جولائی جولائی کے مہینے میں سوشل میڈیا پر کئی اہم موضوعات زیر بحث رہےجن میں سب سے زیادہ جنسی زیادتی اور بچوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات پر بات کی گئی۔ نور مقدم کیس سب سے زیادہ اجاگر ہوا ۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر مذہبی انتہا پسندانہ رحجانات آئے روز بڑھتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے معاشرے کے انتہا پسندانہ رحجانات کو نمایاں کیا ہے۔ نور مقدم قتل کیس 20 جولائی کی شام اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کا بے دردی…
Author: سبوخ سید
آج کے دور میں سوشل میڈیا صرف رسمی تعلق بنانے کے لیے محدود نہیں رہ گیا بلکہ اسے نظریات اور سیاسی و سماجی مباحث کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں بالخصوص فیس بک اور ٹوٹر جیسے سماجی ذرائع ابلاغ کا کردار بہت بڑھ گیا ہے۔پاکستان میں اس کا استعمال محض انفرادی نہیں ہے بلکہ مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی طبقات اپنے اپنے افکار نظریات کے ابلاغ اور ان سے نوجوانوں کو متأثر کرنے کے لیے سماجی ذرائع ابلاغ کا سہارا لیتے ہیں۔ہر ملک میں فیس بک اورٹوٹر پہ خاص ٹرینڈز زیرگردش رہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ تاہم یہاں کئی طرح کے ایسے ٹرینڈزسرِفہرست رہتے ہیں جو سماجی ساخت کو بری طرح متأثر کرتے اور طبقات کو تقسیم کرتے ہیں۔ سبوخ سید نے اس رپورٹ میں دو ماہ کے دوران پاکستان میں نمایاں رہنے والے اس نوع کے ہیش ٹیگز کا جائزہ لیا ہے۔ سبوخ سید معروف صحافی اور محقق ہیں۔وہ پاکستان ٹیلی ویژن سمیت ملک کے کئی اہم صحافتی اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔میڈیا ٹریننگ میں خدمات فراہم کرنے کے علاوہ میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پہ بھی کام کرتے ہیں۔آن لائن صحافتی گروپ ’آئی بی سی اُردو ‘ کے مدیر بھی ہیں۔(مدیر)
۔ ڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان نے اس بات کا عزم کیا وہ روایتی میڈیا سے ہٹ کر پاکستان میں عوامی مفاد اور دلچسبی پر مبنی صحافت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ اسلام آباد : ڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان جو آزاد آن لائن میڈیا آرگنائزیشنز پر مشتمل ہے ، نے اپنی عبوری کابینہ کا اعلان کیا ہے۔ آئی بی سی اردو کے ایڈیٹر سبوخ سید ڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان کی عبوری کابینہ کے چیئرمین منتخب ہوئے ۔ عدنان خان کاکڑ ، ایڈیٹر ہم سب (ڈپٹی چیئر پرسن) ، عدنان عامر ، ایڈیٹر بلوچستان وائسز…
سبوخ سید پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے صحافت میں ماسٹر کیا اور رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی سے میڈیا اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ آپ جیو نیوز، ایکسپریس نیوز، روزنامہ جنگ، پاکستان ٹیلی ویژن سمیت کئی اداروں سے منسلک رہے۔ وہ میڈیا ٹریننگ اور ریسرچر کے ساتھ ساتھ ساتھ بطور میڈیا کنسلٹنٹ بھی اپنی خدمات فراہم کرتے ہیں آج کل آن لائن صحافتی گروپ آئی بی سی اردو کے ایڈیٹر ہیں۔ ہم پاکستانی اکثر تھانے کچہری اور اسپتالوں سے بچنے کی دعا ہی مانگتے رہتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم…
مولانا فضل الرحمان بالکل انہی خطوط پر چل رہے ہیں جن پر عمران خان چل رہے تھے۔ ان کی گفتگو کا رائٹر تو معلوم نہیں کون ہے تاہم اسکرپٹ وہی ہے جو عمران خان صاحب کا پچھلے پنج سالہ پارلیمانی دور میں تھا۔ اقتدار کے کھیل میں کھلاڑیوں کے لیے ایمپائر کا اشارہ ہی فیصلہ کن کردار ادا کر تا ہے۔ ایمپائر آنکھوں سے اشارے کرتا ہے یا ہاتھوں سے، یہ کھلاڑیوں کو خوب پتہ ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان وہ شخصیت ہیں جو اس حکومت کے خلاف پہلے دن سے ہی با آواز بلند احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں…
پاکستان میں کیسا نظام ہونا چاہیے،کن اقدار کا انتخاب کیاجاناچاہیے؟ یہ سوال انتہائی اہم ہے۔ اگر تحریکِ آزادی کے تناظر میں دیکھا جائے توپتہ چلتا ہے کہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اورعلامہ محمد اقبال کی کوششوں سے وجود میں آیا تھا۔ لہذا قائد اعظم اور علامہ اقبال کے افکار کی روشنی میں ہی ملک کے نظم اور اقدار کی ساخت کا تعین ہونا چاہیے، نہ کہ ان لوگوں کے خیالات کے مطابق جو قیام پاکستان کے تصور سے اتفاق نہیں رکھتے تھے۔ مجھے قیام پاکستان کے مخالفین کے نقطہ نظر سے بھی کوئی مسئلہ نہیں اور کچھ تأمل…
سرمایہ داروں کے ذہن میں جب عورتوں کو مقابلہ حسن میں سجا کر ایک پروڈکٹ کی طرح متعارف کرانے کے خیال نے انگڑائی بھری تو فہمیدہ کے قلم نے اس سوچ کو اپنے چند الفاظ میں برہنہ کر کے دیوار پر دے مارا تھا ۔ کولہوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہے سر میں بھی ہے جستجو کا جوہر تھا پارۂ دل بھی زیر پستاں لیکن مرا مول ہے جو ان پر گھبرا کے نہ یوں گریز پا ہو پیمائش میری ختم ہو جب اپنا بھی کوئی عضو ناپو وہ کسی اندر داخل ہو کر چھاپہ مارتی اور…
حکومت کالعدم جماعتوں سے وابستہ افراد کو گرفتار کرتی ہے ، ان کا نام شیڈول فور میں شامل کر کے ان کے شناختی کارڈز کو بلاک کر دیا جاتا ہے۔ ان کے بینک اکاؤنٹس سیل کر دیے جاتے ہیں۔ ان کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ پولیس مقابلوں میں ان جماعتوں سے وابستہ افراد کے مارے جانے کی خبروں کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ قوم کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ریاست اب ملک میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خلاف انتہائی سخت اور سنجیدہ اقدامات کرنے…
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری سماجی اقدار پر حملہ کیا گیا ہو ۔ عاصمہ جہانگیر سے پہلے جنید جمشید ، ڈاکٹر رؤتھ فاؤ ، ڈاکٹر شکیل اوج ، مولانا عبدالستار ایدھی ، مشال خان ، ملالہ یوسفزئی اور جنرل حمید گل سمیت مختلف شخصیات کی وفات کے موقع پر سوشل میڈیا پر ایسی زبان استعمال کی گئی جسے کوئی بھی مہذب معاشرہ قبول نہیں کر سکتا ۔ ان شخصیات پر مذہب اور قوم کے نام پر حملے کیے گئے ۔ عاصمہ جہانگیر کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ افراد کی جانب سے…
اوریجنل انسان ، جس میں کبھی کوئی تصنع نہیں دیکھا ، وہ بولتی نہیں تھی ، لفظوں کو اپنے جسم سے کاٹ کر الگ کرتی تھی ۔ اس کے لہجے میں کوئی بناوٹ نہیں تھی ، اس کے انداز میں کوئی اداکاری نہیں دیکھی ۔ دعوت نامے پر اس کا نام لکھا ہوتا تو سوچنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی تھی کہ اس نشست کا ماحول اور مقصد کیا ہو سکتا ہے ؟ وہ چلتی پھرتی ایک تحریک تھی ۔اس عہد میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد جمہوریت اور انسانی حقوق کے باب میں اگر کوئی عورت پاکستان…
