’تاریخ کا فیصلہ‘ (Judgement of History) معروف تاریخ نویس ڈاکٹر مبارک علی صاحب کی نئی تصنیف ہے۔ یہ اُن کے ان مضامین پر مشتمل ہے جو انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ (The News) میں وقتاًفوقتاً شائع ہوتے رہے۔ اردو اور انگریزی زبان میں ڈاکٹر صاحب کے اخباری مضامین کی، جب ایک مناسب تعداد جمع ہو جاتی ہے تو وہ ان کو کتابی شکل میں شائع کردیتے ہیں۔اردو میں اس طرح کی اُن کی کتابیں انگریزی کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ ان کتابوں کی اشاعت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والوں کو یہ سب مضامین بیک نظر دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ پھر اخباری مضامین ویسے بھی محفوظ کرنا اتنا آسان نہیں اور ان کو باقاعدگی سے جب بھی یہ شائع ہوں، زیر مطالعہ رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی تحریریں جو مستقل اہمیت کی حامل ہوتی ہیں، ان کا کتابی شکل میں محفوظ ہو جانا بہتر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی صاحب کی کتابوں کی مجموعی تعداد ۰۸ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ان میں بلامبالغہ ۰۲، ۵۲ وہ ہیں جو ان کے اردو اور انگریزی اخبارات میں چھپنے والے مضامین پر مشتمل ہیں۔ تاریخ کے موضوع پر اخبارات کے کالموں میں لکھنا کس معنویت اور اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے، اس پہلو پر ہم اس مضمون میں آگے جاکر کچھ عرض کریں گے۔ سرِدست ڈاکٹرمبارک علی کے مجموعی کام کی نوعیت اور اہمیت پر اور زیرِنظر کتاب کے مشمولات پر چند معروضات پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مبارک علی ایک پیشہ ور مؤرخ ہیں جن کی ساری زندگی تاریخ کے مطالعے، تحقیق اور تدریس کی نذر ہوئی۔ انہوں نے اپنے لیے ایک جداگانہ پہچان قائم کروائی ہے۔ وہ کتابوں، تحقیقی جرائد، رسائل اور اخبارات میں تسلسل کے ساتھ لکھتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں تاریخ کے موضوع پر اس تواتر سے اظہارِ خیال کیا ہے اور اپنی بات کو عام لوگوں تک پہنچانے میں اتنی کامیابی حاصل کی ہے کہ ان کی ایک جداگانہ حیثیت اب ایک پبلک اسکالر کی بھی بن چکی ہے۔ ہمارے ہاں عوام سے مخاطب ہونے والے یا تو سیاست دان ہوتے ہیں یا مبلغین مذہب۔ علمی اور فکری موضوعات پر اور خاص طور پر تاریخ جیسے ادق مضمون پر عام لوگوں بشمول سیاسی کارکنوں اور طالبعلموں کے، تخاطب کا رجحان بہت کم رہا ہے۔ ڈیڑھ دو عشرے قبل تک ایسا تھا کہ ہماری صفوں میں ایسے روشن خیال دانشور موجود تھے جو پبلک پلیٹ فارم پر اپنے رشحاتِ فکر کے ساتھ تشریف لاتے تھے اور معاشرے کی فکری آبیاری کا کام کرتے تھے۔ اب ہمارے سماجی منظر نامے پر ڈاکٹراقبال احمد، سیّدسبط حسن، پروفیسرکرار حسین اور ایسی شخصیات ناپید ہوچکی ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر مبارک علی ایک بڑے خلاء کو پُر کر رہے ہیں۔وہ نہ تو موقع پرستی کا شکار ہوتے ہیں نہ ہی حالات کی بادِسموم سے متاثر ہوکر لفظوں کے ہیرپھیر کی مشق میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کو جو کچھ کہنا ہوتا ہے کھل کر کہتے ہیں اور کسی لگی لپٹی کا اہتمام نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف ان کے خیالات و افکار سے مستفید ہونے اور ان سے روشنی حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ملک میں پائی جاتی ہے وہیں ان کے مخالفین کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے جو ہر وقت ان کے خلاف تلواریں سونتے نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر مبارک علی نے تاریخ کے میدان میں جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ مفصل تجزیے اور تبصرے کی متقاضی ہیں لیکن بہت اختصار سے کام لیتے ہوئے اگر ان کا خلاصہ بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ان کے علمی کام کی چار نمایاں خصوصیات ہیں۔ ان میں پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ ڈاکٹرمبارک علی نے تاریخ نویسی کے روایتی سانچوں سے بغاوت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس بات کی اہمیت اس وقت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے جب ہم ان روایتی سانچوں کو سرکاری پشت پناہی کا حامل بھی پاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم و تدریس کی دنیا میں آزاد خیالی اور فکر کی آزادی کو اس طرح ممنوع قرار دے دیا گیا کہ ہمارے علمی ادارے کسی نئی فکر اور خیال کی تخلیق سے معذور قرار پائے۔ ایک سرکاری بیانیہ ہوتا ہے جس کی گرد ان پرائمری اسکولوں سے ایم اے کی سطح تک کی جاتی رہتی ہے۔ درسگاہوں میں سوال کرنے کا کلچر موجود نہیں ہے۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اگر کوئی طالبعلم سوال کر بھی لے اور نام نہاد مسلّمات کے حوالے سے کسی شک کا اظہار کرلے تو اساتذہ جو اسی نظام کی پیداوار ہیں، اس اہلیت کے حامل بھی نہیں ہیں کہ ان سوالات کا جواب دیں۔ دوسرے لفظوں میں زبان بندی کا جو کلچر باقی ماندہ معاشرے میں عام کیا گیا ہے اسی کا اظہار تعلیمی اداروں میں بھی ہوتا ہے جو دراصل سوال و جواب ہی کے وسیلے سے اپنا جواز پاتے ہیں۔
اس تناظر میں روایتی تاریخ نویسی سے انحراف بہت مشکل بھی ہے اور ایک بڑی آزمائش بھی۔ ڈاکٹرمبارک علی نے سرکاری بیانیوں اور ان کی روشنی میں لکھی گئی کتابوں کی موضوعیت اور تاریخی حقائق سے متصادم تفصیلات کو بے نقاب کیا ہے۔یہی نہیں بلکہ انہوں نے ایک متبادل تاریخ لکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔ ان کی اسی جرأت انکار نے ان کو ایک بڑے حلقے کے لیے قابل احترام اور ایک دوسرے حلقے کے لیے قابل طعن و تشنیع اور لائقِ مذمت بنادیا ہے۔
ڈاکٹر مبارک علی کے کام کا دوسرا نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے تاریخ کے مضمون کو بادشاہوں اور دوسرے حکمرانوں کے ذکر تک محدود نہیں رکھا ہے۔ نہ ہی وہ حکمرانوں اور ماضی کی قیادتوں کی بے جا وکالت اور ان کے ہر جائز و ناجائز اقدام کی مدافعت پر خود کو مائل پاتے ہیں۔ انہوں نے مغل دربار پر اپنا پی۔ایچ۔ڈی کا تحقیقی مقالہ تحریر کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے مغل حکمرانوں خاص طور سے اکبر اور جہانگیر پر بھی لکھا۔ اسی طرح تقسیم ہند کے تناظر میں اس وقت کی سیاسی قیادت کے حوالے سے بھی مضامین تحریر کیے لیکن ایسا کرتے وقت انہوں نے کسی ایک یا دوسرے کی وکالت کرنے کے بجائے حتی الامکان غیرجانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی آزادانہ رائے قائم کی اور اسی کو ضابطہئ تحریر میں لائے۔
یہی نہیں بلکہ انہوں نے حکمرانوں اور سیاسی قائدین کے موضوع سے ہٹ کر ایک بہت بڑے دائرہ کار کے اندر اپنے موضوعات تلاش کیے۔ انہوں نے معاشرے کے مختلف حلقوں کے کردار کو اُجاگر کیا۔ پسے ہوئے طبقات کو موضوع بنایا۔ انسانی عادات و اطوار اور رجحانات کی تاریخ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ بحیثیت مجموعی انہوں نے سماجی تاریخ (Social History) کو زیادہ اہمیت دی۔ اور ایسا کرتے وقت انہوں نے تاریخ کو اس طرح لکھا جس طرح لکھا جانا چاہیے یعنی انہوں نے نہ تو اس کے اندر افسانہ طرازی کی کوشش کی، نہ رومانیت کا تڑکا لگایا اور نہ ہی قارئین کے جذبات کو مَس کرنے کی کوشش کی۔
