دار، ” اماں ھُو مونکھے کاری کرے ماریندہ” کی سکھاں اور جمن، ” آدھی خودکشی” کی میز نمبر سات پر لیٹی لڑکی اور مچھلیاں بیچنے والا شیطان، ” دس گھنٹے کی محبت” کی خوب صورت لڑکی اور اُس کا بے وفا محبوب، “شب جائے کہ من بودم” کی رقاصہ اور جاگیردار کا افسر دوست، “ان سکرپٹڈ ” کی امبو اور باؤ جی اور “ننگے ہاتھ” کی محبوس لڑکی اور اس کا فریبی محبوب: عورت کی جنسی معروضیت اور مرد کی درندگی بیان کرتے کردار ہیں۔ مذکورہ افسانوں کی طرح “آرکی ٹائپل کڈھب کردار”, “بوسکی! کہانی ابھی ادھوری ہے”اور “ایک تصویر خدا کے بغیر” بھی مظلوم عورتوں کے نوحے ہیں۔ جب کہ ” گرہن گاتھا” کا مرد روایت کا مارا اور “بی فور دی ایور آفٹر” میں لال حسین کی نرینہ اولاد بے حس اور نافرمان ہے۔ عورت اور مرد کے تعلق کی بابت مصنفہ کا نقطہء نظر ملاحظہ کیجیے:

” آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگیں، چھم چھم برستی آنکھیں۔ ایک مرد کے فریب پہ ۔۔۔وہ بھی تو ایک مرد تھا، اِسی بستی کا ایک مرد۔ اُن ننگے ہاتھوں کی نحوست چار دیواری کے اندر ہی پھینکنا چاہتا تھا۔” (’ننگے ہاتھ‘ صفحہ نمبر 127)

” اُس کے پاس دوست کو اُس کمرے کے لیے دینے کو کچھ نہ تھا سو اس نے مجھے پیش کر دیا۔ اُس کے دوست کے ہاتھ لگانے سے پہلے میں نے آخری بار اُس کی طرف محبت سے دیکھنا چاہا مگر محبت اپنا وقت پورا کر چکی تھی۔

محبت ۔۔۔۔کئی قدم دور جا کھڑی ہوئی اور میرا جسم نکاح والا اور بِنا نکاح والا جھنجھوڑتے رہے۔ خالی دل والے کو کوئی کہیں بھی پھینک دے وہ اپنے اندر لڑنے کی طاقت ہی نہیں پاتا۔ میرا حال بھی ایسا ہی تھا۔ جب اُس کی جنسی کشش کم ہوئی تو وہ مجھے یہاں پھینک گیا۔ اُس نے کیا پھینکنا تھا، میں نے ہی خود کو پھینک ڈالا۔ ایک گدھ نوچے یا ہزار کیا فرق پڑتا ہے۔” (“دس گھنٹے کی محبت” صفحہ نمبر 86)

” اُس نے مچھلیوں کی باس سے اٹی تاریک کھولی میں لا کر مجھ پر ہر نسل کے کتے چھوڑ دیئے۔ میں بھوکی پیاسی تڑپتی رہی اور وہ چند دنوں میں ہی کورے نوٹوں کی گڈیاں دیکھ کر پاگل ہو گیا۔ سونے کے انڈے دینے والی مرغی کا پیٹ چاک کر کے انڈے نکالنے بیٹھ گیا۔

دن رات اُس کے گاہک میرے بھوکے پیاسے جسم کے ہر ممکنہ عضو کو استعمال کرتے رہے۔” (“آدھی خود کشی” صفحہ نمبر 79)

” باؤ جی کی ریشمی لباس میں چھید کرتی نگاہیں تن۔من میں جا گھستیں یا چھوٹے راجپوت کی مسلز والی گھٹی جوانی سے اُس چاک و چوبند اعضا والی کا تناؤ کھے کر دوہرا ہو جاتا۔ اُنہیں کیا فرق پڑتا ہے؟ پہلے بھی یہی ہو رہا ہے۔ مکھن پلے مرد ایسے کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے،کون روک سکتا ہے اُنہیں: وہ باندیوں پر اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں ایسے کسے ہوئے اعضا والی لڑکی کا کیا کام۔” (“ان سکرپٹڈ ” صفحہ نمبر 137)

