چیخوف کی طویل کہانی یا ناولا “وارڈ نمبر چھ‘‘ بڑے مؤثر انداز میں ادارہ جاتی غفلت و بے اعتنائی، فلسفیانہ لاتعلقی کے فریب، اور عقل و جنون کے درمیان حائل اس باریک اور مدھم ہوتی ہوئی لکیر کو موضوع بناتی ہے جو بہ ظاہر انسان کو صحتِ عقل اور دیوانگی کے دو الگ الگ دائروں میں تقسیم کرتی ہے. انتون چیخوف کی کہانیاں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ روسی معاشرے میں پھیلی ہوئی سماجی اور طبی ناہمواریوں سے نہ صرف باخبر تھا بل کہ ان کے سماجی مضمرات پر بھی اس کی گہری نظر تھی۔ اس کی کہانیوں…
Author: فیصل اقبال اعوان
عزیزی و محبی! چلو یہ بھی اچھا ہوا کہ بالآخر نقادِ ایذا پسند کے نئے نقاد کے نام خطوط کتاب میں حنوط کر دیے گئے اور میری ان ملفوظاتِ غلط انداز کا جواب دینے سے جان چھوٹی۔ اب فکر ہے تو فقط ان نہتے قارئین کی جو محض خوشنودیء اساتذہ یعنی قبولیتِ مقالہ جات کے لیے مجبوراً اپنے گلو ہائے فکر و نظر اس شمشیرِ صاعقہ خصال کی نذر کریں گے۔ رہی بات عام قارئین کی تو انھیں ہمارے ادیب اپنی بے نظیر فن کارانہ ہنر مندی سے بڑی قلیل مدت ہی میں کتاب خریدنے سے ہوشیار کر چکے ہیں۔…
پیٹر بروکس کی یہ بات کتنی معنی خیز ہے کہ ہمارے عہد میں سطحیت اور میڈیوکرٹی کی ماری ادبی تخلیقات کے انبار کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم عصر لکھنے والوں کی اکثریت اپنی ادبی روایت کے امکانات اور اس کی اندرونی طاقت سے کام لینے کا ہنر کھو بیٹھی ہے، اردو ادب کی معاصر صورتِ حال پر یہ بات کس طرح صادق آتی ہے اس کا اندازہ معاصر افسانے کی حالتِ زار سے بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارے اکثر لکھنے والے نت نئے نظریات اور فارمولوں کے جال میں یوں الجھ کر رہ گئے…
فرانز کافکا کا ایک قول ہے: "میری ایک اہم ترین خواہش یہ تھی کہ زندگی کو اس طرح دیکھ سکوں کہ وہ اپنی پوری شدت، اتار چڑھاؤ اور جوش و خروش کے ساتھ جاری رہے اور ساتھ ہی اتنی ہی وضاحت سے ایک فریب، ایک خواب، ایک دھندلی سی معلق کیفیت کے طور پر بھی پہچانی جائے۔” صدیق عالم کا ناول، "مرگِ دوام” مطبوعہ ” آج”، پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کافکا کا یہ قول، جو میرے خیال کی تہہ میں کہیں دب سا گیا تھا، اچانک نئی معنویت، تازہ جہتوں اور مزید گہرے تاثر کے ساتھ دل…
اردو میں فکشن کی تنقید کی گاڑی ابھی تک عہدِ پارینہ کے میکانکی تصورات کی ناہموار سڑک پر ہچکولے کھاتی محوِ سفر ہے۔ اردو فکشن نے جدیدیت، مابعد جدیدیت، ساختیات، پس ساختیات اور دیگر ادبی رجحانات و تصورات کے ممالک کے محض تجزیاتی ویزے لگوائے ہیں؛ ان سرزمینوں پر ہنوز قدم نہیں رکھا۔ تخلیق کا حال بھی تنقید سےچنداں مختلف نہیں۔ یہ وہ کاہل کوش مسافر ہے جو ہزار ہا شجرِ سایہ دار کی مسافر نوازی کے عہدِ واثق کے باوصف سفر پر آمادہ نہیں۔ تنقید کے انحطاط کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ادبی رجحان سازی کے فرض…
