پہلے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں، اور اس کا مقصد بلا کسی مسلکی رجحان پر زور دینے کے، صرف اور صرف یہ سمجھنا ہے کہ بطور سماج بغیر کسی مسلکی و مذہبی تفریق کے، ہمارا مجموعی رویہ مذہب اور مذہب کے نام پہ پختہ ہوچکی ثقافت کے حوالے سے کیسا بن چکا ہے۔ 25 سال پہلے کی بات ہے، ایک مجلس میں شریک تھا۔ صاحب دعوت نے پیر سید نصیر الدین نصیر صاحب کو دعوت دے رکھی تھی۔ محفل شروع ہوئی، کچھ دیر بعد پیر صاحب تشریف لے آئے۔ کسی توقف و تامل کے بغیر، پیر صاحب نے آتے…
Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین گزشتہ روز 9 جُون 2022ء بروز جمعرات و فات پا گئے۔ تادمِ تحریر اُن کی وفات کی حتمی وجہ سامنے نہیں آسکی۔ دنیا سے جانے والا اپنی یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ یہی یادیں ہیں جن سے زندہ لوگ بہت کچھ کشید کرتے اور مرنے والے کی باتوں سے اپنی محفلوں کو زندہ رکھتے اور رونقیں بحال رکھتے ہیں۔ ایک عام آدمی کی موت اور ایک ایسے انسان کی موت جس نے شہرت، دولت اور عزت کے کمال اور عروج پہ، زندگی گزاری ہو۔ اِن دونوں کی موت اور زندگی سے ملنے والے سبق اور عبرت میں…
ہماری ایک عزیزہ جو بیرون ملک رہتی ہیں اور پی ٹی آئی کی شدید حامی ہیں۔ وہ مجھے کچھ ماہ پہلے کثرت سے عمران خان کے حق میں پوسٹیں بھیجا کرتی تھیں۔ میں نے اُن سے اُن پوسٹوں کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا کہ اِن کی حقیقت کیا ہے؟ یہ کہاں سے آپ نے لی ہیں، اِس کا اصل حوالہ کیا ہے؟ چند پوسٹیں ایسی تھیں جن کے بارے میں، میں جانتا تھا۔ میں نے انہیں اُن کے بارے میں بتایا کہ یہ خبریں درست نہیں ہیں۔ اِس کے بعد کچھ عرصہ خاموشی رہی۔ عمران خان صاحب کی…
اگر کسی عالم ،سیاسی راہنما یا عام شخص سے دورانِ گفتگو کوئی ایسا جملہ سنیں جو اسلامی تعلیمات کے واضح خلاف ہو یا جو معروف کے خلاف ہو تو ان تینوں میں سے ایک وجہ خیال کی جاسکتی ہے، اول: سبقت لسانی یعنی وہ کہنا کچھ چاہ رہا تھا اور اُس کی زبان سے نکل کچھ اور گیا۔ دوم: وڈیو ایڈٹ کی گئی ہے (اگر ویڈیو ہے)۔ سوم: یا علم و مطالعہ کی کمی ہے۔ اگر اِن تین کے علاوہ آپ کوئی اور وجہ خیال کرتے ہیں تو کہنے والے کی بات کو اُس کے ماضی، عمومی خیالات و نظریات…
سوشل میڈیا نے ہمارے لیے اہل حل و عقد اور اہل علم و دانش سے براہ راست رابطہ و استفادہ کرنا آسان کر دیا ہے۔ وہ لوگ جنہیں ہم اخبار، ٹی وی پہ پڑھتے دیکھتے تھے یا کبھی کبھی کسی سیمینار، کانفرنس اور پروگرام میں اُن سے ملتے تھے۔ اب وہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے پاس اور ہماری پہنچ میں رہتے ہیں۔ ہم اُن سے براہ ِراست بات کر سکتے، اُن کی پوسٹ پہ ردِّعمل اور تبصرہ کرسکتے ہیں۔ اُن سے اختلاف و اتفاق کر سکتے ہیں۔ اِس کے فوائد کثیر ہیں لیکن اِس کے نقصانات بھی بہت ہیں۔…
