عزیزی و محبی! میرے اور تمھارے درمیان جوگی نقاد رفتہ رفتہ ایک پُل کی حیثیت…
Browsing: تما م آرٹیکلز
پاکستان میں غیرمسلم اقلیتوں کے مسائل و حقوق کے حوالے سے ہمیشہ ایک مخدوش صورتحال…
آج کے دور میں سوشل میڈیا صرف رسمی تعلق بنانے کے لیے محدود نہیں رہ گیا بلکہ اسے نظریات اور سیاسی و سماجی مباحث کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں بالخصوص فیس بک اور ٹوٹر جیسے سماجی ذرائع ابلاغ کا کردار بہت بڑھ گیا ہے۔پاکستان میں اس کا استعمال محض انفرادی نہیں ہے بلکہ مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی طبقات اپنے اپنے افکار نظریات کے ابلاغ اور ان سے نوجوانوں کو متأثر کرنے کے لیے سماجی ذرائع ابلاغ کا سہارا لیتے ہیں۔ہر ملک میں فیس بک اورٹوٹر پہ خاص ٹرینڈز زیرگردش رہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ تاہم یہاں کئی طرح کے ایسے ٹرینڈزسرِفہرست رہتے ہیں جو سماجی ساخت کو بری طرح متأثر کرتے اور طبقات کو تقسیم کرتے ہیں۔ سبوخ سید نے اس رپورٹ میں دو ماہ کے دوران پاکستان میں نمایاں رہنے والے اس نوع کے ہیش ٹیگز کا جائزہ لیا ہے۔ سبوخ سید معروف صحافی اور محقق ہیں۔وہ پاکستان ٹیلی ویژن سمیت ملک کے کئی اہم صحافتی اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔میڈیا ٹریننگ میں خدمات فراہم کرنے کے علاوہ میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پہ بھی کام کرتے ہیں۔آن لائن صحافتی گروپ ’آئی بی سی اُردو ‘ کے مدیر بھی ہیں۔(مدیر)
استعماری عہد کے تلخ تجربے اور اس کے ساتھ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد…
’تاریخ کا فیصلہ‘ (Judgement of History) معروف تاریخ نویس ڈاکٹر مبارک علی صاحب کی نئی…
ادب کے شعبے میں عالمی سطح پر نظم کی صنف کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ بالخصوص جدید نظم اور اس کے رجحانات ادب میں ایک اہم موضوع ہے۔تاہم پاکستان میں اُردوزبان میں نظم گوئی کا مسئلہ کافی پیچیدہ رہا ہے۔یہاں شاعری میں عزل کی ہیئت کو مقبولیت حاصل رہی اور جدید نظم کو اپنے پاؤں جمانے میں وقت بھی لگا اور اس کے لیے کئی ادیبوں کو سرتوڑ کوشش کرنی پڑی۔پاکستانی جامعات میں اس وقت نظم کے جوہر کے حوالے سے کتنی علمی وتحقیقی واقفیت پائی جاتی ہے اور اس کے لیے فضا کتنی سازگار ہے۔ اس موضوع پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان ادیبوں اور شعرایئ سے علی باباتاج نے آن لائن مذاکرے کا اہتمام کیا، جس سے نظم کے بارے میں گراں قدر معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ علی بابا تاج بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک اہم ادبی شخصیت کے طور پہ جانے جاتے ہیں۔اُردو، فارسی اورور ہزارہ زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔ معاصر ادب پر ان کی تنقیدنگاری کو مقامی اوربین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا ہے۔(مدیر)
پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے حوالے سے بحث نہ ہونے کے برابر کی جاتی ہے۔بالخصوص کشمیر کے تناظر میں بات کا زایہ صرف بھارت کے ساتھ ’تنازع‘ کے گرد محصوررہتا ہے۔پاکستان کے زیرانتظام ان دونوں علاقوں میں حقوق کی کیا صورتحال ہے اور لوگوں کوسیاسی وسماجی سطح پر کیا مشکلات درپیش ہیں اس پر کم ہی بات کی جاتی ہے۔ زیرنظر مضمون میں جلال الدین مغل نے اسی مسئلے کو موضوع بنایا ہے۔ مضمون نگارآزادجموں وکشمیر سے تحلق رکھنے والے صحافی ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی جرائد میں ان کے مضامین شائع ہوتے ہیں۔(مدیر)
