قیامِ پاکستان کی ڈائمنڈ جُوبلی مناتے وقت جہاں ایک طرف اُمید کے درجنوں چراغ منور ہیں جو پاکستانیت کے ارتقاء کی پرعزم کہانی سناتے ہیں، اچھے مستقبل کی آس جگاتے ہیں، تو دوسری طرف امسال یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ دنیا میں آبادی کے اعتبار سے پانچویں بڑے ملک کا سیاسی نظام کتنا کمزور ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ 1972ء میں پاکستان کی سلور جُوبلی مناتے وقت بھی ہم ایک المیہ سے گزر کر کرچیاں چُن چُن کر نیا پاکستان بنانے کی تگ و دو میں تھے۔ 1997ء میں پاکستان کی گولڈن جُوبلی کا جشن آیا تو…
Author: ظفر اللہ خان
قائداعظم کا تصورِ پاکستان کیا تھا اور بانیِ پاکستان کے ذہن میں اس خدوخال کیا تھے، اس بارے میں رہنمائی کا ذریعہ قائد اعظم کے اقوال و افعال ہیں۔ بہرطور قائد اعظم کے پیش نظر ایک ایسی مملکت تھی جس میں رہنے والوں کو بنیادی انسانی حقوق اور آزادیاں حاصل ہوں۔ اسی حوالے سے ظفراللہ خان نے قائد اعظم کی حیات و افکار سے شواہد کی جمع آوری سے یہ مضمون قارئین ”تجزیات” کے لیے پیش کیا ہے۔ ظفر اللہ خان پاکستانی جمہوریت، پارلیمنٹ اور آئینی امور کے ماہر ہیں۔ وہ مئی ٢٠١٦ء سے اپریل ۲۰۱۹ء تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات کے سربراہ رہے ہیں۔(مدیر)
مجید امجد کا یہ شعر میں اکثر اپنے آدھے ادھورے خواب بکھر جانے کے بعد گنگناتا ہوں:۔ میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا تجزیات سے لمبی غیر حاضری ایک طرح سے سچ کے قحط کے زمانے میں خاموشی کے فیسٹول میں چپ چاپ شرکت تھی۔آج پھر لکھنے کو دل چاہا تو مجید امجد کا شعر پھر بے اختیار یاد آیا اور سوچنے لگا۔لکھوں۔کون پڑھتا ہے،نہ لکھوں تو بھی کیا فرق پڑتا ہے۔ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ "میرا فکری سافٹ وئیر” سچ کے قحط کے زمانے…
اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان میں صوبائی خودمختاری کے حق کے لیے اٹھایا جانے والا ایک اہم ترین اقدام ہے جس کا مقصد وفاق کو ایک مشترکہ خاندان کی طرح چلانا ہے، کہ جہاں ایک مرکزی حکومت کے ساتھ وحدتوں کو بھی خودمختاری حاصل ہوگی۔اس ترمیم کو سیاسی حلقے ایک انقلاب کہتے ہیں۔ یہ ترمیم اصل میں ہے کیا، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اب اس کے تقاضوں پر عملدرآمد میں کیا مشکلات پیش ہیں؟ یہ سوالات نہایت اہم ہیں۔ان پر اس لیے بھی غور ضروری ہے کہ عام طور پہ یہ کہا جاتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے۔ اس سے کیا مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، مزیدبرآں اس میں بہتری کی گنجاش کس حد تک موجود ہے۔ اس مضمون میں ان تمام پہلوؤں پر بات کی گئی ہے۔ مضمون نگا ظفراللہ خان پاکستانی جمہوریت، پارلیمنٹ اور آئینی امور کے ماہر ہیں۔ وہ مئی2016ء سے اپریل 2019ء تک پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات کے سربراہ رہے ہیں۔(مدیر)
اگلے سال پاکستان اپنے قیام کی گولڈن جوبلی منائے گا۔آزادی موہوم کے اِن پچھتر سالوں پر بہت کچھ لکھا اور بولا جائے گا۔یقیناََ بہت ساری تقریبات ہوں گی۔کامیابیوں کا خوب چرچا ہوگا۔آدھے ادھورے خوابوں کا بھی شمار ہوگا۔ میری نظر میں یہ ایک نادر موقع ہے کہ ہم ایک منفرد قومی ڈائیلاگ کا اہتمام کریں۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ اِس ڈائیلاگ کا اہتمام کون کرے گا؟لیکن اس میں کسے شریک ہونا چاہیے میں نے ایک فہرست مرتب کی ہے۔ اِس وقت پاکستان میں چار سابق صدور،چھ سابق وزرائے اعظم ،چار سابق نگران وزیراعظم،چھ سابق قائدینِ اختلاف (قومی اسمبلی)پانچ سابق…
