Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»قانونِ فطرت اور سماجی پراسس کو راستہ دیں
    کالم

    قانونِ فطرت اور سماجی پراسس کو راستہ دیں

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولاگست 21, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    لمحہ موجود کو امن کے لئے مستعار لینا اور اسی دوران اپنی تعمیر کرنا یہ کامیاب و کامران قوم کی پختہ نشانی ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو داخلی انتشار اور خارجی اندیشوں کا علاج ممکن ہے۔ سیاست سے معیشت تک استحکام ممکن ہو سکتا ہے لیکن اس کے لئے جامع منصوبہ تشکیل دینے کے لئے اعلیٰ دماغ چاہیے جو تشخیص کے ساتھ علاج کی صلاحیت سے بہرہ مند ہو۔ ہیجان، جنون اور انگیخت مسائل کی جڑ ہیں ان کا حل نہیں ہیں۔ بد قسمتی سے، انہیں مسائل کا حل خیال کر لیا گیا ہے۔

    سوچا جاتا ہے اگر ایک بار ایسا ہو جائے تو ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو جائے گا، یا ایک بار جنگ ہو جائے تو امن ہو جائے گا۔ بس ”ایک بار” کچھ نہیں ہوتا جو ہوتا ہے بار بار ہوتا ہے اور مسلسل ہوتا ہے لیکن دانش و بصیرت، سوچ و چار اور غور و فکر سے ہوتا ہے۔ سخت سزاوں کو نافذ کرنے والے معاشروں سے بھی جرائم ختم نہیں ہوتے اور ملک کو پولیس اسٹیٹ بنانے سے ملک امن کا گہوارہ نہیں بنتا اور نہ جنگ مسئلے کا حل ہے  بلکہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے بلکہ بھیانک خواب ہے جس کی تعبیر انسانی اعضاء کی بو، بے سر کے دھڑ، اور بے دھڑ کے سر ہے۔ اگر یہ بات سمجھ نہیں آتی تو ماضی قریب و زمانہ حال کے شام، عراق، افغانستان اور لیبیا کو دیکھ لیں۔ جنگ محلے کی دو عورتوں کی لڑائی نہیں اور نہ انارکلی چوک میں لڑتے دو اوباش لڑکوں کی مخاصمت ہے۔ یہ دو ایٹمی ملکوں کی جنگ اور اس جنگ کو طول دینے میں وابستہ معاشی قوتوں کے مفادات کی جنگ ہے۔

    پانچ ہزار کیا پچاس ہزار لوگ بھی پھانسی کے پھندے پہ لٹکا دئیے جائیں کرپشن ختم نہیں ہوتی، یہ تجربے اور مشاہدے انسانی ہاتھ اور آنکھ پہلے کر چکے۔ قدرت نے جو بھلائی اور خیر دی ہے جو زمانہ اور وقت دیا ہے، اس کے استعمال سے قوم کی تعمیر کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔

    میسر اسباب سے مثبت اقدام کا فیصلہ قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ تعلیم، صحت،جمہوریت اور ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے کچھ سال ہی میں حالات کو صحیح رخ پہ ڈالا جا سکتا ہے۔ قیادت اصل ذمہ داری کو قبول کرے اور اس ارتقائی عمل کو قبول کرتے ہوئے حالات کی نبض پہ ہاتھ رکھے اور قوم کے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے۔ آزمائے نسخوں کو آزمانے سے نتیجہ مختلف نہیں نکل سکتا۔ استشناء اور اصول میں فرق ہے، معجزہ قانون فطرت سے بہت ہی مختلف ہوتا ہے۔ خلاف معمول سے حسب معمول نتائج مرتب نہیں ہوتے۔ ہم استشنا سے اصول، معجزہ سے قانونِ فطرت اور خلافِ معمول سے حسبِ معمول کی امید لگا بیٹھتے ہیں جس سے نتیجہ نا امیدی و یاس کی صورت میں نکلتا ہے۔

    لمحہ موجود کو مستعار لے کر آگے بڑھو اور اپنے ملک کی تعمیر کرو

    شکست نوشتہ دیوار ہوتی ہے اور فتح بھی۔ شکست و فتح کو بحث و مناظرہ سے ثابت نہیں کیا جاتا اور نہ ہی رد کیا جا سکتا ہے۔ لمحہ موجود کو مستعار لینے کا مقصد غفلت و مایوسی کے گڑھے میں گرنا نہیں بلکہ احتساب کے عمل سے گزرنے، غلطیوں سے بچنے کے ارادے کے لیے ہے۔ اس غور و فکر کا مقصد بزدلی اور خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ اپنا جائزہ لینے اور اخلاقی قوت میں اضافے کے لئے ہے۔ حقیقت کا سامنا کل نہیں تو آج، آج نہیں تو کسی بھی وقت کرنا پڑے گا۔ عقل مند قوم اور شخص خود کو ہر وقت احتساب و حساب کے عمل سے گزارتا رہتا ہے اور یہ اس کی کامیابی کا راز اور فتح کی کنجی ہے۔

    عشق غور و فکر سے پہلے نہیں بعد میں ہوتا ہے۔ غور و فکر کے بعد فیصلے پہ عملدرآمد عشق کراتا ہے۔ ہمارا خیال ہے عشق گویا اندھی محبت کا نام ہے جو غور فکر اور تعقل و تفکر سے باز رکھتا ہے حالانکہ عشق گہرے خوض اور غور کا نتیجہ ہوتا ہے اگر انسان اس فیصلے پہ پہنچتا ہے کہ اب یہ چوٹی سر کر لینی چاہیے یا اب چٹان سے ٹکرا جانا چاہیے تو عشق آگے بڑھنے والے انسان کا حوصلہ اور جذبہ بن جاتا ہے۔ ہم الٹی گنگا بہانے کے خیال میں وہ کچھ کر بیٹھتے ہیں جس کی اجازت نہ دین میں ہے اور نہ عقل و فکر کے دائرے میں ہے۔ دین بلا بلا کر کہتا ہے خدا سے ”عافیت و حفاظت” کاسوال کرو، خود کو آگ میں نہ ڈالو، جنگ ٹلتی ہے تو ٹالے رکھو۔ دین آواز دیتا ہے، سنو! بے گناہ کو سزا دینے سے کہیں بہتر ہے گناہ گار قید سے آزاد ہو جائے۔ دین آواز دیتا ہے اور ہم کانوں میں انگلیاں ٹھونسے شاہراہ حیات پہ اپنی خواہشات کے گھوڑے دوڑائے جاتے ہیں۔ انسانی تاریخ کو پڑھ لو کوئی زبر دستی کسی سے کچھ نہیں چھین پایا، ظلم عارضی اور ختم ہونے والا ہوتا ہے، عدل و حق مستقل اور قائم رہنےوالا ہوتا ہے۔ بہتر یہی ہے وقت کو اپنا راستہ خود بنانے دو اس دریا کو اپنے راستے پہ چلنے دو۔

    نہ وقت کا راستہ تمہارے بدلنے سے بدلے گا اور نہ دریا اپنی سرشت سے باز آئے گا۔ جب یہ سب نا ممکن ہے تو  قوم کا وقت کیوں ضائع کرتے ہو، لمحہ موجود کو مستعار لے کر آگے بڑھو اور اپنے ملک کی تعمیر کرو۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہم اپنی اولاد کا بچپنا تباہ کر رہے ہیں
    Next Article تین جائزہ مراحل جن کی بنیاد پر پاکستان کے ایف اے ٹی ایف لسٹ سے انخلا کا فیصلہ ہوگا
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by