Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»انسانی زندگی پر ماحول اور تربیت کے اثرات
    کالم

    انسانی زندگی پر ماحول اور تربیت کے اثرات

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولجولائی 19, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ایک شخص اپنا راستہ بھول جاتا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتی کہ وہ کدھر جائے، آخر کار اسے ایک گھر نظر آتا ہے وہ اس گھر کے دروازے پہ دستک دیتا ہے، ایک خاتون دروازہ کھولتی ہے۔ وہ اپنی صورتحال بتاتا ہے تو وہ خاتون اسے خوش آمدید کہتی اور فوراً اس کے لئے کھانے کا انتظام کرتی ہے۔ وہ کھانا کھا رہا ہوتا ہے تو اسی دوران اس خاتون کا خاوند آجاتا ہے وہ بولتا ہے یہ کون ہے؟ وہ بتاتی ہے یہ مسافر ہے اور راستہ بھول گیا ہے، لیکن اس کا خاوند اس کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتاہے۔ وہ بوجھل دل سے وہاں سے چلا جاتا ہے۔ اِدھر اُدھر بھٹکتے ہوئے آخر کار وہ ایک دوسرے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، تو ایک عورت دروازہ کھولتی ہے وہ اسے اپنی صورتحال بتاتا ہے لیکن وہ عورت اس کے ساتھ بدزبانی کرتی اور اس کی بے حد توہین کرتی ہے۔ اسی دوران اس کا خاوند آجاتا ہے۔ وہ اپنی بدزبان بیوی سے کہتا ہے۔ یہ مہمان  ہے، اِسے خوش آمدید کہو۔وہ اس کے لئے کھانے کا انتظام کرتا ہے۔ مسافر کھانا کھانے کے دران مسکراتا ہے۔ وہ شخص پوچھتا ہے آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ اس نے کہا میں اس بات پہ حیران ہوں اس سے پہلے میں جس گھر میں گیا تھا وہاں بیوی خوش اخلاق اور خوش زبان تھی اور خاوند بداخلاق اور بد زبان تھا لیکن آپ کے گھر آیا ہوں تویہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ بیوی بداخلاق اور خاوند خوش اخلاق ہے۔ میزبان نے کہا میں تمہاری حیرانی دور کر دیتا ہوں اُس گھر میں بیوی میری بہن ہے اور اُس کا خاوند میری بیوی کا بھائی ہے۔

    اس انگلش کہانی کا عنوان ہے ”The Family Traits ” خاندانی خصوصیات” اس کہانی میں پوشیدہ مقصد یہ ہے کہ انسان ایک خاندان میں پیدا ہوتا اور اس میں پرورش پاتا ہے۔ اپنی زندگی کے ابتدائی سال اس ماحول میں گزارتا ہے۔ اس کی ذات، عادات اور فکر کی تشکیل خاندان میں ہوتی ہے۔ جب وہ دوسروں کے ساتھ معاملات اور برتاؤ کرتا ہے۔ در حقیقت وہ اپنی خاندان سے حاصل کی ہوئی خصوصیات و تربیت کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ ایسی کہانی کو معیار و پیمانہ بنا کر جب ہم زندگی کے مختلف شعبوں اور لوگوں میں جاتے ہیں تو ہمیں ان کے رویے، برتاو اور ردعمل سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ تربیت کا فقدان ہے یا واقعی تربیت کا حق ادا کیا گیا ہے۔

    امام مالک نے فرمایا ’کسی کے گناہ تجھ پہ اس کی آبرو اور عزت کو حلال نہیں کر دیتے‘

    اس بات کا اندازہ فقط ایک بات سے ہو جاتا ہے، مثلاً اگر ہم کسی مجلس میں کسی ایسے شخص سے ملاقات کرتے ہیں جس سے ہماری اس مجلس سے پہلے کوئی شناسائی نہیں، وہاں بیٹھے بیٹھے کسی سیاسی یا مذہبی موضوع پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔ کچھ دیر میں معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ کا اُن صاحب سے سیاسی موضوع پہ اختلاف ہے یا وہ آپ سے کسی مذہبی مسئلہ پہ نقطہ نظر مختلف رکھتے ہیں۔ ایک انداز یہ ہے کہ وہ عزت و احترام سے اختلاف کریں اور اپنا موقف بیان کر دیں اور آپ بھی یہی راستہ اختیار کریں۔ دوسرا انداز یہ ہے کہ وہ آپ کی ذات پہ حملہ کریں اور آپ کے خیالات و نظریات کی تضحیک کریں تاکہ آپ طیش میں آئیں اور بات بڑھے یہ دو طریقے ہیں۔

    ہم اس تجربہ و مشاہدہ سے شب روز گزرتے ہیں جب لوگ ذرا سی بات پہ اس لئے بدزبانی، الزام اور تہمت پہ اتر آتے ہیں کہ آپ ان سے الگ سوچ رکھتےاور مختلف شخصیت کو پسند کرتے ہیں۔ حضرت امام مالکؓ کے سامنے کسی شخص نے حجاج بن یوسف کو گالی دی آپ نے جواباً ناراض ہو کر فرمایا "اس کے گناہ تجھ پہ اس کی آبرو اور عزت کو حلال نہیں کر دیتے”

    مقامِ حیرت ہی نہیں مقامِ افسوس بھی ہے کہ لوگ سیاسی اختلاف کی بنیاد پہ سیاسی رہنماوں کو نازیبا القاب دیتے، بُرے ناموں سے پکارتے اور ان کی آبرو کو نیلام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ کہیں یہی لوگ اسی کہانی کا چلتا پھرتا کردار تو نہیں ہیں؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاصلاحات اور قانونی کاروائیوں کے عمل کو انجام تک پہنچانا ضروری ہے
    Next Article علم اور معیشت کا عہد
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by