مصنفہ، مرد اور عورت کے تعلقات کی ماہیت سے واقف نظر  نہیں آتیں۔ ان کا پیش کردہ مرد اور عورت کا  تصور بہت محدود اور اکہرا ہے۔ فاضل افسانہ نگار کا پتھروں، پھولوں اور دیگر اشیاء سے متعلق علم شاید قابلِ زکر ہو لیکن ان کا انسان اور اس کی اخلاقی، سماجی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا مشاہدہ اور علم بڑا سطحی ہے۔ افسانہ نگار نے انسان کے بھیتر جھانک کر نہیں دیکھا محض اس کی آہوں اور سسکیوں کو سنا ہے یا اس کے رِستے زخموں اور بہتے آنسوؤں پر عاجلانہ نگاہ ڈالی ہے۔ انسان کے بھیتر کا علم،  اس کے نفسیاتی، اخلاقی اور سماجی مسائل کا شعور نہ ہو تو افسانے کے کردار محض لفظی گھوڑے بن کر صفحات پر لوٹنیاں کھاتے ہیں کسی معنی خیز عمل سے زندگی کے عرفان کا زریعہ نہیں بنتے۔

عورت کی وفا اور مرد کی بے راہ روی اور فریب کی کہانی کرداروں کی کہانی ہوتی ہے لیکن فارحہ ارشد صاحبہ اسے اخباری خبر کی طرح فٹافٹ بیان کرکے اپنی فن کارانہ زمہ داری سے بری ہو جاتی ہیں۔ قاری جاننا چاہتا ہے کہ اس بے فریب اور بے راہروی میں انسانی فطرت کہاں کہاں زمہ دار ہے اور کس کس مقام پر یہ الزام انسان کی عادات و خصائل کے سر دھرا جا سکتا ہے۔ قاری کی یہ بےچینی صرف جیتے جاگتے کردار دور کر سکتے ہیں جنہیں لفاظی سے نہیں واقعات سے ابھارا گیا ہو۔ لیکن ایسے کرداروں کی تخلیق مصنفہ کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔ وہ آسان راہ کا انتخاب کر چکی ہیں اور کرداروں کے عمل کی بجائے فقط عبارت آرائی سے کام لے کر قاری کے ذہنی خلجان کو بڑھانے میں مصروف ہیں۔ جو کام کردار، ان کے عمل اور افسانوی صورتِ حال کو ہم آمیز ہو کر کرنا چاہیے تھا وہ کام صرف اور صرف تقریری بیانیہ سے لیا جا رہا ہے۔ حساس اور جذباتی فن کار کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو افسانوی عمل سے علاحدہ رکھے اور کہانی کو خود بیان کرنے کی بجائے ایسا کردار تخلیق کرے جو اس کی جذباتیت، خطیبانہ بیانیے اور شاعرانہ غنائیت کو قابو میں رکھ سکے۔ افسانہ نگار نے شاید اس فنی احتیاط کو تکلفِ زائد سمجھا ہے اور شہر شہر، گلی گلی، چمن چمن، کلی کلی اپنے ادھ کچرے افکار و احساسات کا بھونپو بجایا ہے۔

حساس فن کار کرداروں کے غم ان کے طور طریقوں میں مترشح کر کے انسان کا بھیتر دکھاتا ہے؛ انھیں اپاہج بھکاریوں کی طرح کرب ناک الفاظ کی ریڑھی میں بٹھائے گلی گلی ان کے رِستے زخم دکھا کر ترحم انگیز آنسوؤں کی بھیک نہیں مانگتا۔

کچھ تبصرہ نگاروں نے اس کتاب کے اسلوب اور زبان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ ہئیت اور مواد کے ربط کا انتہائی بنیادی قاعدہ بُھلا بیٹھے ہیں۔ کم زور کردار، طفلانہ واقعہ نگاری، پلاٹ کی دروبست کے اسقام اور سطحی مواد کے ہوتے ہوئے محض اسلوب اور زبان کی مدد سے اچھا افسانہ کیسے بن سکتا ہے: یہ سوال ان تمام جملہ صاحبان سے ہے جو اس مجموعہ کی زبان اور اسلوب کے فوری قتیل ہوئے ہیں۔ رہی زبان کی بات تو اس بابت بھی ان کی رائے اتنی ہی ناکارہ ہے جتنی متن اور مواد کی بابت بودی ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

