Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»جب تک جتھہ نفسیات پختہ ہے اضطراب باقی رہے گا
    کالم

    جب تک جتھہ نفسیات پختہ ہے اضطراب باقی رہے گا

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولدسمبر 12, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ایک سال پہلے کا واقعہ ابھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا ہوگا جب ایک مذہبی جماعت نے دھرنا دیا اور ان کے دیوانے سڑکوں پہ نکل آئے تھے۔ پورے ملک کو انہوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ اس ملک کی پر امن عوام نے اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھائے۔ مسلم لیگ کے دورِ اقتدار میں دیا جانے والے فیض آباد چوک دھرنے میں بہت لوگ ہلاک ہوئے اور حکومت بے بس دکھائی دی۔ بدھ کے روز وکلاء کے ایک جتھے نے سروسز ہسپتال کے ساتھ واقع پنجاب کارڈ یالوجی پہ حملہ کیا جس کی وجہ سے بہت سے دل کے مریض جان سے گئے۔ لوگ ایسے واقعات پہ افسوس کا اظہار کر تے ہیں اور حیران بھی ہوتے ہیں۔ لیکن مجھے افسوس اور دلی دکھ تو ہوتا ہے لیکن حیرانی نہیں ہوتی۔ حیرانی تب ہو جب نتائج اعمال و تربیت کے برعکس ہوں۔ ہم جن نتائج اور صورت احوال کو بھگت رہے ہیں، یہ بالکل عین قیاس ہے۔ اس میں رتی بھر بھی فرق نہیں ہے۔ میں اکثر کہتا ہوں کینسر اپنی مختلف شکلیں اختیار کرتا ہے۔ تحریکوں نے ہمیشہ تشدد کو جنم دیا ہے۔ پاکستان میں چلنے والی تحریکوں نے ہمیشہ پاکستان میں تشدد، نفرت اور انارکی کو پیدا کیا ہے۔

    ہم وہ بد قسمت لوگ ہیں جس کا ہر طبقہ تنگ نظری، گروہی مفادات اور لاقانونیت کا عادی ہو چکا ہے۔ مذہبی طبقے سے امید لگائی جاتی ہے کہ یہ فرقہ واریت اور تشدد سے دور رہ کر دین کی تبلیغ کرے گا لیکن اس نے مذہب کو ہی تشدد کا ہتھیار بنا لیا۔ گالی گلوچ، بد تمیزی اور غیر انسانی رویوں کو اختیار کرلیا جس کا مظاہرہ ہم چند سالوں سے مسلسل دیکھ رہے ہیں۔ سیاستدانوں سے امید لگائی جاتی ہے کہ یہ جمہوری طبقہ ہے لیکن گزشتہ دو سالوں میں ہم نے پاکستان میں اس طبقے کو جس طرح کی زبان استعمال کرتے ہوئے اور تہمت و الزام کا بازار گرم کرتے ہوئے دیکھا اس کے بعد انسان سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ ہم نے کن لوگوں کے ہاتھوں میں اپنی سیادت تھما دی ہے۔ یہ بازار ابھی تک گرم ہے۔

    سال پہلے مذہبی طبقہ تھا، دو سال پہلے سیاسی گروہ تھا آج یہ وکلاء ہیں۔ کل کوئی اور متشددانہ رویے سے پاکستانی معاشرے کو اضطراب کا شکار کر دے گا۔ پاکستان کا پُرامن اور ذمہ دار شہری سڑکوں پہ ذلیل و رسوا ہوتا رہے گا اور دہائیاں دیتا پھرے گا

    ڈاکٹروں نے پنجاب، خیبر پختونخوا میں یہی رویہ اختیار کیے رکھا جو اب بھی باقی ہے۔ وکلاء کا طبقہ جوقانون دان کہلاتا ہے، جسے قانون کی پیروی سب سے پہلے کرنی چاہیے وہ قانون شکن نکلا، اس کے مظاہر ہم ہر روز دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں، کبھی کانسٹیبل کے ساتھ کبھی گارڈ کے ساتھ تو کبھی جج اور ڈاکٹرز کے ساتھ بدسلوکی۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک وکیل غلط جگہ پہ اپنی کار پارک کرنے پہ مصر تھا اور پارکنگ والے کو دھمکی دے رہا تھا کہ میں ابھی فون کر کے اپنے ساتھیوں کو بلا لوں گا۔ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں قانون جاننے والے قانون کی پیروی کرنے کے بجائے قانون کی طاقت کو اپنے غیر قانونی ہتھکنڈوں میں استعمال کرتے ہیں۔

    یہ ہیں وہ نتائج جس کے ہم خود ذمہ دار ہیں۔ سیاست دان اپنی سیاست، حکمران اپنی حکومت، تاجر اپنی تجارت، جج اپنی عزت کی فکر میں رہتا ہے۔ جب تک ہم ان مسائل کو پاکستانی سماج کا مسئلہ خیال نہیں کرتے، سیاسی اور گروہی مفادات سے بلند ہو کر اس کا حل تلاش نہیں کرتے اور لائحہ عمل نہیں بناتے یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔

    نظام تعلیم، نظام عدل، نظام جمہوریت، ان سب شعبوں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ درحقیقت اصلاحات ہی اس مرض کا مستقل علاج ہے جس سے رویے، سوچ اور کردار تشکیل پاتے ہیں۔ سال پہلے مذہبی طبقہ تھا، دو سال پہلے سیاسی گروہ تھا آج یہ وکلاء ہیں۔ کل کوئی اور متشددانہ رویے سے پاکستانی معاشرے کو اضطراب کا شکار کر دے گا۔ پاکستان کا پُرامن اور ذمہ دار شہری سڑکوں پہ ذلیل و رسوا ہوتا رہے گا اور دہائیاں دیتا پھرے گا۔

    اب ذمہ داری چیف جسٹس صاحب کے کندھوں پہ آ گئی ہے۔ وہ وکلاء کو اس جرم کی قرار واقعی سزا دیں جس سے پورے پاکستان کو پیغام جائے کہ قانون سے بالا کوئی نہیں ہے، یہاں تک کے قانون کے رکھوالے بھی نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleحیرانی کیسی؟
    Next Article سکردو میں ادبی سرگرمیاں
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by