Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول

ہم نے اختلاف کی قدر نہیں کی، کتنی اہم شخصیات کو دیس نکالا دیا یا موت کے گھاٹ اُتار دیا، آج معاشرہ تنگ سوچ اور کم ظرفوں کے نرغے میں ہے محترمہ بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو شہید کی گئیں۔ جس وقت ان کی شہادت ہوئی، میں اپنے عزیز کے ساتھ گھر میں بیٹھا مختلف مسائل و معاملات پہ گفتگو کر رہا تھا۔ اچانک بے نظیر بھٹو کے قافلہ میں دھماکہ کی خبر آئی، پھر اُن کے زخمی ہونے اُس کے بعد ان کی شہادت کی خبر آگئی۔ اس سانحہ کے بعد، صرف انسانوں پہ ہی نہیں پورے…

Read More

بیماروں کی تضحیک نہیں، ان کی عیادت ہوتی ہے۔ مرنے  والوں کی تعزیت کی جاتی ہے، ان کا تمسخر نہیں اڑایا جاتا۔ ہم دشمنی و عداوت کے اُس دور میں نہیں جی رہے، جب تلواریں فیصلہ کرتیں اور دشمن کے مرنے پہ شادیانے بجائے جاتے تھے، انتقالِ اقتدار رائے اور مشاورت سے نہیں، زبردستی طاقت اور لشکروں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ یہ اُس دور کی بات ہے جب طاقت منہ زور گھوڑے کی طرح تھی اور ہر دوسرے مخالف کو کچل کر گزرجاتی تھی۔ جب انسان خود کو اجتماعی  دانش کا پابند خیال نہیں کرتا تھا۔ اُس دور میں،…

Read More

ایک سال پہلے کا واقعہ ابھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا ہوگا جب ایک مذہبی جماعت نے دھرنا دیا اور ان کے دیوانے سڑکوں پہ نکل آئے تھے۔ پورے ملک کو انہوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ اس ملک کی پر امن عوام نے اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھائے۔ مسلم لیگ کے دورِ اقتدار میں دیا جانے والے فیض آباد چوک دھرنے میں بہت لوگ ہلاک ہوئے اور حکومت بے بس دکھائی دی۔ بدھ کے روز وکلاء کے ایک جتھے نے سروسز ہسپتال کے ساتھ واقع…

Read More

شک ایک نفسیاتی مرض اور اخلاقی عیب ہے۔ یہ انسان کی شخصیت کا دشمن ہے۔ شک کا نتیجہ بگاڑ و انتشار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر اس شک کو بیوی پا لے تو میاں کا آرام و سکون تباہ وبرباد، اگر میاں پا لے تو بیوی کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اگر یہ بیماری انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہو تو اس کی زندگی بوجھل اور بے مزا ہو کر رہ جاتی ہے۔ شک کرنے والے کی شخصیت  نہ صرف اپنی نظروں میں گرجاتی ہے بلکہ نفسیاتی اور اخلاقی حوالے سے وہ اپنے آپ کو کمزور بھی…

Read More

حضرت شیخ احمد سرہندی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”جس معاشرے میں مجذوب زیادہ ہو جائیں تو سمجھ لیں اُس معاشرے میں ضرور کسی چیز کی کمی ہے ۔“ مجذوب بھرپور سماجی کردار ادا کرنے سے معذور ہوتا ہے۔ وہ اس اہلیت و قابلیت سے محروم ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کی ترقی میں کوئی کردار ادا کر سکے۔ وہ نہ تو مصلح ہے، نہ مفکر، نہ ورکر، نہ فنکار اور نہ ہی ہنر مند جس سے قوم، ملک اور معاشرے کا بھلا ہوسکے۔ جس معاشرے میں ایسے لوگوں کا قحط ہو جائے تو وہ ”مجذوبوں کا معاشرہ“ بن جاتا…

