امن کا منشور

172

کچھ عرصہ قبل ’پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز‘ کے زیراہتمام ملک میں پائیدار امن کے حصول کے مسئلے پر غوفکر اور مکالمہ کرنے کے لیے پاکستان کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ ماہرین کو مدعو کیا گیا، اور اس کے ساتھ ایک سروے بھی کیا گیا۔ شرکاء اور سروے کے جواب دہندگان نے اس موضوع پراپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے  جن اہم نکات پر اتفاق کیا، انہیں ’امن کا منشور‘ کے عنوان کے تحت ایک مختصر کتابچے کی شکل دی گئی، جو تجزیات کے صفحات پر پیشِ خدمت ہے۔

ہم پاکستان کے شہری:

  • یہ سمجھتے ہیں کہ ہمہ گیر امن کے حصول لیے مشترکہ طور پر اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
  • حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے قول وفعل کے ذریعے واضح انداز میں یہ ثابت کریں کہ انسانیت کا احترام، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کا تحفظ و فروغ ریاست کی اولین ترجیح اور بنیادی فلسفہ ہے۔
  • اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ عوام کا حق ہے کہ ریاست انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے نرم، غیرمتشدد اور پرامن اقدامات کو ترجیح دے۔
  • اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ شہریوں کی زندگی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے فرائض انجام دیتے ہوئے بھی طاقت کااستعمال قانون کے دائرے میں اور انسانی جان وحقوق کو لاحق کسی بھی نوع کے خطرے کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔
  • یہ یقینی بنایا جائے کہ غیرمتشدد و نرم اقدامات کا استعمال جانبدارانہ یا محدود نہیں ہے بلکہ ایک جامع اور اچھی طرح سے سوچی سمجھی منصوبہ بند پالیسی کو آگے بڑھانے کے لیے ہے۔
  • پرزور مشورہ دیتے ہیں کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے کسی بھی قسم کی پالیسی وحکمت عملی تشکیل دیتے وقت تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی مشاورت وحمایت حاصل کی جائے،تاکہ اس کی قانونی حیثیت، وسیع سطح پر ذمہ داری کی قبولیت اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جاسکے۔
  • مطالبہ کرتے ہیں کہ انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے وضع کی جانے والی ماضی کی عدم تشدد پر مبنی نرم پالیسیوں کا  ناقدانہ جائزہ لیا جائے تاکہ ان کے اثرات کی جانچ کی جاسکے اور مستقبل کی پالیسی میں ممکنہ نقائص سے اجتناب برتا جاسکے۔

مزید برآں شہری تجویز کرتے ہیں کہ ریاست اپنی تمام آئینی ذمہ داریاں پوری کرے، اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز مندرجہ ذیل اُمور پہ خصوصی توجہ دیتے ہوئے قیامِ امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں:

آئین

  • پاکستان کے تمام حصوں میں آئین کا یکساں اطلاق۔
  • کسی کے مذہب، جنس، نسل، علاقے اورسیاسی خیالات سے قطع نظر تمام شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ۔
  • ہر سطح پر سیاسی، معاشی اور سماجی امتیاز وتفریق کا خاتمہ، اور تمام علاقوں میں ہر نوع کی محرومیوں کا جامع انداز سے حل۔
  • آئین میں بیان کی گئی اقدار کا فروغ، بشمول اس کے کہ عوام کے اندر ، بالخصوص نوجوانوں میں آئین کی خواندگی کو بڑھانا۔
  • قانون کی حکمرانی کو اس طرح یقینی بنانا کہ ریاست کمزور، غیرفیصلہ کن یا جانبدار نظر نہ آئے۔
  • بغیر کسی سمجھوتے یا رعایت کے نجی مسلح تنظیموں پر آئینی ممانعت کو لاگو کرنا۔
  • سماج کو آگے بڑھانے اور مواقع کی فراہمی کے لیے ریاستی اختیارات کے تحت توانائی اور وسائل کا بھرپوراستعمال، بجائے اس کے کہ سماج میں خلا چھوڑے جائیں جن سے دیگر عناصر فائدہ  اُٹھائیں۔

پارلیمان

اِس بات کو یقینی بنانا کہ

  • پارلیمنٹ کو اجتماعی فیصلہ سازی کا مرکز ومحور بنایا گیا ہے۔
  • اور یہ دہشت گردی، انتہاپسندی، نفرت پھیلانے اور امتیازی سلوک جیسے مسائل کے ساتھ قانون سازی و پالیسی سازی میں پارلیمنٹ کا واضح موقف اس امر کی عکاسی کرتا ہے۔
  • عوام کے منتخب نمائندے افغانستان اور بالعموم تمام پڑوسی ممالک کے حوالے سے پاکستان کی قومی پالیسی کو حتمی شکل دیتے ہیں۔