” عشق کی اڑان تو تلور طیور سے بھی تیز نکلی۔” (صفحہ نمبر 69)

زبان و بیان پر عبور دیکھیے:

” وہ اس کو ننھے بچے کی طرح صابن کی ٹکیہ مل مل کر نہلانے لگتی۔”

ایسے بےڈھب اور زومعنی جملوں سے یہ مجموعہ مالا مال ہے۔ یہاں فاضل مصنفہ غالباً یہ کہنا چاہ رہی ہے کہ وہ صابن کی ٹکیہ مل مل کر اسے ایسے نہلانے لگتی جیسے ننھے بچے کو نہلایا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیے:

” وہی سیاہ بخت نسل؛ مکار کوؤں کی نسل جو معصوم لوگوں کی زندگیاں آباد کرنے کا ہنر بھول چکے تھے، جن کی فاختاؤں کا دوسرا جنم گدھ کی صورت میں ہوا تھا۔” (صفحہ نمبر 28)

اندازہ کیجئے کہ ہمارے ہاف فرائی نقاد کس ہذیان کو عرفان ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ مصنفہ کی قدرتِ بیان کے ساتھ ساتھ ندرتِ خیال بھی دیکھیے۔ یہ ارتقائی حقیقت آج ہی میرے علم میں آئی ہے کہ مکار کوؤں کی نسل کبھی معصوم لوگوں کی زندگیاں آباد کرنے کا ہنر بھی رکھتی تھی۔ اور پھر ان مکار کوؤں کی نسل کی فاختاؤں کا دوسرا جنم گدھ کی صورت میں ہوا۔ لاحول ولاقوۃ

محولہ بالا اقتباس کے بعد اقبال خورشید صاحب کی رائے پڑھیے۔ آپ کو اردو تنقید کے دیوالیہ پن کے زمہ داروں کا سراغ مل جائے گا۔

” یہ افسانے قاری ہر گہرا نقش چھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بالخصوص ان کی فکری جہت اور زندگی میں سانس لیتی شاعرانہ نثر۔”

مصنفہ کی زبان و بیان پر دسترس دیکھیے:

“وہ ادھ مرا ہوا پڑا تھا مگر پھر بھی کہیں رکنے کو تیار نہ تھا۔” (صفحہ نمبر 29)

عرفان جاوید صاحب نے بھی مصنفہ کی زبان و بیان پر گرفت کو قابلِ ستائش قرار دیا ہے. موصوف سے میرا سوال ہے کہ کیا یہی وہ بلاغتِ التیام ہے جس کے آپ ستائش گر ہیں:

” وہ جس کی ٹانگیں اور گھٹنے جگہ جگہ سے کپڑوں سمیت رگڑ سے گِھس چکے تھے اور ہڈیاں پتھروں سے بار بار ٹکراتی رہی تھیں، اُن سے بھاگا نہیں، بہ مشکل چلا ہی جا سکتا تھا مگر کیا کریں کہ وہ سوچتا بہت تھا۔” (صفحہ نمبر 29)

” وہ کچے گھر کا سادہ سا لڑکا زمینی حقائق سے جڑے جبر کے سیاہ ماتھے پر انکار کا روشن کلمہ لکھ رہا تھا۔ ” (صفحہ نمبر 29)

زمینی حقائق سے جڑے جبر کے سیاہ ماتھے کا جواب نہیں۔

“اس نے کئی بار مدرسے کے مولوی صاحب کو لڑکوں سے اکثر یہ کہتے سنا تھا۔” (صفحہ نمبر 41)

” ایسے غضب کے روپ کی دھوپ کہ چیل انڈا چھوڑ دے ۔” (صفحہ نمبر 46)

” لمس کی حرارت بی بانہ کے ہاتھ سے میرے ہاتھ ہوتی مجھ میں منتقل ہونے لگی۔” (صفحہ نمبر 60)

” وہ پوری قوت سے، بند لبوں سے سانول کو پکار رہی تھی۔ ( صفحہ نمبر 72)

” میرے ساتھ والے میز کی عورت کتنی بےچین ہے؛ کبھی اپنے جسم کی پائنتی کی طرف بیٹھ جاتی ہے کبھی اُس کے سر کی طرف۔” (صفحہ نمبر 75)

” وہ بہت کم کم آتا حالانکہ اُسے میرے گھر آنے پر کوئی پابندی نہ تھی۔” (صفحہ نمبر 107)

