Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول

پاکستان میں مذہبیت کا عنصر بہت طاقتور اور فعال ہے۔ اس کے اثرات سماج ہی میں نہیں بلکہ سیاست و ریاستی پالیسیوں میں بھی واضح نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آئین و قوانین سے لے کر پالیسیوں تک مذہب ایک محور ہونے کے باوجود پاکستان ایک مثالی ریاست کیوں نہ بن سکا اور ہماری شناخت تشدد پسند کی کیوں بن گئی؟صاحبزادہ امانت رسول اِس مضمون میں بتاتے ہیں کہ اس کی وجہ جبر اور مخصوص مذہبی تعبیر پر اصرار ہے۔ وہ اس مسئلے کو تُرکی کی مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مضمون نگار ’ادارہ فکرِ جدید‘ کے سربراہ ہیں۔ سماجی موضوعات پر ان کی گہری دسترس ہے اور وہ سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کے داعی ہیں۔ (مدیر)

Read More

خواتین کی سماجی ذمہ داریاں اور سیرت طیبہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ اس سیمینار میں مختلف جامعات کے اساتذہ، اور پی ایچ ڈی سکالرز نے اپنے اپنے مقالے پیش کیے۔ سیمینار کی صدارت میرے سپرد کی گئی تھی۔ تمام سکالرز کے مقالے یا مقالوں کی تلخیص سننے کے بعد میں نے اپنی چند گزارشات پیش کیں۔ بلا مبالغہ، مجھے اِن مقالوں اور سکالرز کی گفتگو سے سیکھنے کا موقع ملا۔ خاص طور پر محققین، اساتذہ اور اسکالرز کے خیالات، نظریات اور تعلیمی اداروں میں جاری تحقیقی جہت اور منہج کو سمجھنے کی کوشش…

Read More

آج کل ہمارے دیس میں آڈیو اور ویڈیو لیکس کا بہت چرچا ہے۔ اس حوالے سے دو رویے سامنے آئے ہیں۔ یہ دونوں انتہائی رویے ہیں۔ اِن رویوں کو بیان کر نے سے پہلے اس بنیادی اصول اورحقیقت کو واضح کرنا ضروری ہے جس کا اطلاق ہر فرد پہ ہو تا ہے۔ وہ اصول یا ضابطہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات سے سختی سے منع کیا گیا ہے کہ ہم کسی کی ذاتی زندگی کے بارے میں متجسس ہوں اور تحقیق کریں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں کسی کی ذاتی زندگی کے بارے ٹوہ میں لگے رہنا قابل تحسین…

Read More

ہمارے جیسے زوال پذیر یا زوال شدہ معاشروں میں اخلاقی اقدار اور انسانی جذبات کی صورتیں بھی بگڑتی اور خراب ہوتی چلی جاتی ہیں، اور لوگوں نے اچھائی یا برائی سے متعلق اپنی رائے قائم کرنے کے لیے عجیب و غریب پیمانے بنائے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہر صورتحال کے اندر ایک عجیب سی کشمکش بنی رہتی ہے۔ مثال کے طور پہ اابھی سیلاب کے معاملات چل رہے ہیں، ایسے میں حکمران اور سیاستدان فوری طور پر سیلاب میں گِھرے علاقوں میں پہنچتے اور سیلاب زدہ علاقوں میں موجود افراد کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ صرف…

Read More

ہمارے سماج میں سیاست اور سیاستدانوں کو کارکردگی کی بنیاد پر نہیں تولا جاتا، بلکہ سب کے  اپنے اپنے ’فین کلب‘ ہیں اور یہیں تک ایک عام سماجی شعور کام کرتا ہے کہ اپنی جماعت کی حمایت کرو، کیونکہ اس کے مطابق اسی سے انقلاب آئے گا۔ اس عام سوچ کا سیاستدان استحصال کرتے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ بھی کبھی کارکردگی پر بات نہیں کرتے، بلکہ مخصوص مقبولِ عام جذباتی نعروں پر آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاست کو بھی اسی عکس میں دیکھا پرکھا جاسکتا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان اس کی برملا تمثیل…

