Browsing: تما م آرٹیکلز

ہندوستان کے نوآبادیاتی دور میں ہمارے اکابرین نے سماجی اور سیاسی حوالے سے جو مؤقف اختیار کیے ان کے موزون و مناسب ہونے کے بارے میں آراء وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی ہیں اور آنے والا ہر زمانہ نئے حالات میں نئی تعبیر پیش کرتا ہے۔ سرسید احمد خان کو دو قومی نظریے کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے ان کے ہاں لفظ "قوم” کے تصور کی ارتقائی صورتوں کا مطالعہ ایک دلچسپ اور انکشافی پہلو رکھتا ہے۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد نے اسی زاویے سے سرسید کے بیانات کی روشنی میں ان کے ہاں اس لفظ کی تعبیرات کے ارتقا کا مطالعہ کیا ہے جو فکرانگیز بھی ہے اور معلومات افزا بھی۔

سائنسی اکتشافات نے جہاں انسانی کو خارجی طور پر متاثر کیا ہے وہاں ایسے سوالات کو بھی جنم دیا ہے جو انسان کے سماجی، نفسیاتی اور روحانی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض اوقات جیسے ہی کوئی نئی سائنسی ایجاد یا دریافت سامنے آتی ہے، بہت کچھ ایسا جو طے شدہ سمجھا جاتا ہے، معرضِ سوال میں آ جاتا ہے۔ جینیات کی ترقی اور انسان کی اس پر بڑھتی ہوئی دسترس نے بھی علمائے فقہ کے سامنے بعض ایسے سوال کھڑے کر دیے ہیں جن کا جواب تحقیق و جستجو کا متقاضی ہے۔ ایسے ہی چند نکات پر ڈاکٹر خالد مسعود نے متوازن انداز میں بحث کی ہے اور مسائل کے علمی حل کی جستجو کی ہے۔ قارئین "تجزیات” کے لیے یہ مقالہ علمی ضیافت کے طور پر پیش ہے۔ (مدیر)

قومی ترقی میں نوجوانوں کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ملک میں خوشحالی کے امکانات کے اشاریے کے طور پر آبادی میں نوجوانوں کی شرح خاص طور پر اہم گردانی جاتی ہے۔ لیکن یہی نوجوان اگر اپنی فکری روش میں مثبت اور واضح نہ ہوں تو معاملہ اسی قدر تشویش ناک بھی ہے۔ مثبت فکر کی اساس تعلیم پر ہے اور تعلیمی ترجیحات کا واضح اور درست رخ پر ہونا نوجوانوں کو صحیح معنوں میں قومی سرمایہ اور اثاثہ بنا سکتا ہے۔ میری لال اور تانیہ سعید کی کتاب “Youth and National Narrative: Education, Terrorism and the Security State in Pakistan” اسی تناظر میں پاکستان میں نوجوانوں کے تعلیم کے حوالے سے تاریخی اور سماجی عوامل کو زیربحث لاتی ہے۔ پروفیسر نورین درانی نے اس کتاب پر سیرحاصل تبصرہ کیا ہے جو نہ صرف کتاب کے مندرجات کی تفہیم میں معاون ہے بلکہ اس سے مذکورہ موضوع پر مزید رہنمائی بھی ملتی ہے۔ تبصرے کا اردو ترجمہ "تجزیات” کے قارئین کے لیے پیش ہے۔ (مدیر)