” زور کا جھٹکا، بہت زور سے لگا تھا۔” (صفحہ نمبر 111)

“زمین کی رگوں نے میرے قدموں کے نیچے سانسیں لینا شروع کردیں۔” (صفحہ نمبر 114)

” اور دل تھا کہ اس پہ اثر ہوتا تھا، دماغ تھا کہ اس پہ بھی اثر ہوتا تھا، دل آنکھوں میں جا سسکاریاں بھرنے لگا اور دماغ نے ہاتھوں کی پشت پناہی کی۔” (صفحہ نمبر 127)

” شب جائے کہ من بودم ” کا یہ پیراگراف بھی دیکھیے:

” رات ناچ رہی تھی، وقت ناچ رہا تھا، ماحول رقص میں تھا۔۔۔۔زمین رقصاں تھی، آسمان ناچ رہا تھا، ہوا ناچتی تھی، بول ناچتے تھے، دل ناچتا تھا، دماغ ناچتا تھا، وہ ناچتی تھی کہ جہاں ناچتا تھا۔ وہ بے ساختہ سا خود بھی ناچ اٹھا۔” (صفحہ نمبر 91)

یہ پڑھ کر قاری بھی ناچنے لگتا ہے اور افسانہ قضا کر دیتا ہے۔

افسانہ نگار کی زبان میں گہرائی اور پہلوداری کا شائبہ تک نہیں۔ غیر فن کارانہ غلو اگر افسانوی زبان کی خوبی ہے تو پھر خرابی آخر کس بلا کا نام ہے۔ مرقع ساز تشبیہات، پہلوداری، تصویری پیکروں اور حاضراتی استعاروں کے ستر کے بغیر دندناتی زبان کو عمدہ کہنے والے اصل میں اسی سوچ کے نمائندے ہیں جو برہنہ بادشاہ کی خوش پوشاکی کے قصیدے پڑھا کرتے تھے۔

اب ان “فنا فی المونتاژ” نقادوں اور تبصرہ نگاروں کی من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو مارکہ آرا بھی پڑھ لیجیے جو اصل میں اس مضمون کا محرک بنیں۔ غلام حسین ساجد صاحب رقم طراز ہیں:

” موضوعی اشتراک کے باعث فارحہ ارشد کے آپس میں گندھے ان افسانوں میں اُسلوب کے حوالے سے بہت تنوع ہے۔وہ حقیقت اور فنتاسی کے امتزاج کے علاوہ کنایہ،رمز اور تجرید کے حربوں کو آزمانے میں مہارت رکھتی ہیں اور ہر افسانہ اپنے کُل میں ایک مانوس علامت بن جاتا ہے جس کی نسبت بہر طور ہمارے رذالت کے گھاٹ اترتے سماج سے ہوتی ہے۔اس لیے یہ کتاب مجھے کسی جادوگرنی کا کلاڈوسکوپ لگی جس میں روشنی کی بجائے دھوئیں سے منظر متشکل ہو رہے ہوں اور بیانیے کی تہ داری کے توسط سے امر ہوتے جاتے ہوں۔”

ایسے عمومی، ریڈی میڈ تبصروں کا زیرِ تبصرہ کتاب کے متن کے سوا ہر چیز سے تعلق تلاش کیا جا سکتا ہے۔ خاطر نشان رہے کہ موصوف اس سے قبل آمنہ مفتی صاحبہ کو بھی پیٹرک سکنسڈ، اسماعیل کادارے اور ولاس سارنگ کی صف میں (ان سے پوچھے بغیر) کھڑا کر چکے ہیں۔

غلام حسین ساجد صاحب کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اکبر خان اکبر صاحب نے بھی عمومی رائے کی ایسی پوشاک تیار کی ہے جو انشا اللہ ہر ناپ کے افسانہ نگار کو پوری آئے گی:

“فارحہ ایک اعلٰی افسانے کے تمام تر اجزاء ترکیبی کا استعمال، حسن خوبی سے کرتی ہیں. ان کے افسانوں میں واقعات کی ترتیب اور مضبوط پلاٹ کی موجودگی قاری کو تخلیق کار کا ہم سفر بنا دیتی ہیں.