صغیر میں مغلیہ خاندان کی تاریخ کے مطالعہ کے بعد ایک تاریخ کا طالب علم اس نتیجے پہ پہنچتا ہے کہ رعایا کے حقوق، باعزت روزگار، معیارِ زندگی اور شخصی حقوق کے تحفظ، فراہمی اور استحکام کے لیے مستقل بنیادوں پہ نہ تو کوئی ادارے قائم کئے گئے اور نہ ہی اس طرف توجہ دی گئی۔ برصغیر پہ جارحیت و فتوحات کے ذریعے بادشاہت، سلطنت قائم کرنے والوں نے ایسا کوئی اہتمام نہ کیا یا انہیں اس کا شعور نہ تھا۔ دوسری طرف اپنی بادشاہت قائم کرنے اور رکھنے کے لیے وہ سب کچھ کردیا گیا جس کی چنداں ضرورت…
پاکستان میں آئے روز خواتین کے قتل کے دلخراش واقعات رونما ہوتے ہیں۔ عام طور پر انہیں ’غیرت کے نام پہ قتل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ قتل ہونے والی خواتین میں پاکستانی اور پاکستانی نژاد دونوں طرح کی خواتین شامل ہیں۔ دو چار دن پہلے سپین پلٹ دو بہنوں کا گجرات میں قتل ہوا۔ ڈیڑھ سال قبل ان دونوں بہنوں کا نکاح اپنے کزنوں سے ہوا تھا۔ جب وہ واپس گئیں تو انہوں نے سپین کے ویزے کے لیے اپنے خاوندوں کو سپانسرشپ دینے سے انکار کردیا۔ بی بی سی کی خبر کے مطابق لڑکیوں کے بھائی اور والد…
انسانی زندگی میں بہت سے واقعات و حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔کئی ایسے واقعات ہوتے ہیں جن سے گزرتا کوئی اور ہے لیکن یاد آپ کو رہ جاتے ہیں جب کہ کئی واقعات و حادثات اپنے ساتھ بیتتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔ آج سے تقریباًبائیس سال قبل ایک والد میرے پاس آئے۔وہ اپنے بیٹے کے حوالے سے پریشان تھے کہ اُن کا بیٹا ہم جنس پرست بن گیا ہے۔والد نے بتایا ہم جیسے بیٹی کو گھر سے رخصت کرتے ہیں اور وہ دوسرے گھر میں جاتی ہے ۔اسی طرح کے جذبات کا اظہار بیٹا کرتا تھا کہ وہ فلاں…
گزشتہ دنوں مو لانا وحید الدین خان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک نصیحت نامہ ملا ۔یہ نصیحت نامہ ایک عالمِ دین کے نام تھا۔اس نصیحت نامے کو یہاں نقل کرنے کا مقصد نوجوانوں کو اُن اہم باتوں کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے جو اہم باتیں زندگی کی دوڑدھوپ،سیاسی مسائل، نفسیاتی رویوں اور مذہبی اختلافات میں کہیں گم ہو جاتی ہیں ۔پاکستان میں سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پیپر میڈیا پہ تمام دن سیاست غالب رہتی ہے یا مذہبی بحثیں جاری رہتی ہیں۔موجودہ ماحول ہمیں اپنے آپ سے غافل کر دیتا اور دوسروں کی اصلاح اور اُن کی خامیوں…
صاحبزادہ محمد امانت رسول ہر سال 8 مارچ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں کئی سالوں سے یہ دن منایا جارہا ہے۔ گزشتہ سال اس دن پر کچھ خواتین کے ہاتھ ایسے بینرز اور پلے کارڈ دیکھے گئے جس کے بعد ہمارے ہاں اس کی حمایت و مخالفت میں بحث شروع ہو گئی۔ ان کارڈز کی کیا حقیقت ہے۔؟ہمیں نہیں معلوم کہ واقعی یہ کارڈ تھے یا یہ فوٹو شاپ تھے۔ بہرحال پاکستان کی اکثریت نے انہیں ناپسند کیا۔ دنیا میں جہاں بھی کوئی مارچ،جلسہ، جلوس یا کوئی دن منایا جاتا ہے تو ضروری نہیں…
