قدرت جس پہ مہربان ہوتی ہے اس کے گناہوں پہ ہی نہیں بلکہ خطاؤں پہ بھی پردہ ڈالتی ہے اور لوگوں کی توجہ ان سے ہٹی رہتی ہے یا ہم کہہ سکتے ہیں قدرت مہلت دیتی ہے کہ وقت اس کی تربیت کرے، وقت کے ساتھ سیکھ جائے، یا کم از کم اس شکایت کا حق نہ رکھے کہ مجھے مہلت نہ دی گئی۔ ایسی صورت حال فقط فرد کے ساتھ ہی نہیں بلکہ قوم کے ساتھ بھی ہوتی ہے بلکہ حکومت و حکمران کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔ قدرت کا طریقہ یہی ہے، وہ گرفت اس وقت کرتی ہے…
Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول
قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے ”تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ اس سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہے”۔ اللہ تعالیٰ نے ”پسند و محبوب” کی شرط لگا کر ہمیں یہ بات سمجھا دی ہے کہ اعلیٰ مقاصد کے حصول اور آخرت میں جنت اور رضائے الٰہی پانے کے لیے ہر وہ خرچ کرنا پڑے گا جسے خرچ کرنے کے لیے تمہیں تمہارا نفس روکے اور تمہاری عقل تمہیں ضرب و تفریق کی فکر میں ڈال دے۔ قرآن مجید نے مال کمانے کی ممانعت نہیں کی، بلکہ مال جمع کرنے کو ناپسند فرمایا۔ قرآن…
رمضان المبارک کی اہمیت و فضیلت ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ قرآن مجید کے نزول کا آغاز اس ماہ سے ہوا۔ روزہ جیسی عبادت اسی ماہ میں فرض ہوئی۔ رسول اللہ نے رمضان المبارک میں نیک اعمال کا خصوصی اہتمام فرمایا اور باقی گیارہ مہینوں سے زیادہ اس میں کثرت فرمائی۔ عبادت و سخاوت، غمخواری و ہمدردی، تلاوت و ریاضت سے رمضان المبارک میں ہر طرف روحانی بہار کا ماحول ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقاصد کے حصول تک پہنچنے کے لئے یہ ماحول ساز گار ہوتا ہے۔ مقاصد میں سب سے اعلیٰ وارفع مقصد رب تعالیٰ کا تقرّب…
کسی بھی علمی شخصیت سےاتفاق یااس کی رائے کو قابل تقلید ماننے سے پہلے، دو باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اوّل: علمی شخصیت کی رائے، اس کے اپنے ذوق اور مذاق کے زیراثر بھی ہوتی ہےجسے وہ ترجیحاً اختیار کرتا ہے لیکن اس پر حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی اور نہ اس پر عمل کرنے کے لیے اصرار کیا جا سکتا ہےجیسے کھانے سے پہننے تک ،قیام سے سفر تک، خلوت سے جلوت تک ،معاشرت سے خانگی زندگی تک ،مختلف مقامات و اوقات میں، انسان اپنے مذاق اور ذوق کا اظہار کرتا ہےاور وہ صرف طبع…
بحث اور مکالمہ کے بھی کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔اصول وضوابط کی پابندی سےبحث و گفتگو کے مقاصد و اہداف تک پہنچنا ممکن اور آسان ہوجاتا ہے۔ سوال یہ ہے کیا ہم بحث و مکالمہ مقابل کو ہرانے اور اپنی علمیت وذھانت کی دھاک بٹھانے کے لیے کرتے ہیں؟اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو پھر واقعی بحث و مکالمہ بےمقصد اور وقت کا ضیاع ہے۔ اگر جواب نہیں میں ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس رویّےسے کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ضرور ملے گا۔ اس سلسلے میں چند اصول پیش نظر رکھنا ضروری ہیں۔…
