میاں طفیل محمد مرحوم (سابق امیر جماعت اسلامی) نے ’’جماعتِ اسلامی کی دستوری جدو جہد‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی ہے۔ اس کتاب کا پہلا باب ’پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے‘ کے عنوان سے ہے۔ اس باب کا آغاز ایک مباحثہ سے ہوتا ہے۔ یہ مباحثہ 18 مئی 1948ء کو ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہوا تھا۔ سوال کرنے والے جناب وجیہہ الدین ہیں۔ اور جواب دینے والے جناب مولانا مودودی ہیں۔ وجیہہ الدین نے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کی Relevance آج بھی موجود ہے. لیکن مولانا مودودی کے جوابات دور حاضر سے غیر متعلق…
Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول
مولانا طارق جمیل صاحب نے ایک برانڈ اپنے نام سے متعارف کروایا ہے۔ ان کا کہنا ہے میری سرپرستی میں چلنے والے اداروں کے اخراجات اور اُن میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی کفالت اس کاروبار کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے علماء کرام سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ زکوٰۃ اور چندوں کے بجائے بزنس اور تجارت سے کمائی جانے والی دولت کے ذریعے ادارے چلائیں تاکہ عوام میں اُن کی عزت بحال ہو۔ مولانا کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے لوگ علماء کرام کی عزت نہیں کرتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اِن کے برانڈ…
جناب امانت حسین سے دیرینہ دوستی اور تعلق خاطر ہے۔ وہ جب بھی پاکستان تشریف لاتے ہیں تو ایک ملاقات کا ضرور اہتمام کرتے ہیں۔ اس بار انھوں نے اپنے ہاں مجھے آنے کی دعوت دی۔ میر پور آزاد کشمیر سے آگے اڑھائی گھنٹے کی مسافت پہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ان کا آبائی گھر ہے۔ میر پور سے ڈڈیال تک، ڈڈیال سے ان کے گاؤں تک، اس کے بعد پنڈی روڈ پہ دھان گلی اس سے روات تک۔ آپ کو بر لب سڑک اور گاؤں میں وسیع و عریض رقبے پہ پھیلی کوٹھیاں دکھائی دیتی ہیں۔ امانت حسین…
اسلام نے فرائض پر زور دیا ہے کیونکہ جب فرائض ادا کئے جائیں تو حقوق خود بخود دوسروں تک پہنچتے ہیں۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے اگر حقوق پر زور دیا جائے تو اس سے بھی تو فرائض خودبخود ادا ہوتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو دونوں سے دو مختلف نفسیات اور رویے وجود میں آتے ہیں۔ فرض کی ادائیگی کا احساس پیدا ہونے سے انسان میں سماج کو Deliver کرنے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ انسان دینے کے مقام پر کھڑا ہوتا ہے۔ اسے محرومی کا احساس نہیں ہوتا بلکہ وہ اس فکر میں ہوتا ہے کہ میں…
کہتے ہیں کسی ملک میں جب ولی عہد بادشاہ بنا تو اس نے کہا مجھے دانائی و علم حاصل کرنا ہے۔ وزراء نے چند اہل علم بادشاہ کے دربار میں پہنچا دیے۔ بادشاہ نے انہیں ایک لاکھ دینار دیے کہ میرے لیے علم و دانائی لاؤ۔ دس سال بعد وہ دس ہزار کتابوں کے ساتھ بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت بادشاہ اپنی بیوی،بچوں کے ساتھ مصروف تھا۔ اس نے کہا میرے پاس اتنا وقت کہاں کہ میں یہ سب کچھ پڑھ سکوں۔ اس نے دوبارہ انہیں کہا کہ یہ بہت بڑی تعداد ہے، اسے کم کرو۔ انہیں دوبارہ…
مہاتما بدھ نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک بات یہ کہ انسان کی خواہش اس کے دکھ کا سبب ہے۔ دوسری بات یہ کہ دنیا میں ہر شئی ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے۔ دوسری بات سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں کوئی پیدا ہو رہا ہے، کوئی فوت ہو رہا ہے۔ کسی کے رزق میں کمی اور کسی کے رزق میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کوئی تخت سے اتارا جا رہا ہے۔ کسی کو تخت پر بٹھایا جا رہا ہے۔ کوئی نئی زندگی کا آغاز کر رہا ہے، اور کوئی اپنی زندگی بِتا چکا ہے۔ جہاں تک پہلی بات…
ایک سوال اکثر لوگوں کو پریشان کیے رکھتا ہے کہ ہم زندگی میں کامیاب انسان کیسے بن سکتے ہیں؟ میرے مطابق اس کے لئے چار خوبیاں اپنی ذات میں پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن کے بغیر کوئی انسان کامیاب نہیں بن سکتا۔ پہلی خوبی یہ ہے کہ انسان کا ہدف بالکل واضح ہونا چاہئے کہ وہ زندگی میں کیا کرنا اور کیا بننا چاہتا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے خود کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑا ہوتا ہے۔ وہ حادثاتی طور پر کچھ بھی بن سکتے ہیں اور کچھ بھی کر سکتے…
مجھ سے بہت سے دوستوں نے کرونا وائرس کے حوالے سے سازشی تھیوری کے بارے میں پوچھا ہے۔ بعض دوستوں نے باقاعدہ ویڈیوز بھی بھیجی ہیں جن میں اردو زبان میں بتایا گیا ہے کہ یہ کیسے ایک عالمی سازش ہے۔ جس میں خاص طور پر بل گیٹس کا بھی کردار ہے۔ دور ِحاضر میں بہت سی حقیقتوں سے سائنس نے پردے بھی اٹھائے ہیں لیکن ہمیں اس مشکل میں بھی ڈالا ہے کہ جو آپ کو ان سازشوں کے بارے میں بتا کر سنسنی خیزی کر رہا ہے یا آپ میں تجسس کو بڑھا رہا ہے۔ کہیں اس میں…
’’میں کسی عالِم کی کتب کا مطالعہ اس ارادے اور نیت سے کروں کہ ان کی کتابوں سے اخذ کردہ عبارات کی من مانی تشریح کروں اور لوگوں کو بتاوں کہ یہ صاحب کفریہ نظریات رکھتے ہیں‘‘۔ یہ روش برصغیر میں یا عالٙم اسلام میں جس نے بھی سب سے پہلے اختیار کی اس نے مسلمانوں پر بہت بڑا ظلم کیا۔ مسلمانوں میں خون ریزی، فساد، فرقہ واریت اور جنگ و جدال کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ تکفیری سوچ اور رویے کو منبر و محراب سے عام کیا گیا۔ فروعی مسائل کے تانے بانے ارادتاََ اصولی مسائل…
ہم یہ جملہ اکثر لوگوں سے سنتے ہیں ’آج وقت اور پیسے میں برکت نہیں رہی‘۔ کچھ لوگ یہاں تک کہہ جاتے ہیں ’یہ قربِ قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے کہ قرب قیامت میں پیسہ اور وقت دونوں میں برکت نہیں رہے گی‘۔ اس سوچ کا تجزیہ کریں تو بات اس سے مختلف نظر آتی ہے۔ برکت کا تعلق اخلاص، ایمانداری اور اتفاق سے ہے۔ ان (اخلاص،ایمانداری اور اتفاق) خوبیوں کو پیدا کرنے والا فرد ہو یا معاشرہ خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، وہ برکت سے کبھی محروم نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم…
