Author: خورشید ندیم

سود کے خاتمے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔ پاکستان کے حکومتی نظم کو کوئی سمجھنا چاہے تویہ اس کی ایک شاندار مثال ہے۔ ہماری افسر شاہی کی تربیت جس نہج پر ہوئی ہے‘ اس میں ریاست ایک سیکولر وجود ہے۔ وہ حکومتی معاملات کو اسی نظر سے دیکھتی ہے۔ اس لیے جب نظم ِاجتماعی کے باب میں کوئی مذہبی مسئلہ آ کھڑا ہو تا ہے تواس کی تفہیم کا زاویہ عوامی فہم سے بالکل مختلف ہو تا ہے۔اس کے اقدامات سے واضح ہے کہ وہ مذہبی معاملات کو اہلِ مذہب کا ایک مسئلہ سمجھتے ہوئے‘ اس…

Read More

8 اپریل 2022ء کو، انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے حافظ محمد سعید صاحب کو ساڑھے اکتیس سال قید کی سزا سنا دی۔ یہ کہانی لیکن اس سے پہلے شروع ہوتی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے اطلاع دی کہ 21  فروری 2022ء کو وزیراعظم عمران خان صاحب کی صدارت میں، وزیراعظم ہاؤس میں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ نیشنل ایکشن پلان کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائیاں تیز کی جا ئیں۔ ساتھ ہی وزارتِ داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے، جماعت الدعوۃ اورفلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دے…

Read More

مہنگائی کا طوفان ہے اور سب اس کی لپیٹ میں ہیں، الا اُمرا کا طبقہ جس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یہ مہنگائی کیوں ہے؟ یہ بحث اس وقت بے معنی ہے۔ پولیٹیکل اکانومی کی شُد بُد رکھنے ولا جانتا ہے کہ پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس معاہدے کا ناگزیر نتیجہ ہے جو سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیا۔ موجودہ حکومت کے پاس کوئی راہِ فرار نہیں تھا۔ عام آدمی کے لیے مگر اس استدلال کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ وہ تو اتنا جانتا ہے کہ جب پٹرول کی قیمت…

Read More

نوازشریف صاحب اگر امریکی دباؤ سے آزاد نہ ہوتے تو ہماری تاریخ میں کوئی ’یوم ِ تکبیر‘ نہ ہوتا؟ 28 مئی 1998ء کو پاکستان کی سیاسی حکومت نے ایک آزادانہ فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے پاکستان کوا علانیہ ایٹمی قوت بنا دیا۔ یہ ایک طویل سفر تھا جو 1955ء میں شروع ہوا جب پاکستان اٹامک انرجی کمیشن قائم ہوا۔ اُس وقت ایٹم سے محض توانائی کاحصول مقصود تھا‘ ایٹم بم بنانا نہیں۔ بھٹو صاحب نے تو 1965ء میں یہ بات کہی تھی مگر اُس وقت کے سربراہِ مملکت اس کے لیے آمادہ نہ تھے۔ ڈاکٹر نذیر احمد اس ادارے کے…

Read More

زندگی تدبیر کی کارفرمائی ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ استثنا آفاقی صداقتوں کو ہے، ورنہ ہر دور اپنی تاریخ خود لکھتا ہے۔ ماضی کا ہر نقش لازم نہیں کہ آج بھی وہی نتائج دے جو پہلے دے چکا۔ ماضی پر حکم لگانا سہل ہے۔ تدبیر کے نتائج ہمارے سامنے ہوتے ہیں۔ یہی نتائج تجزیے کی بنیاد بنتے ہیں۔ تجزیہ کر نے والا اگر تاریخی عمل کی وسعت کو نہ پا سکے توکسی ایک واقعے کو اصول بنا دیتا ہے۔ مثالیں دھرائی جا تی ہیں کہ شیر شاہ سوری نے فلاں کام کرڈایا۔ عہدِ حاضر کے حکمران کیسے نااہل ہیں…