ہم تاریخی ریکارڈ محفوظ کرنے والی سوسائٹی نہیں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری اجتماعی یادداشت ضعف کا شکار ہے۔ تاریخی واقعات کی حقیقی دستاویزات کی عدم یا پھر ادھوری دستیابی کے باعث من گھڑت افسانے اب سچ لگتے ہیں۔ پاکستان میں ادارہ جاتی تاریخ لکھنے کا رجحان بھی بہت کمزور ہے، تاہم چند لوگوں کی آب بیتیاں مل جاتی ہیں جنہیں میں اکثر بعد از ریٹائرمنٹ ادھوری کہانی شمار کرتا ہوں۔ زندہ قوموں میں ہمیں ان کے قومی آرکائیوز ایک مضبوط ادارے کی شکل میں کام کرتے نظر آتے ہیں جو تاریخی دستاویزات کو محفوظ کرتے چلے جاتے…
پاکستان کی منقسم سیاست ایسے دوراہے پر آن پہنچی ہے کہ کاروبارِ حکومت اور امورِ ریاست مخالفانہ بیان بازی، الزامات اور وضاحتوں سے بھری پریس کانفرنسوں ، جلسے جلوسوں، قصیدوں یا ہجو سے بھرے ٹاک شوز تک محدود نظر آتے ہیں۔ 23 کروڑ کا ملک تادیر اس ہمہ وقت سیاسی بخار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ وقت آگیا ہے پاکستان میں سیاسی اجتہاد کیا جائے اور ملک کے سیاسی کلچر کو عصرحاضر کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ ڈھیروں تاریخی واقعات، غلطیاں، ابن الوقتی کی توجیہات موجود ہیں اور قومی سفر فکری بارودی سرنگوں اور بے عملی کے سپیڈبریکر کے سامنے…
میانمار میں سول ملٹری سمجھوتوں سے عبارت ہائبرڈ سیاسی نظام دھڑام سے گر چکا ہے۔ برطانیہ کے مؤقر جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کی سالانہ اسٹیٹ آف ڈیموکریسی رپورٹ برائے 2020ء نے بھی دنیا بھر میں جمہوریت کو بیمار قرار دیا ہے۔ پہلی بار اس رپورٹ میں دنیا کی مضبوط ترین جمہوریت امریکا اور سب سے بڑی جمہوریت انڈیا کو ’ناقص جمہوریت‘ کے قبیلہ میں شمار کیا گیا ہے۔ 21ویں صدی کے 21ویں سال میں جو تصاویر امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے سامنے آئیں وہ صدیوں علامت اور محاورہ بن کر جمہوری ڈسکورس اور طرزعمل کے زوال کی کہانی سناتی رہیں گی۔ انڈیا…
جب میں نے پہلی بار ٹائی ٹینک کے ڈوبنے کی کہانی پڑھی تو یہ واقعاتی رپوتاژ سے زیادہ ایک تجزیاتی مطالعہ تھا کہ کس طرح برق رفتاری اور زیادہ منافع کی آرزو غرقاب کردینے والے حادثوں کو جنم دیتی ہے۔ پھر جوانی میں ٹائی ٹینک پر فلم آئی تو ایک رومانی پہلو بھی سامنے آگیا۔ کون کیسے طبقاتی تفریق سے بالا ہوکر کسی کا دل چرا لیتا ہے۔ لیکن ایک منظر جو آج بھی آنکھوں میں پتھرا گیا وہ ڈوبتے ٹائی ٹینک کا میوزک طائفہ تھا جو بھگدڑ میں بھی موسیقی کو موت پر ترجیح دے رہا تھا۔ مجھے اس…
پاکستان کی پارلیمنٹری کمیونٹی میں فقط 1195 سینیٹر، قومی اسمبلی کے اراکین اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین شامل ہیں۔ یہ تمام دستور کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت ’’اعلی اخلاقیات‘‘ کے میزان سے گزر کر آتے ہیں۔ ان میں سے 865 جن میں 272 ایم این اے اور 593 ایم پی اے براہ راست الیکشن لڑ کر آتے ہیں۔ باقی ماندہ 330 جن میں 104 سینیٹر، 192 خواتین ایم این اے اور ایم پی اے جبکہ 34 مذہبی اقلیتوں کے نمائندے اپنی پارٹیوں کی مہربانی سے ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔ یہ پارلیمانی آبادی تقریباََ 28 فیصد ہے۔ شاید یہی…
