Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول

دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل خواہ وہ سیاسی ہوں یا علاقائی ان کا حل "طاقت” سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہاں "طاقت” سے میری مراد مثبت ہے، منفی نہیں۔ اگر ایک قوم تعلیمی و سائنسی، تجارتی و سفارتی اور سیاسی و معاشی استحکام حاصل کرتی ہے تو اس کی آواز نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ  دنیا اس کی ہمنوا بھی بنتی ہے۔ ورنہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو قوم اپنے موجودہ حاصل کردہ خطہ زمین کو خوشحالی اور استحکام نہیں دے سکی وہ مزید کچھ کرنے کی اہلیت کیسے رکھ سکتی ہے؟ مسئلہ کشمیر ایک خاص…

Read More

انسان کی سب سے بڑی لڑائی اور جنگ اپنے آپ سے ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہو جائے تو وہ بہت برے حالات میں بھی Survive کر جاتا ہے، صرف Survive ہی نہیں بلکہ حالات پہ غالب آجاتا ہے۔ مقابلہ کبھی ذہانت، کبھی حاضر دماغی، کبھی حوصلہ اور کبھی اعصاب و اوسان کا ہوتا ہے۔ اگر شکست کا خوف دل سے نکال دیا جائے اور ہر حال میں آگے بڑھنے کا عزم ہوتو دل میں محرومی کا احساس اور پچھتاوا نہیں رہتا۔ زندگی امکانات کا دوسرا نام ہے جس میں ایک امکان، ناکامی، موت اور شکست کا ہے۔ دوسرا…

Read More

لمحہ موجود کو امن کے لئے مستعار لینا اور اسی دوران اپنی تعمیر کرنا یہ کامیاب و کامران قوم کی پختہ نشانی ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو داخلی انتشار اور خارجی اندیشوں کا علاج ممکن ہے۔ سیاست سے معیشت تک استحکام ممکن ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے جامع منصوبہ تشکیل دینے کے لئے اعلیٰ دماغ چاہیے جو تشخیص کے ساتھ علاج کی صلاحیت سے بہرہ مند ہو۔ ہیجان، جنون اور انگیخت مسائل کی جڑ ہیں ان کا حل نہیں ہیں۔ بد قسمتی سے، انہیں مسائل کا حل خیال کر لیا گیا ہے۔ سوچا جاتا ہے اگر ایک…

Read More

پاکستان میں مانگنے والا زیادہ کماتا ہے اور کمانے والا کم کماتا ہے۔ ہم کسی کو اس کا حق دینے سے گھبراتے اور مانگنے والے کو خیرات دے کر روحانی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے اس تضاد نے معاشرے میں گدا گری کے کلچر کی حوصلہ افزائی اور محنت و مزدوری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ ایک این جی او نے دو بچوں میں سے ایک کو مانگنے کے لیے اور دوسرے بچے کو مزدوری کے لیے بھیجا۔ مزدور بچہ شام کو 500 روپے کما کر لایا اور مانگنے والا بچہ 5000 روپے لے کر آیا، اسی سروے اور مثال…

Read More

ایک شخص اپنا راستہ بھول جاتا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کدھر جائے، آخر کار اسے ایک گھر نظر آتا ہے وہ اس گھر کے دروازے پہ دستک دیتا ہے، ایک خاتون دروازہ کھولتی ہے۔ وہ اپنی صورتحال بتاتا ہے تو وہ خاتون اسے خوش آمدید کہتی اور فوراً اس کے لئے کھانے کا انتظام کرتی ہے۔ وہ کھانا کھا رہا ہوتا ہے تو اسی دوران اس خاتون کا خاوند آجاتا ہے وہ بولتا ہے یہ کون ہے؟ وہ بتاتی ہے یہ مسافر ہے اور راستہ بھول گیا ہے، لیکن اس کا خاوند اس کے ساتھ بدسلوکی سے…

