عزیزی و محبی! میں جانتا ہوں کہ تمھیں شدت سے میرے خط کا انتظار ہے۔…
Browsing: تما م آرٹیکلز
زبیر توروالی محقق، لکھاری، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں۔ وہ گزشتہ 15 برسوں سے تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ بحرین سوات میں قائم پورے شمالی پاکستانی کی زبانوں، ادب اور کلچر و تعلیم کے لیے کام کرنے والی تنظیم ادارہ برائے تعلیم و ترقی ( اب ت IBT) کے بانی اور سربراہ ہیں۔ زبیر توروالی انگریزی، اردو اور توروالی زبان میں لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی دو انگریزی کتب، دودرجن سے زیادہ تحقیقی مقالے اور سینکڑوں مضامین انگریزی اور اردو میں شائع ہوچکے ہیں۔ زبیر توروالی نے چند بین الاقوامی تحقیقی کتب میں ابواب بھی لکھے ہیں۔ وہ آن لائن انگریزی اور اردو مجلّے ”وی ماؤنٹینز“ کے مدیر اور منیجر ہیں۔ ہائی ایشیا کے ثقافتی و سماجی مطالعات پر مبنی اردو مجلّے ”سربلند “کے مدیر بھی ہیں۔ زیر نظر مضمون میں انہوں نے توروالی کے شادی بیاہ کی رسومات کا جائزہ لیا ہے اور اس علاقے کے ثقافتی خدوخال اجاگر کرنے کی سعی کی ہے۔ (مدیر)
ضیاء الرحمان ایک تجربہ کار صحافی ہیں اور حالاتِ حاضرہ پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ عالمی سیاست، سکیورٹی اور انسانی حقوق ان کے موضوعات ہیں۔ زیر نظر مضمون میں افغانستان میں طالبان حکومت کے تناظر میں پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان جو افغان طالبان سے الگ ایک عسکری گروپ ہے، اس کے پاکستان میں حملوں کی شدت کے خدشات اور صورت حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ضیاء الرحمن نے متعدد ایسے عوامل گنوائے ہیں اور ان کا تجزیہ کیا ہے جو اس صورت حال کے پس پردہ محرکات ہو سکتے ہیں۔ (مدیر)
ڈاکٹر خالد مسعود کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ان کا شمار اسلامی…
ایک ایسے وقت میں جب یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ افغان طالبان کی حکومت…
اردو بازار کراچی کی پہچان ہے اور اردو بازار کے رجحانات شہر کے معاشرتی حالات کو بیان کرتے ہیں۔ اردو بازار میں تبدیلی معاشرے اور اس کے اداروں کی تبدیلی کا اشاریہ ہے۔ تعلیم کے شعبے میں ادارہ جاتی تباہی اردو بازار کے موجودہ بحرانوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ قارئین کی تعداد میں کمی ہمارے معاشرے کی حالت کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کی تاریخ میں اردو بازار ایک ایسی جگہ ہے جسے نظرانداز کیا گیا ہے، اس کیس اسٹڈی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ بازار ہمارے معاشرے اور تعلیمی نظام کی صورت حال کا ایک بڑا اشاریہ ہے۔ یہ مطالعے کے رجحانات، لوگوں کی ترجیحات اور معاشرے کی مشترک روش کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بین الثقافتی ہم آہنگی کا مقام ہوا کرتا تھا، جو پورے شہر میں پھیلا ہوا تھا اور ملک کے مختلف حصوں کو جوڑتا تھا۔ کتابوں کی جگہ درسی کتابوں نے لے لی ہے تو اس کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے۔ یہ نہ صرف معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور معاشرتی انتشار کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ ایک مضبوط تعلیمی نظام کا مطالبہ کرتا ہے جو معاشرتی زوال کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ (مدیر)
” لفظ میں پہلے سے موجود معانی کو لفظ سے خارج کرو، دماغ میں پہلے…
عزیزی و محبی! بھئی یہ سنیاسی نقاد تو بہت ہی اڑیل واقع ہوا ہے۔ میں…
رواں برس کا نوبل انعام برائے فزکس جاپان میں پیدا ہونے والے 90 سالہ سویوکورو…
صحافی جس ذرائع سے خبر کی تصدیق کرائے گا تو دونوں گروہوں کی طرف سے …