ڈاکٹرمبارک علی کا تیسرا بڑا وصف یہ قرار پایا کہ انہوں نے جو کچھ بھی لکھا اس کو لکھتے وقت ان کے پیش نظر عام قاری تھے۔ ہر مصنف کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والوں کا فیصلہ خود کرے۔ بعض مصنف ایک محدود حلقے کے ایسے لوگوں کے لیے لکھتے ہیں جو مصنف کی دانست میں اس کی اپنی ذہنی سطح کے حامل ہوتے ہیں۔ مصنف اگر اپنے تئیں بہت بڑا ماہرِمضمون ہے تو وہ سوچتا ہے کہ اسی کی سطح کے ماہرین اس کے خیالات کو سمجھ اور ان پر تبصرہ کرسکتے ہیں۔ ایسے مصنفوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ لوگ جو ان کی سطح کی مہارت نہیں رکھتے وہ ان کے خیالات سے استفادہ کرتے ہیں یا نہیں۔ ان کو بس اپنی بات کے صحیح اور مستند ہونے اور اپنے ہی جیسے لوگوں تک اس کی ترسیل سے غرض ہوتی ہے۔ بعض ایسے ماہرینِ مضمون ہوتے ہیں جو اپنے مضمون پر کامل دسترس رکھنے اور اس میں جاری تازہ ترین بحثوں سے واقفیت کے باوجود جب خود اظہارِخیال کرتے ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ عام لوگوں تک بھی یہ بات پہنچ جائے۔ سو وہ مشکل تراکیب اور ایک عام قاری کے لیے ناقابل تفہیم لفاظی سے احتراز کرتے ہوئے سادہ سے سادہ زبان میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے مصنفوں کا حلقہئ قارئین کہیں زیادہ وسیع ثابت ہوتا ہے۔ انگریزی زبان میں سنجیدہ ادب کا مطالعہ کریں تو ایک بہت بڑا نام برٹرنڈرسل کا ہمارے سامنے آتا ہے جو ایک اہم فلسفی تھے اور انہوں نے سماجی و سیاسی موضوعات پر ستر، پچھتر بیش قیمت کتابیں تحریر کیں۔ لیکن یہ سب سیدھی سادی زبان میں تحریر کردہ ہیں۔ ان کو مشکل سے مشکل موضوع کو بھی آسان الفاظ میں بیان کرنے پر غیرمعمولی ملکہ حاصل تھا۔ اردو زبان میں بھی سادہ اور عام فہم زبان لکھنے والے بلند پایہ ادیبوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ سرسیّد نے تو اس اسلوب کو نہ صرف برتا بلکہ اس کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جس کے بڑے دور رس نتائج بھی مرتب ہوئے۔ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ تاریخ کے مضمون کو جتنا سہل اور آسان بنا کر ڈاکٹرمبارک علی نے لکھا اتنا شاید ہمارے کسی اور تاریخ نویس نے نہیں لکھا ہوگا۔
ڈاکٹر مبارک علی کے علمی کام کی ایک اور نمایاں جہت یہ ہے کہ جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر تحقیق کی ہے اور ان کے موضوعات کا پھیلاؤ بھی کافی زیادہ ہے، وہیں انہوں نے خود تاریخ نویسی (Historiography) کے حوالے سے بھی تفصیلی اظہارِخیال کیا ہے۔ تاریخ کس طرح سے لکھی جاتی ہے، تاریخ نویس کس حد تک معروضی اندازِنظر برت سکتا ہے، اگر وہ موضوعیت پسند (Subjective) ہوتا ہے تو وہ کون سی چیزیں ہیں جو اس کے طرزِمطالعہ اور طرزِتحریر پر اثرانداز ہوتی ہیں، ڈاکٹر مبارک علی نے ان پہلوؤں پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ انہوں نے تاریخ نویسی کے مختلف مکاتب فکر (Schools of Thought) کا ذکر اپنی تحریروں میں کیا ہے۔ خاص طور سے سیاسی نقطہئنظر سے لکھی جانے والی تاریخ جو ایک بڑا عرصہ تاریخ نویسی کا غالب رجحان رہی، اس کے پیچھے کارفرما عوامل تفصیل سے ڈاکٹر صاحب کے ہاں زیرِبحث آئے ہیں۔ پھر انہوں نے سماجی تاریخ، عوام کے نقطہئنظر سے لکھی جانے والی تاریخ، معاشرے کے پچھڑے ہوئے حلقوں کی تاریخ (Subaltern Studies) یا جذبات و رجحانات اور عادات و اطوار کی تاریخ نویسی پر بھی تفصیل سے لکھا ہے۔ ان تمام تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تاریخ نویسی کا فن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتنی ترقی کرچکا ہے۔ یہاں تک کہ اب شاید ہی کوئی چیز ایسی ہو جو تاریخ نویسی کا موضوع بننے سے رہ گئی ہو۔ ہمارے عام قارئین جو تاریخ کا ذوق رکھتے ہیں ان کے لیے ان معلومات کی فراہمی ڈاکٹرمبارک علمی صاحب کی ایک اہم خدمت ہے۔
-۲-
ڈاکٹر مبارک علی کی علمی خدمات کے اس عمومی تذکرے کے بعد ہم پیشِ نظر کتاب کے مندرجات پر ایک نظر ڈالیں گے۔ ’تاریخ کا فیصلہ‘ چالیس مضامین پر مشتمل ہے۔ ان مضامین میں کتنا تنوع ہے، یہ صرف ان چند عنوانات سے ہی ظاہر ہوجاتا ہے: عوام کی تاریخ، اشیاء کی تاریخ، رویوں کی تاریخ، احتجاج کی تاریخ، اہلِ دانش، سندھ کی بدلتی تاریخ کے رجحانات، تاجروں کی دنیا، سلطنتوں کا اُبھار اور زوال، یورپ کا تاریک ماضی، یورپ میں روشن خیالی، احتجاج کی سیاست، زوال و خونریزی، انتقام کے رنگ، معاہدوں سے انحراف، احساسات کی تاریخ۔ زیرِنظر کتاب میں یہ بات بھی زیرِبحث لائی گئی ہے کہ ماضی میں تاریخ کس طرح سے لکھی گئی اور اس کے اندر بین السطور کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی۔ آرنلڈ ٹائن بی کی تاریخ نویسی سے مسیحی اخلاقایت کا پیغام عام کرنے کی کوشش کی گئی۔ اشپنگلر نے سیاسی و عسکری طاقت کو عروج کا وسیلہ اور اس طاقت کے اضمحلال کو قوموں کے زوال کا ذریعہ قرار دیا۔ شبلی نعمانی نے ماضی کے بیانیے کے ذریعے ہیروز تلاش کیے جو ان کے خیال میں ایک زوال آمادہ مسلم معاشرے میں زندگی کی رمق دوڑانے کا ذریعہ بن سکتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے جس مؤرخ کا بھی ذکر کیا ہے اس کی تاریخ نویسی کے اندر پوشیدہ سماجی و سیاسی مدعا کو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔
ایک اور بات جو ’تاریخ کا فیصلہ‘ کے ذریعے سامنے آتی ہے وہ یہ حقیقت ہے کہ ہر چند کہ کتاب میں شامل سب مضامین مختصر ہیں اور ان کی طوالت اتنی ہی ہے جتنی اخباری مضمون کی ہوسکتی ہے مگر کم و بیش ان میں سے ہر مضمون میں کوئی نہ کوئی نئی بات ضرور سامنے آتی ہے۔ یہ سطحی اور اِکہرے قسم کے مضامین نہیں ہیں بلکہ ہر مضمون میں ایک ناقدانہ انداز دیکھا جاسکتا ہے۔ یورپ میں اصلاح (Reformism) کے دور کا احاطہ کرتے ہوئے ڈاکٹرمبارک علی نے سولہویں صدی میں مارٹن لوتھر کی اس اصلاحی تحریک کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے عیسائیت کے جمود زدہ مذہبی بیانیے کی اصلاح کے لیے شروع کی تھی۔ لوتھر کی اصلاحی تحریک کے مثبت اثرات کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جب جرمنی میں ۵۲۵۱ء میں کسانوں نے زمینداروں کے خلاف بغاوت کی اور زمینداروں اور بادشاہ نے اس بغاوت کی سرکوبی کے لیے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کیے تو لوتھر نے واضح طور پر کسانوں کے خلاف اور بادشاہِ وقت کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا۔ یوں عیسائیت کی ایک بڑی اصلاحی تحریک ایک بڑے تضاد کی حامل بن کر سامنے آئی۔