Read More

ڈاکٹر الٰہی بخش اپنی کتاب ”قائداعظم کے آخری ایّام” میں قائد اعظم کے یہ الفاظ نقل کرتے ہیں "آپ نے شاید سنا ہو گا کہ پہلے زمانے میں جب کوئی وکیل ہائیکورٹ کا جج مقرر ہوتا تو وہ کلبوں اور محفلوں میں جانا بند کر دیتا تھا بلکہ بعض اوقات تو مقامی اخبارات پڑھنے سے بھی گریز کرتا تھا کہ کہیں ان سے اس کی غیر جانبداری میں خلل نہ پڑے” میرے عزیز دوست نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دورِ حکومت میں ان کے دادا کے بھائی ہائیکوٹ کے جج بنے، جج بننے کے بعد انہوں نے…

Read More

مطالعہ دنیا اور زندگی کا وہ سفر ہے جس میں زمین، وقت اور عمر تینوں سمٹ جاتے ہیں۔ ان لوگوں سے زیادہ امیر کسی کو نہیں دیکھا جنہیں مطالعہ کی عادت ہوتی ہے یا جو کتابوں میں خوش رہتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی فقیر نہیں ہوتے اور نہ کنجوس ہوتے ہیں جن کے پاس کتابوں کی الماریاں ہوتیں اور وہ ان سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ دنیا کا خزانہ ختم ہو جاتا ہے لیکن مطالعہ کتب کرنے والوں کی باتوں سے خیالات، نظریات اور الفاظ و معانی کی خوشبو ختم نہیں ہوتی۔ یہ حسین دنیا کسی کے ذوق میں آجائے…

Read More

مکالمہ کو رواج دینے کے لئے یہ جذبہ اور کلچر پیدا کرنا ضروری ہے کہ ہمیں دوسرے کی بات کو سننا ہے، صرف سننا ہی نہیں بلکہ حسن ظن سے سنناہے۔ گفتگو سے وہی مفہوم لینا ہے جو متکلم ہمیں سمجھانا چاہ رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک صاحبِ علم نے کسی مسئلے پہ اپنی رائے دی اور اس پہ دو تین قسطوں میں ایک مضمون بھی لکھا۔ انہوں نے عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں اپنا موقف بیان کر دیا۔ مجھے آج ہی ایک صاحب کی طرف سے پیغام وصول ہوا ہے اور وہ پیغام یہ ہے "ایک شخص…

Read More

اگر ہم کامیاب انسان کی تعریف کریں تو اس کی مختصر تعریف یہ ہو سکتی ہے ”جو اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا کرے” اس بات کو ہم دوسرے الفاظ میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں "قدرت جو کردار بھی عطا کرے وہ اسے بخوبی نبھائے” کسی مغربی مفکر نے کہا تھا” زندگی ایک سٹیج ہے اور انسان ایک  ایکٹر ہے” قدرت ہمیں اس سٹیج پہ مختلف کردار میں ڈھالتی رہتی ہے کبھی ہم بیٹے یا بیٹی، کبھی بہن یابھائی، کبھی خاوند یا بیوی، اور کبھی ماں یا باپ ہوتے ہیں۔ اگر خاندان سے باہر دیکھیں تو…

Read More

علم نافع در حقیقت وہ علم ہے جس کا نفع فرد سے قوم تک، اور قوم سے قوموں تک پہنچتا ہے۔ نفع رسائی جب تک قائم رہتی ہے، اس وقت تک نفع رسا قوم کا دنیا میں غلبہ و اقتدار قائم رہتا ہے۔ دنیا میں برتری و بلندی کا ذریعہ فقط علم نافع ہے۔ علم کو دین و دنیا میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر انسانیت کے لیے فائدہ مند و فیض رساں ہے تو وہ علم مذہب کی نظر میں بھی پسندیدہ ہے۔ اگر  فائدہ مند و فیض رساں نہیں ہے تو وہ پسندیدہ نہیں ہے خواہ اس…

Read More