Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»اگر بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں !
    کالم

    اگر بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں !

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولدسمبر 29, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہم نے اختلاف کی قدر نہیں کی، کتنی اہم شخصیات کو دیس نکالا دیا یا موت کے گھاٹ اُتار دیا، آج معاشرہ تنگ سوچ اور کم ظرفوں کے نرغے میں ہے

    محترمہ بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو شہید کی گئیں۔ جس وقت ان کی شہادت ہوئی، میں اپنے عزیز کے ساتھ گھر میں بیٹھا مختلف مسائل و معاملات پہ گفتگو کر رہا تھا۔ اچانک بے نظیر بھٹو کے قافلہ میں دھماکہ کی خبر آئی، پھر اُن کے زخمی ہونے اُس کے بعد ان کی شہادت کی خبر آگئی۔ اس سانحہ کے بعد، صرف انسانوں پہ ہی نہیں پورے ملک میں سوگ کی کیفیت طاری تھی۔ ہر طرف ہُو کا عالٙم تھا، میں نے اپنی زندگی میں کسی بڑے حادثے پہ اس طرح کبھی ہر فرد کو غم میں ڈوبے ہوئے نہیں دیکھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ہر شخص نے غم کی چادر اوڑھی ہوئی ہے۔

    ایک انسان کی ذہنی پختگی، تجربہ کاری اور فکری سطح کو بلند ہونے میں ایک زمانہ درکار ہوتا ہے۔ وہ سیاست دان ہو یا بزنس مین، عالِم دین ہو یا سوشل سائنٹسٹ، اس کے فکری سفر کا آغاز ابہام و شکوک سے ہوتا ہے۔ مسلسل جستجو، مطالعہ، پیدا کردہ سوالات اور ان کے جوابات پر غور و فکر سے وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک اور عوام کی خدمت کر سکے اور طالبانِ علم اُس سے استفادہ کر سکیں۔ یہ اُس قوم کی بد قسمتی ہوتی ہے کہ علم و فن کے عروج کے وقت اس شخصیت کے جانے کا وقت آجائے۔

    گزشتہ سالوں میں ہم نے ایسے بہت سے لوگ  کھوئے ہیں جنہوں نے بہت محنت سے اپنے اپنے شعبوں میں نام کمایا، اپنے علم و فن کی بلندی پہ پہنچے اور انہیں ہم سے چھین لیا گیا۔ اعلیٰ ڈاکٹرز (جن میں سپیشلسٹ اور سرجنز بھی شامل تھے) پروفیسرز (جن کی یونیورسٹیز میں پڑھاتے عمر گزری) جامعات کے شیوخ الحدیث اور جید اساتذہ، ماہرین تعلیم، سائنسدان اور سیاستدان جو بلا تفریق پوری قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں، ایسے افراد کو دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ وہ تاجر طبقہ جس سے ملک کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے اس کے ساتھ فرقہ و سیاست کی بنیاد پہ  بیمانہ سلوک کیا جاتارہا۔ کامیاب بزنس مین کو قتل کردیا گیا یا وہ موت کے خوف سے ملک چھوڑ کر چلےگئے۔ ایسے حالات میں معاشرہ زوال و افتراق سے کیسے بچ سکتا ہے جس کے ’موتیوں‘ کو یوں ناقدری سے رول دیا جائے۔ گلستاں کا وجود سایہ دار درختوں سے ہوتا ہے۔ اگر درختوں کو ان کی شاخوں  پتوں، پھولوں سے محروم کر دیا جائے تو تصور کیجئیے! ایسے گلستان کا انجام کیا ہو گا۔

    ہمارے ملک میں یہی سلوک  قابل ترین افراد سے کیا گیا ہے۔ ہم نے اختلاف کرنے والوں اور مختلف سوچ رکھنے والوں کا قتل کیا ہے۔ ان کے اختلاف کی قدر نہیں کی۔ مہان لوگوں کے قتل اور ان کے چلے جانے کا نتیجہ ہے کہ اب ہم ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جن کا اپنے شعبے میں قد کاٹھ ’بونوں‘ سے بھی چھوٹا ہے۔ کسی کو دیس سے نکالا اور کسی کو دنیا سے ہی نکال دیا۔ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی کتاب Reconciliation: Islam, Democracy and the West پڑھ کر محترمہ کے علمی اور سیاسی قد کاٹھ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اکیسویں صدی میں وہ جمہوریت اور مغرب کے حوالے سے اسلام کا موقف بہت اچھی طرح سمجھتی تھیں۔ اگر آج وہ زندہ ہوتیں ممکن تھا کہ پاکستان آج سے قدرے مختلف ہوتا یا پھر یہ بھی ممکن تھا کہ وہ دوبارہ جیل میں ہوتیں یا پھر جلا وطنی کاٹ رہی ہوتیں، ’’کیونکہ جمہوریت ہے‘‘۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمدارس کے سماجیات کے مسائل شجرِممنوعہ کیوں؟
    Next Article مانسہرہ کا طالب علم
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by