ایک اور مضمون میں انہوں نے ’عدلِ جہانگیری‘ کا پردہ چاک کیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ شبلی نے اپنی ایک نظم میں شہنشاہ جہانگیر کی عدل پسندی کو جو خراج تحسین پیش کیا ہے وہ جہانگیر کے طرزِ حکمرانی سے ان کے مکمل طور پر واقف نہ ہونے کا مظہر ہے۔ جہانگیر نے تو اقتدار کی خاطر اپنے بیٹے خسرو تک کے قتل سے اجتناب نہیں کیا۔ اس کا بیٹا اپنے دادا (اکبر) کے مرنے کے بعد خود کو اقتدار کا حقدار سمجھ رہا تھا۔ جہانگیر کو بیٹے کی اس خام خیالی کی سزا دینے میں دیر نہیں لگی۔ جہانگیر، ابوالفضل کو بھی قتل کرواچکا تھا۔ جس حکمران کو انسانی جانوں کی پرواہ نہیں تھی وہ دوسری جاندار مخلوق پر رحم کا مظاہرہ کیونکر کرسکتا تھا۔ ایک مہم کے موقع پر اس کے قافلے میں شامل ایک ہاتھی جب ایک کھائی میں گرا تو یہ منظر جہانگیر کو اتنا بھایا کہ اس نے کئی اور ہاتھی کھائی میں گروا کر لطف حاصل کیا۔
ایک اور مضمون میں جو عوام کی تاریخ سے متعلق ہے ڈاکٹر صاحب نے قدیم یونان اور روم میں مروج تاریخ نویسی اور پھر عہد وسطی اور ہندوستان میں انگریز کی آمد کے بعد کی تاریخ نویسی کے مختصر حوالے کے بعد بیسویں صدی کے نصفِ آخر میں رواج پانے والی عوام کی تاریخ پر اظہارِخیال کیا ہے۔ یہاں انہوں نے ای۔پی تھامپسن (E.P.Thompson)، ہاورڈزِن (Howarad Zinn) اور کرس ہارمن (Chris Harmon) کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے ان تینوں تاریخ نویسوں کے کام کو بہت اختصار کے ساتھ بیان بھی کردیا ہے۔ اسی سلسلے میں انہوں نے رانا جیت گوہا (Ranajit Guha) کی شروع کردہ سبالٹرن اسٹڈیز (Subaltern Studies) کا حوالہ دیا ہے اور ساتھ ہی علی گڑھ میں ڈاکٹر عرفان حبیب کے زیراثر ’ہندوستان کے عوام کی تاریخ‘ (A People’s History of India) کا بھی ذکر کیا ہے۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ تقریباً ۰۶۹۱ء کے بعد منظرعام پر آنے والی عوام کی ان تاریخوں سے پہلے ۵۳۹۱ء میں کے۔ایم۔اشرف ہندوستان کے عوام کی تاریخ لکھ چکے تھے۔ یہ کتاب Life and Conditions of the People of Hindustan کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ یہ بات بہت سے تاریخ کے طالبعلموں کے لیے ایک انکشاف کی حیثیت رکھے گی کیونکہ کے۔ایم۔ اشرف صاحب کی کتاب کوئی بہت زیادہ معروف تصنیف نہیں رہی ہے۔
زیرِنظر کتاب میں کتنے ہی انکشافات پڑھنے والے کے سامنے آتے ہیں۔ یہ سب انکشافات اور چشم کشا حقائق تاریخ کے مضمون کو بہت زیادہ دلچسپ اور سبق آموز بنانے کا وسیلہ بنتے ہیں۔
-۳-
مضمون کے تیسرے حصے میں اب ہم ڈاکٹر مبارک علی صاحب کے کام کو ایک اور حوالے سے جانچنے کی کوشش کریں گے۔ جیسا کہ کہا گیا کہ انہوں نے اپنے نتائجِ تحقیق کو پڑھنے والوں تک پہنچانے کے لیے جہاں کتابوں، مقالوں اور جرائد کا سہارا لیا وہیں ایک طویل عرصے سے وہ اخبارات کے کالموں کے ذریعے بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ بھی گفتگو اور ذہنی مشق کا ایک کار آمد موضوع ہوسکتا ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ تاریخ نویسوں نے ذرائع ابلاغ اور خاص طور سے اخبارات کا سہارا کب کب اور کیوں لیا۔ ذرائع ابلاغ کے ضمن میں ریڈیو، ٹیلی وژن، انٹرنیٹ اور اخبارات و جرائد، سب کا ذکر ہوسکتا ہے لیکن سرِدست ہم اپنی گفتگو کو صرف اخبارات تک محدود رکھیں گے۔ تاریخ نویسوں نے خواہ وہ یورپ اور امریکہ سے تعلق رکھتے ہوں یا برصغیر سے، کم و بیش اسی وقت سے اخبارات کا دامن پکڑ لیا تھا جب ان خِطّوں میں اخبارات کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ کتنے ہی پیشہ ور تاریخ نویس ہیں جنہوں نے اخبارات میں مضامین لکھ کر پڑھنے والوں کے تاریخی شعور میں اضافہ کیا۔ بیسویں صدی میں جب صحافت تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہی تھی اس کے دامن میں تاریخ کے لیے گنجائش بھی زیادہ سے زیادہ ہوتی جارہی تھی۔ اپنے زمانے کے سارے بڑے تاریخ داں اخبارات کے ذریعے اپنے حلقہئقارئین کو وسیع کررہے تھے۔ آرنلڈ ٹائن بی، نے صرف ‘A History of Civilization’ اور ایریل اور ول ڈیورانٹ نے ‘Story of Civilization’ ہی نہیں لکھی بلکہ انہوں نے اپنے زمانے کے مشہور جرائد اور اخبارات میں بھی لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہمارے زمانے تک پہنچتے پہنچتے اور بھی بہت سے تاریخ نویس اخبارات کے صفحات میں مضمون نگاری کرتے نظر آتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں خاص طور سے کسی بھی سیاسی و معاشی صورتِ حال پر ہونے والے مباحثوں میں تاریخ نویسوں کی جگہ اس لیے بن جاتی ہے تاکہ وہ یہ بتاسکیں کہ درپیش مسئلے کا پس منظر کیا ہے۔ سوویت یونین کے زوال کے بعد جہاں ایک طرف صدر بش سینئر نے نئے عالمی نظام کا نعرہ لگایا وہیں دوسری طرف فوکویاما (Fukoyama) اپنے ’خاتمہئتاریخ‘ (End of History) کے نظریے کے ساتھ آکھڑے ہوئے۔ ادھر مشرق وسطیٰ میں اور بعض دوسرے مسلم ممالک میں بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کے فتنوں نے سر اُٹھایا اُدھر امریکہ میں مقیم معروف مستشرق برنارڈلویس (Barnard Lewis) جو صیہونیت کے علمبردار بھی تھے، امریکی اخبارات میں جلوہ گر ہونا شروع ہوئے اور انہوں نے مشرقی وسطیٰ کی تہذیب اور اس خطے کی نفسیات پر خامہ فرسائی شروع کردی۔ ای۔پی۔تھامپسن کا مشہور زمانہ مقالہ ’نیچے سے تاریخ‘ (History from Below) جو عوام کی تاریخ کے مکتبہئ فکر کو ٹھوس بنیادیں فراہم کرنے والا ایک ابتدائی اور راہ کشا مضمون تھا، ٹائمز لٹریری سپلیمنٹ (Times Literary Supplement) جو TLS کے نام سے مشہور ہے، میں شائع ہوا۔ شائع ہوتے ہی یہ ان جامعات میں زیرِبحث آنا شروع ہوگیا جہاں تازہ تر علمی کاوشوں پر گفتگو کا کلچر پایا جاتا تھا۔ ہندوستان میں بھی وہاں کے صفِاوّل کے تاریخ داں مثلاً رومیلا تھاپر، عرفان حبیب، ہربنس مکھیا اور دیگر وقتاًفوقتاً اخبارات کو وسیلہئ اظہار بناتے ہیں، بلکہ اگر آج ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی جس ہندوتوا کا زہر معاشرے میں سرایت کروارہی ہے، اُس کے خلاف، سیکولرازم کا مورچہ سنبھالنے والوں میں سرفہرست ہندوستان کے یہی تاریخ نویس ہیں جو اپنے عمیق مقالوں کے علاوہ پمفلٹوں اور اخبارات و جرائد کے مضامین کے ذریعے بھی معاشرے کو مذہبی انتہا پسندی اور فاشزم سے محفوظ رکھنے کی بھرپور جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہندوستان کا سیکولر میڈیا اور اخبارات کا سیکولر حصہ سول سوسائٹی کے دیگر حلقوں کے ساتھ ساتھ روشن خیال تاریخ نویسوں سے تقویت حاصل کر رہا ہے اور ہندوستان کو مستقبل کی کسی بڑی خانہ جنگی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اردو صحافت کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی ہمیں صحافت اور تاریخ کا ایک بہت گہرا رشتہ شروع ہی سے موجود نظر آتا ہے۔ یہ رشتہ اب شاید اتنا مضبوط نہیں رہا جس کی بہت سی وجوہ ہیں لیکن انیسویں اور بیسویں صدی کی اردو صحافت تاریخ نویسوں کے گہرے نقوش سے اپنے اعتبار کا جواز حاصل کرتی نظر آتی ہے۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں ہمیں صحافت، سیاست، ادب اور تاریخ، ان چار شعبوں کا ایک غیرمعمولی امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک طرف غیرملکی استعمار سے عہدہ برآ ہونے کی سیاست روبہ کار تھی۔ دوسری طرف آزادی خواہی کی علمبردار صحافت کی جدوجہد تھی۔ تیسری طرف سماج کے رجحانات کی ترجمانی کرتا ہوا ادب تھا اور پھر سیاست و سماج کے حقائق کو ماضی سے جاری سلسلہ عمل کے تناظر میں دیکھنے پر مائل تاریخ نویس تھے۔ ان چاروں عناصر کی ہم رکابی میں ہمارا تہذیبی سفر آگے بڑھ رہا تھا۔ یہ سفر بالآخر تقسیم ہند تک پہنچا مگر اس کے بعد یہ اس صورت میں ایک ہم آغوش اور امتزاج کے پیکر میں ڈھلے ہوئے سفر کی صورت میں جاری نہیں رہ سکا۔ ہمارے ہاں اس وحدت کے خاتمے کی صورت کچھ ایسی بنی کہ سیاست میں خاص طور سے وہ سیاست جو ریاست کے چینل سے جاری و ساری ہوئی، اس نے تاریخ کو اپنا دشمن تصور کیا اور اپنے تئیں ایک الگ تاریخ تشکیل دینے کی کوشش کی جو غیر حقیقی اور غیرواقعی ہونے کی بنا پر جڑیں نہیں پکڑ سکی۔ ادب نے اگر ریاست کی ہاں میں ہاں ملانے کی کوشش کی تو وہ بھی بے توقیر قرار پایا۔ صرف وہی ادب اپنا اعتبار قائم کرواسکا جس نے معاشرے کی درست طور پر ترجمانی کی اور لوگوں کی کلفتوں، مسائل اور ابتلاء کو تخلیقات میں سمونے کی کوشش کی۔ صحافت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صنعت بنتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ اب اس صنعت پر بھی چند گھرانوں کی اجارہ داری قائم ہے۔یہ گھرانے ریاست کی ناروا پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے اکثر و بیشتر ان سے مصالحت ہی میں امان محسوس کرتے ہیں۔ ایسے میں ان تاریخ نویسوں کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے جنہیں سرکاری نصابی کتابیں قبول کرنے کو تیار نہیں اور اخبارات کے صفحات بھی ان کے لیے جگہ نکالنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اردو اخبارات میں تاریخی نوعیت کے مضامین کم سے کم ہوتے چلے جارہے ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت اور آزادی کے بعد ایک ڈیڑھ عشرے کی مدت میں صورتِ حال اتنی خراب نہیں تھی۔ اردو اخبارات میں ایسے سنجیدہ مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے تھے جن میں تاریخی شعور کی کارفرمائی ہوتی تھی۔ ۷۵۸۱ء کی جنگ آزادی کے سو سال مکمل ہونے پر روزنامہ ’امروز‘ نے ایک انتہائی وقیع خاص نمبر ۷۵۹۱ء میں شائع کیا تھا۔ اسی موقع پر لاہور سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ’لیل و نہار‘ نے بھی ایک خصوصی نمبر شائع کیا۔
تاریخ کے موضوع پر مضامین کی اشاعت کسی ایک مکتبہئ خیال کے اخبارات و جرائد تک محدود نہیں تھی۔ چنانچہ جہاں ایک طرف ’امروز‘اور’لیل و نہار‘ جیسے ترقی پسند اخبارات اور جرائد موجود تھے وہیں دوسری طرف روزنامہ ’نوائے وقت‘ اور ہفت روزہ’چٹان‘ جیسی مطبوعات بھی تھیں۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ بعض اہم قلمکار دونوں مکاتب فکر کے لیے قابل احترام تھے۔ مثلاً مولانا غلام رسول مہر’لیل و نہار‘ میں بھی رونق افروز ہوتے تھے اور چٹان میں بھی ان کی تخلیقات جگہ پاتی تھیں۔ بعد کے برسوں میں جب اخبارات میں تاریخی نوعیت کے مضامین کی جگہ کم ہوتی چلی گئی تب بھی ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری، ڈاکٹر آغا افتخار حسین، جناب الطاف علی بریلوی، مصطفی علی بریلوی، عبدالرؤف عروج اور دیگر مختلف اخبارات میں خاص طور سے ’جنگ‘اور’حریت‘میں جگہ پاتے رہے۔ ڈاکٹر آغا افتخارحسین نے تو قوموں کے عروج و زوال کی داستان کے موضوع پر ایسے فکر انگیز مضامین تحریر کیے جنہوں نے بعد میں کتابی صورت میں شائع ہو کر مزید پزیرائی حاصل کی۔
