شاپر ڈبل کردیں بھائی!۔۔۔ یہ جملہ ہم میں سے ہر شخص شعوری و لاشعوری طور پر کوئی بھی سودا سلف لیتے وقت ادا کرتا ہے۔ اب آتے ہیں کہ اس کا بعد ہم کرتے کیا ہیں ان ڈبل شاپروں کا۔۔۔ گھر آتے ہی ایک آدھ شاپر کی گرہیں کھولتے ہوئے انہیں پھاڑ ڈالتے ہیں اور ڈسٹ بن میں ڈال لیتے ہیں۔ ساتھ ہی ہر گھر میں ایک ایسا شاپنگ بیگ بھی ہوتا ہے جس میں انواع و اقسام کے چھوٹے بڑے شاپنگ بیگ پڑے ہوتے ہیں وہ بھی اس امید پہ کہ یہ کسی دن تو کام آئیں گے۔ پاکستان…
Author: علی بابا تاج
جب سے انسان کی پیدائش ہوئی ہے اورجب سے وہ اپنے وجود سمیت تمام خارجی وجودات سے رُوبرو ہوا ہے تب سے اسے مختلف سوالات نے گھیر رکھا ہے۔مختلف النوع سوالات کے اس گھمن گھیر سے نکلنے کے لیے اس کی بے پایاں شعوری کوششوں میں سے ایک کوشش اشیا و مظاہر کو سمجھنے اور ان کی شناخت کرنے کی رہی ہے۔یہ بات مسلمہ ہے کہ انسان چشمِ بصیرت کھولتے ہی اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے، خود کو ٹٹولتا ہے ،اپنا سایہ دیکھتا ہے اور آئینے سے روبرو ہو کر حیرانی کا اظہار کرتا ہے۔پہلے پہل یقینا…
پاکستان سمیت دنیا بھر میں سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا نے ایک ایسی متوازی صحافتی دنیا تشکی دی ہے جس کی اپنی حرکیات اور مضمرات ہیں۔ اس کے فوائد و نقصانات پر بھی مکالمہ مسلسل جاری ہے اور اس میدان میں ٹیکنالوجی کی ہر نئی کروٹ کے ساتھ اس میں پیچیدگی کے عناصر فزوں تر ہو رہے ہیں۔ علی بابا تاج نے، جو بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک اہم ادبی شخصیت کے طور پہ جانے جاتے ہیں، پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے مختلف سماجی شخصیات کی آرا اور اپنے تجزیے کو آمیز کر کے یہ تحریر قارئین "تجزیات” کے لیے پیش کی ہے جو دلچسپی کا پہلو بھی رکھتی ہے اور افادے کا بھی۔ (مدیر)
انسانی زندگی بہت مختصر اور خواہشات لا محدود۔محبت کے لیے وجہ نہیں ہوتی ہے لیکن ن ۔ف ۔ر۔ت کے لیے بہانے بہت. الغرض ایسا ہی ہے کہ انسانی سماج میں لفظ تھوڑے لیکن ان کے معانی زیادہ ۔ عجیب بات یہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ مختلف زبانوں میں ایک شے ( Object) کے مختلف نام ہوتے ہیں۔ یہ تونہیں پتہ کہ اتنے ناموں کا کرنا کیا؟ اور اگر اتنے نام ہیں تو اوصاف و خصائص بھی گوناگوں ہی ہوں گے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بات کب ہوگی اور ابلاغ کیسے ممکن ہوگا؟آج کل ہماری مجلسوں…
ادب کے شعبے میں عالمی سطح پر نظم کی صنف کو جو اہمیت حاصل ہوئی ہے وہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ بالخصوص جدید نظم اور اس کے رجحانات ادب میں ایک اہم موضوع ہے۔تاہم پاکستان میں اُردوزبان میں نظم گوئی کا مسئلہ کافی پیچیدہ رہا ہے۔یہاں شاعری میں عزل کی ہیئت کو مقبولیت حاصل رہی اور جدید نظم کو اپنے پاؤں جمانے میں وقت بھی لگا اور اس کے لیے کئی ادیبوں کو سرتوڑ کوشش کرنی پڑی۔پاکستانی جامعات میں اس وقت نظم کے جوہر کے حوالے سے کتنی علمی وتحقیقی واقفیت پائی جاتی ہے اور اس کے لیے فضا کتنی سازگار ہے۔ اس موضوع پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان ادیبوں اور شعرایئ سے علی باباتاج نے آن لائن مذاکرے کا اہتمام کیا، جس سے نظم کے بارے میں گراں قدر معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ علی بابا تاج بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک اہم ادبی شخصیت کے طور پہ جانے جاتے ہیں۔اُردو، فارسی اورور ہزارہ زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔ معاصر ادب پر ان کی تنقیدنگاری کو مقامی اوربین الاقوامی سطح پر سراہا جاتا ہے۔(مدیر)
طالب حسین طالب کو میں اس قدر جانتا ہوں کہ ابھی جب انہوں نے مجھے اپنا مسودہ بھیجا اور کہا اس پرضرورلکھنا ہے تو یقین مانیں کہ یہ ” ابھی” کا عرصہ مہینے سے اوپر چلا گیا ہے۔طالب جب اسلام آباد سے لمبی تعطیلات پر اپنے شہر کوئٹہ تشریف لائے تو مارے شرمندگی کے ملاقات ہی پانچ سے زیادہ نہ کی کہ کچھ لکھ ہی نہیں پارہا تھا۔ ” دروازوں میں زنجیر”کے اشعار کو حرف بہ حرف پڑھنے کے باوجود حیران تھا کہ میرا قلم طالب حسین طالب کی شاعری پر لکھتے ہوئے پہلا حرف ہی کون سا لکھے گا؟…
کافکا کے مشہور ناول ”دی ٹرائل” میں اس کے کردار کو اپنا جرم تلاش کرنے کا کہا گیا تھا۔ ایسے ہی بے شمار فکشن کے کردار اور ان گنت ان کہی کہانیاں کائنات کے سینے میں تیر ِنیم کَش کی طرح پیوست ہیں اور ظالمان ِ زمان مست ہیں۔ کمزور پِستا ہے تو طاقتور پیستا ہے۔ بڑی مچھلی چھوٹی کو کھاتی ہے تو آگ ہر تر و خشک کو جلادیتی ہے۔ پانی بہاکر لے جاتا ہے۔ قانون ِ فطرت سے بالا کوئی نہیں۔ ہم اور آپ یا کوئی بھی کھڑے کھڑے ایک وقت میں اپنا ایک ہی پیر اٹھا سکتے…
قلم برداشتہ لکھنے سے دل برداشتہ لکھنا کبھی کبھار بہتر اس لیے ہوتا ہے کہ بعض اوقات بار خاطر پر گراں گزرنا ازبس ضروری ہوجا تا ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ اس پیچیدہ دور میں جہاں آپ کو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ ملنے والی اگلی معلومات کیا ہوسکتی ہیں۔ دھڑام سے ذہن کے پچھواڑے میں ایک تصویر کودتی ہے، ایک ویڈیو منہ چڑاتی ہے، تو کہیں ایک تحریر اپنی کمی و کاستی کے باوجود آپ کے خیالات و تصورات حتیٰ کہ آپ کے عقائد تک کو کھرچ سکتی ہے کیونکہ یہ انفارمیشن کا دور ہے۔ حیراں ہوں دل…
یہ توکسی بھی سقراط بقراط کو پتہ نہیں کہ انسان پہلے دکھی ہوا تھا یا خوش؟ لیکن خوش رہنے کا ہنر سیکھنے میں وہ ابھی تک مشغول ہے۔ وصل و قرار کی خوشی، فصل کی بوائی کٹائی، شکار اور قبضہ کی خوشی یا پھر بچے کے پیدا کرنے ہونے کی خوشی۔ الغرض عید بقر عید اور تہواروں کے ساتھ وابستہ رنگا رنگ خوشیاں۔ یہ بہانے اور مواقع انسان کے خوش ہونے کے لیے کافی ہیں البتہ اس میں خوش رہنے کی ضمانت شامل نہیں۔ جنوبی ایشیا میں بات سمجھانے کے لیے شعر سنا کر اپنی بات سمجھانے کی جو خوشی…
بلوچستان پاکستان کے ان صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے کہ مادری زبانوں میں تعلیم جہاں یہاں کی سیاسی اور غیر سیاسی تنظیموں کی ایک اہم ترجیح رہی ہے وہاں اس پر ہر سطح پر آواز بھی اٹھائی جاتی جاری رہی ہے۔ اب کچھ عرصہ سے نئے حالات و واقعات کے پیش نظر جب پرائمری کی سطح تک یہ بات لازمی قرار پائی ہے تو ذرا اب تک کی اس حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیتے ہیں۔ بلوچستان کا مادری زبانوں کے حوالے سے ہر بچے کو اس کی زبان میں پرائمری تک تعلیم دینے کا مطالبہ کافی دیرینہ…