Read More

حکومت کے پاس کھونے کے لئے بہت کچھ ہوتا ہے۔ حکومت ناکام ہوتی ہے یا کامیاب۔ کیونکہ جمہوری نظام میں ذمہ داریاں اس کے سپرد ہوتی ہیں کہ اس نے ملک کا نظم و نسق چلانا ہے، معاشی و اقتصادی حالات کو بہتر ہی نہیں کرنا بلکہ ہر طرح کی حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہے۔ ملک کے مختلف طبقات اپنے اپنے ایجنڈے اور پروگرام کے مطابق کام کر رہے ہوتے ہیں ان کے ساتھ  تعلقات و معاملات کو بہتر طریقے سے  لے کر چلنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حکومت اگر سیاستدانوں کی ہے تو وہ…

Read More

اسے ایک لطیفہ سمجھئیے یا ہمارے معاشرے کا مرثیہ۔ جب لوگ جلسہ گاہ سے تقریر سن کر باہر نکلے، راستے میں کسی نے پوچھا تقریر سے تمہیں کیا سمجھ آئی، جلسہ گاہ سے تقریر سن کر آنے والے نے جواب دیا سمجھ تو نہیں آئی لیکن مزا بڑا آیا ہے۔ آج سیاسی راہنما ہو یا مذہبی اس کے پاس ماضی کی یادوں، حال کے شکووں اور مستقبل کے خوابوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ماضی کی یاد سے لوگوں کو باور کرایا جاتا ہے تم ایک عظیم قوم تھے، تاج سرداراں تم سے ایک سازش کے تحت چھینا گیا۔ تمہارے…

Read More

گزشتہ سال پاکستان میں کم عمر بچوں/بچیوں کے ساتھ زیادتی کے 4000 واقعات رونما ہوئے۔ یہ وہ واقعات ہیں جو رپورٹ ہوئے، جو واقعات رپورٹ نہ ہو سکے ان کی تعداد کتنی ہے؟ اس کا کسی کوعلم نہیں ہے۔ واقعات رپورٹ نہ کرنے کی والدین نے دو وجوہات بتائی ہیں (یہ وہ والدین ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ خاموشی اختیار کی اور بعد میں زبان کھولی) پہلی وجہ: انہوں نے بتایا کہ بد نامی کے ڈر سے ہم خاموش رہے۔ دوسری وجہ: پولیس کا غیر انسانی اور سنگدلانہ رویہ ہے جس کی وجہ سے…

Read More

ہر شخص اپنے معاشرے، ملک اور ماحو ل کو ترک کرسکتاہے لیکن اپنے روایتی اور سیاسی کلچر کو ایک دن میں نہیں چھوڑ سکتا، اگر وہ تنقیدی انداز ِفکر سے بالکل محروم ہے اور تعلیم کی دولت سے بھی، تو پھر اس کے امکانات اور بھی کم ہوجاتے ہیں۔ وہ شخص جس نے اپنے ملک کی معاشرت، معیشت اور سیاست کے ماحول میں کئی سال گزارے اور پختہ ذہنیت کے ساتھ کسی اور ملک میں جا بسا، اب اس کے رجحانات اور رویے ظاہر کریں گے کہ اس نے اپنے ملک سے کیا تعلیم وتربیت پائی ہے، اس طرح ہر…

Read More

پاکستان کی بہتّر سالہ تاریخ آئینی تاریخ ہے جس کی بنیاد جمہوریت ہے۔ جمہوریت صر ف اقدار و مزاج کا نام ہی نہیں یہ ایک ڈھانچہ، لائحہ عمل اور طریقہ کار کا نام بھی ہے۔ یہ طرز حکمرانی ہے جو نچلی سطح سے بالائی سطح تک باقاعدہ عملی شکل اختیارکرتی ہے۔ اقوامِ عالم بالخصوص یورپ نے ارتقائی عمل کے بعد، اسے مزید ترقی دی ہے، جس سے ان کی عوام کے شب و روز اور سماجی زندگی اس میں ڈھل کر ایک خوبصورت شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پاکستان کی 72 سالہ سیاسی تاریخ حوصلہ افزا تو نہیں ہے کیونکہ…

Read More