دنیا کے کسی بھی معاشرے اور مذہب میں ”طلاق” یعنی علیحدگی کو کسی طرح بھی پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دو افراد میں علیحدگی فقط دو افراد میں نہیں ہوتی. وہ دو خاندان کے افراد میں علیحدگی اور اختلاف کا بھی موجب بنتی ہے۔ فقط دو خاندان ہی نہیں، بلکہ سماج میں بےچینی اور اضطراب کا باعث بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ حادثہ بچوں کی پیدائش کے بعد واقع ہو تو اس کی سنگینی اور دکھ میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ مشرق و مغرب میں تفریق کے بغیر ایسے واقعات وحالات…
فرقہ واریت صرف مذہبی نہیں ہوتی، یہ خاندانی، سیاسی اور علاقائی بھی ہوتی ہے، ایک طرف یہ بات مثبت ہے کہ یہاں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ہی نہیں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی بستے ہیں۔ گویا پاکستانی معاشرہ ایک متنوع معاشرہ ہے۔ دنیا میں تنوع پر مبنی معاشرے ترقی کرتے اور آگے بڑھتے ہیں۔افراد اورمعاشرے کی صلاحیتوں ،رجحانات اور نظریات کا تنوع معاشرے کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ زندگی کے میدان مختلف ہوتے ہیں اور مختلف میدانوں میں مختلف صلاحیتیں اور مختلف رجالِ کار کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تنوع فرقہ واریت کا…
ہمارے معاشرے میں بیٹی والے حسّاس ہوتے ہیں یا انہیں حسّاس کر دیا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں اس حساسیت کی وجہ ہمارے وہ رویے ہیں جو بیٹا اور بیٹی کی تفریق پر مبنی ہیں۔ فقط ایک تجربہ و مشاہدہ نہیں بلکہ کئی تجربات و مشاہدات ہیں جواس غیر مساوی رویّے پر گواہ ہیں۔ معاشرے کے ایسے افراد کا زاویۂ نظرفقط غیر اسلامی ہی نہیں بلکہ غیرانسانی بھی ہے۔ والدین اپنی بیٹی یابیٹیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے بعد ان کی شادی کیلئے جب سماج کی ذہنیت کا جائزہ لیتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہےکہ بیٹیوں کی…
سماجی رویوں کی تبدیلی میں سب سے اہم کردار اساتذہ کا ہوتا ہے۔ اساتذہ کے کردار کی اہمیت فقط دورِ حاضر میں ہی نہیں سمجھی گئی بلکہ ارسطو اور افلاطون کے دور سے بھی پہلے اساتذہ کی خدمات و تعلیمات کو نہ صرف تسلیم کیا جاتا تھا بلکہ اسے بنیادی اکائی کے طور پر سماج میں اہمیت کا حامل خیال کیا جاتا تھا۔ اساتذہ کا اپنے شاگرد کی سوچ رویے اور عادات میں تبدیلی لانا ہی اصل کام اور فرض ہوتا ہے۔ والدین رشتہ دار اور دوستوں کا کردار استاد کے بعد ہوتا ہے جن سے انسان متاثر ہوتااور اپنے…
صاحبزادہ امانت رسول درس نظامی کے ساتھ یورپ سے اعلی ٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔وہ لاہور میں ایک ادارہ فکر جدید کے نام سے چلا رہے ہیں یہی ادارہ ماہنامہ ’’روحِ بلند ‘‘ بھی شائع کرتا ہے ۔صاحبزادہ امانت رسول ’’تجزیات‘‘ کے مستقل لکھاری ہیں ۔ان کی ان فکری مسائل پر گہری نظر ہے جن کا سامنا اسلام اور مسلمانوں دونوں کو ہے ۔مندرجہ ذیل مضمون میں بھی وہ مذہبے کے بارے میں ہمارے رویئے کو آشکار کرتے نظر آتے ہیں۔ اسلام اور نبی کریم ؐ سے عشق و محبت اور علم و عمل کے مابین عدمِ مطابقت کیوں ہے…