ان کے افسانے پیچیدگی اور الجھاؤ سے مبرا ہیں. وہ داخلیت اور خارجیت کے ٹکروا اور کہانی کو ایک تسلسل سے آگے بڑھاتی ہوئی منطقی انجام تک پہنچاتی نظر آتی ہیں. مصنفہ کردار نگاری میں کئی زاویوں سے بہت اعلٰی روشنی ڈالتی ہیں اور ان کے افسانوں کے کردار مختلف روپ میں جلوہ نما ہوتے ہیں. وہ کفایت لفظی سے اپنے کرداروں اور ان کی شخصیت واضح کرتی ہیں.”

اقبال خورشید صاحب کا فرمانِ عالی ملاحظہ فرمائیں:

” آپ کا فکشن متاثر کن ہے، اور اس کے کئی اسباب ہیں۔ مگر بنیادی تو تین:

موضوعات کا تنوع، زبان کا تخلیقی برتاؤ اور تکنیک کا استعمال۔

پھر طبقاتی شعور – کم زور اور طاقت ور، امیر و غریب، مرد و عورت – اور فکشن کی تشکیل میں شامل مصنف کے مطالعے کی جھلک بھی نمایاں ہے۔

یہ افسانے قاری ہر گہرا نقش چھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بالخصوص ان کی فکری جہت اور زندگی میں سانس لیتی شاعرانہ نثر۔

کتاب میں قوت ہے۔

وہ توجہ مبذول کرا سکتی ہے۔ بس اٹھانے کی دیر ہے۔”

جب تبصرہ نگار متن کے دائرے سے باہر نکل کر بات کرتا ہے تو اس سے ایسے ہی ہوائی،چھچھلے اور متن سے غیر مربوط جملے ادا ہوتے ہیں۔ نہ جانے ہمارے اچانک نقادوں کو کب علم ہوگا کہ فن کار کی دل آزاری کے ڈر سے مدح سرائی کو شعار بنانے والی تنقید، بد ترین تنقید ہوتی ہے۔

عابد میر صاحب کی رائے بھی ملاحظہ فرمائیں تا کہ آپ جان سکیں کہ عصری اردو تنقید کو کیسے نوٹنکی کی سطح پر لایا جا رہا:

” ہمارے فلمی ناقدین احباب جس طرح فلموں کو فائیو اسٹار کے ذریعے ریٹ کرتے ہیں، اسی طرح اگر کتاب کو ریٹنگ دینی ہو تو میری طرف سے یہ کتاب 5 میں سے 5 اسٹار کی حق دار ہے۔ عصری اردو افسانے میں اگر کوئی چھوٹا موٹا خلا تھا بھی تو یہ کتاب اسے پر کر چکی۔”

موصوف کی تنقیدی بصیرت، وسعتِ مطالعہ اور ژَرف نِگاہی دیکھیے اور اپنا سر پیٹیے۔ تنقید کا تانگا ایسے نادر اناڑیوں کے ہاتھ آ گیا ہے جو اسے بیچ چوراہے الٹائیں گے۔

دیکھیے عمر ندیم صاحب کیا کہتے ہیں۔ دیکھیں انھیں جو دیدہء عبرت نگاہ ہو:

” اردو افسانے کا وہ معیار جس کی بنیاد منٹو اور عصمت نے رکھی تھی اپنا ادبی سفر طے کرتا ہوا جب فارحہ ارشد تک پہنچا تو افسانہ نگار کو عالمی ادب میں بہترین جگہ ملی۔ افسانے کے معیار کو جس عروج پر منٹو اور عصمت لے کر گئے اسے فارحہ ارشد نے اپنی زیرک نگاہی اور تخلیقی صلاحیت سے نہ صرف قائم رکھا ہے بلکہ اس معیار کو مہمیز کیا ہے۔ فارحہ ارشد کو سلگتی ہوئی فکر نے جب اکسایا تو قلم صفحہ قرطاس پر ہمک ہمک کر خراماں ناز ہوا۔ مونتاژ کے ہر صفحے پر ایسی ادراکی کونپلیں کھلی ہیں کہ داد و تحسین کے لیے موزوں الفاظ کی جستجو پھیکی پڑ جاتی ہے۔ یقین مانئے اک لمبے عرصے بعد کسی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کم مایئگی کا احساس دامنگیر ہے۔ پیشہ ورانہ جملے کسی اور جگہ مستعمل ہو سکتے ہیں ۔ فارحہ ارشد الفاظ و تخیل کی جس سیڑھی پر قدم رنجہ فرما چکی ہیں وہاں سے ہم عصر لکھاری بہت بونے دکھائی دیتے ہیں۔”