قراردادِ پاکستان کو منظور ہوئے 80 برس بیت چکے ہیں مگر اس کی مختلف جہات پر مسلسل بات ہوتی رہتی ہے۔ان میں سے سب سے اہم پہلو مسلمانوں کی خودمختاری کا ہے جس کی اساس پر ایک ملک بنانے کے لیے جدوجہد کی گئی۔اس قرارداد کا تاریخی پس منظر یہ بتاتا ہے کہ مسلمان اپنے قائدین کی سربراہی میں پہلے یہ مطالبہ کرتے رہے تھے کہ مسلم اکثریتی وحدتوں کو خودمختاری فراہم کی جائے۔پاکستان میں صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد کرنے والے تمام سیاسی قائدین وماہرین بھی قراردادِ پاکستان کا حوالہ دیتے رہے ہیں کیونکہ یہی استحکامِ پاکستان کا حقیقی راستہ ہے۔قرارداد کی اس جہت کے تاریخی محرکات اور بعدازاں پاکستان میں صوبائی خودمختاری کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر ڈاکٹر سید جعفر احمد نے اس مضمون میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔سماجی علوم کے ممتاز اسکالر پروفیسر ڈاکٹر سیّد جعفر احمد”انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل ریسرچ“کے ڈائریکٹر اور سہیل یونیورسٹی(کراچی) کے ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز ہیں۔اس سے قبل وہ جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر میں ۸۱سال تک بطورسربراہ شعبہ خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان میں صوبائی خودمختاری کے حق کے لیے اٹھایا جانے والا ایک اہم ترین اقدام ہے جس کا مقصد وفاق کو ایک مشترکہ خاندان کی طرح چلانا ہے، کہ جہاں ایک مرکزی حکومت کے ساتھ وحدتوں کو بھی خودمختاری حاصل ہوگی۔اس ترمیم کو سیاسی حلقے ایک انقلاب کہتے ہیں۔ یہ ترمیم اصل میں ہے کیا، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اب اس کے تقاضوں پر عملدرآمد میں کیا مشکلات پیش ہیں؟ یہ سوالات نہایت اہم ہیں۔ان پر اس لیے بھی غور ضروری ہے کہ عام طور پہ یہ کہا جاتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے۔ اس سے کیا مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، مزیدبرآں اس میں بہتری کی گنجاش کس حد تک موجود ہے۔ اس مضمون میں ان تمام پہلوؤں پر بات کی گئی ہے۔ مضمون نگا ظفراللہ خان پاکستانی جمہوریت، پارلیمنٹ اور آئینی امور کے ماہر ہیں۔ وہ مئی2016ء سے اپریل 2019ء تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات کے سربراہ رہے ہیں۔(مدیر)
عصر حاضر میں مسلم دنیا اور اسلام کے حوالے ایک خاص قسم کا نقطہ نظر پایا جاتا ہے جس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلمان ایک غیرروادار تہذیب کے حامل لوگ ہیں اور جدید عہد میں دنیا کے ساتھ ہمقدڈم ہوکر نہیں چل سکتے۔ مسلمانوں اور ان کے مذہب کے بارے میں اس سوچ کی وجہ ’جہاد‘ کی روایتی تفہیم ہے۔ بدقسمتی سے خود عالمِ اسلام میں بھی عملاََ جہاد کو تشدد کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔نائن الیون کے بعد کی صورتحال ،پھر داعش کے ظہور نے اس تصور کو مزید پختہ کردیا کہ جہاد کا مطلب تشدد اور قتل وغارت ہے۔ایسے مسلم دنیا کی کچھ اہل علم شخصیات نے جہاد کی درست درست تفہیم کے لیے کتب تصنیف کیں۔ان میں سے ایک نام ڈاکٹر یوسف قرضاوی کا بھی ہے۔وہ بین الاقوامی شہرت یافتہ مذہبی رہنما ہیں ۔ان کی کتاب ’فقہ الجہاد‘ اس موضع پر اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔قطر میں مقیم تدریسی خدمات انجام دینے والے صاحب علم عاطف ہاشمی نے اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے جو قسط وار پیش کیا جاتاہے۔(مدیر)