سیاسی جماعتیں اور سیاستدان

یہ یقینی بنانا کہ

  • مذہبی وسیاسی جماعتیں اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے صرف اور صرف آئینی وقانونی راستے اختیار کرتی ہیں۔
  • سیاسی جماعتیں انتخابی عمل میں انتہاپسند گروہوں سے تعاون حاصل نہیں کرتیں اور نہ انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
  • سیاسی جماعتیں پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واضح و جامع انداز میں رائے کا اظہار کرتی ہیں اور انتہاپسندی ودہشت گردی سے نبردآزما ہونے کے لیے اپنے خیالات پیش کرتی ہیں۔
  • سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہیں اور مواقع، قیادت اور بحث کے لیے فورم کی فراہمی کے ذریعے ان کی توانائیوں سے استفادہ کرتی ہیں۔
  • جمہوری اصلاحات عوامی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے متعارف کرائی گئی ہیں۔

شہری اور سِول سوسائٹی

  • سول سوسائٹی سماج اور ریاست کے مابین پُل کا کام کرتی ہے، لہذا ریاست اس کے ساتھ ایک مخالف کی بجائے معاون وشراکت دار کے طور پہ پیش آتی ہے۔
  • ریاست نرم اقدامات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے اور اس نوع کے اقدامات کو لاگو کرنے کے لیے سِول سوسائٹی اور مذہبی علماء کو حمایت فراہم کرے۔
  • فعال شہریت کے وجود کو یقینی بنانا، جو ایک پرامن سماج کی ضمانت ہوتی ہے۔
  • انتہاپسند قوتوں اور رویوں کے بارے میں زیادہ حساسیت کو فروغ دینا۔
  • سماجی ذرائع ابلاغ کا ذمہ دارانہ استعمال۔

مذہبی قیادت اور مدارس

  • یہ یقینی بنانا کہ مذہبی رہنما انسانیت کے لیے محبت، اتحاد اور ہم آہنگی کی اقدار کو فروغ دیتے ہیں اور نفرت انگیز بیانیوں کا سدِباب کرتے ہیں۔
  • مدارس فرقہ وارانہ عنصر کے لیے عدم برداشت کا اظہار کرتے ہوئے انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر اول دستے کے طور پہ کام کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ پیغامِ پاکستان دستاویز کی کھلی حمایت کرتے ہیں۔
  • مدارس تفرقہ پھیلانے والے مناظروں ومباحثوں میں مشغول ہونے کی بجائے مکالمے کی اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔

تعلیم

  • انتہاپسندانہ رویوں کی اصلاح تعلیمی اداروں کے نصاب کا محور اور مقصد ہونا۔
  • سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تحقیق، مکالمے اور تنقیدی شعور کے فروغ کی غرض سے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرنا۔
  • نصاب کے اندر موجود دیگر مذاہب وعقائد کے خلاف تعصب پر مبنی ، امتیازی وحساس مواد کو ختم کرنا۔

مذہبی اقلیتیں

  • پسماندہ طبقات کے حقوق اور مفادات کا تحفظ اور ان کی بہبود کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل۔
  • سماج کے پسماندہ طبقات، بشمول خواتین اور مذہبی اقلیتوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کو ترجیح دینا۔
  • کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر اس کے آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
  • ایسے شہری جو مذہبی اقلیت ہیں ان کے حقوق کے تحفظ وبہتری کے لیے موزوں ماحول کی فراہمی۔
  • پسماندہ طبقات کے لیے سکڑتی جگہ ومواقع کو بہتر بنانا اورانہیں آگےبڑھانا۔

خواتین

  • خواتین کے معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کا تحفظ اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کی مساوی شراکت کے لیے اقدامات کو ترجیح دینا۔
  • انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور اسے کمزور کرنے میں خواتین کے کردار کو فروغ دینا۔
  • تمام شہریوں کے حقوق اور مواقع میں مساوات  کو یقینی بنانے کے لیے مختلف قوانین میں خواتین کے خلاف  امتیازی سلوک کا خاتمہ۔
  • خواتین کی تعلیم تک  رسائی پر خاص توجہ۔

نوجوان

  • یہ یقینی بنانا کہ نوجوانوں کو اپنی ذات کی تعمیرو ترقی  کے لیے مواقع  تک رسائی حاصل ہے تاکہ مختلف عناصر کو پرتشدد نظریات کے پھیلاؤ اور نوجوانوں کوانتہا پسندی کی طرف راغب کرنے کاراستہ نہ ملے۔
  • نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات کی ترجیحی فراہمی۔

ثقافت

  • پاکستان کی تمام ثقافتی شناختوں کو پھلنے پھولنے کے لیے سازگار حالات کی تشکیل۔
  • کتاب پڑھنے کے کلچر کو فروغ دینا۔
  • پڑوسی ممالک کے ساتھ ثقافتی روابط کی استواری اور اس مقصد کے لیے سفر میں آسانی۔
  • مختلف طبقات کے مابین مکالمہ فروغ دینے کی سہولت تاکہ عدم رواداری، عدم برداشت اور تنگ نظری کا خاتمہ کیا جاسکے۔
  • باہمی سطح پر قربت کو فروغ دینے کے وسیلے کے طور پہ  ثقافتی اقدار کا فروغ ۔
  • خطے کی اپنی ثقافت، تہذیب اوراپنے علاقائی ہیروز کی حوصلہ افزائی  کے ذریعے تنوع اور ہم آہنگی کا اعتراف ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...