Read More

ہم سب دوسروں کے متعلق ایک رائے رکھتے ہوتے ہیں اور اس پر پختگی سے قائم بھی ہوتے ہیں۔ ہم دوسروں کا محاسبہ بھی شوق سے کرنا چاہتے ہوتے ہیں۔ لیکن اپنی ذات اور اس کی خامیوں کو بھول جاتے ہیں۔ اپنا تزکیہ نہیں ہوتا، لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم سب اپنی ذات کو بہرحال درست ہی مانتے ہوتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں ہم میں سے سے لوگ وبسے ہوتے نہیں جیسا وہ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ اپنی ذات کو بھول جانا اور بس دوسروں سے متعلق آراء قائم کرتے رہنے کا شوق رکھنا، مسائل کی جڑ ہے۔…

Read More

شیخ ابراہیم ذوق کا کہنا ہے: اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نا پایا تو کدھر جائیں گے یہ شعر انسان کی فطرت کا صحیح عکاس ہے۔ یہ درست ہے کہ موجودہ صورتِ حال سے انسان کبھی مطمئن نہیں ہو تا، بالخصوص ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں کچھ تبدیل ہی نہ ہوتا ہو تو وہاں متبادل مسیحا کی تلاش کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا، طرفہ تماشا تب ہوتا ہے کہ جب عوام خود کو بااختیار بنانے کی بجائے یہ یقین بھی رکھتے ہوں کہ مسائل کا حل کوئی مسیحا…

Read More

میں جب یہ کہتا ہوں کہ ہمار ے اداروں میں 80 کی دہائی سے پہلے کا ماحول ہونا چاہیے تو بہت سے لوگوں کو میرے اسلام اور مسلمانیت پہ شک ہونے لگتا ہے۔ ان کا خیال ہے بھٹو کا زمانہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ساز گار نہیں تھا اور ضیاءالحق صاحب کا زمانہ اسلامائزیشن کے لیئے آئیڈیل زمانہ تھا۔ تضادِ فکر کا یہ عالم ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے کریڈٹ پہ اسلامی سر براہی کانفرنس کا انعقاد، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا اور 73 کے آئین کی تیاری شامل ہے۔ اس میں علمائے کرام کا تعاون…

Read More

ہمارے معاشرے میں سماجی سرگرمیوں اور اخلاقیات و روحانیت کے اداروں کو کمیونٹی سنٹر سے زیادہ ہسپتال اور کلینک خیال کیا جاتا ہے۔ کمیونٹی سنٹر اور ہسپتال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کمیونٹی سنٹر آپ کی ذہنی، نفسیاتی صحت کا خیال کرتا ہے۔ جہاں آپ کو مل جل کر بیٹھنے کی سہولت دی جاتی ہے۔ آپ مطالعہ کرنا چاہیں تو وہاں لائبریری موجود ہوتی ہے۔ آپ تنہائی کا شکار نہیں ہوتے۔ آپ کو ہم خیال لوگ میسر آتے ہیں۔ وہاں مختلف انڈور گیمز کا انتظام ہو تا ہے۔ آپ کھیلتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ شطرنج، کیرم بورڈ، ٹیبل…

Read More

جمہوریت اور سماج کا باہمی تعلق کیا ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کر نے سے بہت سے فکری مغالطے دور ہوجاتے ہیں۔ ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر کے دیکھنے اور گفتگو کرنے سے کبھی بھی اشکالات دور نہیں ہوتے۔ جمہوریت پہ جتنے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں اس کی بنیادی وجہ زمینی حقائق کی کم فہمی اور سماجی قدر و معیار سے لا علمی ہے۔ جمہوریت صرف ایک طرز حکومت ہے جس کو چلانے والا سماج ہے۔ اگر اُسے بہتر سے بہترین بنانا ہے تو اس کو وہ لوگ دیئے جائیں جو اس کی نوک پلک سنواریں جو اسے…

Read More