عابد میر صاحب نے اپنے تبصرے میں فلمی ریٹنگ کا حوالہ دیا ہے۔ ان کی رائے اور اقبال خورشید صاحب اور عمر ندیم صاحب کا تبصرہ پڑھ کر مجھے بھی بھارتی اداکار ارشد وارثی کا ایک فلمی ڈائیلاگ یاد آ رہا ہے:

” کون ہیں یہ لوگ، کہاں سے آتے ہیں یہ”

محولہ بالا حضرات کے علاوہ رفیع حیدر انجم صاحب، راشد جاوید احمد صاحب، محمد حفیظ خان صاحب، زاہد حسن صاحب، خالد فتح محمد صاحب  اور کئی دوسرے احباب نے بھی خراب نثر، پیش پا افتادہ مواد، بد آہنگ شاعری جیسے اسلوب، خام جذباتیت، ازیت ناک لفاظی اور کچی بغاوت کے کوڑ تمہ کے چورن کو مصری کا سفوف بتا کر بیچنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اصل میں یہ حضرات خراب تحرہروں کے برینڈ ایمبیسیڈر بن چکے ہیں جو بڑی مستقل مزاجی سے خراب ادب کو قارئین کے سروں پر تھوپ رہے ہیں۔

فارحہ ارشد صاحبہ کے کم زور افسانوں پر خاموش رہا جا سکتا تھا لیکن بزعم خود ادبی جغادریوں کے گھٹل، سطحی اور ادب شکن تبصروں سے جنمتے ادبی تنقید کے فزوں تر دیوالیہ پن کو دیکھ کر اپنے لبوں پر سماجی مصلحت کی مہر کیسے لگائی جا سکتی تھی۔ ایسے رویوں کو نظر انداز کرنا عملی طور پر ان کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ یہ افسانے ادبی طور پر ایسی حیثیت کے حامل نہیں کہ ان پر کوئی سنجیدہ یا معنی خیز بات کی جاسکے اور نہ ہی شاید نو آموز افسانہ نگار اس بات کی سزاوار ہے کہ اس کے اولین مجموعہ کو ایسی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جائے لیکن اس مجموعہ پر کیے گئے غیر حقیقی، غیر مدلل، ناواجب اور گم راہ کن تبصروں اور آرا نے مجھے سکوت توڑنے پر مجبور کیا۔ کیوں کہ ان تبصروں نے نا صرف ادب کے سنجیدہ قارئین کی ادبی تنقید کی گرتی ہوئی ساکھ سے متعلق پریشانی کو مزید بڑھایا ہے بل کہ ایک نو آموز افسانہ نگار کے پَر اڑان بھرنے سے پیشتر ہی کُتر دیے ہیں۔ یہ ادب دشمنی نہیں تو اور کیا ہے۔ ان موسمی نقادوں اور شوقیہ تبصرہ نگاروں نے ایک مرتبہ پھر خاشاک کے تودے کو دماوند ثابت کرنے کے چکر میں نئے لکھنے والوں کے لیے اسے بنچ مارک بنا دیا ہے۔ ان کی اس بلیغ ادب دشمنی کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ بہ قول وارث علوی:

’’خراب شاعری اور خراب افسانوں کو پڑھ کر آدمی خاموشی سے انھیں بھلا سکتا ہے، کیوں کہ چینی کے ظروف ٹیڑھے میڑھے بنے ہوں تو انھیں ایک طرف رکھ کر صحیح و سالم ظروف کو خریدا جا سکتا ہے، لیکن جب چینی کے ظروف کی دوکان میں بدمست سانڈھ گھس آئے تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کا طرزِ عمل دوسرا ہوگا۔‘‘

اگر یہ تبصرے ادبی مصلحت، گروہ بندی یا تعلق داری کی بنیاد پر کیے گئے ہیں تو شرم کا مقام ہے کہ ہم اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں جس پر ہمارا بسیرا ہے۔ اور اگر یہ آرا حقیقتاً جملہ صاحبان کی تنقیدی فکر کا نچوڑ ہیں تو ان کی تنقیدی بصیرت دو کوڑی کی نہیں۔ اور  انھیں نا معتبر بنانے کے لیے ان کے یہ تبصرے ہی کافی ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...