اردو اخبارات میں تاریخ کے موضوع پر جو کچھ شائع ہوا وہ بجائے خود ایک تحقیق کا عنوان قرار پاتا ہے۔ یہاں یہ دیکھنا بھی کار آمد ہوسکتا ہے، اور یہ بھی اپنی جگہ تحقیق کا ایک موضوع ہوسکتا ہے، کہ یہ دیکھا جائے کہ پچھلے ستر بہتر برسوں میں ہمارے انگریزی اخبارات میں تاریخ کے موضوع پر کیا کچھ لکھا گیا اور ان موضوعات پر لکھنے والے لوگ کون کون تھے۔ اس سلسلے میں اگر قومی اہمیت کے حامل دنوں پر چھپنے والے اخبارات کے خصوصی ایڈیشنوں کو بھی شامل تحقیق کرلیا جائے تو اس قسم کے مطالعے اور زیادہ بھرپور اور ہم گیر ثابت ہوسکتے ہیں۔
اردو صحافت (اور پاکستان کی انگریزی صحافت) کے تناظر میں تاریخ کے موضوع پر لکھنے والوں میں اگر کوئی ایک نام پچھلے بیس پچیس سال سے تواتر کے ساتھ نظر آتا رہا ہے تو وہ بلامبالغہ ڈاکٹر مبارک علی کا نام ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی کے لیے اخبارات کے صفحوں تک پہنچنا دولحاظ سے تقریباً ناگزیر بن چکا تھا۔ اولاً یہ کہ وہ جن لوگوں کے لیے لکھ رہے تھے ان تک پہنچنے کا سب سے بہتر وسیلہ اخبار ہی تھے۔ہرچند کہ ڈاکٹر صاحب نے ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھا کہ ان کی کتابیں کم سے کم قیمت پر فروخت ہوں، لیکن کتابیں کم قیمت کی حامل ہونے کے باجود اتنے بڑے حلقے تک نہیں پہنچ سکتی تھیں جتنے بڑے حلقے میں اخبارات پہنچتے ہیں۔ چنانچہ اخبارات میں لکھنا ڈاکٹر صاحب کے تاریخ نویسی کے مقصد اور ایک عام آدمی تک اپنی بات پہنچانے کی ان کی خواہش کے عین مطابق تھا۔ اس ضمن میں دوسرا جواز اس حقیقت نے فراہم کیا کہ سندھ یونیورسٹی سے علیحدگی کے بعد ڈاکٹر صاحب کے پاس کوئی مستقلاً ذریعہ روزگار نہیں تھا۔ بعض اداروں نے ان کو قبول بھی کیا لیکن وہ ان کی حریت فکر کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکے اور انہوں نے ڈاکٹر صاحب سے اپنی رفاقت ختم کرنے ہی کو مناسب سمجھا۔ چنانچہ اخبارات میں لکھنا ڈاکٹر صاحب کی مالی ضرورت بھی بن گئی۔ انہوں نے اس تعلق کو بھی بڑے اصولی اور نظریاتی ثابت قدمی کے ساتھ برقرار رکھا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ ان کی تحریروں کو توجہ اور دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔ ان کے تراجم دوسری زبانوں کے اخبارات میں شائع ہوتے ہیں اور اب بیرونِ ملک بھی اردو اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی ترسیل بڑھتی جارہی ہے۔
اردو صحافت کی تاریخ کو مختلف زاویوں سے منضبط کیا جاسکتا ہے، صحافت کا ایک مشن سے ایک صنعت بن جانا، صحافیوں اور رپورٹروں کا مختلف پابندیوں اور عتابوں کا مقابلہ کرنا، صحافت کے شعبے میں تیکنیکی ایجادات کی ہم رکابی میں ترقی کرنا، پیشہ ورانہ سطح پر صحافت کے شعبے میں ترقی اور تنزل کا گوشوارہ_ یہ اور ایسے کئی پہلو ہیں جن پر اردو صحافت کے گذشتہ سفر کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر اردو صحافت کے اس پہلو پر گفتگو ہوگی کہہ اس میں سنجیدہ مضامین اور خاص طور سے تاریخ کے موضوع پر غور و فکر کے حامل مضامین کی اشاعت کی کیا صورتِ حال رہی، تو یہ گفتگو ڈاکٹرمبارک علی کے حوالے کے بغیر نامکمل رہے گی۔ بلکہ اس شعبے میں اُن کا نام سرفہرست ہوگا۔ ڈاکٹر صاحب نے اردو (اور پاکستان کی انگریزی) صحافت کو اپنی تحریروں سے اعتبار بخشا ہے، اس کو ثروت مند کیا ہے۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ اس کام کی جتنی تحسین کی جائے وہ کم ہے۔
