Author: ادارہِ تجزیات

یہ مضمون ولی نصر کی معرکہ آرا کتاب Iran’s Grand Strategy سے منتخب اقتباسات کے ترجمے پر مشتمل ہے، ولی نصر کی کتاب Iran’s Gr and Strategy کے مطابق ایران ایک طویل عرصے سے خود کو ایک منفرد اور تنہا ملک کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ ایک فارسی شیعہ قوم جو اپنے عرب ہمسایوں سے مختلف ہے اور نہ مشرق کے ساتھ منسلک ہے اور نہ مغرب کے ساتھ۔ اگرچہ ایران اپنے خطے میں سب سے پہلے آئین بنانے والا ملک تھا، لیکن بین الاقوامی مداخلت کے نتیجے میں 1953 میں ایک بغاوت ہوئی جس نے ملکی قیادت میں…

Read More

ایران کی مذہبی قیادت پر مبنی حکومت ایک بار پھر اندرونی مزاحمت کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنے کے باوجود قائم رہنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے، جسے حسبِ معمول اس کے بیرونی حریفوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، انسانی جانوں کے ضیاع نے ایرانی اجتماعی شعور پر ایک نیا گہرا زخم چھوڑا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ممکنہ حملے کا فوری خطرہ بھی فی الحال ٹل چکا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب نے، بیشتر خلیجی ممالک کی حمایت کے ساتھ، اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کی، جب اسٹریٹجک جائزوں سے یہ بات سامنے آئی کہ…

Read More

اس مکالمے میں عمران مختار نے پیٹر جیکب سے گفتگو کی ہے۔ پیٹر جیکب معروف مسیحی رہنما اور دانشور ہیں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہیں اور اقلیتوں کے مسائل پر کام کرتے ہیں۔ اس مکالمے میں لاہور شہر کے سیاسی، مذہبی، نسلی اور معاشی تنازعات، امن برقرار رکھنے کے اقدامات، امن کمیٹیوں کا کردار، خواتین اور بچوں کی صورتحال، اور امن کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ یہ گفتگو لاہور کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔ سوال: لاہور میں سیاسی، مذہبی، نسلی اور معاشی تنازعات کون سے ہیں؟ جواب: لاہور ایک ترقی…

Read More

یہ مکالمہ پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے اثر و رسوخ اور پنجاب میں ان کی مرکزیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ عامر رانا نے ماجد نظامی سے گفتگو کی، جو معروف صحافی اور محقق ہیں اور پاکستان میں مذہبی سیاست پر بہت کام کر چکے ہیں۔ اس گفتگو میں جماعتِ اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، تحریکِ لبیک، جماعت الدعوۃ، سپاہِ صحابہ اور دیگر مذہبی جماعتوں کی سیاسی طاقت، زوال اور ریاست سے تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ مکالمہ پاکستان کی مذہبی سیاست کا ایک ٹھوس اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کرتا ہے۔ سوال:ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ پاکستان میں…

Read More

یہ مقالہ پاکستان کی قومی شناخت کے ایک نہایت اہم پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر محمد خالد مسعود اسلامی فقہ و قانون کے بین الاقوامی سطح پر مستند ماہر اور سپریم کورٹ کی شریعت اپلیٹ بینچ کے جج ہیں۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں۔ وہ دنیا کی متعدد جامعات اور علمی و تحقیقی اداروں میں تدریسی، مشاورتی اور علمی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اسلامی قانون، مذہبی تشخص اور جدیدیت جیسے موضوعات پر ان کی متعدد کتابیں اور مقالات علمی و فکری دنیا میں معتبر حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔ زیر…

Read More

یہ مکالمہ بلوچستان کے سیکورٹی مسائل، فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے، نیشنل ایکشن پلان کے اثرات، مذہبی سیاست اور بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتِ حال پر مبنی ہے۔ عامر رانا نے جامعہ امام صادق، کوئٹہ میں علامہ اکبر حسین زاہدی سے گفتگو کی۔ علامہ زاہدی معروف شیعہ عالمِ دین، جامعہ امام صادق کے پرنسپل اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فعال علمبردار ہیں۔ یہ گفتگو بلوچستان کی حالیہ تبدیلیوں، ریاستی پالیسیوں اور علاقائی امن کے امکانات پر روشنی ڈالتی ہے۔ سوال: یہ بتائیں علامہ صاحب، کہ جو سکون اس وقت ٹاؤن میں ہے، کیا واقعی فرقہ وارانہ دہشت گردی ختم…

Read More

یہ مکالمہ بلوچستان کے موجودہ بحران کی تہہ میں اترنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ عامر رانا اور مولانا عبدالحق ہاشمی کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو صوبے میں جاری بدامنی، علیحدگی پسند تحریکوں، مذہبی انتہاپسندی اور سیاسی ناکامیوں کے باہمی رشتے کو نمایاں کرتی ہے۔ مولانا عبد الحق ہاشمی جماعت اسلامی کے صوبائی امیر ہیں۔ اس مکاملے میں نہ صرف تاریخی محرومیوں اور ماضی کی وعدہ خلافیوں کو وہ موجودہ بے چینی کی جڑ قرار دیتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ عسکری طاقت کے بجائے سیاسی مکالمہ، سماجی انصاف اور آئینی عملداری ہی پائیدار حل کی…

Read More

کے تراجم بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ مجلہ کسی خاص نظریے کی ترویج نہیں کرتا بلکہ متنوع شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اس کا حصہ ہیں۔ سہ ماہی تجزیات کا نیا شمارہ شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔ تازہ شمارے کو اداریے سمیت چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کا مختصر تعارف اس طرح ہے: اداریہ ’اجتماعی غلطی‘ کے نام سے معنون ہے جس میں ریاست پاکستان کے ٹی ٹی پی کے ساتھ حالیہ مذاکرات کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اس میں ان ممکنہ اسباب پر بات کی گئی ہے جن…

Read More

پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) نے 7 نومبر کو اسلام آباد میں اپنی جامع قومی رپورٹ "Building Bridges: Fostering Tolerance and Inclusivity Among Youth” کے ساتھ چار صوبائی ایڈیشن بھی جاری کیے۔ یہ رپورٹ ملک بھر کے 300 سے زائد یونیورسٹی اور مدرسہ طلبہ، امن کارکنان اور سول سوسائٹی رہنماؤں کے تجربات پر مبنی ہے۔ اس میں نوجوانوں کے نقطہ نظر، ان کے عالمی نظریات پر اثر انداز ہونے والے عوامل، اور انتہا پسندی کے ابھرتے رجحانات کا تجزیہ کیا گیا ہے، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی تنوع پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے اجرا کی تقریب…

Read More

پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) نے 6–7 نومبر 2025 کو اسلام آباد میں دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ بعنوان "یوتھ آبزرورز کوہورٹ” 2025-27کا انعقاد کیا۔ اس ورکشاپ میں ملک بھر سے 40 نوجوان شرکاء—جن میں طلبہ، امن کارکنان، اور ابھرتے ہوئے مذہبی و سول سوسائٹی رہنما شامل تھے۔ تربیت کا مقصد نوجوانوں کو حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ مقامی امن اقدامات یا سوشل ایکشن پلانز (SAPs) تیار کرنے اور نافذ کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا، تاکہ بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور نفرت انگیز تقریر اور متشدد…

Read More