ایک گورے کو قوالی کی محفل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ بعد از تقریب کسی نے موصوف سے پوچھا کہ قوالی سننے کا تجربہ کیسا رہا۔ جواب ملا: مجھے تو یہی لگا کہ قوال کچھ کہنا چاہ رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی وہ کچھ کہنے کی کوشش کرتا؛ اس کے پیچھے بیٹھے لوگ تالیاں پیٹ پیٹ کر شور مچانے لگتے، بے چارہ اپنی بات کہہ نہیں پایا۔ خالد جاوید صاحب کا ناول "نعمت خانہ” ( مطبوعہ شہرزاد کراچی) پڑھ کر میری بھی کم و بیش یہی رائے ہے کہ ناول نگار کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن جیسے ہی وہ کچھ…
عزیزی و محبی! اس مرتبہ بھی تمھارے خط کا جواب تاخیر سے دے رہا ہوں۔ برخوردار! سنو، نقادِ محشر خیز کے مکتوبات نے ہماری ہی مغز پاشی نہیں کی، بہشت کے پر امن ماحول کو بھی یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اب یہاں وہ کچھ ہو رہا ہے جو ما قبل نہ کبھی کسی نے دیکھا نہ سنا۔ بوجہ ہڑتال اہل کارانِ محکمہء ڈاک بہشت، تین ماہ تک خطوط کی آمد و رفت بند رہی۔ بھئی تم ہی کہو، ڈاک کے ہرکارے سہی لیکن باسی تو خلدِ بریں کے ہیں۔ وہ خلد جہاں ہر گل یاقوت رنگ، قامتِ رعنائے محبوب…
غیر متعین وقت ۔۔۔۔ بے نام نوآبادیاتی منطقہ ۔۔۔۔۔ بے نام سامراجی سلطنت ۔۔۔۔۔ مقامی خانہ بدوش جنھیں سلطنت "وحشی” کہتی ہے۔۔۔۔ بے نام راوی: پُرسکون زندگی گزارنے کا متمنی ایک میجسٹریٹ ۔۔۔۔۔ سامراجی سلطنت کے نمائندہ کرنل جول کا انسانیت سوز جبر و تشدد ۔۔۔۔۔ خودساختہ مہذب سلطنت۔۔۔۔ "وحشیوں” کے مقابل تہذیب کی مدعی: سامراجی سلطنت کی منافقت، دوغلا پن اور بربریت۔۔۔۔ یہ ہے نوبل انعام یافتہ ناول نگار جان کوئٹسے کا شان دار ناول ” وحشیوں کا انتظار”۔ تخیل کی ترسیل کا فن کارانہ التزام ۔۔۔۔۔ مصنف کے انشائی محاسن کا احترام ۔۔۔۔۔ اسلوب کی سحر آفرینی ۔۔۔۔۔خیال…
عزیزی و محبی! اس بار بھی خط کا جواب قدرے تاخیر سے دے رہا ہوں۔ تاہم نقادِ محشر انگیز کے ساتویں مکتوب کی وصولی اور فدوی کے جواب کا درمیانی عرصہ بڑا ہنگامہ خیز رہا۔ نقادِ ستم آرا کے خطوط کی حشر سامانیوں بالخصوص اس سے پیشتر محفوظ الضّّرر سمجھی جانے والی حورانِ بہشت پر ان کے تباہ کن اثرات دیکھ کر، بہ ازنِ داروغہء جہنم، ان خطوط کو ہنگامی طور پر عقوباتِ دوزخ میں شامل کر دیا گیا۔ لہذا مکتوباتِ نقادِ جاں ستاں بلا ناغہ، سہ مرتبہ، سوختہ تن دوزخیوں کو سنائے جانے لگے۔ جس پر لظی و حطمہ…
عفرا بخاری اپنے افسانوں میں ماحول، افراد اور واقعات کی تصویر کشی ایسے گہرے رنگوں سے کرتی ہیں کہ پوری کی پوری فضائے افسانہ اپنی تہذیبی فضا میں ڈوبی نظر آتی ہے۔ وہ جو بات کہنا چاہتی ہیں وہ اسی تہذیبی فضا اور اخلاقیات ہی میں اپنے معنی وا کر سکتی ہے۔ عفرا بخاری ایک ذہین فن کار کی طرح افسانوی پس منظر اور مرکزی تجربے کے گہرے رشتے کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔
