Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بات چیت واحد راستہ ہے
    کالم

    بات چیت واحد راستہ ہے

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولاکتوبر 25, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    حکومت کے پاس کھونے کے لئے بہت کچھ ہوتا ہے۔ حکومت ناکام ہوتی ہے یا کامیاب۔ کیونکہ جمہوری نظام میں ذمہ داریاں اس کے سپرد ہوتی ہیں کہ اس نے ملک کا نظم و نسق چلانا ہے، معاشی و اقتصادی حالات کو بہتر ہی نہیں کرنا بلکہ ہر طرح کی حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہے۔ ملک کے مختلف طبقات اپنے اپنے ایجنڈے اور پروگرام کے مطابق کام کر رہے ہوتے ہیں ان کے ساتھ  تعلقات و معاملات کو بہتر طریقے سے  لے کر چلنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حکومت اگر سیاستدانوں کی ہے تو وہ کبھی ناامید نہیں ہوتی اور نہ ہی کبھی مذاکرات کا دروازہ بند کرتی ہے۔ ہر حال میں کارکردگی دکھاتی اور گزشتہ ادوار سے حالات کو زیادہ بہتری کی طرف لے کر جاتی ہے۔ اس کی یہی اصل کامیابی ہوتی ہے جس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔

    "کیا ہونا چاہیے”؟ یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ معروضی حالات کے مطابق فیصلہ کیا ہوسکتا ہے؟ یہ مختلف بات ہے۔ چاہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مثلاً ہر اپوزیشن کو ہر دور حکومت میں اپنا آئینی کردار اسمبلیوں میں ادا کرنا چاہیے۔

    سڑکوں پہ لوگوں کو لانا، روزگار چھڑوانا، تعلیم سے محروم کرنا، ملک میں ہیجان کا ماحول پیدا کرنا، حکومت کی کارکردگی جانچنے، اسے وقت دیے بغیر گرانے کی بات کرنا، ملک کو لاک ڈاون کی دھمکی دینا، سول نافرمانی کا اعلان کرنا، بجلی گیس اور پانی کے بلوں کو نہ صرف جلانا بلکہ انہیں ادا نہ کرنے کا عوام سے کہنا، اداروں کو حکومت کی نافرمانی کرنے پہ اکسانا، وزیراعظم کی نااہلی کے لئے اسمبلی سے باہر کوشش کرنا، یہ سب کچھ وہ ہے جو اپوزیشن کو نہیں کرنا چاہیے۔ اپوزیشن قانون سازی میں، اسمبلی کے فلور پر سوال و جواب کے سیشن میں اور قائمہ کمیٹیز میں حکومت کا احتساب کرتی ہے۔ اگر وہ وزیراعظم کو ہٹانا بھی چاہتی ہے تو اس کے لیے اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک لاتی ہے۔ تحریک لانا خود اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس عہدے کے لیے وزیراعظم اہل نہیں ہیں، لہٰذا انہیں بدلا جائے اور اہل شخص کو لایا جائے۔ یہ تحریک بھی تب کامیاب ہوتی ہے جب اراکین اسمبلی کا اس کی بددیانتی، نا اہلی یا کسی اور عیب پہ "اجماع” ہو جاتا ہے۔ یہ وہ سب کچھ ہے جو ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ افتاد اور آزمائش حکومت پہ آ پڑی تو اب حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟ یہ سوال ہے سو ملین ڈالر کا۔

    اس وقت بات یہ نہیں ہے ”کیا ہونا چاہیے” وہ میں نے بتا دیا ہے۔ "کیا ہونا چاہیے” موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا، یہ ذمہ داری سراسر حکومت کی ہے۔ وہ اپوزیشن یا مختلف طبقات کے پیدا کردہ بحران سے نکلنے کی سبیل نکالے۔ سیاسی حکمران کسی بھی دانشور اور ماہر سیاسیات سے بہتر سمجھتے ہیں کہ آئے ہوئے بحرانوں اور چیلنجز سے کیسے نکلا جاتا ہے؟ حکومت کا سب سے پہلا قدم سیاسی قوتوں سے رابطے اور بحرانی صورت حال پہ باہمی مشورہ اور تعاون ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں کوئی بھی غیر اہم اور ناکارہ نہیں ہوتا۔ ایک تانگہ پارٹی بھی اہم ہوتی ہے اسے اپنے ساتھ شامل کرنا اسے ساتھ رکھنا بھی ضروری ہوجاتا ہے۔

    حکومت اگر سیاستدانوں کی ہے تو وہ کبھی ناامید نہیں ہوتی اور نہ ہی کبھی مذاکرات کا دروازہ بند کرتی ہے

    غیر سیاسی طبقات میں پھیلتی بے چینی اور اضطراب کا ایسے حالات میں مکمل علاج نہ سہی لیکن ان سے مذاکرات کرنے سے کسی حد تک شدت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ ایسے حالات میں ان طبقات کے ساتھ بیٹھنا اس حوالے سے مفید ہوتا ہے کہ ان کی ہمدردیاں مخالف پارٹی حاصل نہیں کر پاتی۔ ایک طرف اپوزیشن بحران پیدا کرنے کے لئے تیار ہو دوسری طرف ڈاکٹرز تاجر، اساتذہ احتجاج کر رہے ہوں یا کم از کم حکومت پالیسیوں سے خوش نہ ہوں۔ ایسے حالات میں، خاموش عناصر بھی خاموش نہیں رہتے، انہیں اپنے جذبات اور احساسات کو زبان دینے کاموقع مل جاتا ہے۔ وہ ہر اس احتجاج، جلوس اور مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جو حکومتِ وقت کے خلاف ہو۔ دنیا میں فوجی اقتدار سب سے زیادہ مضبوط اقتدار کہلاتا ہے لیکن جب اس کے خلاف بھی عوام سڑکوں پہ نکل آئے تو اسے بھی جانا پڑتا ہے۔ عوام کے سیلاب کے سامنے کوئی بھی حکومت ٹھہر نہیں سکتی۔ جمہوری حکومت ویسے بھی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتی ہے۔ آج کی اپوزیشن ممکن ہے کل کی حکومت ہو جیسے آج کی حکومت کل کی اپوزیشن تھی۔

    آج کی حکومت کو یہ دیکھنا چاہیے جب وہ دھرنے کے لئے 126 دن اسلام آباد میں آ کر بیٹھے تھے، اس وقت کی حکومت نے انہیں ناکام کرنے اور کمزور کرنے کیلئے کیا کیا فیصلے کئے تھے؟ ایک فیصلہ یہ تھا کہ حکومت نے تمام سیاسی قوتوں کو اپنے ساتھ شامل رکھا۔ اعلانیہ طور پر، عوامی مسلم لیگ کے سوا کوئی بھی سیاسی جماعت دھرنے میں شامل نہ ہوئی۔ دوسرا فیصلہ عدم تشدد کی پالیسی تھی، باوجود یکہ پی ٹی وی پہ حملہ کیا گیا، غیر اخلاقی اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی گئی لیکن حکومت نے طاقت کا استعمال نہ کیا۔ پاکستان عوامی تحریک سے مسلسل مذاکرات کے لئے وزراء اور دیگر راہنما آتے رہے۔ اس وقت میڈیا بھی بلیک آوٹ نہ کیا گیا تھا۔ اپوزیشن  لیڈر کی تقاریر کئی کئی گھنٹے ٹی وی چینلز پر دکھائی گئیں۔ اگر سیاسی قوتیں حکومت کے ساتھ ہوں تو اپوزیشن کے جلسوں اور تقاریر کو چیلنز پہ بلیک آوٹ کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔

    اگر حکومت اپوزیشن اور میڈیا پہ پابندیاں لگائے تو ایسے اقدامات حکومت کے غیر سیاسی رویے اور عدم برداشت کا ثبوت ہوتے ہیں جس کے نتائج کسی بھی صورت حکومت کے حق میں نہیں نکلتے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمعاشی استحکام کیسے ممکن ہے؟
    Next Article بلوچستان کا قبائلی نظام
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by