Read More

معلوم تاریخ میں مذہب ہمیشہ سے انسان کا مسئلہ رہا ہے، اس کی تعبیرات متنوع اور اس کی ضرورت پر موافقت اور مخالفت میں آراء کے انبار موجود ہیں۔ مذہب کی بنیادی تعریف کیا ہے، یہ مسئلہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ علوم کے ارتقا اور شعبہ ہائے علم کی کثرت کے باعث مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا ہے۔ ہم جس زمانے میں سانس لے رہے ہیں، دنیا اسے پوسٹ ماڈرن عہد کہہ رہی ہے اور اس کی روش مطلق سچائیوں سے انکار کی ہے۔ اس عہد میں مذہب کو کیا چیلنج درپیش ہو سکتے ہیں، زیرنظرتحریر میں خورشید ندیم اس مسئلے کو تاریخی تناظر میں علمی استدلال کے ساتھ زیربحث لائے ہیں۔ (مدیر)

Read More

سیاسی تبدیلی، اجتماعی جدوجہد کے نتیجے میں آتی ہے۔ معلوم انسانی تاریخ میں، جب لوگ اس مقصد کے لیے منظم ہوئے تو اس کی تین صورتیں سامنے آئیں: مسلح گروہ، سیاسی جماعت اور سیاسی فرقہ۔ قبائلی معاشرت میں تو تیر و تلوار ہی تھے جن کی مدد سے اقتدار حاصل کیا جاتا تھا۔ سلطنتوں کے دور تک یہی ہوتا رہا۔ جسے فاتحِ عالم بننے کا شوق ہوتا، وہ بڑی فوج تیار کرتا اور ہتھیار ذخیرہ کرتا۔ دورِ جدید میں جب انقلاب کا تصور مقبول ہوا توسیاسی تبدیلی کے لیے مسلح جدوجہد کا طریقہ ایک بار پھر اختیار کر لیا گیا۔…

Read More

استعماری عہد کے تلخ تجربے اور اس کے ساتھ خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد مسلم دنیا میں سیاسی نظم اور سماجی اقدار کی بحث تسلسل کے ساتھ جاری و ساری رہی ہے جو اب تک نظری لحاظ سےکسی بھی مسلمان ملک میں نتیجے تک نہیں پہنچی۔ اورجو چیز اس حوالے سے قابل غور ہے وہ  یہ ہے کہ فکری مباحث کا دائرہ زیادہ تر انہی امور ومبادی کے گرد گھوم رہا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔سماجی اور سیاسی ابتری ایک ناقابل تردید حقیقت ہے تاہم اس کے باوجود فکری زاویے ایک دائرے میں ہی سفر کرتے نظر آتے…

Read More

الیکشن کمیشن کے فیصلے نے خو شگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔ حیرت مگر کتنی ہی خوشگوار کیوں نہ ہو، حیرت ہی ہوتی ہے۔ حیرت کیا ہے؟ خلافِ معمول یا خلافِ توقع واقعے پر انسانی ردِ عمل۔ چاند روز نکلتا ہے۔ ہلال سے بدر ہوتا اور پھر بدر سے ہلال ہوتاہے۔ اس میں کچھ خلافِ معمول نہیں، اس لیے کسی کو حیرت نہیں ہوتی۔ یہی چاند اگر شق ہو جائے تو انسان حیرت میں ڈوب جائے۔ حیرت عادت پر نہیں، خرقِ عادت پر ہوتی ہے۔ جس سماج میں لوگ سچ بولتے ہوں، عدالتیں انصاف کرتی ہوں، حکمران امانت دار ہوں،…

Read More

ریاست مدینہ میں کیا وہ کچھ ہو سکتا تھا جو آج پاکستان کی سیاست میں ہو رہا ہے؟ ہم نے سیاست کو مسلمان بنانے کی کوشش کی مگر اہلِ سیاست کو ’مسلمان‘ بنانا ضروری نہیں سمجھا۔ ریاست کو اسلامائز کیا مگر حکمرانوں کی شخصیت کو اسلامی نہ بنا سکے۔ ریاست نے کلمہ پڑھ لیا مگر یہ کلمہ اہلِ اقتدار کے حلق سے نہیں اتر سکا۔ ہم نہیں جان سکے کہ چنگیزی سیاست میں نہیں، اہلِ سیاست میں ہوتی ہے۔ دین سیاست سے جدا نہیں ہوا لیکن اہلِ سیاست سے دور رہا۔ اب چاروں طرف چنگیزی کے مناظر ہیں۔ لوگ ریاست…

Read More